aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bhaa"
وہ راز ہے یہ غم آہ جسے پا جائے کوئی تو خیر نہیںآنکھوں سے جب آنسو بہتے ہیں آ جائے کوئی تو خیر نہیںظالم ہے یہ دنیا دل کو یہاں بھا جائے کوئی تو خیر نہیں
لمبے وقت سے سوچ رہا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںملنے سے گھبراتا ہوں میں جھوٹ نہیں کہہ پاتا ہوںاس کے شکوے اس کی شکایت جھگڑے سے ڈر جاتا ہوںادھر ادھر کی باتیں مجھ کو ذرا نہ خوش کر پاتی ہیںجانے کیوں ایسا ہوں میںدوست نہیں بن پاتے میرےرشتے نہیں سنبھلتے ہیںبے جا محبت بے جا تکلفدونوں اوچھے لگتے ہیںاوروں کی کمیوں کو بالکلاچھا نہیں کہہ پاتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںاچھے بھلے کاموں میں اکثردیر بہت کر دیتا ہوںامی سے باتیں کرنی ہوں بیٹی کے اسکول ہو جاناکوئی نیا ناول پڑھنا ہو کوئی کہانی لکھنی ہوسب کو ٹالتا رہتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںبھیڑ بھرے شہروں سے مجھ کووحشت سی ہو جاتی ہےگاؤں جنگل سنسان جگہیںاکثر خوش آ جاتی ہیںکوئی الھڑ چہرہ دیکھوں من کو وہ بھا جاتا ہےجانے کیوں ایسا ہوں میںپیڑوں کے پیراہن دیکھوں پھولوں کی خوشبو کو سونگھوںرنگ برنگی تتلیاں پکڑوں ہلکی ہلکی بوندیں بھیٹھنڈی نرم ہوائیں جب جب چپکے سے چھو جاتی ہیںیا کوئل کی بولی سن لوں من بیاکل ہو جاتا ہےجانے کیوں ایسا ہوں میںنٹ بنجارن سنیاسی اور کھیل تماشے والے لوگکھنڈر ویرانہ جلتی دھوپ پھولی سرسوں دھان کے کھیتلال پتنگ اور پیلی مینا اندر دھنش اور ندی کی دھارآتے ہیں جب خواب میں میرے دیوانہ ہو جاتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںبہت مجھے اچھا کہتے ہیں برا بھی کوئی کہتا ہےسامنے میری مدح سرائی پیچھے گالی دیتا ہےہمدردی ہے کوئی دکھاتا کوئی سازش کرتا ہےپھر بھی چپ چپ سا رہتا ہوں جیسے بہت انجان ہوں میںجانے کیوں ایسا ہوں میںتھوڑی سی آزادی مجھ کو تھوڑا بہت وقت کا زیاںکبھی کبھار کی اچھی باتیں کسی کسی کا سچا پیارچھوٹی موٹی کوئی شرارت کھلکھلا کر ہنسنا بھییہ سب خوش کر جاتے ہیں جب تولگتا ہے کہ زندہ ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میں
ہر اک مکاں میں جلا پھر دیا دوالی کاہر اک طرف کو اجالا ہوا دوالی کاسبھی کے دل میں سماں بھا گیا دوالی کاکسی کے دل کو مزا خوش لگا دوالی کاعجب بہار کا ہے دن بنا دوالی کاجہاں میں یارو عجب طرح کا ہے یہ تیوہارکسی نے نقد لیا اور کوئی کرے ہے ادھارکھلونے کھیلوں بتاشوں کا گرم ہے بازارہر اک دکاں میں چراغوں کی ہو رہی ہے بہارسبھوں کو فکر ہے اب جا بجا دوالی کامٹھائیوں کی دکانیں لگا کے حلوائیپکارتے ہیں کہ لالہ دوالی ہے آئیبتاشے لے کوئی برفی کسی نے تلوائیکھلونے والوں کی ان سے زیادہ بن آئیگویا انہوں کے واں راج آ گیا دوالی کا
فریادئی جفائے ایام ہو رہا ہوںپامال جور بخت ناکام ہو رہا ہوںسرگشتۂ خیال انجام ہو رہا ہوںبستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںبد نام ہو رہا ہوںسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںسلمیٰ سے دل لگا کر سلمیٰ سے دل لگا کراس حوروش کے غم میں دنیا و دیں گنوا کرہوش و حواس کھو کر صبر و سکوں لٹا کربیٹھے بٹھائے دل میں غم کی خلش بسا کرہر چیز کو بھلا کرسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںکہتی ہیں سب یہ کس کی تڑپا گئی ہے صورتسلمیٰ کی شاید اس کے من بھا گئی ہے صورتاور اس کے غم میں اتنی مرجھا گئی ہے صورتمرجھا گئی ہے صورت کمھلا گئی ہے صورتسنولا گئی ہے صورتسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںپنگھٹ پہ جب کہ ساری ہوتی ہیں جمع آ کرگاگر کو اپنی رکھ کر، گھونگھٹ اٹھا اٹھا کریہ قصہ چھیڑتی ہیں مجھ کو بتا بتا کرسلمیٰ سے باتیں کرتے دیکھا ہے اس کو جا کرہم نے نظر بچا کرسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںراتوں کو گیت گانے جب مل کر آتی ہیں سبتالاب کے کنارے دھومیں مچاتی ہیں سبجنگل کی چاندنی میں منگل مناتی ہیں سبتو میرے اور سلمیٰ کے گیت گاتی ہیں سباور ہنستی جاتی ہیں سبسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںکھیتوں سے لوٹتی ہیں جب دن چھپے مکاں کوتب راستے میں باہم وہ میری داستاں کودہرا کے چھیڑتی ہیں سلمیٰ کو میری جاں کواور وہ حیا کی ماری سی لیتی ہے زباں کوکہ چھیڑے اس بیاں کوسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںکہتی ہے رحم کھا کر یوں ایک ماہ طلعتیہ شہری نوجواں تھا کس درجہ خوبصورتآنکھوں میں بس رہی ہے اب بھی وہ پہلی رنگتدو دن میں آہ کیا ہے کیا ہو گئی ہے حالتاللہ تیری قدرتسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںاس شمع رو کا جب سے پروانہ بن گیا ہوںبستی کی لڑکیوں میں افسانہ بن گیا ہوںہر ماہ وش کے لب کا پیمانہ بن گیا ہوںدیوانہ ہو رہا ہوں دیوانہ بن گیا ہوںدیوانہ بن گیا ہوںسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںان کی زباں پہ میری جتنی کہانیاں ہیںکیا جانیں یہ کہ دل کی سب مہربانیاں ہیںکمسن ہیں بے خبر ہیں اٹھتی جوانیاں ہیںکیا سمجھیں غم کے ہاتھوں کیوں سر گرانیاں ہیںکیوں خوں فشانیاں ہیںسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںہر اک کے رحم کا یوں اظہار ہو رہا ہےبے چارے کو یہ کیسا آزار ہو رہا ہےدیکھے تو کوئی جانے بیمار ہو رہا ہےکس درجہ زندگی سے بیزار ہو رہا ہےناچار ہو رہا ہےسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںاک پوچھتی ہے آ کر تم بے قرار کیوں ہوکچھ تو ہمیں بتاؤ یوں دل فگار کیوں ہوکیا روگ ہے کہو تو تم اشک بار کیوں ہودیوانے کیوں ہوئے ہو دیوانہ وار کیوں ہوبا حال زار کیوں ہوسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںجاؤں شکار کو گر باہمرہان صحراکھیتوں سے گھورتی ہیں یوں دختران صحرابجلی کی روشنی کو جیسے میان صحراتاریک شب میں دیکھیں کچھ آہوان صحراحیرت کشان صحراسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںاک شوخ چھیڑتی ہے اس طرح پاس آ کردیکھو وہ جا رہی ہے سلمیٰ نظر بچا کرشرما کے مسکرا کر آنچل سے منہ چھپا کرجاؤ نا پیچھے پیچھے دو باتیں کر لو جا کرکھیتوں میں چھپ چھپا کرسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںگویا ہمیں حسد سے کچھ نازنین نگاہیںسلمیٰ کی بھا گئی ہیں کیوں دل نشیں نگاہیںان سے زیادہ دل کش ہیں یہ حسیں نگاہیںالقصہ ایک دل ہے سو خشمگیں نگاہیںشوق آفریں نگاہیںسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںاک شوخ تازہ دارد سسرال سے گھر آ کرسکھیوں سے پوچھتی ہے جس دم مجھے بتا کریہ کون ہے تو ظالم کہتی ہیں مسکرا کرتم اس کا حال پوچھو سلمیٰ کے دل سے جا کریہ گیت اسے سنا کرسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں
ہر اک مکاں میں جلا پھر دیا دوالی کاہر اک طرف کو اجالا ہوا دوالی کاسبھی کے دل میں سماں بھا گیا دوالی کاکسی کے دل کو مزا خوش لگا دیوالی کاعجب بہار کا ہے دن بنا دوالی کا
اے کہ تھا انس تجھے عشق کے افسانوں سےزندگانی تری آباد تھی رومانوں سےشعر کی گود میں پلتی تھی جوانی تیریتیرے شعروں سے ابلتی تھی جوانی تیریرشک فردوس تھا ہر حسن بھرا خواب تراایک پامال کھلونا تھا یہ مہتاب ترانکہت شعر سے مہکی ہوئی رہتی تھی سدانشۂ فکر میں بہکی ہوئی رہتی تھی سداشرکت غیر سے بیگانہ تھے نغمے تیرےعصمت حور کا افسانہ تھے نغمے تیرےشعر کی خلوت رنگیں تھی پری خانہ ترامست خوابوں کے جزیروں میں تھا کاشانہ تراغائب از چشم تھی جنت کی بہاروں کی طرحدست انساں سے تھی محفوظ ستاروں کی طرحصحبت غیر سے گھبراتی تھی تنہائی تریآئینے سے بھی تو شرماتی تھی تنہائی تریصبح کی طرح سے دوشیزہ تھی ہستی تیریبوئے گل کی طرح پاکیزہ تھی ہستی تیرینغمہ و شعر کے فردوس میں تو رہتی تھییکسر الہام و ترنم تھا جو تو کہتی تھیتیرے اشعار تھے جنت کی بہاروں کے ہجومتیرے افکار تھے زرین ستاروں کے ہجومدرد شعری کے تأثر سے تو مغموم تھی توآسماں کا مگر اک غنچۂ معصوم تھی توموج کوثر کا چھلکتا ہوا پیمانہ تھیغیر ہونٹوں کے تصور سے بھی بیگانہ تھی
بات ہے تو کچھ عیب سیلیکن پھر بھی ہےہو گئی تھی محبتایک مرد کوایک سنہری مچھلی سےلہروں سے اٹکھیلیاں کرتیبل کھاتی چمچاتی مچھلیبھا گئی تھی مرد کوٹکٹکی باندھے پہروںدیکھتا رہتا وہاس شوخ کی اٹھکھیلیاںمچھلی کو بھی اچھا لگتا تھامرد کا اس طرح سے نہارنابندھ گئے دونوں پیار کے بندھن میںملن کی خواہش فطری تھیمرد نے مچھلی سے التجا کیایک بار صرف ایک بارپانی سے باہر آنے کی کوشش کرومحبت کا جنوناتنا شدید تھا کہبغیر کچھ سوچے سمجھےمچھلی پانی سے باہر آ گئیچھٹ پٹا گئیبہت بری طرح سے چھٹ پٹا گئیلیکن ابوہ اپنے محبوب کی بانہوں میں تھیمحبت کی کیفیت میںکچھ پل کوساری تڑپ ساری چھٹ پٹاہٹ جاتی رہیدو بدن اک جان ہو گئےسیراب ہو کر محبوب نےمحبوبہ کو پانی کے سپرد کر دیابڑا انوکھا بڑا مسرت انگیزاور بڑا دردناک تھا یہ میلہر بار پوری طاقت بٹور کرچل پڑتی محبوبہمحبوب سے ملنےتڑپھڑاتی چھٹ پٹاتیپیار دیتی پیار پاتیسیراب کرتی سیراب ہوتیاور پھر لوٹ آتی پانی میںایک دنمچھلی کو جانے کیا سوجھیاس نے مرد سے کہاآج تم آؤمیں پانی میں کیسے آؤںکچھ پل اپنے سانسیں روک لومچھلی نے کہاسانس روک لوںیعنی جینا روک لوںکچھ پل جینے کے لئے ہی تو آتا ہوں میںتمہارے پاسسانس روک لوں گا تو جیوں گا کیسےمرد نے کہامچھلی سکتے میں تھیایک ہی پل میں:مرد کی فطرت اور محبت کےباہمی رشتے کی سچائیاس کے سامنے تھیابکچھ جاننے پانے اور چاہنے کوباقی نہیں بچا تھامچھلی نے بے کیف نگاہوں سےمرد کو دیکھااور ڈوب گئیبے پناہ گہرائیوں میںادھر خود سے بے خبر مردجینے کی خواہش لئے ابھی تک وہیں بیٹھا ہےاور سوچ رہا ہے میرا قصور کیا ہے
میں اپنی کھوج میں گم تھیکہ میں کیا ہوںازل کے حادثے کا سلسلہ ہوںیا فقط مٹی کی مورت ہوںمسخر کرنے والا ذہن ہوںاحساس کی دھیمی سجل آواز ہوںیا اپنے خالق کیکوئی ایسی ادا ہوںجو اسے خود بھا گئی ہےتمہیں پایا تو یہ جاناکہ میرا بھی کوئی مفہوم ہوگاتمہیں کھو کرمرے مفہوم کی صورت نکھر آئیفشار بے یقینی نےوفا کے بعد گنبد میںازل کے کرب کی صورت میںاپنی ابتدا دیکھیابد کے آئنے میںانتہا کا نقش بھی دیکھاخدا کا عکس بھی دیکھا
پریم جگت کے رہنے والو پریم سے رشتہ جوڑوہردے ہے پربھو کا ڈیرا اسے کبھی نہ توڑوالٹی گنگا بہتی ہے بہنے دو اس کو چھوڑواپنے جیون دھارا کو تم سیدھے رخ پر موڑوکرم کرے گا جو اچھا اچھائی پہ وہ مرے گااور برا کوئی جو کرے گا ویسا ہی وہ بھرے گاپن کیا ہے جو بھی کسی نے اس کو تو وہ ملے گاباغ میں اس کے جیون کے وہ بن کر پھول کھلے گاہندو مسلم سکھ عیسائی سب ہیں بھائی بھائیبھا نہیں سکتی کبھی کسی کو اک دوجے کی جدائیآج ہے رکشا بندھن کا دن ہے یہ کتنا سہانابھائی بہن کے پریم کا یہ دن سب کو سنائے فسانہشیلا نے ارشد کی لے لی جا کے ہاتھ میں کلائیپھر یہ بولی رکشا بندھن آج ہی ہے مرے بھائیپیار بھرا یہ ہاتھ جو رکھ دو سر پر آج ہمارےہر دکھ ہر غم دور ہو جائے خوشیاں آئے دوارےپیار ہی پوجا پیار عبادت پیار سے رشتہ جوڑوہر دکھ ہر غم دور ہو جائے خوشیاں آئے دوارےزینب بھی راہل کے ہاتھ میں باندھ کے بولی راکھیدکھ سنکٹ کے ساگر کی نیا کا تو ہے ماجھیپوتر پریم کا جگ میں دیکھو کیسا یہ اپہار ہےاسی پیار اور پریم سے بھیا سکھ مے یہ سنسار ہےکبھی کسی بھی بہن پہ بھیا سنکٹ آ نہیں پائےپھول نہ ہرگز کبھی کسی کی خوشیوں کے مرجھائےسیتا گیتا شبنم شاہیں میں ہے بھید نہ بھاؤچاروں کا ہے ایک چرتر اور سب کا ایک سبھاؤبوند لہو کی ایک رگوں میں تن بھی ایک سمانپریم پاٹھ پڑھایا سب نے گیتا ہو یا پرانہو ہر دن رکشا بندھن کا سب پریم کی جوت جلائیںپریم کی خوشبو سے مہکے گھر آنگن چاروں دشائیں
نہ آنے والے تو کب تک نہ آئے گاکائناتوں کے خالق کن آفاق میں کھو گیا ہے توکون سے آسمان بھا گئے ہیں تجھےکون سے خلا کھا گئے ہیں تجھےخلا ہی پسند ہیں تو میرے دل میں آکہ تو نے اس سے بڑا بلیک ہول تو ابھی تک پیدا نہیں کیاآ اے خدا آآ میرے دل کے خلا میں آتو اگر ہر جگہ ہے تو میرا دل کیوں خالی ہےدل کے اتھاہ پاتال میں ڈھونڈھتا ہوں اور تجھے پاتا نہیںسوچتا ہوں کہیں خلا ہی خدا نہ ہوشاید انتظار ہی اس کی موجودگی ہوشاید عدم ہی اس کا وجود ہواور نفی اس کا اثباتپھر یہ سوچ پلٹا کھاتی اور دل کے خلا میں اتر جاتی ہےاور ایک آوارہ آواز کی طرح گونجتی ہےگونجتی ہے گونجتی ہے گونجے ہی چلی جاتی ہےاور آہستہ آہستہ ایک لفظ میں ڈھل جاتی ہےخدااور آخر میں ایک سر رہ جاتا ہےآدور کہیں کسی نے درباری کا الاپ چھیڑا ہےآ
کوئی مخلص مجھے تجھ سا نہ ملا تیرے بعدیاد آتی ہے بہت تیری وفا تیرے بعدہم ہیں جینے سے اجل ہم سے خفا تیرے بعدہم سے دل دل سے ہے آرام جدا تیرے بعدکوئی جامع نہ رہا منتشر آتے ہیں نظرعلم و فن دانش و دیں صدق و صفا تیرے بعددولت فقر امیروں میں نہیں ملتی ابپھرتے ہیں جھانکتے در در فقرا تیرے بعدبے سبب تجھ سے وفادار نے منہ موڑ لیامنہ دکھاتے نہیں اب اہل وفا تیرے بعدبحث رہتی تھی کہ ہے کون وفا کا پابندحیف یہ عقدۂ سر بستہ کھلا تیرے بعدحد کو پہنچی تھی محبت مری تیرے آگےہو گئی حد سے یہ کم بخت سوا تیرے بعدگنج امید و طرب چھین کے روپوش ہوئیسامنے آئی نہ پھر میرے قضا تیرے بعددل کو بد ظن نہ کر اے ہادم لذات کے صیدجان شیریں کا نہیں کچھ بھی مزا تیرے بعد
پتھروں کے بڑے صاف و سادہ مکاںتھے مکیں جن کے مہر و محبت کے بتپانی میٹھا بھی تھا اور خوش ذائقہان جوانوں کے دل کو فضا بھا گئیزندگی جھومی اور ایسے ماحول پررک گئی دفعتاًمندروں کے سنہرے اور اونچے کلسنقرئی جن کی گھنٹوں کی آواز تھیکتنی تھی دل پذیراور رس سے بھری
یہ دستی پارچہ بافی ہمارے گھر کی صنعت ہےیہ صنعت افتخار قوم ہے بھارت کی عظمت ہےیہی صنعت ہمیں بخشے گی خوشیاں اور خوشحالیاسی فن سے ہمارے گھر میں ہوگی فارغ البالیہماری دست بافی بھا گئی ہے ذوق والوں کوبہت مرغوب ہیں کپڑے ہمارے مہ جمالوں کوبناوٹ میں نمایاں چند صدیوں کے خزانے ہیںایلورا کے نمونے ہیں اجنتا کے فسانے ہیںکہیں ہیں نقش مغلوں راجپوتوں کی ثقافت کےکہیں منظر ہیں دل کش ہند کی قومی وجاہت کےزباں زد ہو رہی ہے آج کل ان کی دلآویزیبڑا دل کش ہے ان کپڑوں کا طرز رنگ آمیزیوہ امریکہ ہو یا یورپ ہر اک جا اس کا چرچا ہےہماری دست بافی کا جہاں میں بول بالا ہےمبارک طاہرہؔ ہفتہ منانا دست کاروں کوخدا آباد رکھے ملک کے ان ہونہاروں کو
بعد رقص اس کی نظرپڑ گئی جو پاؤں پرمور اشک افشاں ہوامورنی یہ دیکھ کرپیار سے پاس آ گئیمور کی غمگیں ادامورنی کو بھا گئیسارے آنسو مور کےمورنی نے پی لیےزخم اپنے سی لیےاس ملن سے دید سےہو گئی امید سےطائر خوش رنگ کامسلک تخلیق بھیکس قدر ہے خوش نمااور ہر اک سے جداکرشن موہنؔ جانورجن میں ہے شامل بشرسب ہیں وقف اختلاطاس سمے محو نشاطمور مستثنیٰ مگرجس کا رومانی ملناشک آور غم اثر
روشن ہے چھا گئی ہےنوریؔ کو بھا گئی ہےلفظوں میں اس کو ڈھالاجھٹ سے سما گئی ہے
اللہ جمیل ہے اور تتلی جمال اس کاتتلی کو حسن بخشا یہ ہے کمال اس کاکوہ قاف کی پری ہے اس خوش نما چمن میںیا کوئی حور آئی پھولوں کی انجمن میںرنگین تتلیوں کا پھولوں کے پاس آنادل جھومنے لگا ہے منظر ہے یہ سہانامیری نظر گئی جب رنگین تتلیوں پرسمجھا کہ آ گئی ہے قوس قزح زمیں پرتتلی کے خوش نما رنگ آنکھوں کو بھا رہے ہیںاس کے حسین بوٹے دل میں سما رہے ہیںاللہ نے عطا کی تتلی کو خوش نمائیاس کی رضا سے آئی تتلی میں دل ربائیدے کر پروں کو حرکت چکر لگا رہی ہےپھولوں کو گدگدا کر ہنسنا سکھا رہی ہےکیا آسماں سے اتری بارات تتلیوں کیگلشن میں آ کے دیکھو افراط تتلیوں کییہ غول تتلیوں کا گلشن کی ٹہنیوں پرخوشیاں لٹا رہا ہے یہ دل فریب منظررخصت ہوئی اداسی آئی ہے شادمانیانسان کے لئے ہے قدرت کی مہربانیاے شاندار تتلی تو ہے چمن کی رانیپھولوں بھری یہ کیاری ہے تیری راجدھانیہیں مور اور تتلی دونوں ہی خوبصورتانسان کو پسند ہے ان کے پروں کی زینتدنیا کو مل گئی ہے دنیا میں شان و شوکتتتلی میں ہے نزاکت اور مور میں صباحتتتلی ہے خوبیوں کا انمول سا خزانہبچے جھپٹ رہے ہیں تتلی پہ والہانہہوتی نہیں کسی کو تتلی سے کچھ شکایتدل میں ہے ہر بشر کے تتلی سے پیار و الفتیہ تتلیوں کے جلوے پھولوں کا مسکراناسمجھوں اسے حقیقت یا خواب ہے سہاناتعریف ہے خدا کی جس نے بنائی تتلینقش و نگار دے کر اس نے سجائی تتلی
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگمیں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیاتتیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہےتیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثباتتیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہےتو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائےیوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائےاور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سواراحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
کوئی بھی رت ہو اس کی چھبفضا کا رنگ روپ تھیوہ گرمیوں کی چھاؤں تھیوہ سردیوں کی دھوپ تھی
تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤگی مجھےمیری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیںمیرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیںمیرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
ہر بار میرے سامنے آتی رہی ہو تمہر بار تم سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں میںتم کون ہو یہ خود بھی نہیں جانتی ہو تممیں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتا ہوں میںتم مجھ کو جان کر ہی پڑی ہو عذاب میںاور اس طرح خود اپنی سزا بن گیا ہوں میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books