aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "daalaan"
ہم کہ دیکھیں کبھی دالان کبھی سوکھا چمناس پہ دھیمی سی تمنا کہ پکارے جائیںپھر سے اک بار تری خواب سی آنکھیں دیکھیںپھر ترے ہجر کے ہاتھوں ہی بھلے مارے جائیں
آتا ہے یاد مجھ کو بچپن کا وہ زمانہرہتا تھا ساتھ میرے خوشیوں کا جب خزانہہر روز گھر میں ملتے عمدہ لذیذ کھانےبے محنت و مشقت حاصل تھا آب و دانہبچوں کے ساتھ رہنا خوشیوں کے گیت گانادل میں نہ تھی کدورت تھا سب سے دوستانہمہندی کے پتے لانا اور پیس کر لگاناپھر سرخ ہاتھ اپنے ہر ایک کو دکھاناآواز ڈگڈگی کی جوں ہی سنائی دیتیاس کی طرف لپکنا بچوں کا والہانہہر سال پیارے ابو لاتے تھے ایک بکراچارہ اسے کھلانا میدان میں گھماناوہ دور جا چکا ہے آتا نہیں پلٹ کربچپن کا وہ زمانہ لگتا ہے اک فسانہدادی کو میں نے اک دن یہ مشورہ دیا تھاچہرے کی جھریوں کو آسان ہے مٹاناچہرے پہ آپ کے ہیں جو بے شمار شکنیںآیا مری سمجھ میں ان سے نجات پاناکپڑے کی ساری شکنیں مٹتی ہیں استری سےآسان سا عمل ہے یہ استری چلانااک گرم استری کو چہرے پہ آپ پھیریںعمدہ ہے میرا نسخہ ہے شرط آزمانااک روز والدہ سے جا کر کہا کچن میںاب چھوڑیئے گا امی یہ روٹیاں پکانااک پیڑ روٹیوں کا دالان میں لگائیںاس پیڑ کو کہیں گے روٹی کا کارخانہشاخوں سے تازہ تازہ پھر روٹیاں ملیں گیتوڑیں گے روٹیاں ہم کھائیں گے گھر میں کھاناکیسی عجیب باتیں آتی تھیں میرے لب پرآج ان کو کہہ رہا ہوں باتیں ہیں احمقانہوہ پیاری پیاری باتیں اب یاد آ رہی ہیںبچپن کا وہ زمانہ کیا خواب تھا سہانا
صابن کی بھینی خوشبو سے مہک گیا دالاناف ان بھیگی بھیگی آنکھوں میں دل کے ارمانموتیوں جیسے دانتوں میں وہ گہری سرخ زباندیکھ کے گال پہ ناخن کا مدھم سا لال نشانکوئی بھی ہوتا میری جگہ پر ہو جاتا حیران
میں کہتا ہوں تم سے اگر شام کو بھول کر بھی کسی نے کبھی کوئی دھندلا ستارہ نہ دیکھاتو اس پر تعجب نہیں ہے نہ ہوگاازل سے اسی ڈھب کی پابند ہے شام کی ظاہرا بے ضرر شوخ ناگنابھرتے ہوئے اور لچکتے ہوئے اور مچلتے ہوئے کہتی جاتی ہے آؤ مجھے دیکھو میں نےتمہارے لیے ایک رنگین محفل جمائی ہوئی ہےانوکھا سا ایوان ہے ہر طرف جس میں پردے گرے ہیں وہاں جو بھی ہو اس کوکوئی نہیں دیکھ سکتاتہیں اس کے پردوں کی ایسے لچکتی چلی جاتی ہیں جیسے پھیلی ہوئی سطح دریا نےاٹھ کر دھندلکے کی مانند پنہاں کیا ہو فضا کو نظر سےذرا دیکھو چھت پر لٹکتے ہیں فانوس اپنی ہر اک نیم روشن کرن سے سجھاتےہیں اک بھید کی بات کا گیت جس میں مسہری کے آغوش کی لرزشیں ہوںستونوں کے پیچھے سے آہستہ آہستہ رکتا ہوا اور جھجکتا ہوا چور سایہ یہی کہہ رہاہے وہ آئے وہ آئےابھی ایک پل میں اچانک یونہی جگمگانے لگے گا یہ ایوان یکسرہر اک چیز کیسے قرینے سے رکھی ہوئی ہےمیں کہتی ہوں مانو چلو آؤ محفل سجی ہےتم آؤ تو گونج اٹھے شہنائی دالان میں آنے جانے کی آہٹ سے ہنگامہ پیداہو لیکن مسہری کے آغوش کی لرزشوں میں تمہیں اس کا احساسبھی ہونے پائے تو ذمہ ہے میراازل سے اس ڈھب کی پابند ہے موج بیتاب اس کو خبر بھی نہ ہوگی کہ اک شاخ نازکنے بے باک جھونکے سے ٹکرا کے آہیں بھری تھیںمگر میں یہ کہتا ہوں تم سے اگر شاد کو بھول کر بھی کسی نے کبھی کوئی دھندلا ستارہنہ دیکھا تو اس پر تعجب نہیں ہےازل سے اسی ڈھب کی پابند ہے شام کی شوخ ناگنیہ ڈستی ہے ڈستے ہوئے کہتی جاتی ہےجاؤ اگر تم جھجکتے رہوگے توہر لمحہ یکساں روش سے گزر جائے گا اور تم دیکھتے ہی رہوگے اکیلے اکیلےتمہیں دائیں بائیں تمہیں سامنے کچھ دکھائی نہ دے گا فقط سرد دیواریں ہنستی رہیں گیمگر ان کا ہنسنا بھی آہستہ آہستہ بیتے زمانے کی مانند اک دور کی بات معلوم ہونے لگے گادھندلکے میں ڈوبی ہوئی آنکھ دیکھے گی روزن سے دور اک ستارہ نظر آ رہا ہےمگر چھت پہ فانوس کا کوئی جھولا نہ ہوگاشکستہ فتادہ ستونوں کی مانند فرش حزیں پر تمہارا وہ سایہ تڑپتا رہے گا جسےیہ تمنا تھی کہہ دوں تمنا کیا تھیبس اب اپنی غم ناک باتوں کو اپنے ابھرتے ہوئے اور بدلتے ہوئے رنگ میں تو چھپا لےمیں اب مانتا ہوں کہ تو نے روانی میں اپنی بہت دور روزن سے دھندلےستارے بھی دیکھے ہیں لاکھوںمیں اب مانتا ہوں مری آنکھ میں ایک آنسو جھلکتا چلا جا رہا ہے ٹپکتا نہیں ہےمیں اب مانتا ہوں مجھے دائیں بائیں مجھے سامنے کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے فقطسرد دیواریں ہنستی چلی جا رہی ہیںمیں اب مانتا ہوں کہ میں نے اس ایوان کو آج تک اپنے خوابوں میں دیکھا ہے لیکنوہاں کوئی بھی چیز ایسے قرینے سے رکھی نہیں ہےکہ جیسے بتایا ہے تو نے تری ایک رنگین محفل سجی ہےمسہری کے آغوش کی لرزشوں کا مجھے خواب بھی اب نہ آئے گا میں اپنےکانوں سے کیسے سنوں گا وہ شہنائی کی گونج سیندورکا سرخ نغمہ جسے سن کے دالان میں آنے جانے کی آہٹسے ہنگامہ ہو جاتا ہے ایک پل کومجھے تو فقط سرد دیواریں ہنستی سنائی دیے جا رہی ہیں
دھوپ کی مانند ہے یہ زندگی طارقؔ مجھےدھوپ کے دالان میں وہ آنا جانا یاد ہے
دسمبر کے دالان میںاس چمکتی ہوئی آفتابی تمازت کو روح میں اتارےکرن در کرن تم کسے دیکھتی ہوخنک سی ہواؤں کی ان سرسراتی ہوئی انگلیوں میںجو اک لمس محسوس کرنے لگی ہو وہ کیا ہےکوئی واہمہ ہے؟ حقیقت ہے کوئی؟کہ اک خواب ہے جو سر راہ آ کر ملا ہےشب و روز مصروفیت میں گھری ہوکوئی کام بھی ہواسے ایک لمحہ نہیں بھولتی ہو!تمہیں کیا ہوا ہےسڑک پر رواںاپنی گاڑی میں بیٹھییہاں آتی جاتی ہوئی گاڑیوں میںکسے دیکھتی ہوکبھی سامنا ہوتو آنکھوں میں اس کیکسے ڈھونڈھتی ہو؟
در دیوار دریچے آنگندہلیزیں دالان اور کمرےسارے روپ یہ کتنے نازکسوچو تو مٹی کے کھلونےمیرے لیے یہ کنج عبادتمیرے لیے یہ کوہ صداقتمیرے لیے یہ منزل وعدہخلد تحفظ قصر رفاقتجس کے راج سنگھاسن بیٹھیمیں رانی ہوں میں بیچاریباہر چاہے طوفاں آئیںلیکن یاں سب چین سے سوئیںجب جاگیں تب سورج نکلےسو جائیں تب چاندنی مہکےمیرے گھر والے جپتے ہیںمیرے نام کی جے مالائیںلکشمی چھایا جانیں مجھ کوسرسوتی سا مانیں مجھ کوچاند دیکھ کے مجھ کو دیکھیںہریالی پر مجھے چلائیںاپنا تخت اور تاج سنبھالےشال دوشالے کاندھوں ڈالےبال بال موتی پرواؤں!پور پور میں ہیرے پہنوںکام کاج کا پلو ڈالے!دن بھر گھر سے الجھوں سلجھوںرات کو لیکن آنکھیں موندےپچھلی رت کا ساون دیکھوںہیرے لعل بکھرتے جائیںمحل دو محلے ہٹتے جائیںچھوٹا آنگن نیچے کمرے!دور دور سے ہاتھ ہلائیںبیتے لمحے جگنو ایسےاڑتے اور چمکتے آئیںمٹھی باندھ کے ان کو دیکھوںچمپا پھول مہکتے جائیںجگمگ جگمگ سونے جیساگھر سب کی نظروں میں آیابھیگا آنچل پھیلا کاجلکس نے دیکھا کس نے چھپایا
تو نے تو مجھ کو دیکھا ہےمیں ہی ہوا کا وہ جھونکا ہوں جس نے اکثر تیرے گیسو الجھائے ہیںتیرے قریب آنے کی خاطر میں نے انیکوں روپ بنائےمیں بادل بن کر بھی آیاتیرے شہر میں تیری گلی میں تیرے دروازہ پر رک کر میں نےتجھ کو آوازیں دیںمیں آیا ہوںمیں آیا ہوںتو یہ آہٹ سن کر یا تو کمرہ سے آنگن میں آئییا پھر اس درجہ شرمائیآنگن سے دالان میں بھاگی
پرانے بوٹ ہیں تسمے کھلے ہیںابھی مٹی کے چہرے ان دھلے ہیںشرابیں اور مشکیزہ سحر کاابھی ہے جسم پاکیزہ گجر کاستے چہرے پہ استہزا کا موسملہو نبضوں سے خالی کر گیا ہےگلے میں ملک کے تعویذ ڈالوبدیسی برچھیوں سے ڈر گیا ہےغزل دالان میں رکھی ہے میں نےمہک ہے سنگترے کی قاش جیسییہ کیسی مے ہے جو چکھی ہے میں نےمجھے عشاق یہ کہتے ہیں عامرؔبہت تنہا سسکتے دہر میں ہو!بڑے شاعر ہو چھوٹے شہر میں ہوفریب عصر سے مدہوش کمرانگوڑی تتلیوں سے بھر گیا ہےسمندر پنڈلیوں تک آتے آتےکسی پتھر کی سل پر مر گیا ہےسلونی سردیوں سے جھانکتے ہیںوہ ابرو کشتیوں کو ہانکتے ہیںسلیٹی بادلوں کا یہ صحیفہمری مٹھی میں پڑھتا ہے وظیفہمیں روتا ہوں تو رو پڑتے ہیں طائرمرے حجرے میں کم آتے ہیں زائریہ پوریں نور بافی کر رہی ہیںمحبت کو غلافی کر رہی ہیںتفاخر میں ہے دو ہونٹوں کا خم بھیابھی رکھا نہیں میں نے قلم بھی
میں دیکھتا ہوںویران شاہراہوں پر رینگتی خاموشیسورج کے گھر لوٹتے ہیبے لباس ہو کر ناچنے لگتی ہےاور تلاش کرتی ہے کچھ مسکراتے چہرےاندھیرا چھانے لگتا ہےویرانی دالان میں بیٹھی بین کرتی اوراپنی محرومی کا اظہار کرتی ہےکرائے کے قبرستان میں دفن مردےرات بھر احتجاج کرتے ہیںاپنی نامکمل خواہشوں کو سڑکوں پر جلاتے ہیںجس کے دھوئیں سے آسمان کارنگ کالا پڑ جاتا ہےرات کی تاریکی منحوس آوازیں نکالتی ہےویران سڑک کے ایک طرف کھڑی بوڑھی طوائفاپنے گاہک کے رویے سے خوفزدہ ہےالو اور چمگادڑ بھی رات سے خفا ہو کراب دن میں سفر کرتے ہیںمردہ رات گہری ہو جاتی ہےجاڑے کی ٹھٹھراتی سردی میںفٹ پاتھ پر بیٹھی ایک ننھی کلیایک روٹی کے لیے خدا کے سگنیچر کی منتظر ہےمہنگی گاڑیوں کے سامنےگڑگڑاتی طوائف کا ایک آنسومیرے ذہن میںبے شمار سوالات چھوڑ گیا ہے
مرجھائی ہوئی دھوپکاہی دولا شاہیخانقاہ کی زرنگاہسیڑھیوں سے اترتیدالان پار کرتیحجرے کی سنہری جالیوں سےچھن چھن گزرتیمرمریں فرش پرٹوٹے ہوئے چتکبرے پروں کی طرحہلکان پڑی ہوئی تھی
جھلک تو دیکھو ہمارے گھر کی یہاں ہیں نانی یہاں ہیں تائیہمارے ماں باپ اور چچا ہیں یہاں ہیں بہنیں یہاں ہیں بھائیہمارا گھر ہے حسین گلشن خوشی کی کلیاں کھلی ہوئی ہیںوفا کی خوشبو بسی ہوئی ہے ہوئی نہ ہوگی یہاں لڑائیہمارے ابو کی دیکھو عظمت ہر ایک کرتا ہے ان کی عزتنظر میں ان کی ہیں سب برابر انہیں سے ملتی ہے رہنمائیکما رہے ہیں حلال روزی بنا دیا ہے ہمیں نمازیانہیں سے گھر میں ہے خیروبرکت کسی کی کرتے نہیں برائیہماری امی ہیں نیک سیرت ہمیں ملی ہے انہیں سے راحتسدا کچن میں ہے کام ان کا پکا رہی ہیں چکن فرائیلبوں پہ ان کے سدا تبسم زبان ان کی ہے خوب شیریںنہیں ہے کاموں سے ان کو فرصت کبھی صفائی کبھی سلائیہمیں ہے ان سے دلی محبت انہیں کے قدموں تلے ہے جنتبڑی محبت سے پرورش کی ہے ان کی فطرت میں پارسائیعجیب شے ہیں چچا ہمارے نہیں کسی کی سمجھ میں آئےلیے ہیں پیالے میں مرغ چھولے اسی میں ڈالی ہے رس ملائیجو موڈ ہو تو سنائیں نامہ ٹھمک ٹھمک کر بجائیں طبلہگئے وہ اک روز چھت کے اوپر وہاں چچا نے پتنگ اڑائیمدد وہ امی کی کر رہے ہیں توے پہ چمچہ چلا رہے ہیںسویرے اٹھ کر چچا ہمارے گلی کی کرتے ہیں خود صفائیوہ سیر کرنے گئے ہیں باہر پہن کے بنیان اور لنگوٹیبڑی سی پگڑی ہے سر کے اوپر لٹک رہی ہے گلے سے ٹائیبڑی ہیں سب سے ہماری نانی سناتی ہیں وہ ہمیں کہانیزباں پہ ذکر خدا ہے جاری ٹھکانا ان کا ہے چارپائیڈکارتی ہیں ہماری تائی ہمیشہ پیتی ہیں وہ دوائیبڑا سا تکیہ ہے سر کے نیچے بدن کے اوپر ہے اک رضائیبڑی بہن کا ہے نام رضیہ وہ ناولوں کی بہت ہے رسیاکشیدہ کاری میں ہے مہارت مزے سے کھاتی ہے وہ مٹھائیبہن ثریا نے لایا گڈا بہن رقیہ نے لائی گڑیاسہیلیوں کو بلا کے شادی خوشی سے دالان میں رچائیہمارا انور ہے دس برس کا مصوری سے اسے ہے رغبتبنا کے تصویر جب دکھائی تو بھائی بہنوں سے داد پائیہے سب سے چھوٹا میاں منور مگر ہے تعلیم سے محبتدوات لے کر وہ لکھ رہا تھا گرا دی کپڑوں پہ روشنائیذرا سا اپنا بھی حال کہہ دوں میں ایک کالج میں پڑھ رہا ہوںکتاب سے میری دوستی ہے کبھی نہ چھوڑوں گا میں پڑھائی
یہ سرد دالاناس سے آگے غلام گردشیہ لق و دق صحن ڈیوڑھیاں اور بڑا احاطہمرے جلو میںیہ کیسی پرچھائیاں سی ہر سمت رقص کرتی گزر رہی ہیںیہ میرے آبا کے زر خرید اور غلام ہیں سبہزاروں روحیں بہ یک زباں چیختی ہوں جیسےغلام گردش میںگھنگھروؤں کی یہ کیسی چھم چھم برس رہی ہے
سویرے ایسا لگاجیسے کوئی دروازے پر دستک دے رہا ہےاٹھ کر دیکھا تو کوئی نہیں تھاکھٹ کھٹ کی آواز پر دھیان دیاتو کھڑکی کے پٹ پر بیٹھا نظر آیا ایک پرندہچونچ سے بنا رہا تھا نقش و نگارکیوں بھئی میں نے پوچھا تو کہنے لگاکرائے پر چاہئے ایک ٹہنی جس پر بنا سکوں اپنا گھونسلہاپنی تو جیسے تیسے کٹ ہی جائے گیلیکن بال بچوں کا کیا ہوگاآپ کے بھائی بندوں نے کاٹ ڈالے جنگلاور دے دیا دیس نکالاثواب کی نیت سے بھلے آدمی دالان میں رکھ دیتے ہیں پانی کی کٹوری اور دانہپیٹ کی آگ بجھانے کو تھوڑا سا کھا پی لیتے ہیںچھت بھلے نہ ہو کھانا تو چاہئے ہیکبھی لگتا ہے بجلی کے تار چھو کر خودکشی کر لوںیا اونچے موبائل ٹاوروں سے ٹکرا کر جان دے دوںجیسے کسانوں کو خود کشی کے بعد سرکار کچھ امداد دے دیتی ہےشاید کوئی گوشہ ہمیں بھی الاٹ کر دے بچوں کے لیےیہ سن کر میں تو چکرا گیااس طرف تو سچ مچ میں نے کوئی دھیان نہیں دیا تھاجنگلوں کو کاٹتے سمے کس نے سوچا ہوگا کہیہ بے زبان کہاں جائیں گےمیں نے ہاتھ جوڑ کر کہاان ظالموں کی طرف سے میں معافی مانگتا ہوںخدا کے واسطے خود کشی کا خیال دل میں نہ لاناجب تک جی چاہے میری کنڈی میں لگے ون روم کچن ہی میں گزارہ کر لوکچھ تنگی سہی لیکن انتظام ہو جائے گااس نے کہامہربانی مگر میں کرایہ ادا کرنے کا اہل نہیںمیں نے کہا صبح شام اپنی میٹھی بولی سنا دیا کرنا بسمجھے اور کچھ نہیں چاہیےاس نے کہامیرے دھنیہ بھاگ کہ آپ جیسے ہمدرد انسان سے ملاقات ہو گئیلیکن ہر کوئی تو آپ جیسا نہیںاور پھر میرے باقی ہم جنسوں کا کیا ہوگامیں نے کہاانہیں بھی کہیں نہ کہیں سر چھپانے کو جگہ مل جائے گیمگر خدارا تم خود کشی کا ارادہ ترک کر دوہم جھاڑ لگائیں گے اور ان کی حفاظت بھی کریں گےیہ سنتے ہی وہ خوشی خوشی تنکے جمع کرنے میں مگن ہو گیااورمیں گھر میں آپ کو یہ سارا ماجرا سنانے چلا آیااس ننھے سے پرندے کی کھٹ کھٹ نے گویا میرے دل و دماغ کےدروازے کھول دئےیہ سن کر یا پڑھ کر آپ بھی اپنے آنگن میں ایک جھاڑ تولگائیں گے نایا کنڈی میں ایک بیج تو بوئیں گے ناکم از کم ایک بیج
یہ روشن صبح یہ میٹھے سروں میں پنچھیوں کے گانکسی کمسن کی دستک سے اٹھی یہ نوپروں کی تانچٹک پھولوں کی رنگ و بو پہ اٹھلاتے ہوئے دالانہنسیں ہیں پر تمہارے بن میرے جی کو نہیں بھاتےپھر اب کی بار ضائع ہو نہ جائے سردیوں کی دھوپیہ صبح و شام پوجا ارچنا یہ مندروں کی دھوپکسی دل میں طلوع ہوتی ہوئی یہ حسرتوں کی دھوپنگل جائے نہ کوئی شام غم انگڑائیاں بھر کےزمانہ کے ستائے دور سے آئے ہوئے ہیں ہممیرے خوابوں کی ملکہ آشنا تم سے نہیں یہ غمجو تم ملنے چلی آؤ مہک اٹھیں یہ دو عالمقسم ہے تم کو آ جانا تمہیں چاہے جہاں روکےچلی آنا اگر تم تک مری آواز جا پہنچے
ہم پر تھی پیارے بچو نانی کی مہربانیروزانہ رات کو وہ کہتی تھیں اک کہانیاک رات کو سنایا برسات کا فسانہکہنے لگیں کہ موسم اک روز تھا سہاناتھا دیکھنے کے قابل فوارہ آسمانیدریا سے لا کے بادل برسا رہے تھے پانیتالاب بن گیا تھا آنگن ہمارے گھر کاٹہنی پے اس کی بچو بیٹھا تھا ایک طوطااس کو جھلا رہا تھا آ کر ہوا کا جھونکادالان میں سے بلی طوطے کو تک رہی تھیلالچ میں رال اس کی گویا ٹپک رہی تھیجلدی سے اس نے حملہ پرچھائیں پر کیا جوطوطا نہ ہاتھ آیا پانی میں گر گئی وہپچھتائی اپنے دل میں گھبرا کے آئی گھر میںآخر تو جانور تھی کامل نہ تھی نظر میںبچو خدا نے تم کو بخشی ہے ہوشیاریہر کام سے ہو ظاہر دانشوری تمہاری
کس نے کھینچی ہیں لکیریں مرے دروازے پرکون ہے جو کہ دبے پاؤں چلا آیا ہےمیرے بے رنگ ہیولے کا تعاقب کرتامیں تو محتاط تھا ایسا کہیں آتے جاتےاپنے سائے کو بھی پاتال میں چھوڑ آتا تھااپنا سامان اٹھاتا تو شب نصف پہردست ہشیار مٹاتا مرے قدموں کا سراغجسم ہر سانس کی آواز مقفل رکھتاخاک ہی خاک کی خوشبو کا تدارک کرتیجانتا تھا نہیں محفوظ ٹھکانہ میرالوگ موجود ہیں جو مجھ پہ نظر رکھتے ہیںدور نزدیک نہاں خانوں کے اندر بیٹھےایک حرکت ہو تو سو عکس بنا لیتے ہیںان کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے زر و مال مراطرز تعمیر مری منبر و محراب مرےان کے اہداف ہیں دیوار و در و باب مرےاور اک گوہر نایاب کہ تہہ خانے میںہوس دل کو ہے اسباب پریشانی کامیری دیوانگی و وحشت و حیرانی پرمجھ پہ مامور کہن سال سگان خفتہکل کسی ساعت کمزور کی تاریکی میںاس کمیں گاہ میں سوراخ سے در آئے تھےدور دالان کے کونے میں کھڑے ہنستے ہیں
منڈیروں پر رات رینگ رہی ہےاور کیاریوں میںپانی کی مہک سوئی ہوئی ہےسہمے دروازوںاور خوابیدہ روشن دانوں کے سائے میںچاندنی کا لحاف اوڑھےکوئی گلی سے گزرتا ہےنیند کے دالان میںدودھ بھرے برتن کےگرنے کی آواز آتی ہے
ننھا تھرمس ننھی گیس اور ننھا ناشتے دانچھوٹے چھوٹے ببوے اور یہ ان کے بھائی جانچینی کے داروغہ جی اور دفتی کے دربانلائی ہیں اپنے ساتھ ہمارے واسطے یہ سامانآئیں ممانی جان ہماری آئیں ممانی جانآئیں ممانی جانٹین کا الو موم کا بونا لکڑی کی بندوقکپڑے کے اک جکڑ خاں اور شیشے کا بیروقپیتل کے کچھ سارس بگلے جادو کا صندوقکھیل کھلونوں سے ہیں سجے سب کمرے اور دالانآئیں ممانی جان ہماری آئیں ممانی جانآئیں ممانی جانگاؤں کا مکھیا شہر کا بھشتی جنگل کا لنگورلندن کا انگریز بہادر بھارت کا مزدورمٹی کے یہ سیب شریفے کاغذ کے انگورپا کر یہ رنگین کھلونے کیوں نہ ہو خوش عرفانؔآئیں ممانی جان ہماری آئیں ممانی جانآئیں ممانی جان
آخری کوس مجھے آج ہی طے کرنا ہےاور اس لمبے سفر کا یہ کڑا کوس مجھےاس قدر لمبا بڑھانا ہے کہ اب سے پہلےجو بھی کچھ گزرا ہے ماضی میں اسے پھر اک بارحاضر و ناظر و موجود سا میں جھیل سکوںعرصۂ غائب و معدوم سے اس لمحے تکوادیاں جھرنے چراگاہیں مویشی پنچھیکھیت کھلیان چھپر کھٹ مرے گھر کا دالانگاؤں کی گلیاں مکاں لوگ دکانیں بازاراور پھر شہر کی سڑکیں بسوں کاروں کا شورعمر بڑھتی ہوئی بچپن سے لڑکپن کی طرفاور لڑکپن کی وہ نا پختہ بلوغت جس میںمجھ کو احساس ہوا تھا کہ کوئی اور بھی ہےزندگی ساری جسے ساتھ مرے چلنا ہےکیسا شوریدہ سر طوفان تھا طغیانی تھیجس نے اک باؤلے انسان کو بے رحمی سےدور انجانے سے پردیس میں لا پٹخا تھااور پھر پا بہ رکاب آگے ہی آگے کی طرفسر پہ سامان اٹھائے ہوئے بنجاروں ساڈنڈی پگڈنڈی سڑک نقل و حمل حرکت و کوچکیسی آیند ورود تھی یہ مہم جو ہجرتجس میں سیماب قدم چلتا رہا ہوں برسوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books