aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dhar"
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
خوش نما شہروں کا بانی راز فطرت کا سراغخاندان تیغ جوہر دار کا چشم و چراغدھار پر جس کی چمن پرور شگوفوں کا نظامشام زیر ارض کو صبح درخشاں کا پیام
آواز میں یہ رس یہ لطافت یہ اضطرارجیسے سبک مہین رواں ریشمی پھوارلہجے میں یہ کھٹک ہے کہ ہے نیشتر کی دھاراور گر رہا ہے دھار سے شبنم کا آبشارچہکی جو تو چمن میں ہوائیں مہک گئیںگل برگ تر سے اوس کی بوندیں ٹپک گئیں
یہ وہ زباں ہے کہ جس نے زنداں کی تیرگی میں دئیے جلائےیہ وہ زباں ہے کہ جس کے شعلوں سے جل گئے پھانسیوں کے سائےفراز دار و رسن سے بھی ہم نے سرفروشی کے گیت گائے
جنگل سب اپنے تن پر ہریالی سج رہے ہیںگل پھول جھاڑ بوٹے کر اپنی دھج رہے ہیںبجلی چمک رہی ہے بادل گرج رہے ہیںاللہ کے نقارے نوبت کے بج رہے ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
شہر تمنا کے مرکز میں لگا ہوا ہے میلا ساکھیل کھلونوں کا ہر سو ہے اک رنگیں گل زار کھلاوہ اک بالک جس کو گھر سے اک درہم بھی نہیں ملامیلے کی سج دھج میں کھو کر باپ کی انگلی چھوڑ گیاہوش آیا تو خود کو تنہا پا کے بہت حیران ہوابھیڑ میں راہ ملی نہیں گھر کی اس آباد خرابے میںدیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں
لمبے وقت سے سوچ رہا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںملنے سے گھبراتا ہوں میں جھوٹ نہیں کہہ پاتا ہوںاس کے شکوے اس کی شکایت جھگڑے سے ڈر جاتا ہوںادھر ادھر کی باتیں مجھ کو ذرا نہ خوش کر پاتی ہیںجانے کیوں ایسا ہوں میںدوست نہیں بن پاتے میرےرشتے نہیں سنبھلتے ہیںبے جا محبت بے جا تکلفدونوں اوچھے لگتے ہیںاوروں کی کمیوں کو بالکلاچھا نہیں کہہ پاتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںاچھے بھلے کاموں میں اکثردیر بہت کر دیتا ہوںامی سے باتیں کرنی ہوں بیٹی کے اسکول ہو جاناکوئی نیا ناول پڑھنا ہو کوئی کہانی لکھنی ہوسب کو ٹالتا رہتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںبھیڑ بھرے شہروں سے مجھ کووحشت سی ہو جاتی ہےگاؤں جنگل سنسان جگہیںاکثر خوش آ جاتی ہیںکوئی الھڑ چہرہ دیکھوں من کو وہ بھا جاتا ہےجانے کیوں ایسا ہوں میںپیڑوں کے پیراہن دیکھوں پھولوں کی خوشبو کو سونگھوںرنگ برنگی تتلیاں پکڑوں ہلکی ہلکی بوندیں بھیٹھنڈی نرم ہوائیں جب جب چپکے سے چھو جاتی ہیںیا کوئل کی بولی سن لوں من بیاکل ہو جاتا ہےجانے کیوں ایسا ہوں میںنٹ بنجارن سنیاسی اور کھیل تماشے والے لوگکھنڈر ویرانہ جلتی دھوپ پھولی سرسوں دھان کے کھیتلال پتنگ اور پیلی مینا اندر دھنش اور ندی کی دھارآتے ہیں جب خواب میں میرے دیوانہ ہو جاتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںبہت مجھے اچھا کہتے ہیں برا بھی کوئی کہتا ہےسامنے میری مدح سرائی پیچھے گالی دیتا ہےہمدردی ہے کوئی دکھاتا کوئی سازش کرتا ہےپھر بھی چپ چپ سا رہتا ہوں جیسے بہت انجان ہوں میںجانے کیوں ایسا ہوں میںتھوڑی سی آزادی مجھ کو تھوڑا بہت وقت کا زیاںکبھی کبھار کی اچھی باتیں کسی کسی کا سچا پیارچھوٹی موٹی کوئی شرارت کھلکھلا کر ہنسنا بھییہ سب خوش کر جاتے ہیں جب تولگتا ہے کہ زندہ ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میں
فون پر کس کو سناؤں گی میں اپنا حال زارکس کی باتیں سن کے آئے گا مرے دل کو قرارکون پونچھے گا مرے بہتے ہوئے اشکوں کی دھارکون پانی پڑھ کے دے گا ہوگا جب مجھ کو بخاردل میں وحشت کا بسیرا ماں ترے جانے کے بعددم گھٹا جاتا ہے میرا ماں ترے جانے کے بعد
پہلے ناؤں گنیش کا، لیجئے سیس نوائےجا سے کارج سدھ ہوں، سدا مہورت لائےبول بچن آنند کے، پریم، پیت اور چاہسن لو یارو، دھیان دھر، مہادیو کا بیاہجوگی جنگم سے سنا، وہ بھی کیا بیاناور کتھا میں جو سنا، اس کا بھی پرمانسننے والے بھی رہیں ہنسی خوشی دن ریناور پڑھیں جو یاد کر، ان کو بھی سکھ چیناور جس نے اس بیاہ کی، مہما کہی بنائےاس کے بھی ہر حال میں، شیو جی رہیں سہائےخوشی رہے دن رات وہ، کبھی نہ ہو دلگیرمہما اس کی بھی رہے جس کا نام نظیرؔ
ابھی دماغ پہ قحبائے سیم و زر ہے سوارابھی رکی ہی نہیں تیشہ زن کے خون کی دھارشمیم عدل سے مہکیں یہ کوچہ و بازارگزر بھی جا کہ ترا انتظار کب سے ہے
رگوں میں اب میری تیرا لہو ہےمری صورت بھی تجھ سی ہو بہ ہو ہےبہت عرصے سے خود میں میں ہوں غائبسراپا جسم میں اب تو ہی تو ہےمکاں ہوں میں تو بام و در ہے میراتو خد و خال ہے پیکر ہے میرایہ تیرے عشق کا ہر سو اثر ہےجمال و رنگ سب بہتر ہے میراوجود اکثر میں اپنا بھولتا ہوںبھرم میں تیرے خود کو چومتا ہوںتری وحشت میں ہی پاؤں سکوں میںتجھے خود سے الگ کیسے کروں میں
لیکن اے جان وفا جان طرب جان امیددل پہ اک درد پر آشوب کی یلغار ہے آجخرمن حرف و نوا کو ہے بچانا مشکلبے اماں شعلۂ بیتابئ اظہار ہے آجہر اندھیرے کو تمنا ہے سلگ اٹھنے کیہر خموشی کو صدا بننے پہ اصرار ہے آجہر نفس میں ہے مرے دھار کسی خنجر کیہر قدم میں مرے زنجیر کی جھنکار ہے آج
اے مجاز اے ترانہ بار مجاززندہ پیغمبر بہار مجازاے بروۓ سمن وشاں گل پوشاے بہ کوۓ مغاں تمام خروشاے پرستار مہ رخان جہاںاے کماں دار شاعران جواںتجھ سے تاباں جبین مستقبلاے مرے سینۂ امید کے دلاے مجاز اے مبصر خد و خالاے شعور جمال و شمع خیالاے ثریا فریب و زہرہ نوازشاعر مست و رند شاہد بازناقد عشوۂ شباب ہے توصبح فردا کا آفتاب ہے توتجھ کو آیا ہوں آج سمجھانےحیف ہے تو اگر برا مانےخود کو غرق شراب ناب نہ کردیکھ اپنے کو یوں خراب نہ کرشاعری کو تری ضرورت ہےدور فردا کی تو امانت ہےصرف تیری بھلائی کو اے جاںبن کے آیا ہوں ناصح ناداںایک ٹھہراؤ اک تکان ہے تودیکھ کس درجہ دھان پان ہے توننگ ہے محض استخواں ہوناسخت اہانت ہے ناتواں ہونااستخوانی بدن دخانی پوستایک سنگین جرم ہے اے دوستشرم کی بات ہے وجود سقیمناتوانی ہے اک گناہ عظیمجسم اور علم طرفہ طاقت ہےیہی انسان کی نبوت ہےجو ضعیف و علیل ہوتا ہےعشق میں بھی ذلیل ہوتا ہےہر ہنر کو جو ایک دولت ہےعلم اور جسم کی ضرورت ہےکثرت بادہ رنگ لاتی ہےآدمی کو لہو رلاتی ہےخوش دلوں کو رلا کے ہنستی ہےشمع اختر بجھا کے ہنستی ہےاور جب آفت جگر پہ لاتی ہےرند کو مولوی بناتی ہےمے سے ہوتا ہے مقصد دل فوتمے ہے بنیاد مولویت و موتکان میں سن یہ بات ہے نشترمولویت ہے موت سے بد تراس سے ہوتا ہے کار عمر تماماس سے ہوتا ہے عقل کو سرساماس میں انساں کی جان جاتی ہےاس میں شاعر کی آن جاتی ہےیہ زمین آسمان کیا شے ہےآن جائے تو جان کیا شے ہےگوہر شاہ وار چن پیارےمجھ سے اک گر کی بات سن پیارےغم تو بنتا ہے چار دن میں نشاطشادمانی سے رہ بہت محتاطغم کے مارے تو جی رہے ہیں ہزارنہیں بچتے ہیں عیش کے بیمارآن میں دل کے پار ہوتی ہےپنکھڑی میں وہ دھار ہوتی ہےجوئے عشرت میں غم کے دھارے ہیںیخ و شبنم میں بھی شرارے ہیںہاں سنبھل کر لطافتوں کو برتٹوٹ جائے کہیں نہ کوئی پرتدیکھ کر شیشۂ نشاط اٹھایہ ورق ہے ورق ہے سونے کاکاغذ باد یہ نگینہ ہےبلکہ اے دوست آبگینہ ہےساغر شبنم خوش آب ہے یہآبگینہ نہیں حباب ہے یہروک لے سانس جو قریب آئےٹھیس اس کو کہیں نہ لگ جائےتیغ مستی کو احتیاط سے چھوورنہ ٹپکے گا انگلیوں سے لہومستیوں میں ہے تاب جلوۂ ماہاور سیہ مستیاں خدا کی پناہخوب ہے ایک حد پہ قائم نشہہلکا پھلکا سبک ملائم نشہہاں ادب سے اٹھا ادب سے جامتاکہ آب حلال ہو نہ حرامجام پر جام جو چڑھاتے ہیںاونٹ کی طرح بلبلاتے ہیںزندگی کی ہوس میں مرتے ہیںمے کو رسوائے دہر کرتے ہیںیاد ہے جب جگرؔ چڑھاتے تھےکیا الف ہو کے ہن ہناتے تھےمیری گردن میں بھر کے چند آہیںپاؤں سے ڈالتے تھے وہ بانہیںعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیاف گھٹا ٹوپ نشے کا طوفانبھوت عفریت دیو جن شیطانلات گھونسہ چھڑی چھری چاقولب لباہٹ لعاب کف بدبوطنز آوازہ برہمی افسادطعن تشنیع مضحکہ ایرادشور ہو حق ابے تبے ہے ہےاوکھیاں گالیاں دھماکے قےمس مساہٹ غشی تپش چکرسوز سیلاب سنسنی صرصرچل چخے چیخ چناں چنیں چنگھاڑچخ چخے چاؤں چاؤں چیل چلھاڑلپا ڈکی لتام لام لڑائیہول ہیجان ہانک ہاتھا پائیکھلبلی کاؤں کاؤں کھٹ منڈلہونک ہنگامہ ہمہمہ ہلچلالجھن آوارگی ادھم اینٹھنبھونک بھوں بھوں بھنن بھنن بھن بھندھول دھپا دھکڑ پکڑ دھتکارتہلکہ تو تڑاق تف تکراربو بھبھک بھیے بکس برر بھونچالدبدبے دندناہٹیں دھمالگاہ نرمی و لطف و مہر و سلامگاہ تلخی و ترشی و دشنامعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیصرف نشے کی بھیگنے دے مسیںان کو بننے نہ دے کبھی مونچھیںالاماں خوفناک کالا نشہاوہ ریش و بروت والا نشہاژدر مرگ او دیو خوں خواریالاماں نشۂ ''جٹادھاری''نشے کا جھٹ پٹا ہے نور حیاتجھٹپٹے کو بنا نہ کالی راتنشے کی تیز روشنی بھی غلطچودھویں کی سی چاندنی بھی غلطذہن انساں کو بخشتا ہے جمالنشہ ہو جب یہ قدر نور ہلالغرفۂ عقل بھیڑ تو اکثرپر اسے کچ کچا کے بند نہ کررات کو لطف جام ہے پیارےدن کا پینا حرام ہے پیارےدن ہے عفریت آز کی کھنکارات پازیب نازکی جھنکاردن ہے خاشاک خاک دھول دھواںرات آئینہ انجمن افشاںدن مسلح دواں کمر بستہرات طاق و رواق و گلدستہدن ہے فولاد سنگ تیغ علمرات کمخواب پنکھڑی شبنمدن ہے شیون دہائیاں دکھڑےرات مست انکھڑیاں جواں مکھڑےدن کڑی دھوپ کی بد آہنگیرات پچھلے پہر کی سارنگیدن بہادر کا بان بیر کی رتھرات چمپاکلی انگوٹھی نتھدن ہے طوفان جنبش و رفتاررات میزان کاکل و رخسارآفتاب و شراب ہیں بیریبوتلیں دن کو ہیں پچھل پیریکر نہ پامال حرمت اوقاترات کو دن بنا نہ دن کو راتپی مگر صرف شام کے ہنگاماور وہ بھی بہ قدر یک دو جاموہی انساں ہے خرم و خورسندجو ہے مقدار و وقت کا پابندمیرے پینے ہی پر نہ جا مری جاںمجھ سے جینا بھی سیکھ ہیں قرباںاس کے پینے میں رنگ آتا ہےجس کو جینے کا ڈھنگ آتا ہےیہ نصائح بہت ہیں بیش بہاجلد سو جلد جاگ جلد نہاباغ میں جا طلوع سے پہلےتا نگار سحر سے دل بہلےسرو و شمشاد کو گلے سے لگاہر چمن زاد کو گلے سے لگامنہ اندھیرے فضائے گلشن دیکھساحل و سبزہ زار و سوسن دیکھگاہ آوارہ ابر پارے دیکھان کی رفتار میں ستارے دیکھجیسے کہرے میں تاب روئے نکوجیسے جنگل میں رات کو جگنوگل کا منہ چوم اک ترنم سےنہر کو گدگدا تبسم سےجسم کو کر عرق سے نم آلودتاکہ شبنم پڑھے لہک کے درودپھینک سنجیدگی کا سر سے بارناچ اچھل دندنا چھلانگیں ماردیکھ آب رواں کا آئینہدوڑ ساحل پہ تان کر سینہمست چڑیوں کا چہچہانا سنموج نو مشق کا ترانہ سنبوستاں میں صبا کا چلنا دیکھسبزہ و سرو کا مچلنا دیکھشبنم آلود کر سخن کا لباسچکھ دھندلکے میں بوئے گل کی مٹھاسشاعری کو کھلا ہوائے سحراس کا نفقہ ہے تیری گردن پررقص کی لہر میں ہو گم لب نہریوں ادا کر عروس شعر کا مہرجذب کر بوستاں کے نقش و نگارذہن میں کھول مصر کا بازارنرم جھونکوں کا آب حیواں پیبوئے گل رنگ شبنمستاں پیگن گنا کر نظر اٹھا کر پیصبح کا شیر دغدغہ کر پیتاکہ مجرے کو آئیں کل برکاتدولت جسم و علم و عقل و حیاتیہ نہ طعنہ نہ یہ الہنا ہےایک نکتہ بس اور کہنا ہےغیبت نور ہو کہ کثرت نورظلمت تام ہو کہ شعلۂ طورایک سا ہے وبال دونوں کاتیرگی ہے مآل دونوں کادرخور صاحب مآل نہیںہر وہ شے جس میں اعتدال نہیںشادمانی سے پی نہیں سکتاجس کو ہوکا ہو جی نہیں سکتااے پسر اے برادر اے ہم رازبن نہ اس طرح دور کی آوازکوئی بیمار تن نہیں سکتاخادم خلق بن نہیں سکتاخدمت خلق فرض ہے تجھ پردور ماضی کا قرض ہے تجھ پرعصر حاضر کے شاعر خوددارقرض داری کی موت سے ہشیارذہن انسانیت ابھار کے جازندگانی کا قرض اتار کے جاتجھ پہ ہندوستان ناز کرےعمر تیری خدا دراز کرے
یہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہےیہ اک نادان بچے کی طرح تنہائی کواشارہ کرتا ہے ٹھوڑی پکڑ کر اور کہتا ہےوہ دیکھو گاؤں کے سینے پہ سر رکھے ہوئے سرسوںتمہاری کمسنی کھیلی ہے جس کی گود میں برسوںنقوش پا سے اب تک ہر گلی کی مانگ روشن ہےابھی تک گود پھیلائے ہوئے ڈیرے کا آنگن ہےرسیلی جامنوں کے پیڑ کی کمزور شاخوں نےتمہاری انگلیوں کا ہر نشاں محفوظ رکھا ہےلبوں پر جھیل کی گہرائیوں کے ہے بس اک شکوہکہ جب سے تم گئے ہو کوئی بھی ہم تک نہیں پہنچاکنارے جھیل کے وہ پیڑ اب تک منتظر سا ہےکب آؤ گے یہاں کپڑے اترو گے نہاؤ گےیہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہےیہ اک نادان بچے کی طرح تنہائی کواشارہ کرتا ہے ٹھوڑی پکڑ کر اور کہتا ہےوہ دیکھو گاؤں کے کھلیانوں میں سویا ہوا جادونشیلی رات کی رانی وہ لو دیتی ہوئی خوشبودیوں کا دھیمی دھیمی روشنی دینا دھواں دیناشکستہ جھونپڑوں کا زندگی کو لوریاں دیناکھنکتی ہیں رسوئی گھر میں الھڑ چوڑیاں اب تکبھرا کی پولیاں لاتی ہیں سر پر بوڑھیاں اب تککے کنارے کچی اینٹوں سے بنا مندرسلگتے کنڈوں سے اٹھتی دھوئیں کی ملگجی چادرہرے کھیتوں کی مینڈوں پر سلگتے جسم کے سائےلرزتے ہونٹھ گھبرائی ہوئی سانسوں کے افسانےلچکتی آم کی شاخوں پہ بل کھائے ہوئے جھولےکسی کا بھاگنا یہ کہہ کے کوئی ہے ہمیں چھو لےیہ دیکھو زندگی کتنی حسیں ہے کتنی بھولی ہےاسی آغوش میں آ جاؤ جس میں آنکھ کھولی ہےیہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہےیہ کہتا ہے کہ میں گزری ہوئی باتوں میں کھو جاؤںتمہاری زلف سے مہکی ہوئی راتوں میں کھو جاؤںاسے میں کیسے سمجھاؤں کہ اب یہ سانس کا ڈورااک ایسی دھار کی تلوار ہے جس پر گزرنا ہےمجھے اور زندگی کے زخم کو ٹانکے لگانا ہیںاسے میں کیسے سمجھاؤں کہ یہ ماضی کی تصویریںاب اک ایسی امانت ہیں جسے میں رکھ نہیں سکتہاگر رکھوں تو ناکارہ نکما کہہ کے یہ دنیامجھے ٹھوکر لگا دے اور خود آگے کو بڑھ جائےمری پس ماندگی پر ہر نذر اٹھے ترس کھائےمجھے مردہ عجائب گھر کی ایسی مورتی سمجھےجو سب کو اس لیے پیاری ہے کہ کافی پرانی ہےیہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہےاسے میں کیسے سمجھاؤں کہ یہ ماضی کی تصویریںاب اک ایسی امانت ہیں جسے میں رکھ نہیں سکتہ
یہ مئی کی پہلی، دن ہے بندۂ مزدور کامدتوں کے بعد دیکھا اس نے جلوہ حور کایہ جو رشتہ دار تھا ہم سب کا لیکن دور کامل کے مالک نے اسے رتبہ دیا منصور کاجب لگایا حق کا نعرہ دار پر کھینچا گیانخل صنعت اس کے خوں کی دھار پر سینچا گیا
جمال و حسن کے کافر نکھار سے کھیلاریاض عشق کی رنگیں بہار سے کھیلاپیمبروں کی کبھی رسم کی ادا اس نےگوالا بن کے کبھی سبزہ زار سے کھیلابہا دئے کبھی ٹھوکر سے پریم کے چشمےکبھی جمن کبھی گنگا کی دھار سے کھیلاہنسی ہنسی میں وہ دکھ درد جھیلتا ہی رہاکرشمہ باز زمانے سے کھیلتا ہی رہا
افریقی خدمت پسندوں کا نعرہپنجے میں ہتھکڑی کی کڑی بن گئی ہے گرزگردن کا طوق توڑ کے ڈھالی ہے میں نے ڈھال''آ جاؤ ایفریقا''
مرے عزیزو، مرے رفیقومری کمیونزم سے ہو خائفمری تمنا سے ڈر رہے ہومگر مجھے کچھ گلا نہیں ہےتمہاری روحوں کی سادگی سےتمہارے دل کی صنم گری سے
گھنگھور گھٹا تلی کھڑی تھیپر بوند ابھی نہیں پڑی تھیہر قطرہ کے دل میں تھا یہ خطرہناچیز ہوں میں غریب قطرہتر مجھ سے کسی کا لب نہ ہوگامیں اور کی گوں نہ آپ جوگاکیا کھیت کی میں بجھاؤں گا پیاساپنا ہی کروں گا ستیاناسخالی ہاتھوں سے کیا سخاوتپھیکی باتوں میں کیا حلاوتکس برتے پہ میں کروں دلیریمیں کون ہوں کیا بساط میریہر قطرہ کے دل میں تھا یہی غمسرگوشیاں ہو رہی تھیں باہمکھچڑی سی گھٹا میں پک رہی تھیکچھ کچھ بجلی چمک رہی تھیاک قطرہ کہ تھا بڑا دلاورہمت کے محیط کا شناورفیاض و جواد و نیک نیتبھڑکی اس کی رگ حمیتبولا للکار کر کہ آؤ!میرے پیچھے قدم بڑھاؤکر گزرو جو ہو سکے کچھ احسانڈالو مردہ زمین میں جانیارو! یہ ہچر مچر کہاں تکاپنی سی کرو بنے جہاں تکمل کر جو کرو گے جاں فشانیمیدان پہ پھیر دوگے پانیکہتا ہوں یہ سب سے برملا میںآتے ہو تو آؤ لو چلا میںیہ کہہ کے وہ ہو گیا روانہ''دشوار ہے جی پہ کھیل جانا''ہر چند کہ تھا وہ بے بضاعتکی اس نے مگر بڑی شجاعتدیکھی جرأت جو اس سکھی کیدو چار نے اور پیروی کیپھر ایک کے بعد ایک لپکاقطرہ قطرہ زمیں پہ ٹپکاآخر قطروں کا بندھ گیا تاربارش لگی ہونے موسلا دھارپانی پانی ہوا بیاباںسیراب ہوئے چمن خیاباںتھی قحط سے پائمال خلقتاس مینہ سے ہوئی نہال خلقتجرأت قطرہ کی کر گئی کامباقی ہے جہاں میں آج تک ناماے صاحبو! قوم کی خبر لوقطروں کا سا اتفاق کر لوقطروں ہی سے ہوگی نہر جاریچل نکلیں گی کشتیاں تمہاری
کام جو رشوت سے بن جائے بنانا چاہئےچور بازاری میں کالا دھن کمانا چاہئےدودھ میں پانی با آزادی ملانا چاہئےجس سے مطلب ہو اسے مکھن لگانا چاہئےدوستو! یوں جشن آزادی منانا چاہئے؟
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books