aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dushyant"
سرسوتی کو کہتے سنادشینت کی انگشتری لہروں کے حوالے کر دو
یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیایہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا
محبت ایک پسپائی ہے پر احوال حالت کیمحبت اپنی یک طوری میں دشمن ہے محبت کی
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماریصدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
دشمن جاں ہیں سبھی سارے کے سارے قاتلیہ کڑی رات بھی یہ سائے بھی تنہائی بھی
وہ بھائی نرغہ دشمن میں کام آیا ہےتصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
ہر آن نفع اور ٹوٹے میں کیوں مرتا پھرتا ہے بن بنٹک غافل دل میں سوچ ذرا ہے ساتھ لگا تیرے دشمن
مجسموں کی طرح تھے دونوںنہ دوستی تھی نہ دشمنی تھی
مری بستی سے پرے بھی مرے دشمن ہوں گےپر یہاں کب کوئی اغیار کا لشکر اترا
حفاظت ان کی کرنا ہے ضروریاور آندھی ہے پرانی ان کی دشمن
ہم تو وہ تھے کہ محبت تھا وطیرہ جن کاپیار سے ملتا تو دشمن کے بھی ہو جاتے تھے
وہ ماں ہم اس سے جو دم بھر کو دشمنی کر لیںتو یہ نہ کہہ سکے اب آؤ دوستی کر لیں
یہ جبر کدہ آزاد افکار کا دشمن ہےارمانوں کا قاتل ہے امیدوں کا رہزن ہے
دنیا میں اب بدی نہ کہیں اور نکوئی ہےیا دشمنی و دوستی یا تند خوئی ہے
اپنی دولت کو جگر پر تیر غم کھاتے ہوئےدیکھتا ہے ملک دشمن کی طرف جاتے ہوئے
ہمالیہ کی ہواؤں کی تازگی لے کرپھر اس کے بعد یہ پوچھیں کہ کون دشمن ہے
ہر ایک دشمن جاں کو کہوں میں ہمدم و یارجو کاٹتی ہے سر حق وہ چوم لوں تلوار
سامراج کے دوست ہمارے دشمن ہیںانہی سے آنسو آہیں آنگن آنگن ہیں
جان جب تک نہ ہو بدن سے جداکوئی دشمن نہ ہو وطن سے ہوا
سر پٹکنے لگا رہ رہ کے دریچہ کوئیگویا پھر خواب سے بیدار ہوئے دشمن جاں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books