تاریخ کے مردہ خانے سے

شہناز نبی

تاریخ کے مردہ خانے سے

شہناز نبی

MORE BYشہناز نبی

    ناری اور شودر کو سمان سمجھنے والے مہا پرش

    اتہاس کے پنوں میں کھو گئے ہیں

    ہونٹ آج بھی تھرتھراتے ہیں

    لفظ میلے نہ ہو جائیں

    زمین تھی تو پتھریلی

    لیکن اپنا کنواں کھودا

    تو پانی میٹھا نکلا

    پھنکارتے آبھوشن

    صندوقوں میں بند کر کے

    چابی بزرگوں کے حوالے کر دی گئی

    اڑتے ہوئے لفظوں کو مٹھیوں میں پکڑتے ہی

    چاند شرمانے لگا

    روشنی کا سودا کرنے والوں نے

    گہرے گڑھے کھود کر

    کرنوں کو دفنانا چاہا

    لیکن وہ زندہ شریانوں میں

    لہو بن کر دوڑ گئیں

    مساموں سے پھوٹتے اجالوں کی یورش میں

    بہہ نکلے جانے کتنے میرؔ و سوداؔ

    کتنے کالیداسؔ

    الٹی پوتھی پکڑے پکڑے

    جانے کب ڈھائی اکھشر سیدھے

    ڈھائی الٹے پڑھے

    اور دریا میں ڈبکی لگانے سے پہلے

    سرسوتی کو کہتے سنا

    دشینت کی انگشتری لہروں کے حوالے کر دو

    مچھلیاں چغل خور ہوتی ہیں

    بھرتؔ کو اپنے اندر تھامے رہو

    تا ابد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY