aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "express"
ہماری تنہائی سےایک بگھی بنائی جا رہی ہےجسے تفریحی مقامات پر رکھا جائے گایا ایکسپریس ٹرین کےپٹری سے اتر جانے کے بعدخراب موسم میںروانہ کیا جائے گا
اذیت ناک اس گاڑی کا انداز روانی ہےبڑی دل دوز اس کے ہر مسافر کی کہانی ہےسفر کی ہر صعوبت اک بلائے ناگہانی ہےنہ روٹی ہے نہ سالن ہے نہ چائے ہے نہ پانی ہےیہ ڈیزل کی بجائے ہر قدم پر جان کھاتی ہےجوانی آدمی کی راستے میں بیت جاتی ہے
احتجاجی مظاہرے کے دورانادھر ادھر بھاگتے ہوئےلوگوں کے بیچ سڑک پر پھٹنے والےآنسو گیس کے شیل کی طرحآپ کی نظمیں پڑھتے ہوئےآنکھوں میں جلن ہونے لگتی ہےگلے میں خراشیں پڑ جاتی ہیںناک سے بے تحاشا پانی بہنے لگتا ہےبھاگنے والے لوگوں کی طرحدل بہت زور سے دھڑکنے لگتا ہےاپنی حالیہ نظموں میںسیوریج پائپ کے ساتھچلنے والی خود رو بیلوں کے بجائےآپ گندے پانی کا ذکر کر رہے ہیںریلوے لائن کے آس پاسکھلنے والے پھولوں کے بجائے ایکسپریس ٹرین پرنا معلوم ڈاکوؤں کی فائرنگ کا ذکرخطرے کی علامت ہےاور کولہی عورتوں کے خلاف پولیس آپریشن کی بات توانتہائی پریشان کن ہےورلڈکپ کی خوشی میںہوائی فائرنگ سے ہلاک ہونے والیعورت کی موت محض اتفاقیہ تھیآپ اس کی یاد میں نعرے بازی نہ کریںقاعد حزب اختلاف کی طرحآپ کو ہماری ہر پالیسی سے اختلاف ہےآپ کے لیے ہمارا ہر آئینی قدم غیر آئینی ہےاور ہماری ہر پیشکش قبولآپ کو ہماری ہر بات پر غصہ آتا ہےاور ہمیں خیر چھوڑیںآپ کی نئی نظم کا ہر لفظکرائے کے گوریلوں کی بندوقوں سےنکلنے والی گولیوں کی طرح ہےہم آپ کو ایک سزا یافتہ دہشت بنا سکتے ہیںیا ایک غیر ملکی ایجنٹ قرار دے سکتے ہیںآپ غدار بھی ہو سکتے ہیںمگر فی الحال ہمارے لیےآپ ایک اشتعال انگیز شاعر ہیں
دیکھ آئے ہم بھی دو دن رہ کے دہلی کی بہارحکم حاکم سے ہوا تھا اجتماع انتشارآدمی اور جانور اور گھر مزین اور مشینپھول اور سبزہ چمک اور روشنی ریل اور تارکراسن اور برق اور پٹرولیم اور تارپینموٹر اور ایروپلین اور جمگھٹے اور اقتدارمشرقی پتلوں میں تھی خدمت گزاری کی امنگمغربی شکلوں سے شان خود پسندی آشکارشوکت و اقبال کے مرکز حضور امپررزینت و دولت کی دیوی امپرس عالی تباربحر ہستی لے رہا تھا بے دریغ انگڑائیاںتھیمس کی امواج جمنا سے ہوئی تھیں ہم کنارانقلاب دہر کے رنگین نقشے پیش تھےتھی پئے اہل بصیرت باغ عبرت میں بہارذرے ویرانوں سے اٹھتے تھے تماشا دیکھنےچشم حیرت بن گئی تھی گردش لیل و نہارجامے سے باہر نگاہ ناز فتاحان ہندحد قانونی کے اندر آنریبلوں کی قطارخرچ کا ٹوٹل دلوں میں چٹکیاں لیتا ہوافکر ذاتی میں خیال قوم غائب فی المزاردعوتیں انعام اسپیچیں قواعد فوج کمپعزتیں خوشیاں امیدیں احتیاطیں اعتبارپیش رو شاہی تھی پھر ہز ہائینس پھر اہل جاہبعد اس کے شیخ صاحب ان کے پیچھے خاکسار
تھرتھراتی رہی چراغ کی لواشک پلکوں پہ کانپ کانپ گئےکوئی آنسو نہ بن سکا تاراشب کے سایے نظر کو ڈھانپ گئےکٹ گیا وقت مسکراہٹ میںقہقہے روح کو پسند نہ تھےوہ بھی آنکھیں چرا گئے آخردل کے دروازے جن پہ بند نہ تھےسونپ جاتا ہے مجھ کو تنہائیجس پہ دل اعتبار کرتا ہےبنتی جاتی ہوں نخل صحرائیتو نے چاہا تو میں نے مان لیاگھر کو بازار کر دیا میں نےبیچ کر اپنی ایک ایک امنگتجھ کو زردار کر دیا میں نے
وہ لڑکی وہ معصوم الھڑ سی لڑکیکسی آرزو کی طرح دل نشیں تھیشعاع سحر کی طرح تھی اچھوتیبہاروں ستاروں کا خواب حسیں تھی
صبح کے تین بجنے والے ہیںنیند ہے دور میری آنکھوں سےکروٹیں یوں بدل رہا ہوں میںآخری رات جیسے روگی کیچاندنی رس رہی ہے کھڑکی سےاوک میں بھر کے پی رہا ہوں میںیاد سی آ رہی ہے بچپن کیآسماں بھر رہا ہے تاروں سےجھینگروں کی صدا ہے کانوں میںجگنوؤں کی کئی قطاریں ہیںاک چٹائی بچھی ہے آنگن میںجس پہ لیٹے ہوئے ہیں بابو جیپاس بیٹھا ہوا ہوں میں ان کےگن رہا ہوں حسین تاروں کوایک حیرت ہے میری آنکھوں میںسات یا آٹھ کا رہا ہوں گاسامنے میرے تھوڑی دوری پرایک چولہا ہے خاص مٹی کاکھیر پوری پکا رہی ہے ماںمن ہی من گنگنا رہی ہے ماںگھر کے چوکھٹ کے پاس ہی مدھیماک نیا لالٹین جلتا ہےدوسری سمت میرے آنگن کےساتھ بچھڑے کے گائے بیٹھی ہےکر رہی ہے جگالی دھیرے سےیاد اب مٹ رہی ہے بچپن کیصبح کے پانچ بج چکے ہیں اورچاندنی جا چکی ہے کمرے سےاونگھتا ہے وہ آخری تارہشور کرنے لگے ہیں کچھ پنچھیاک مؤذن اذان دیتا ہےبات کچھ اور دیر کی ہی ہےسرخ سورج دکھائی دے گا ابپھیل جائے گی دھوپ آہستہاور میں روز کی طرح اپنیلاش ہاتھوں میں خود اٹھاؤں گااور بھٹکوں گا شہر میں دن بھرصرف دو گز کفن کی خاطر پرکون جانے کفن ملے نہ ملےروح کو اک بدن ملے نہ ملے
مرا وجود زندگی کا بھید ہے دیکھیہ ایک ہونٹ کے شعلے پہ برگ گل سے خراشیہ ایک جسم کے کندن میں گدگدی سے گدازیہ ایک روح بھنچے بازوؤں میں کھیلتی لہر!ذرا قریب تو آ دیکھ تیرے سامنے ہیںیہ سرخ رس بھرے لب جن کی اک جھلک کے لیےکبھی قبیلوں کے دل جوشنوں میں دھڑکے تھےجو تو کہے تو یہی ہونٹ سرخ رس بھرے ہونٹترے لہو میں شگوفے کھلا بھی سکتے ہیں!قریب آ یہ بدن میری زندگی کا طلسمتری نگاہ کی چنگاریوں کا پیاسا ہےجو تو کہے تو یہی نرم لہریا آنچلیہی نقاب مری چٹکیوں میں اٹکی ہوئییہی ردا مری انگڑائیوں سے مسکی ہوئییہ آبشار ڈھلانوں سے گر بھی سکتی ہےبس ایک شرط۔۔۔ یہ گوہر سطور دستاویزذرا کوئی یہ وثیقہ رقم کرے تو سہیاکائیوں کے ادھر جتنے دائرے ہوں گے!ادھر بھی اتنے ہی عکس ان برہنہ شعلوں کے
یہ ادائیں رقص کے ہنگام کتنی رقص خیزوہ جوانان قبیلہ ہوش سے باہر چلےکاکلوں کے سنبلستاں عارضوں پر عکس ریزجیسے ساحل کا نظارا آب دریا پر چلےاک تأثر ہے کہ رقصاں ہو رہا ہے ہر طرفشمعیں روشن ہیں چراغاں ہو رہا ہے ہر طرفآگ کے اطراف روشن جیسے اک فانوس رقصرقص کرتی لڑکیاں کچھ آگ کے اطراف یوںجیسے سطح آب پر مہتاب کے ہالے کا عکسجس کو جھولے میں جھلائیں موج ہائے سیمگوںمل کے جب جھکتی ہیں لگتی ہیں کلی منہ بند سیاور جب تنتی ہیں کس درجہ بھلی دل بند سیاک طرف وہ سرخ مشعل ہاتھ میں لے کر چلےکچھ حسیں کچھ نازنیں کچھ سرو قد کچھ سیم تنجیسے کچھ پھولوں کے نازک نرم رو لشکر چلےنرم رفتاری میں دجلہ کے تموج کی پھبنجیسے صحراؤں کے آہو محو گلگشت چمنیہ حسیں آہو قدم آہو نفس آہو مزاجلے رہے ہیں نوجوانان قبیلہ سے خراججلوہ پیرا جلوہ ساماں کتنے دل کش ماہتابکتنے افسانوں کے پیکر کتنے رنگ و بو کے خوابوہ جبینوں کے عرق میں جیسے شعلوں کے سرابجیسے صندل میں شراروں کے تبسم محو خوابشعلہ افشاں کاکلوں میں سرخ پھولوں کے چراغجیسے تاریکی میں مل جائیں اجالے کے سراغعارضوں کی چاندنی پھیلی ہوئی سی ہر طرفہر طرف ہے ایک ترکش ایک آہو ہر قدمکر رہے ہیں رقص دف پر مہو شان جلوہ تابہر طرف بکھرے ہوئے ہیں وادیٔ دجلہ کے خوابکچھ کنول کچھ نسترن کچھ سنبلستاں کچھ گلاب
یہ مرا شیشۂ دل آئینۂ سادہ و صافعکس ریز اس میں فرشتے بھی شیاطین بھی ہیںلیکن اس وقت کا احساس عیاذاً باللہجب فرشتے بھی شیاطین نظر آتے ہیں
سنو تم سے مجھے اک بات کہنی ہےتمہارا اس قدر بیزار سا رہناخفا برہم تغافل کیش کی عادتمجھے ادراک ہے اس کا یہ عنوان محبت ہےتمہارا ہر ستم مجھ کو عزیز از جان ہے لیکنتمہاری خامشی مجھ پر قیامت سی گزرتی ہےتبسم قہقہے شادابی رخسار و لب و مژگاں کی تابانیمرے شعر و سخن کے واسطے اکسیر اعظم ہےتقاضائے محبت تو یہی ہے تمتبسم سے تکلم سے وجود حسن طینت سےمرے فکر و تخیل کو کیا کرتے رہو معمورچلو ضد چھوڑ کر اپنیترستی منتظر نظروں کو تم یک لختتجلی سے عطا معراج کر دو
یہ کون ہیںکہ جن کی عطر سے بھری ہواکہ جن کا عطر سے بھرا وجود عکس ریز ہےکہاں سے آ رہی ہیںارغنون کی دھنیںیہ ارغوانی باغ ہے کہناشتے کی میز ہےنزار کم بدنجو ایک قاش سنگترے کی ناشتے کی میز سے اٹھائیںتو پھلوں میں رس پڑےجو دھیرے سے ذرا مسکرائیںسارا خاندان ہنس پڑے
نژاد برگ و گلسحر کی سمت جا رہی ہےخواب کار ظلمتوں کے دشت سےحروفزائچےپرانے ادھ جلےکھنڈر عمارتیں مکانان کے بھوت بھی ہیں ان کے ہم سفرہجوم کارواں سحر زدہ ہےزرد دائروں میں عکس ریز پتلیاںفضا کو نوچتی ہیںمانگتی ہیں خون دل کاایک ایک راہگیر سے خراجمیں ان کے ساتھ ہوںیا اپنا راہزندعا کی خاک بال و پر سےمیں جھٹک چکا ہوںمیری راتمیری تیرگیمجھے اتارنا ہے تجھ کو خون دل کیموج بے کراں کے سیل گرم میںمجھے پکارنا ہے اس فسردہ دلاداس اجنبی کومجھ سے جانے کب جو دفعتاً بچھڑ گیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books