aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ghuumnaa"
زنداں میں شہیدوں کا وہ سردار آیاشیدائے وطن پیکر ایثار آیاہے دار و رسن کی سرفرازی کا دنسردار بھگت سنگھ سردار آیاتا دار و رسن شوق سے اٹھلا کے گیاتو شان شہادت اپنی دکھلا کے گیاٹکڑے ہوتا ہے دل ترے ماتم میںلاشے کا انگ انگ کٹوا کے گیاپی کر مئے شوق جھومنا وہ تیرابے پروایانہ گھومنا وہ تیراہے نقش ترے اہل وطن کے دل پرپھانسی کی رسن کو چومنا وہ تیراجام حب وطن کے اے متوالےاے پیکر ناموس حمیت والےہو عالم ارواح میں شاداں کہ نہیںاب تیرے وطن میں وہ حکومت والے
پھول چننابارشوں میں بھیگناانجان رستوں، وادیوں میں گھومنادریا کنارے ریت پر چلناہوا کے گیت سنناپہلی پہلی برف باری کی خوشی میںبرف کے گولے بنانااچھا لگتا ہے مجھے ہر شامٹیریس پر کھڑے ہو کرسنہری دھوپ لیناخواب بننا!!
ایک نظموقت کی جیب کاٹی گئی اور چرائی ہوئی ساعتیںزندگانی کے نیلام گھر میں محبت کی اترن کا بھاؤچکانے میں خرچی گئیںہم نے فرصت کا سونا لٹا کروہ رشتے خریدےجنہیں گھر کے صندوقچے کاتحفظ میسر نہیں آ سکاکب تلک ایسے رشتے گرہ میں لیے گھومنابے خیالی میں تبدیل ہوتے ہوئے پیرہن میںکسی دن یہ سامان رہ جائے گادل کے کونے میں متروک چیزوں کےبکھرے ہوئے ڈھیر پرسگرٹوں سے ادھارا دھواں کھینچ کربے نشانی کی چادر چڑھانے کو جتنا سمے چاہیےوہ ہتھیلی کی الجھی لکیروں سے لڑنے میں لگ جائے گاان خیالوں کی لا یعنیتسرخ آنکھوں میں گھلتے ہوئے بے وجہ رت جگوںپھیپھڑوں میں اترتے ہوئے زہر میں دفن ہےجیسے گاؤں سے آیا ہوا اک مسافربڑے شہر میںاوہ بڑے شہر سے یاد آیاسوا تین بجنے کو ہیں ان چرائی ہوئی ساعتوں سے اگر کچھ بچا ہے اسے پوٹلی میں رکھو
راستے میںشام مل جائے گی تنہاتم اسے ہمراہ لے کرگھومنا سنسان دریا کے کنارے
گھومنا ہر ایک کی پہلی پسنداس لیے ڈالا ستاروں یہ کمند
نہ تم رہو گے نہ ہم رہیں گےہمارے نقش قدم رہیں گےہماری نیکی کی لو رہے گیہمارے داغ ستم رہیں گےرہیں گے کب تک یوں سرنگوں ہمکہاں تلک یہ صنم رہیں گےیہ جاہ و عظمت کے جھوٹے پیکرکہاں تلک محترم رہیں گےیزیدیت کا چلن وہی ہےجھکیں گے سر یا قلم رہیں گےعلم جو حق کا اٹھائے ہوں گےوہ ہر زمانے میں کم رہیں گےاٹھائے پلکوں پہ گھومنا ہےزمیں پہ وہ کالعدم رہیں گےعجیب فطرت ہے حق نوا کیدبیں گے اور تازہ دم رہیں گےجو ہار بیٹھے گی ضبط خلقتصباؔ کہاں پھر بھرم رہیں گے
نہیں میں یہ کہتامجھے دور دیسوں کو جانا نہیں ہےمجھے تو سمندر کے اندر ہی رہنا ہےوہیلوں سے اور شارکوں سے بھرےگہرے ساگر میں چاروں طرف گھومنا ہےمجھے ان جزیروں سے بھی دور رہنا ہےجو میٹھے نغموں سائرن کا جادو جگائےگھنی نیند تقسیم کرنے پہ مامور ہیںہوا مجھ سے کہتیچلو ساتھ میرےمگر میں سمندر کے نمکین پانی کا عادیمجھے کیا پڑی تھی کہ میںسرپھری اس ہوا کی کوئی بات سنتاکسی ساحلی شہر کے پب پب کے اندرلہو ایسے مشروب کی تہ میںتلچھٹ کی صورت شرابور ہوتامجھے کیا پڑی تھی
اب کس لیے جہان خرابی میں گھومناوہ سو گئی تو اس نے نہ دیکھا کہ اس کے بعدکتنی بڑی قطار کھلے زاویوں کی تھیوقت آ گیا تھا وصل و مکافات وصل کااونچی زمیں پہ ریل کی کھڑکی کے ساتھ ساتھغاروں میں بستروں میں زمیں پر رضائی میںاب کس لیے جہان خرابی میں لوٹناسو آشیاں کو مثل کبوتر اڑائیےاور دن گزر چلے تو یہ بازو سمیٹ کرانگشتری کو آئنے پر مار سوئیےوقت آ گیا ہے وصل و مکافات وصل کا
دوستی ساتھ میں بس وقت بتانا ہی نہیںگھومنا پھرنا فقط ہنسنا ہنسانا ہی نہیں
لوگ گمان کر بیٹھے ہیں کے خدا کوئی نہیںہر طرف نظام بدل رہا ہےپرندوں کے گیت اب شور کیشکل اختیار کر چکے ہیںپہاڑ گزشتہ دو دہائیوں سے غم زدہ ہیںقہقہوں نے غموں سے دوستی کر لی ہےاب پرندے شہر کا رخ نہیں کرتےانسان انسانوں سے خوفزدہ ہےبہتی ندیاں اب ویران آوازیں نکالتی ہیںسمندر کسی بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہےزمین لوگوں سے تنگ آ کر اپنے مدار میںگھومنا بند کر چکی ہےپہاڑ اب زمین کی گرفت سے آزادی چاہتے ہیںلوگ اپنی مرضی کر رہے ہیںطوائفوں کے پاؤں چومتے اور بیوی کوخوشیاں دینے سے کتراتے ہیںدن بھر حسینوں کے جسموں کے خد و خال ماپتےشام کو انہیں آنکھوں سے سپنے دیکھتےاور سوچتے ہیں کے خدا کوئی نہیںویران سڑکوں پر رینگتی خاموشی نہ جانےکتنے انسان نگل چکی ہےمحبت کے ہاتھ اب بے شمار لوگوں کےخون سے رنگ چکے ہیںہر چیز خوفزدہ ہےمگر خدا ابھی بھی کسی گہریسوچ میں مبتلا ہے
عجیب کیفیت سے دوچار ہوںاس سمے میری آخری خواہش پوچھی جاتی تو میں ایسا شخص مانگتا جو میری تھکن بانٹ لےتمہارے ہجر میں جنگل گھومنا چاہتا ہوںہجر ایک خزاں ہے یا کچھ اور ہےہوائے ہجر نے تمام پیڑ جلا دئے ہیں ہر سو ویرانی ہےمیرا خود پر سے اعتماد اٹھ گیا ہےدالان سے اندر کی جانب گرتے پڑتے وسط میں آ کر ایک بھیڑیے کا روپ دھار کر نوچنے لگتے ہیںمیرے مصرعوں کے اکثر و بیشتر رکن تمہاری عدم موجودگی پر احتجاجاً گر رہے ہیںنیلم کا نیلگوں پانی کہیں رہ گیا ہےجہلم اپنے اندر خزائیں گھول رہا ہےمیں شاید ایک عمر رسیدہ شخص ہوںایک سنسان جزیرے میں کسی معجزے کا منتظر کھڑا ہوںاس سے پہلے کہ تمہارے پلٹنے کے خوف میں مبتلا ہو جاؤںتمہیں چاہیے کہ میرے لیے لامتناہی ہجر کی دعا مانگو
عشق تیرے لحافوں میں لپٹا ہواآئنے کے تقدس میں سمٹا ہوامرمریں آتشیں روشنی سا بدنسر سے پاؤں تلک گھومنا ہے مجھےآیتوں کی طرح چومنا ہے مجھےآیتوں کی طرح چومنا ہے مجھے
اس قدر پیار سے اے جان جہاں رکھا ہےدل کے رخسار پہ اس وقت تری یاد نے ہاتیوں گماں ہوتا ہے گرچہ ہے ابھی صبح فراقڈھل گیا ہجر کا دن آ بھی گئی وصل کی رات
نہیں معلوم زریونؔ اب تمہاری عمر کیا ہوگیوہ کن خوابوں سے جانے آشنا نا آشنا ہوگیتمہارے دل کے اس دنیا سے کیسے سلسلے ہوں گےتمہیں کیسے گماں ہوں گے تمہیں کیسے گلے ہوں گےتمہاری صبح جانے کن خیالوں سے نہاتی ہوتمہاری شام جانے کن ملالوں سے نبھاتی ہونہ جانے کون دوشیزہ تمہاری زندگی ہوگینہ جانے اس کی کیا بایستگی شائستگی ہوگیاسے تم فون کرتے اور خط لکھتے رہے ہو گےنہ جانے تم نے کتنی کم غلط اردو لکھی ہوگییہ خط لکھنا تو دقیانوس کی پیڑھی کا قصہ ہےیہ صنف نثر ہم نابالغوں کے فن کا حصہ ہےوہ ہنستی ہو تو شاید تم نہ رہ پاتے ہو حالوں میںگڑھا ننھا سا پڑ جاتا ہو شاید اس کے گالوں میںگماں یہ ہے تمہاری بھی رسائی نارسائی ہووہ آئی ہو تمہارے پاس لیکن آ نہ پائی ہووہ شاید مائدے کی گند بریانی نہ کھاتی ہووہ نان بے خمیر میدہ کم تر ہی چباتی ہووہ دوشیزہ بھی شاید داستانوں کی ہو دل دادہاسے معلوم ہوگا زالؔ تھا سہرابؔ کا داداتہمتن یعنی رستمؔ تھا گرامی سامؔ کا وارثگرامی سامؔ تھا صلب نر مانیؔ کا خوش زادہ(یہ میری ایک خواہش ہے جو مشکل ہے)وہ نجمؔ آفندی مرحوم کو تو جانتی ہوگیوہ نوحوں کے ادب کا طرز تو پہچانتی ہوگیاسے کد ہوگی شاید ان سبھی سے جو لپاڑی ہوںنہ ہوں گے خواب اس کا جو گویے اور کھلاڑی ہوں
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
ہوا بھی خوش گوار ہےگلوں پہ بھی نکھار ہےترنم ہزار ہےبہار پر بہار ہےکہاں چلا ہے ساقیاادھر تو لوٹ ادھر تو آارے یہ دیکھتا ہے کیااٹھا سبو سبو اٹھاسبو اٹھا پیالہ بھرپیالہ بھر کے دے ادھرچمن کی سمت کر نظرسماں تو دیکھ بے خبروہ کالی کالی بدلیاںافق پہ ہو گئیں عیاںوہ اک ہجوم مے کشاںہے سوئے مے کدہ رواںیہ کیا گماں ہے بد گماںسمجھ نہ مجھ کو ناتواںخیال زہد ابھی کہاںابھی تو میں جوان ہوںعبادتوں کا ذکر ہےنجات کی بھی فکر ہےجنون ہے ثواب کاخیال ہے عذاب کامگر سنو تو شیخ جیعجیب شے ہیں آپ بھیبھلا شباب و عاشقیالگ ہوئے بھی ہیں کبھیحسین جلوہ ریز ہوںادائیں فتنہ خیز ہوںہوائیں عطر بیز ہوںتو شوق کیوں نہ تیز ہوںنگار ہائے فتنہ گرکوئی ادھر کوئی ادھرابھارتے ہوں عیش پرتو کیا کرے کوئی بشرچلو جی قصہ مختصرتمہارا نقطۂ نظردرست ہے تو ہو مگرابھی تو میں جوان ہوںیہ گشت کوہسار کییہ سیر جوئے بار کییہ بلبلوں کے چہچہےیہ گل رخوں کے قہقہےکسی سے میل ہو گیاتو رنج و فکر کھو گیاکبھی جو بخت سو گیایہ ہنس گیا وہ رو گیایہ عشق کی کہانیاںیہ رس بھری جوانیاںادھر سے مہربانیاںادھر سے لن ترانیاںیہ آسمان یہ زمیںنظارہ ہائے دل نشیںانہیں حیات آفریںبھلا میں چھوڑ دوں یہیںہے موت اس قدر قریںمجھے نہ آئے گا یقیںنہیں نہیں ابھی نہیںابھی تو میں جوان ہوںنہ غم کشود و بست کابلند کا نہ پست کانہ بود کا نہ ہست کانہ وعدۂ الست کاامید اور یاس گمحواس گم قیاس گمنظر سے آس پاس گمہمہ بجز گلاس گمنہ مے میں کچھ کمی رہےقدح سے ہمدمی رہےنشست یہ جمی رہےیہی ہما ہمی رہےوہ راگ چھیڑ مطرباطرب فزا، الم ربااثر صدائے ساز کاجگر میں آگ دے لگاہر ایک لب پہ ہو صدانہ ہاتھ روک ساقیاپلائے جا پلائے جاابھی تو میں جوان ہوں
اس نار میں ایسا روپ نہ تھا جس روپ سے دن کی دھوپ دبےاس شہر میں کیا کیا گوری ہے مہتاب رخے گلنار لبےکچھ بات تھی اس کی باتوں میں کچھ بھید تھے اس کی چتون میںوہی بھید کہ جوت جگاتے ہیں کسی چاہنے والے کے من میںاسے اپنا بنانے کی دھن میں ہوا آپ ہی آپ سے بیگانہاس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانا
خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہخودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہیہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےصنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہکیا ہے تو نے متاع غرور کا سودافریب سود و زیاں لا الہ الا اللہیہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوندبتان وھم و گماں لا الہ الا اللہخرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زنارینہ ہے زماں نہ مکاں لا الہ الا اللہیہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابندبہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہاگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میںمجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیںکبھی گمان کی صورت کبھی یقیں کی طرح
برستا بھیگتا موسم دھواں دھواں ہوگاپگھلتی شمع پہ چہرہ کوئی گماں ہوگا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books