aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "good"
صبح صبح اک خواب کی دستک پر دروازہ کھولا' دیکھاسرحد کے اس پار سے کچھ مہمان آئے ہیںآنکھوں سے مانوس تھے سارےچہرے سارے سنے سنائےپاؤں دھوئے، ہاتھ دھلائےآنگن میں آسن لگوائےاور تنور پہ مکی کے کچھ موٹے موٹے روٹ پکائےپوٹلی میں مہمان مرےپچھلے سالوں کی فصلوں کا گڑ لائے تھے
اے سپہر بریں کے سیارواے فضائے زمیں کے گل زارواے پہاڑوں کی دل فریب فضااے لب جو کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوااے عنادل کے نغمۂ سحریاے شب ماہتاب تاروں بھریاے نسیم بہار کے جھونکودہر ناپائیدار کے دھوکوتم ہر اک حال میں ہو یوں تو عزیزتھے وطن میں مگر کچھ اور ہی چیزجب وطن میں ہمارا تھا رمناتم سے دل باغ باغ تھا اپناتم مری دل لگی کے ساماں تھےتم مرے درد دل کے درماں تھےتم سے کٹتا تھا رنج تنہائیتم سے پاتا تھا دل شکیبائیآن اک اک تمہاری بھاتی تھیجو ادا تھی وہ جی لبھاتی تھیکرتے تھے جب تم اپنی غم خواریدھوئی جاتی تھیں کلفتیں ساریجب ہوا کھانے باغ جاتے تھےہو کے خوش حال گھر میں آتے تھےبیٹھ جاتے تھے جب کبھی لب آبدھو کے اٹھتے تھے دل کے داغ شتابکوہ و صحرا و آسمان و زمیںسب مری دل لگی کی شکلیں تھیںپر چھٹا جس سے اپنا ملک و دیارجی ہوا تم سے خود بہ خود بیزارنہ گلوں کی ادا خوش آتی ہےنہ صدا بلبلوں کی بھاتی ہےسیر گلشن ہے جی کا اک جنجالشب مہتاب جان کو ہے وبالکوہ و صحرا سے تا لب دریاجس طرف جائیں جی نہیں لگتاکیا ہوئے وہ دن اور وہ راتیںتم میں اگلی سی اب نہیں باتیںہم ہی غربت میں ہو گئے کچھ اوریا تمہارے بدل گئے کچھ طورگو وہی ہم ہیں اور وہی دنیاپر نہیں ہم کو لطف دنیا کااے وطن اے مرے بہشت بریںکیا ہوئے تیرے آسمان و زمیںرات اور دن کا وہ سماں نہ رہاوہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہاتیری دوری ہے مورد آلامتیرے چھٹنے سے چھٹ گیا آرامکاٹے کھاتا ہے باغ بن تیرےگل ہیں نظروں میں داغ بن تیرےمٹ گیا نقش کامرانی کاتجھ سے تھا لطف زندگانی کاجو کہ رہتے ہیں تجھ سے دور سداان کو کیا ہوگا زندگی کا مزاہو گیا یاں تو دو ہی دن میں یہ حالتجھ بن ایک ایک پل ہے اک اک سالسچ بتا تو سبھی کو بھاتا ہےیا کہ مجھ سے ہی تیرا ناتا ہےمیں ہی کرتا ہوں تجھ پہ جان نثاریا کہ دنیا ہے تیری عاشق زارکیا زمانے کو تو عزیز نہیںاے وطن تو تو ایسی چیز نہیںجن و انسان کی حیات ہے تومرغ و ماہی کی کائنات ہے توہے نباتات کا نمو تجھ سےروکھ تجھ بن ہرے نہیں ہوتےسب کو ہوتا ہے تجھ سے نشو و نماسب کو بھاتی ہے تیری آب و ہواتیری اک مشت خاک کے بدلےلوں نہ ہرگز اگر بہشت ملےجان جب تک نہ ہو بدن سے جداکوئی دشمن نہ ہو وطن سے ہوا
منی تیرے دانت کہاں ہیںدانت تھے میں نے دودھ پلا کر سات برس میں پالےآ کر ان کو لے گئے چوہے لمبی مونچھوں والےگڑ کا ان کو ماٹ ملا تھا میٹھا اور مزے دارلاکھ خوشامد کر کے مجھ سے لے لئے دانت ادھارمنی تیرے دانت کہاں ہیںبلی تھی اک مامی موسی چپکے چپکے آئیپنجوں پر تھی دیگ کی کھرچن ہونٹوں پر بالائیبولی گڑ کے ماٹ پہ میں نے چوہے دیکھے چارحصہ آدھوں آدھ رہے گا دے دو دانت ادھارمنی تیرے دانت کہاں ہیںبعد میں بوڑھا موتی آیا رونی شکل بنائےبولا بی بی اس بلی کا کچھ تو کریں اپائےدودھ نہ چھوڑے گوشت نہ چھوڑے ہیں بڈھا لاچاراس کو کروں شکار جو مجھ کو دے دو دانت ادھاراچھی منی تم نے اپنے اتنے دانت گنوائےکچھ چوہوں نے کچھ بلی نے کچھ موتی نے پائےباقی جو دو چار رہے ہیں وہ ہم کو دلواؤاک دعوت میں آج ملیں گے تکے اور پلاؤمرغی کے پائے کا سالن بیگن کا آچاردو گی یا کسی اور سے مانگوںہاں دیے ادھاربابا ہاں ہاں دیے ادھارمنی تیرے دانت کہاں ہیں
نیند میرے اعصاب پہ سوار ہو چکی ہےامید نے دامن جھٹک کردہلیز پر اونگھتی ہوئی آنکھوں کے ہاتھ زخمی کر دئیے ہیںانتظاراپنے منطقی انجام کو پہنچ رہا ہےاب میں سو جانا چاہتا ہوںنیند سے میری آنکھیں بند ہو رہی ہیںہاںصبح اگر میری آنکھیں نہ کھل سکیںتو مجھے معاف کر دینا
شکر کا جن کے حلوہ ہوا وہ تو پورے ہیںگڑ کا ہوا ہے جن کے وہ ان سے ادھورے ہیںشکر نہ گڑ کا جن کے وہ پرکٹ لنڈورے ہیںاوروں کے میٹھے حلوے چپاتی کو گھورے ہیںان کی نہ آدھی پاؤ نہ کچھ ساری شب برات
آم جو کھائے وہ للچائےجو نہ کھائے وہ پچھتائےبھینی بھینی خوشبو آئےجو سب کے ہی من کو بھائےلنگڑا چوسا اور دسہریکوئی نہیں ہے ان کا بیریسونے جیسی رنگت ان کیڈالی ڈالی سنگت ان کیابا جب بازار کو جاتےٹوکری بھر آموں کی لاتےسارے پھلوں کا آم ہے راجاکچا پکا سب کا کھا جاخوشبو اس کی بھینی بھینیمیٹھا گڑ ہے میٹھی چینیخود کھائیں اوروں کو کھلائیںکھانے سے جی بھر نہ پائیںسب سے اچھی بات یہ ہی ہےگرمی کی سوغات یہ ہی ہے
مکڑی آئی تماشے لے کربھینسا آیا تاشے لے کرچیتل کھیل تماشے لے کرچیونٹی گڑ دو ماشے لے کر
آگے بڑھنے والےبدن کو کپڑوں پر اوڑھتےاور چھریاں تیز کر کے نکلتے ہیںبھیڑ کو چیر کر راستہ بناتےناخنوں سے نوچ لیتے ہیںلباس اور عزتیں-سرخ مرچوں سے ہر آنکھ کو اندھا کر دیتے ہیںاور بڑھ جاتے ہیںرعونت بھری مسکراہٹ کے ساتھچیختے اور چپ کرا دیتے ہیںسر عام رقص کرتے ہیںاور گاڑیاں ٹکرا جاتی ہیںلڑکے لڑ پڑتےمرد، پتلونیں کس لیتےاور بوڑھے، تمباکو میںگڑ کی مقدار بڑھا دیتے ہیںکوئی میز ان کے سامنے جما نہیں رہ سکتااور کوئی محفلان کا داخلہ روک نہیں سکتیوہ ٹھوکر سے دروازہ کھولتے ہیںاور ہر کرسی ان کے لیے خالی ہو جاتی ہےان کے دبدبے سےدیواروں کے پلستر اکھڑ جاتا ہےکاغذ، شور کرنا بھول جاتے ہیںاور موسم، ارادہ تبدیل کر لیتے ہیںآگے بڑھنے والوں سے پناہ مانگتے ہیںان کے ساتھڈرتے ہیںزمین پر جھک کر چلنے والےبوجھل خاموشی سے انہیں دیکھتےاور گزر جاتے ہیںآگے بڑھنے والے نہیں جانتےکہ آگے بڑھا جا ہی نہیں سکتاپھر بھی وہ بڑھتے ہیںپہنچ کر دم لیتے ہیںبے حیائی کی شدتآنکھوں میںموتیا اترنے کی رفتار تیز کر دیتی ہےہر تنے کی چھالبدن پر ان مٹ خراشیں چھوڑ جاتی ہےپھٹکری اور ویزلین سے چکنایا ہوا ماسہڈیوں سے ہمیشہ جڑا نہیں رہ سکتاہر بدن اور ہر کرسی کیایک عمر ہوا کرتی ہےاور پھر ہم انہیں دیکھ سکتے ہیںایک دنلپٹے ہوئے لباس میںخلا کو گھورتے ہوئےکسی نیم تاریک نشیب میںپر کٹے پرندے کی طرحمٹی پر لوٹتے ہوئےآگے بڑھنے کی پیہم کوشش میں
استادوہ بادل کا اک پارہ ہےکیا پیارا ہےتم دیکھتے ہوشاگردبے شک بے شکہم دیکھتے ہیںیہ بادل کا اک پارہ ہےسر جی سر جیہم دیکھتے ہیںیہ بادل کتنا پیارا ہےاستادتم اس کو نظر جما دیکھوتعمیر دکھائی دیتی ہےدیکھو دیکھواک اونٹ دکھائی دیتا ہےگڑ گیہوں کے بھاری بورےاف کتنا بوجھ اٹھائے ہوئےلمبی گردن لہرائے ہوئےشاگردجی دیکھ لیاسر جی سر جییہ اونٹ ہے بوجھ اٹھائے ہوئےبے شک بے شکیہ اونٹ ہے بوجھ اٹھائے ہوئےکچھ چارہ دانہ کھائے ہوئےاستادلو اونٹ سے اک گیدڑ نکلابھورا بھوراگیدڑ پورانٹ کھٹ نٹ کھٹدوڑے سرپٹکیوں دیکھ لیاشاگردجی دیکھ لیاسر دیکھ لیادم بھی دیکھیبے شک بے شکنٹ کھٹ نٹ کھٹاستادگیدڑ بھی کہاںیہ گھوڑا ہےدیکھو تو کیسے دوڑا ہےدم چھوٹی گردن موٹی ہےشاگردبے شک بے شکیہ گھوڑا ہےبالکل بالکلیہ گھوڑا ہے یہ گھوڑا ہے
وقت تھا جب کوئی بھی بستا نہ تھالکھنا پڑھنا تب بھی کچھ سستا نہ تھاایک تختی تھی قلم تھا اور دواتاس سے زیادہ تھی کہاں کوئی بھی باتقاعدہ ہم کو ملا پڑھنے کو تبدیکھتے پڑھتے تھے رٹتے اس کو سبمل کے سب گنتی پہاڑے بولتےبات کرنے سے ہی پہلے تولتےتب کہاں گنتی کا ہم کو گیان تھاپڑھنا لکھنا کس قدر آسان تھاپانچویں تک چند کتابیں تھیں حضورہم چلے جاتے اٹھا کر دور دورآج پہلی دوسری ہو نرسرییہ کتابیں ہم پہ کرتیں گھڑ چڑھیبوجھ سے دبتے چلے جاتے ہیں ہمہے یہ ممکن ان سے نکلے اپنا دمکوئی بتلائے کہ شکشا ہے کہیںسچ تو یہ ہے کہ بتا سکتے نہیںگھر پہ یہ ماں باپ پر اک قرض ہےبچے گھر سے پڑھ کے جائیں فرض ہےکاش کوئی اس طرف بھی دیکھ لےتب کہیں شکشا نئی ہم کو بھی دے
سب سے پہلے عشق میں انگلی ہی پکڑی جائے ہےرفتہ رفتہ پھر کہیں پہنچے کا نمبر آئے ہےروز مجھ کو وعدۂ فردا پہ جو ٹرخائے ہےمیں تری چالوں کو سمجھوں ہوں مجھے بہلائے ہےوہ تو سچ مچ قتل کے میداں میں ہیں خنجر بکفاب نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے نہ بھاگا جائے ہےدل تو دل ہاں جان کھو کر بھی نہ پایا آپ کوہم تو سنتے آئے ہیں جو کھوئے ہے وہ پائے ہےدیکھ ہاتھا پائی کی نوبت نہ آ جائے کہیںکیا تری شامت نہ گھیرا ہے جو تو شرمائے ہےان کی چاہت تھی مجھے اب میری چاہت ہے انہیںحسن بھی تو عشق کے سانچے میں ڈھلتا جائے ہےتجھ سے تیری زلف سے دونوں پریشاں ہو گئےمجھ کو تو لٹکائے ہے اور دل کو وہ لٹکائے ہےمجھ سے یہ کہہ کر سفارش کر رہے ہیں غیر کیہائے بیچارہ ہمیشہ ٹاپتا رہ جائے ہےارض دل سن کر عجیب انداز سے کہنے لگےمیری سنتا ہی نہیں بس اپنی اپنی گائے ہےکچھ مری تدبیر سے کچھ غیر کی تقدیر سےکام بنتا ہے مگر بن بن کے بگڑا جائے ہےشربت دیدار کی امید ان سے کیا کریںاب شکر ملتی نہیں ہے صرف گڑ کی چائے ہےجاگنا اور انتظار یار کرنا ہے فضولروز کا دھندا ہے یہ وہ آئے ہے نہ جائے ہےاک جھلک دکھلا کے تو ہفتوں کو پنہاں ہو گیامجھ پہ میرے یار کیوں جھوٹا کرم فرمائے ہےبات قابو کی نہیں ہے اب تو میں مجبور ہوںکیا طبیعت کو سنبھالوں دل تو پھسلا جائے ہےمیں نے مانا شعر میرے کچھ نہیں پھر بھی ظریفؔکچھ نہ کچھ محفل کا ان سے رنگ تو جم جائے ہے
رات کا وقت ہےکوئی آہٹ نہ کربات جو بھی ہو من میں وہ من میں ہی رکھبول دینے سے تکلیف گھٹتی نہیںبلکہ بٹ جاتی ہے اوربڑھ جاتی ہےرات کے وقت تو چپ ہی رہنا مناسب ہے کہنا نہیںایک بھی بات مجھ پر جو بھاری پڑےکوئی بھی بات جو مجھ کو سونے نہ دےاور سن بات سنمیرے سن لینے سے یہ پریشانیاں حل نہ ہوں گی کبھیمیں تیرا ایک معمولی عاشق ہی ہوں چارہ گر بھی نہیںکوئی ایسی پریشانی ہو جس کا حلمیرے سینہ سے لگتے ہی مل جائے گا تو ہی زحمت اٹھامجھ کو بس وہ بتا جس میں جسموں کی تاثیر کام آ سکےاس برہنہ بدن پر بدن کی ہی تدبیر کام آ سکےاور یہ ممکن نہ ہو تو وہی بات ہےرات کا وقت ہے
کچھ سوچ کر اداس نہ ہو کنٹرول ہےاب شب کو دیر تک نہ پڑھو کنٹرول ہےبستر سے اٹھ کے منہ بھی نہ دھو کنٹرول ہےاب ناشتے کا نام نہ لو کنٹرول ہےکھانے میں احتیاط کرو کنٹرول ہےبچپن بدل گیا ہے جوانی بدل گئیپریوں کے دیس کی وہ کہانی بدل گئیراجہ کا حال دیکھ کے رانی بدل گئیسپنوں کے ساتھ ساتھ چلو کنٹرول ہےکھانے میں احتیاط کرو کنٹرول ہےاب دودھ اور گھی کا زمانہ محال ہےگزری ہوئی حیات کا آنا محال ہےسپنوں میں بھی مٹھائی کا کھانا محال ہےاب روز گڑ کی چائے پیو کنٹرول ہےکھانے میں احتیاط کرو کنٹرول ہےیا رب ترے کرم میں تغیر یہ کیوں ہوابخشی جو تو نے ملک کو یہ ماڈرن سزاتو ہی بتا کہ چھوڑ کے گندم کو کھائیں کیاکیا تیری رحمتوں کا بدل کنٹرول ہےکھانے میں احتیاط کا پھل کنٹرول ہے
مصیبت کی خبریںسنو شام والو مصیبت کی خبریںگریبان دامن تلک چاک کر دوسروں پر سواروں کی روندی ہوئی خاک ڈالوابو قیس کو موت نے کھا لیا ہےامیر دمشق ان دنوں سوگواری میں ہیںغموں کے اندھیروں میں جکڑے ہوئےحزن کی آگ سے ان کا دل جل گیاآہ بو قیس کی موت کے بار سے جھک گئے ہیں خلیفہ کے شانےابو قیس کیا تھا تمہیں کیا خبر شام والوابو قیس بڑے شہسواروں میں تھاوہ خلیفہ کا راز آشنا، بندگان خدا میں مقربیزید ابن میسون کی شب کا ساتھیابوقیس ہندہ کے پوتے کا تنہا سہاراوہی سرخ بندرجو میسون اپنے قبیلے سے لائیبہت شوق سے نام اس کا ابوقیس رکھاپھر اپنی امانت عرب اور عجم کے خلیفہ کو سونپیاسی صاحب تخت و تاج و طرب کوجسے آج اسلام کی پاسبانی کا پورا شرف ہےاسی کا اور ابوقیس بندرخدا اس کو بخشےاسے گھڑ سواری میں ایسی مہارت تھی جس کا بیاں کرنا قدرت سے باہرکسی شخص بدبخت نے اس کے گھوڑے کو بدکا دیااس کے پاؤں رکابوں سے نکلےابوقیس نیچے گرا اور میلوں تلک ٹھوکروں پر رہاآہ کس بے کسی میں عدم کو سدھارامصیبت، مصیبتسنو اہل اسلامابوقیس کی موت ایسا بڑا سانحہ ہےکہ جس کی مصیبت سے آل امیہ کے قصروں میں راکھ اور دھواں بھر گیا ہےدعا!دعا کی ضرورتابوقیس کی مغفرت کے لیےاور یزید ابن ہندہ کے صبر و جزا کے لیے
کسی دراز میں پڑی ہوں گیمیری آنکھوں سے لپٹی روغنی پتلیاںجن پہ بہتان ہےحبس رسیدہ کمرے کی سسکیاں کاٹ کھانے کاتنومند خاتون کی ترسیب زدہ رانوں کے بیچتصادم کے حلقے میں پڑازرد سیلن کے خول میں رخنے بنتاشہر معدوم کا لاشہ نوچتے خدا کو گھورتا ہوا میںخدا جو سرخ دوشیزہ کے بدن پر کندہ بوسہ گاہوں کے مانند مقدسسیاہ مست ملاح کی عورت میرے سینے پہ سر رکھتے ہوئے چنگھاڑتی ہےوہ جہاز کے مستول سے کود کر مرا تھاجنگ کے دنوں میں پرتگالی حسینہ سے ملاقاتوہ یقیناً مجھے مبتلا کر سکتی تھیمگرہم جزیروں سے خالی ہاتھ لوٹنے والے قسم کھاتے ہیںہمارے پاس مشکیزوں میں سستے گڑ کی شراب ہےاور کچھ دوست جو وافر مقدار میں تمباکو اگا رہے ہیںسرطانی رطوبتوں میں لتھڑےہمارے ٹخنے بارود سے زخمی ہیںہم اپنے بازوؤں سے جھڑتے ہوئے بال تمہیں دکھا سکتے ہیںنم خوردہ بندوقوں اور ناکارہ جیپوں کے علاوہہمارے قبضے میں چند لڑکیاں اور رسد خانے ہیںدھجیاں اور چیتھڑے سمیٹنے کو نحیف انگلیاں زیادہ نہیں ہیںنچلی دراز سے میری بہتان زدہ آنکھیں نکال لاؤمیرے بچےکاش تمہیں جوانی میں موت آ جاتی
گھروں سے بچو نکل آؤ گر رہی ہے برفبجاؤ تالیاں اور گاؤ گر رہی ہے برففلک سے فرش زمیں پر برس رہا ہے نورچھتوں پہ کھیتوں پہ شاخوں پہ بس رہا ہے نورچمن ہے نور کی اک ناؤ گر رہی ہے برففضا میں چاروں طرف سرمئی اجالا ہےتھی بوند پانی کی اب روئی کا جو گالا ہےدلوں کو شوق سے گرماؤ گر رہی ہے برفہے نرم ایسی کہ پھولوں کو گدگدی آئےسفید ایسی کہ بگلے کا پر بھی شرمائےملا کے گڑ میں اسے کھاؤ گر رہی ہے برفبناؤ قوس قزح برف پر گرا کر رنگبڑھاؤ برف کے کھیلوں سے اپنے دل کی امنگپھسل کے برف پہ دکھلاؤ گر رہی ہے برفتراشو برف کے پتلے مناؤ یخ کی بہاراچھالو برف کی گیندیں اڑاؤ یخ کی پھوارچلو کہ پارک میں بے بھاؤ گر رہی ہے برفگھروں سے بچو نکل آؤ گر رہی ہے برفبجاؤ تالیاں اور گاؤ گر رہی ہے برف
چڑ چڑ چڑیا اڑتی ہےنیل گگن سے جڑتی ہےحقہ گڑ گڑ کرتا ہےدادا کا دم بھرتا ہےمرغا ککڑوں کوں بولےمرغی انڈوں پر ڈولےبطخیں کہتیں کیں قیں قیںہم تو پانی پر تیریںمیں میں میں بکرے کی سنگھوڑے میں ہیں اچھے گنگائے سویرے چلائےسارا چارا چر جائےبندر اچھلیں ڈالی پرآفت ٹوٹے مالی پربچے کھیلیں کھیلسب دنیا سے رکھیں میل
دن نکلتا ہے کسی اجلے کبوتر کی طرحآج کس نے میرے دل پر ہاتھ رکھا دھوپ کے پر کی طرحگھنٹیاں بجنے لگیںایک دروازہ کھلاآج میرے ہاتھ میں اک پھول ہےلوگ اتریں گے پہاڑوں سے کسی دن شہد کے پیالے لیےگھڑ سواروں کے قدم سے جگمگائیں گے ببولہونٹھ کھولیں گے رسولشاعری کا ساتھ ہےاک پری کا ہاتھ ہےجس کی انگلی میں انگوٹھی جگمگاتی ہے کسی دل کی طرحدل کی تہہ میں اک سمندر ہے جسے بیدار کرنا ہے مجھےپار کرنا ہے مجھےاس کنارے جاؤں گاگیت اور امید لے کر آؤں گاتم یہاں اس سنہرے پل سے مجھے آواز دینازندگی اک شور ہے ہنستے ہوئے گھر کی طرحدن نکلتا ہے کسی اجلے کبوتر کی طرح
حلوہ ربڑی اور مٹھائیبنتی ہے کس چیز سے بھائیبچو کوئی تم سے پوچھےتب کیا تم خاموش رہو گےکچھ تو اس کو بتلاؤ گےورنہ بدھو کہلاؤ گےچپ ہرگز مت رہنا بچوتم اس سے یہ کہنا بچوحلوہ یا کوئی میٹھی شےشکر یا گڑ سے بنتی ہےاور یہ دونوں چیزیں ہم کوگنے سے ملتی ہیں بچو
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books