aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "grahan"
چاہو تم تو وقت بتائےگرہن کا بھی روپ دکھائے
گرہن کہتے ہیںانہیں کیا پتہ
وہ سورج روشنی کا ہے جو مخزنہوا تاریک جب گرہن میں آیا
چلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑےدیار حسن کی بے صبر خواب گاہوں سے
کس کو شکوہ ہے گر شوق کے سلسلےہجر کی قتل گاہوں سے سب جا ملے
بس اک مصاحب دربار کے اشارے پرگداگران سخن کے ہجوم سامنے ہیں
شہر خوباں میں گنوائی ہے جوانی میں نےخواب گاہوں میں جگائی ہے جوانی میں نے
ہر بار گگن نے وہم دیااب کے برکھا جب آئے گی
لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میںخون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ
جوئے شير و تيشہ و سنگ گراں ہے زندگیبندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب
یہ ہر اک گام پہ ان خوابوں کی مقتل گاہیںجن کے پرتو سے چراغاں ہیں ہزاروں کے دماغ
الٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میری
وفا کی درس گاہوں کا نصاب ڈھونڈھتا ہوں میںجنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
میں تمہیں یاد کر رہا تھاجب لوگ عبادت گاہوں کی طرف جا رہے تھے
تعاقب میں کبھی گم تتلیوں کے سونی راہوں میںکبھی ننھے پرندوں کی نہفتہ خواب گاہوں میں
زندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہمصحبت مادر میں طفل سادہ رہ جاتے ہیں ہم
اردو کا غم مرگ سبک بھی ہے گراں بھیہے شامل ارباب عزا شاہ جہاں بھی
لیکن جو رنگ باغ بدلتا ہے ناگہاںوہ گل ہزار پردوں میں جاتے ہیں رائیگاں
تمام کوزے بنتے بنتے 'تو' ہی بن کے رہ گئےنشاط اس وصال رہ گزر کی نا گہاں مجھے نگل گئی
مری عدل گاہوں کی مصلحتمرے قاتلوں کی وکیل ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books