Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

فیض احمد فیض

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

فیض احمد فیض

MORE BYفیض احمد فیض

    دلچسپ معلومات

    (ایتھل اور جولیس روز بزگ کے خطوط سے متاثر ہوکر لکھی گئی)

    تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم

    دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے

    تیرے ہاتوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم

    نیم تاریک راہوں میں مارے گئے

    سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے

    تیرے ہونٹوں کی لالی لپکتی رہی

    تیری زلفوں کی مستی برستی رہی

    تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی

    جب گھلی تیری راہوں میں شام ستم

    ہم چلے آئے لائے جہاں تک قدم

    لب پہ حرف غزل دل میں قندیل غم

    اپنا غم تھا گواہی ترے حسن کی

    دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم

    ہم جو تاریک راہوں پہ مارے گئے

    نارسائی اگر اپنی تقدیر تھی

    تیری الفت تو اپنی ہی تدبیر تھی

    کس کو شکوہ ہے گر شوق کے سلسلے

    ہجر کی قتل گاہوں سے سب جا ملے

    قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم

    اور نکلیں گے عشاق کے قافلے

    جن کی راہ طلب سے ہمارے قدم

    مختصر کر چلے درد کے فاصلے

    کر چلے جن کی خاطر جہانگیر ہم

    جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم

    ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ضیا محی الدین

    ضیا محی الدین

    فیض احمد فیض

    فیض احمد فیض

    RECITATIONS

    فیض احمد فیض

    فیض احمد فیض,

    فیض احمد فیض

    ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے فیض احمد فیض

    مأخذ :
    • کتاب : Nuskha Hai Wafa (Pg. 266)

    یہ متن درج ذیل زمرے میں بھی شامل ہے

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے