aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "halqa-e-ushshaaq"
شعر کہنا ہے تو پھر حلقۂ عشاق میں آقیس کے ساتھ بھٹک لیلیٰ کے ادراک میں آ
ہر روز کر رہے ہیں شرارت نئی نئیوہ لوگ جن سے شرم رسول خدا گئیجن کے ضمیر و ظرف پہ تخلیق شرمسارجن کے دل و دماغ کا سانچہ ہے سرمئیکیا پوچھتے ہو امت احمد رضا کا حالاندر سے داغدار تو باہر سے چمپئیریش دراز زلف چلیپا سے فیضیاباس لعبت فرنگ کے شوہر کئی کئیمسلک میں ان کے آنریری مخبری حلالمذہب ہے اس ذلیل گھروندے کا نقرئیماتھے پہ فرش بوس روایات کا غبارچہرہ بہ فیض حلقۂ عشاق اگرئیہم ایسے کشتگان وفا کے خلاف ہیںاسرارؔ خاندان کلایو کے مجرئی
محراب ہے رخسار کے پرتو سے زر افشاںزلفوں میں شب تار ہے آنکھوں میں چراغاںمہندی کی سجاوٹ کہ ہتھیلی پہ گلستاںیا حلقۂ عشاق میں ہے چہرۂ تاباںیا خاتم تابندہ پہ ہیرے کی کنی ہےکیا گل بدنی گل بدنی گل بدنی ہے
لمحوں کی زبانیں گنگ ہوئیںعقدے کی کڑیاں کھلتی گئیںجب تیز تھی آندھی دور کہیںاڑتی تھی قبائے جسم وہیںبے چین ہوئی پھر روح بہتکچھ بے آواز سی چیخیں تھیںتحلیل ہوا میں ہوتی تھیںکچھ ابر کے ٹکڑے آوارہجیسے خوشیوں کا پشتارہتھک کر بکھرا دے کوئی انہیںپروائی کا جھونکا ہلکا ساپھر دور اڑا لے جائے انہیں
ورنہ غالبؔ کی زباں میں مرے ہمدم مرے دوستدام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ
بالا تیرا مقام دنیائے شعر میںعرفیؔ بھی ایک بندۂ حلقہ بگوش ہے
الجھتا حقائق کے مہر و غضب سےابھرتا بہار و خزاں کے عقب سےنکلتا ہوا حلقۂ روز و شب سےزمانہ گزرتا چلا جا رہا ہے
اٹھے ہیں جس کی گود سے آذر وہ قوم ہےتوڑے ہیں جس نے چرخ سے اختر وہ قوم ہےپلٹے ہیں جس نے دہر کے دفتر وہ قوم ہےپیدا کئے ہیں جس نے پیمبر وہ قوم ہےاب کیوں شریک حلقۂ نوع بشر نہیںانسان ہی تو ہیں یہ کوئی جانور نہیں
مجھے خوف ہے کہ کتاب میںمرے روز و شب کی اذیتیںوہ ندامتیں وہ ملامتیںکسی حاشیے پہ رقم نہ ہوںمیں فریب خوردۂ برتریمیں اسیر حلقۂ بزدلیوہ کتاب کیسے پڑھوں گی میں؟
جز تری آنکھوں کے کن آنکھوں نےلطف کا ہاتھ رکھا درد کی پیشانی پرپیار کی آنکھوں سے آنسو پوچھےنرمیاںلمحۂ وصل کی ماننددل و جاں میں اترتی ہی چلی جاتی ہیںہجر کی شام ہے ڈھل جائے گیوصل کا لمحہ گریزاں ہے پگھل جائے گاتیرے رخسار کی دہکی ہوئی رنگین شفقاور بھی سرخ ہوئیتیرے سلگے ہوئے ہونٹوں کے مہکتے شعلےاور بھی تیز ہوئےکب چھلک جائے نہ جانے تری لبریز وفا آنکھوں سےمہر کی مےکب نکل آئے ترے پیار کا چاندتوڑ دے حلقۂ زنجیر شب و روزکہ یہ سلسلۂ کرب و الم ختم تو ہواور ہو جائے جنوں آوارہتو مرے حلقۂ آغوش میں آ
دیہات سے جو شہر میں بکروں کو لائے ہیںمعلوم ہو رہا ہے وہ جنت سے آئے ہیںقیمت نے آسمان کے تارے دکھائے ہیںبکرا نہیں خریدا گنہ بخشوائے ہیںقربانی ایسے حال میں امر محال ہےبکرا ''تمام حلقۂ دام خیال ہے''
کٹ گئی رات مگرہجر کے جاگتے پیراہن سےرات کی ملگجی افسردہ مہک آتی ہےحلقۂ باد صبا گردن میںوقت سڑکوں پہ کھنچا پھرتا ہےراہ جاتی ہی نہیں کوئی بیاباں کی طرفہاتھ بڑھتے ہی نہیں اپنے گریباں کی طرف
یہ لوگ حلقۂ دام خیال کہتے ہیںفروغ علم کو سائنس کی ترقی کویہ کم نگاہ مداوائے درد انسانیسمجھ رہے ہیں پراچین سنسکرتی کوصدائیں دیتے ہیں صدیوں کی تیرہ بختی کو
شریک حلقۂ ادراک رقص فرمائیںطرب کا وقت ہے بے باک رقص فرمائیں
عمر کا سورج سوا نیزے پہ آیاگرم شریانوں میں بہتے خون کا دریا بھنور ہونے لگاحلقۂ موج ہوا کافی نہیںوحشت ابر بدن کے واسطےآغوش کوئی اور ہوورنہ یوں مردہ سڑک کے خواب آور سے کنارےبے خیالی میں کسی تھوکے ہوئے بچے کی الجھی سانس میں لپٹی ہوئی یہ زندگی!
ہم ترے سب سے بڑے حلقۂ احباب میں ہیںپھر بھی طوفاں سے نکلتے نہیں گرداب میں ہیں
حلقۂ ظلمت میں ہے راہوں کی سہمی روشنییا چمکتی ہیں گھنی جھاڑی سے آنکھیں شیر کی
اصنام امارت کا پرستار ہے عالمسرمایۂ غفلت کا خریدار ہے عالمکٹتی ہیں سدا صدق مقالوں کی زبانیںحق گو کے لئے عرصہ گہ دار ہے عالمدرویش خدا نان شبینہ کو ہے محتاجگو نعمت و اکرام کا بازار ہے عالمشاداب ہے دن رات غریبوں کے لہو سےارباب زر و سیم کا گلزار ہے عالمخود زاہد صد سالہ گرفتار ہے جس میںوہ حلقۂ تزویر و فسوں زار ہے عالمہر گام پہ ہے شعبدہ نفس کا پھندارقاصۂ اوہام کا دربار ہے عالمدل خضر کا ہے نغمۂ بے معنی پہ رقصاںتہذیب کے پازیب کا جھنکار ہے عالماس قحبۂ بازاری سے رکھو نہ توقعاحسان فراموش و زیاں کار ہے عالمسر رکھتا ہے آوارہ مزاجوں کے قدم پریہ حق میں وفاداروں کے تلوار ہے عالمشاعر کے نہیں سینہ میں گنجائش تکیہمانا کہ بہت دل کش و پرکار ہے عالماس عہد پر آشوب میں ببیاکؔ نہ پوچھوکس درجہ جفا کش و ستم گار ہے عالم
تماشے زندگی بھر تو نے سوز دل کے دیکھے تھےغبار رہ گزر میں راستے منزل کے دیکھے تھےنظارے حلقۂ گرداب سے ساحل کے دیکھے تھےتری آنکھوں نے جتنے خواب مستقبل کے دیکھے تھے
رہگزر، سائے، شجر، منزل و در، حلقۂ بامبام پر سینۂ مہتاب کھلا، آہستہجس طرح کھولے کوئی بند قبا، آہستہحلقۂ بام تلے، سایوں کا ٹھہرا ہوا نیلنیل کی جھیلجھیل میں چپکے سے تیرا، کسی پتے کا حبابایک پل تیرا، چلا ،پھوٹ گیا، آہستہبہت آہستہ، بہت ہلکا، خنک رنگ شرابمیرے شیشے میں ڈھلا، آہستہشیشہ و جام ،صرا،حی ترے ہاتھوں کے گلابجس طرح دور کسی خواب کا نقشآپ ہی آپ بنا اور مٹا آہستہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books