aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "hasan"
حسنؔ نامی ہمارے گھر میں اک سقراطؔ گزرا ہےوہ اپنی نفی سے اثبات تک معشر کے پہنچا ہےکہ خون رایگاں کے امر میں پڑنا نہیں ہم کووہ سود حال سے یکسر زیاں کارانہ گزرا ہےطلب تھی خون کی قے کی اسے اور بے نہایت تھیسو فوراً بنت اشعت کا پلایا پی گیا ہوگاوہ اک لمحے کے اندر سرمدیت جی گیا ہوگا
جہاں زاد نیچے گلی میں ترے در کے آگےیہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطار یوسفکی دکان پر میں نے دیکھاتو تیری نگاہوں میں وہ تابناکیتھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوںجہاں زاد نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں!یہ وہ دور تھا جس میں میں نےکبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانبپلٹ کر نہ دیکھاوہ کوزے مرے دست چابک کے پتلےگل و رنگ و روغن کی مخلوق بے جاںوہ سر گوشیوں میں یہ کہتےحسن کوزہ گر اب کہاں ہے؟وہ ہم سے خود اپنے عمل سےخدا وند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں!جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزراکہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرےتغاروں میں مٹیکبھی جس کی خوشبو سے وارفتہ ہوتا تھا میںسنگ بستہ پڑی تھیصراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداںمری ہیچ مایہ معیشت کے اظہار فن کے سہارےشکستہ پڑے تھےمیں خود میں حسن کوزہ گر پا بہ گل خاک بر سر برہنہسر چاک ژولیدہ مو سر بہ زانوکسی غمزدہ دیوتا کی طرح واہمہ کےگل و لا سے خوابوں کے سیال کوزے بناتا رہا تھاجہاں زاد نو سال پہلےتو ناداں تھی لیکن تجھے یہ خبر تھیکہ میں نے حسن کوزہ گر نےتری قاف کی سی افق تاب آنکھوںمیں دیکھی ہے وہ تابناکیکہ جس سے مرے جسم و جاں ابر و مہتاب کارہگزر بن گئے تھےجہاں زاد بغداد کی خواب گوں راتوہ رود دجلہ کا ساحلوہ کشتی وہ ملاح کی بند آنکھیںکسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیےایک ہی رات وہ کہربا تھیکہ جس سے ابھی تک ہے پیوست اس کا وجوداس کی جاں اس کا پیکرمگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلاحسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے!
سیکڑوں حسن ناصرہیں شکار نفرت کےصبح و شام لٹتے ہیںقافلے محبت کےجب سے کالے باغوں نےآدمی کو گھیرا ہےمشعلیں کرو روشندور تک اندھیرا ہےمیرے دیس کی دھرتیپیار کو ترستی ہےپتھروں کی بارش ہیاس پہ کیوں برستی ہےملک کو بچاؤ بھیملک کے نگہبانودس کروڑ انسانو!بولنے پہ پابندیسوچنے پہ تعزیریںپاؤں میں غلامی کیآج بھی ہیں زنجیریںآج حرف آخر ہےبات چند لوگوں کیدن ہے چند لوگوں کارات چند لوگوں کیاٹھ کے درد مندوں کےصبح و شام بدلو بھیجس میں تم نہیں شاملوہ نظام بدلو بھیدوستوں کو پہچانودشمنوں کو پہچانودس کروڑ انسانو!
رینگتے وقت کے مانند کبھیلوٹ کے آئے گا حسن کوزہ گر سوختہ جاں بھی شاید!
وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاںوہ حسن جس کی تمنا میں جنتیں پنہاںہزار فتنے تہ پائے ناز خاک نشیںہر اک نگاہ خمار شباب سے رنگیںشباب جس سے تخیل پہ بجلیاں برسیںوقار جس کی رفاقت کو شوخیاں ترسیںادائے لغزش پا پر قیامتیں قرباںبیاض رخ پہ سحر کی صباحتیں قرباںسیاہ زلفوں میں وارفتہ نکہتوں کا ہجومطویل راتوں کی خوابیدہ راحتوں کا ہجوموہ آنکھ جس کے بناؤ پہ خالق اترائےزبان شعر کو تعریف کرتے شرم آئےوہ ہونٹ فیض سے جن کے بہار لالہ فروشبہشت و کوثر و تسنیم و سلسبیل بہ دوشگداز جسم قبا جس پہ سج کے ناز کرےدراز قد جسے سرو سہی نماز کرےغرض وہ حسن جو محتاج وصف و نام نہیںوہ حسن جس کا تصور بشر کا کام نہیںکسی زمانے میں اس رہگزر سے گزرا تھابصد غرور و تجمل ادھر سے گزرا تھااور اب یہ راہگزر بھی ہے دل فریب و حسیںہے اس کی خاک میں کیف شراب و شعر مکیںہوا میں شوخیٔ رفتار کی ادائیں ہیںفضا میں نرمیٔ گفتار کی صدائیں ہیںغرض وہ حسن اب اس رہ کا جزو منظر ہےنیاز عشق کو اک سجدہ گہ میسر ہے
جہاں زادوہ حلب کی کارواں سرا کا حوض، رات وہ سکوتجس میں ایک دوسرے سے ہم کنار تیرتے رہےمحیط جس طرح ہو دائرے کے گرد حلقہ زنتمام رات تیرتے رہے تھے ہمہم ایک دوسرے کے جسم و جاں سے لگ کےتیرتے رہے تھے ایک شاد کام خوف سےکہ جیسے پانی آنسوؤں میں تیرتا رہےہم ایک دوسرے سے مطمئن زوال عمر کے خلافتیرتے رہےتو کہہ اٹھی: 'حسن یہاں بھی کھینچ لائیجاں کی تشنگی تجھے!'(لو اپنی جاں کی تشنگی کو یاد کر رہا تھا میںکہ میرا حلق آنسوؤں کی بے بہا سخاوتوںسے شاد کام ہوگیا!)مگر یہ وہم دل میں تیرنے لگا کہ ہو نہ ہومرا بدن کہیں حلب کے حوض ہی میں رہ گیانہیں، مجھے دوئی کا واہمہ نہیںکہ اب بھی ربط جسم و جاں کا اعتبار ہے مجھےیہی وہ اعتبار تھاکہ جس نے مجھ کو آپ میں سمو دیامیں سب سے پہلے 'اپ 'ہوںاگر ہمیں ہوں تو ہو اور میں ہوں پھر بھی میںہر ایک شے سے پہلے آپ ہوں!اگر میں زندہ ہوں تو کیسے آپ سے دغا کروں؟کہ تیرے جیسی عورتیں، جہاں زاد،ایسی الجھنیں ہیںجن کو آج تک کوئی نہیں 'سلجھ' سکاجو میں کہوں کہ میں 'سلجھ' سکا تو سر بسرفریب اپنے آپ سے!کہ عورتوں کی ساخت ہے وہ طنز اپنے آپ پرجواب جس کا ہم نہیں(لبیب کون ہے؟ تمام رات جس کا ذکرتیرے لب پہ تھاوہ کون تیرے گیسوؤں کو کھینچتا رہالبوں کو نوچتا رہاجو میں کبھی نہ کر سکانہیں یہ سچ ہے میں ہوں یا لبیب ہورقیب ہو تو کس لیے تری خود آگہی کی بے ریا نشاط ناب کاجو صد نوا و یک نوا خرام صبح کی طرحلبیب ہر نوائے ساز گار کی نفی سہی!)مگر ہمارا رابطہ وصال آب و گل نہیں، نہ تھا کبھیوجود آدمی سے آب و گل سدا بروں رہےنہ ہر وصال آب و گل سے کوئی جام یا سبو ہی بن سکاجو ان کا ایک واہمہ ہی بن سکے تو بن سکے!
جہاں زاد کیسے ہزاروں برس بعداک شہر مدفون کی ہر گلی میںمرے جام و مینا و گل داں کے ریزے ملے ہیںکہ جیسے وہ اس شہر برباد کا حافظہ ہوںحسن نام کا اک جواں کوزہ گر اک نئے شہر میںاپنے کوزے بناتا ہوا عشق کرتا ہوااپنے ماضی کے تاروں میں ہم سے پرویا گیا ہےہمیں میں کہ جیسے ہمیں ہوں سمویا گیا ہےکہ ہم تم وہ بارش کے قطرے تھے جو رات بھر سےہزاروں برس رینگتی رات بھراک دریچے کے شیشوں پہ گرتے ہوئے سانپ لہریںبناتے رہے ہیںاور اب اس جگہ وقت کی صبح ہونے سے پہلےیہ ہم اور یہ نوجواں کوزہ گرایک رویا میں پھر سے پروئے گئے ہیںجہاں زادیہ کیسا کہنہ پرستوں کا انبوہکوزوں کی لاشوں میں اترا ہےدیکھویہ وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیںکبھی جام و مینا کی لم تک نہ پہنچیںیہی آج اس رنگ و روغن کی مخلوق بے جاںکو پھر سے الٹنے پلٹنے لگے ہیںیہ ان کے تلے غم کی چنگاریاں پا سکیں گےجو تاریخ کو کھا گئی تھیںوہ طوفان وہ آندھیاں پا سکیں گےجو ہر چیخ کو کھا گئی تھیںانہیں کیا خبر کس دھنک سے مرے رنگ آئےمرے اور اس نوجواں کوزہ گر کےانہیں کیا خبر کون سی تتلیوں کے پروں سےانہیں کیا خبر کون سے حسن سےکون سی ذات سے کس خد و خال سےمیں نے کوزوں کے چہرے اتارےیہ سب لوگ اپنے اسیروں میں ہیںزمانہ جہاں زاد افسوں زدہ برج ہےاور یہ لوگ اس کے اسیروں میں ہیںجواں کوزہ گر ہنس رہا ہے!یہ معصوم وحشی کہ اپنے ہی قامت سے ژولیدہ دامنہیں جویا کسی عظمت نارسا کےانہیں کیا خبر کیسا آسیب مبرم مرے غار سینے پہ تھاجس نے مجھ سے اور اس کوزہ گر سے کہااے حسن کوزہ گر جاگدرد رسالت کا روز بشارت ترے جام و میناکی تشنہ لبی تک پہنچنے لگا ہےیہی وہ ندا کے پیچھے حسن نام کایہ جواں کوزہ گر بھیپیاپے رواں ہے زماں سے زماں تکخزاں سے خزاں تک
اے حسن کوزہ گرتو نے جانا کہ میںجسم و جاں کے تعلق کی روشن گزر گاہ سےاک جہاں کا سفر جھیل کر اسرفاقت کی دہلیز تک آئی ہوں
قسم اس بدن کیاور قسم اس بدن پر کھلے پھولوں کیرت بہار کی ہے اور ہوا کی رانوں میں مہک کھلی ہےاب تک۔۔۔بریزئیر میں تنی ان چھاتیوں سےپرندے اپنی چونچوں میں شیر بھر کے لاتے ہیںاور محبت کی ابدیت کے گیت گاتے ہیں۔''لے میں جن کی حرارت ان شبوں کی ہےگزریں جو قربت میں تیرے بدن کیگہری آنکھوں والی غم گسار شبیںبطن میں جن کے صدیاں گونجتی تھیںلیکن۔۔۔ ابدیت کس کو تھیماسوا اس لہراتی جنبش کے(جیسے تان پورے پہ غیر ارادتاً پڑ گئی ہو)اور تا دیر درد میں ڈوبی آوازتیرے بدن سے ابھرتی تھییہ درد کیا تھا؟کہ ہر صبح لذت جس کی لبوں پہپپڑیوں کی مانند جمی ہوتیتیرے لبوں پہمیرے لبوں پہبہار بہت تھی چار سو باغوں میںاور سڑکوں کی ویرانی میںشامیں جو ایستادہ تھیںدیواروں کی مانند ہمارے مابین تنی رہیںتاریک شبوں میں جبسرما کی تیز ہوائیں چلتی تھیںاداسی تیری پنڈلیوں میں سرسراتی تھیتیرے کانپتے بدن کی خوشبولہریے لیتی سرشاری میںیوں ڈوبتی ابھرتی تھیگویا۔۔۔!اور میری انگلیوں کی پوروں میں سلگتی تھی جو آگتیری چھاتیوں کی گولائیوں کو ماپتیپیمائش تیرے بدن کی تھیپیمائش زندگی کیدن بیت گئے!!اور خواب ہمارے اپنے اپنے بدن کنارےجلتے رہے چراغوں کی طرحاور میں کہ اب تکیاد کے پیڑوں سے محبتوں کے پھول چن چن کردل کے طشت میں دھرتا جاؤںتیری موجودگی کی طلب میں
ابھی مجھ سے کسی کو محبت نہیں ہوئیسو دل کے باغ میں پھول بھی نہیں کھلےمجھے ہر عورت کے سینے پر پستاناور رانوں کے بیچ قوس نظر آتی ہےابھی محبت شروع نہیں ہوئیمیں ہر ہم بستری کے بعد بیزار ہو جاتا ہوںاور پھر سے اس کام کے لئے تیار ہو جاتا ہوںمیں پستانوں اور رانوں میںمحبت تلاش کرنے کے کار بے سود میں مصروف ہوںمحبت کے موسم تکعشرت کے رستے جایا جا سکتاتو میں کب کا پہنچ گیا ہوتانظر کرتا ہوں تو لگتا ہےزندگی سے کچھ اور بھی دور نکل آیا ہوںمجھے موت سے ڈر لگنے لگا ہےکیونکہ ابھی مجھ سے کسی کو محبت نہیں ہوئی
میری بیٹی انگلی چھوڑ کےچلنا سیکھ گئیسنگ میل پہ ہندسوں کی پہچان سے آگےآتے جاتے رستوں کے ہر نام سے آگےپڑھنا سیکھ گئیجلتی بجھتی روشنیوں اور رنگوں کی ترتیبسفر کی سمتوں اور گاڑی کے پہیوں میںالجھی راہوں پرآگے بڑھنا سیکھ گئی
زمین ہند ہے اور آسمان آزادییقین بن گیا اب تو گمان آزادیسنو بلند ہوئی پھر اذان آزادیسر نیاز ہے اور آستان آزادیپہاڑ کٹ گیا نور سحر سے رات ملیخدا کا شکر غلامی سے تو نجات ملیہوائے عیش و طرب بادبان بن کے چلیزمیں وطن کی نیا آسمان بن کے چلینسیم صبح پھر ارجنؔ کا بان بن کے چلیبہار ہند ترنگا نشان بن کے چلیسپاہی دیش کا اپنے ہر اک جوان بنابل ابروؤں کا کڑکتی ہوئی کمان بنانظر نواز ہے رنگ بہار آزادیہر ایک ذرہ ہے آئینہ دار آزادیہے سر زمین وطن جلوہ زار آزادیسروں کے ساتھ ہے اب تو وقار آزادیکہاں ہیں آج وہ شمع وطن کے پروانےبنے ہیں آج حقیقت انہیں کے افسانےحجاب اٹھ گئے اب کس کی پردہ داری ہےغضب کی دیدۂ نرگس میں ہوشیاری ہےکلی نے مانگ بڑے حسن سے سنواری ہےحسین پھولوں میں رنگ خود اختیاری ہےکھٹک کہاں سے ہو اب دل میں کوئی پھانس بھی ہےخدا کا شکر کہ مرضی کی اب تو سانس بھی ہےزمین اپنی فضا اپنی آسمان اپناحکومت اپنی علم اپنا اور نشان اپناہیں پھول اپنے چمن اپنے باغبان اپنااطاعت اپنی سر اپنا ہے آستان اپناجمال کعبہ نہیں یا جمال دیر نہیںسب اپنے ہی نظر آتے ہیں کوئی غیر نہیں
تم جو لفظوں کے گورکھ دھندے میں الجھےبے رس شاعری کرتے ہولغت سے لفظ اٹھاتے ہواور دائیں بائیں ان کو چبا کرشعر اگلتے رہتےتم کو کیا معلومکہ کیا ہے عشق اور اس کی حقیقت کیا ہےپیار ہے کیا اور چاہت کیا ہےتم نے کسی کے ہجر میں کبراتیں کاٹی ہیں...؟کب تم وصل کے نشے سے سرشار ہوئے ہوتم کو کیا معلومکہ ہونٹوں کا رس کیا ہوتا ہےکیسے آنکھ سے گرتے آنسو موتی بن جاتے ہیںتم کو کیا معلوم کہ کیسےبازوؤں میں آ کر محبوب پگھل جاتے ہیں
پہلی بار میں کب تکیے پر سر رکھ کر سوئی تھیان کے بدن کو ڈھونڈا تھااور روئی تھیدو ہاتھوں نے بھینچ لیا تھاگرم آغوش کی راحت میںکیسی گہری نیند مجھے تب آئی تھیکب دور ہوئی تھی پہلی باراپنے پیروں پر چل کربستر سے الگ پھر گھر سے الگاک لمبے سفر پر نکلی تھیدھیرے دھیرے دور ہوئی کبنرم بدن کی گرمی سےاس میٹھی نیند کی راحت سےاب سوچتی ہوںاور روتی ہوں
مجھے پھولوں کا موسمپیڑ پودے اور پرندے اور بچےاچھے لگتے ہیںمجھے اک دور تک جاتی سڑک پرچلتے رہنا اچھا لگتا ہےمجھے پانی پہ مچھلی کا اچھلنا اچھا لگتا ہےمجھے تتلی کا پھولوں پر بھٹکنا اچھا لگتا ہےمجھے برسات میں پھیلیدھنک بھی اچھی لگتی ہےمجھے ہاتھوں میں چوڑی کی کھنک بھیاچھی لگتی ہےمجھے تم اچھے لگتے ہو
قصر شاہی میں کہ ممکن نہیں غیروں کا گزرایک دن نورجہاں بام پہ تھی جلوہ فگنکوئی شامت زدہ رہ گیر ادھر آ نکلاگرچہ تھی قصر میں ہر چار طرف سے قدغنغیرت حسن سے بیگم نے طمنچہ ماراخاک پر ڈھیر تھا اک کشتۂ بے گور و کفنساتھ ہی شاہ جہانگیر کو پہنچی جو خبرغیظ سے آ گئی ابروئے عدالت پہ شکنحکم بھیجا کہ کنیزان شبستان شہیجا کے پوچھ آئیں کہ سچ یا کہ غلط ہے یہ سخننخوت حسن سے بیگم نے بصد ناز کہامیری جانب سے کرو عرض بہ آئین حسنہاں مجھے واقعۂ قتل سے انکار نہیںمجھ سے ناموس حیا نے یہ کہا تھا کہ بزناس کی گستاخ نگاہی نے کیا اس کو ہلاککشور حسن میں جاری ہے یہی شرع کہنمفتی دیں سے جہانگیر نے فتویٰ پوچھاکہ شریعت میں کسی کو نہیں کچھ جائے سخنمفتی دین نے بے خوف و خطر صاف کہاشرع کہتی ہے کہ قاتل کی اڑا دو گردنلوگ دربار میں اس حکم سے تھرا اٹھےپر جہانگیر کے ابرو پہ نہ بل تھا نہ شکنترکشوں کو یہ دیا حکم کہ اندر جا کرپہلے بیگم کو کریں بستۂ زنجیر و رسنپھر اسی طرح اسے کھینچ کے باہر لائیںاور جلاد کو دیں حکم کہ ہاں تیغ بزنیہ وہی نورجہاں ہے کہ حقیقت میں یہیتھی جہانگیر کے پردہ میں شہنشاہ زمناس کی پیشانئ نازک پہ جو پڑتی تھی گرہجا کے بن جاتی تھی اوراق حکومت پہ شکناب نہ وہ نورجہاں ہے نہ وہ انداز غرورنہ وہ غمزے ہیں نہ وہ عربدۂ صبر شکناب وہی پاؤں ہر اک گام پہ تھراتے ہیںجن کی رفتار سے پامال تھے مرغان چمنایک مجرم ہے کہ جس کا کوئی حامی نہ شفیعایک بیکس ہے کہ جس کا نہ کوئی گھر نہ وطنخدمت شاہ میں بیگم نے یہ بھیجا پیغامخوں بہا بھی تو شریعت میں اک امر احسنمفتئ شرع سے پھر شاہ نے فتویٰ پوچھابولے جائز ہے رضامند ہوں گر بچہ و زنوارثوں کو جو دئیے لاکھ درم بیگم نےسب نے دربار میں کی عرض کہ اے شاہ زمنہم کو مقتول کا لینا نہیں منظور قصاصقتل کا حکم جو رک جائے تو ہے مستحسنہو چکا جب کہ شہنشاہ کو پورا یہ یقینکہ نہیں اس میں کوئی شائبہ حیلہ و فناٹھ کے دربار سے آہستہ چلا سوئے حرمتھی جہاں نورجہاں معتکف بیت خزندفعتاً پاؤں پہ بیگم کے گرا اور یہ کہاتو اگر کشتہ شدی آہ چہ می کردم من
بیت گئے ہیں کتنے دنجب تم نے یہ مجھ سے کہا تھاتم مجھ کو اچھی لگتی ہواور میرے ہاتھوں پر تم نےایک وہ لمحہ چھوڑ دیا تھاوہ لمحہ جو ان دیکھی زنجیر کی صورتروح سے لپٹا دل میں اتراخون میں تیر گیاآج اسی لمحے کو تھامےکھڑی ہوئی ہوں سیڑھی پر
وہ ایک لمحہ جو سچ بولنے سے ڈرتا ہےجو ظلم سہتا ہے جبر اختیار کرتا ہےوہ لمحہ موت کی وادی میں جا اترتا ہے
ان کے اندر تنہائی کا زہر اترتا چلا گیا(اور زمانہارد گرد سےپرچھائیں کی طرح گزرتا چلا گیا)سوگ میں ہیں،تریاق مانگتی ہیں۔۔۔ایک جنم تکاندھی گونگی بہری بن کےاپنے ہی گھر میں بے دخل،بے قدری کے سخی حسن میں دفن رہیںآج نئے آفاق مانگتی ہیںدادی اماں طلاق مانگتی ہیں
دل ربا لالہ ہو فضا تیریمجھ کو بھائی نہ اک ادا تیریلطف سے بڑھ کے ہے جفا تیریواہ رے ہندوستاں وفا تیریمیں نہ مانوں کبھی ترا کہنامیں نہ بخشوں کبھی خطا تیریبرتر از خار ہے ترا گلشنزہر سے کم نہیں ہوا تیریخالی از کیفیت تری ہر چیزبات ہر ایک بے مزا تیریدرد دل میں تڑپ کے مر جاؤںمیں نہ ڈھونڈوں کبھی شفا تیریکون سی بات تیری لطف آمیزکون سی چیز دل کشا تیریتجھ کو جنت نشان کہتے ہیںہم جہنم کی جان کہتے ہیںتجھ کو کس بات پر ہے ناز بتاکیا نہیں اور ملک تیرے سواتیری آب و ہوا لطیف سہیتجھ سے بڑھ کر سپین کا خطہتجھ کو اپنی زمین کا ہے گھمنڈتجھ سے افضل کہیں ہے امریکہحسن پر اپنے ناز ہے تجھ کوحسن تجھ سے سوا اطالیہ کاتجھ کو گنگا کا اپنی دھوکا ہےتو نے دیکھا نہیں ہے سین کو جاموسیقی پر تجھے ہے ناز بہتاس میں جز درد و غم دھرا ہے کیافلسفہ تیرا اگلے وقتوں کافلسفہ دیکھ جا کے یورپ کاتجھ میں پھر آن کیا رہی باقیتیری محفل نہ کچھ نہ کچھ ساقیہاں مروت کا تجھ میں نام نہیںہاں اخوت کا تجھ میں نام نہیںتجھ سے بد نام عشق سا استاداور محبت کا تجھ میں نام نہیںآشتی سیکھے تجھ سے آ کے کوئیہاں خصومت کا تجھ میں نام نہیںتیری ہر بات میں صفائی ہےاور کدورت کا تجھ میں نام نہیںتجھ کو اور حریت سے کیا نسبتاس ضرورت کا تجھ میں نام نہیںشاد ہیں تیرے اپنے بیگانےاور شکایت کا تجھ میں نام نہیںتیری تہذیب تجھ کو موجب فخرہاں جہالت کا تجھ میں نام نہیںبات دنیا سے ہے جدا تیریواہ اے ہندوستاں ادا تیریتیرے رسم و رواج نے مارااس مرض کے علاج نے ماراتیری غیرت نے کر دیا بربادخاندانوں کے لاج نے ماراکیا کریں ہر گھڑی یہی ہے فکرروز کی احتیاج نے ماراآئے دن کال کا ہے ذکر اذکاراک ذرا سے اناج نے مارااور سب پر وبا کا اک طرہاس انوکھے خراج نے مارابخت برگشتہ آرزوئیں بہتہوس سیم و عاج نے مارانہ کریں کام کچھ تو کھائیں کیاروز کے کام کاج نے ماراتو تو رہنے کا کچھ مقام نہیںتجھ میں انسانیت کا نام نہیںقید تو نے کیا حسینوں کومہ جبینوں کو نازنینوں کوزیور علم سے رکھا عاریتو نے قدرت کے ان نگینوں کواختیار و پسند کی اے ہندکیا ضرورت نہ تھی حسینوں کوخوب پہچانی تو نے قدر ان کیخوب سمجھا تو ان خزینوں کوکنویں جھنکوائے نازنینوں سےزہر کھلوایا مہ جبینوں کوڈوبے جاتے ہیں کون آ کے بچائےبحر ہستی کے ان سفینوں کوتو مکاں تھا مکان ہو کے دیاخوف آرام ان مکینوں کوتجھ پہ تہذیب طعن کرتی ہےتجھ پہ الزام خلق دھرتی ہےآرزو ہے تجھے حکومت کیجاہ و ثروت کی شان و شوکت کیکیوں نہ ہو تجھ میں ہمت عالیدھوم ہر سو ہے تیری جرأت کیتو نے کسب فنون جنگ کیاسب میں شہرت ہے تیری قوت کیقسمیں کھاتے ہیں لوگ دنیا میںتیری ملت تری اخوت کیملک داری میں ملک گیری میںواہ کیا پیدا قابلیت کیتو تو استاد سے بھی بڑھ نکلاحیرت انگیز تو نے محنت کیآپ عالم میں تو ہے اپنی مثالآدمیت کی اور شجاعت کیہم سری کی کسی کو تاب نہیںترا آفاق میں جواب نہیںداغ دل کے کسے دکھائیں ہمایسا مشفق کہاں سے لائیں ہمدل میں ہے اپنے ہم نشیں اک روزآپ رو کر تجھے رلائیں ہماس طبیعت کو کس طرح بہلائیںدل کو کس چیز سے لگائیں ہمکب تلک روز کے کہیں صدمےکب تلک آفتیں اٹھائیں ہمزہر کیوں اے فلک نہ ہم کھا لیںجی سے اپنے گزر نہ جائیں ہمجو شکایت ہو کیوں نہ لب پر آئےایک دکھ ہو اسے چھپائیں ہماے تمدن کے راحت و آرامہائے کس طرح تم کو پائیں ہملوگ اٹھاتے ہیں زندگی کے مزےہم اٹھاتے ہیں ناخوشی کے مزے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books