aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "jaavedaa.n"
تمہاری ارجمند امی کو میں بھولا بہت دن میںمیں ان کی رنگ کی تسکین سے نمٹا بہت دن میںوہی تو ہیں جنہوں نے مجھ کو پیہم رنگ تھکوایاوہ کس رگ کا لہو ہے جو میاں میں نے نہیں تھوکالہو اور تھوکنا اس کا ہے کاروبار بھی میرایہی ہے ساکھ بھی میری یہی معیار بھی میرامیں وہ ہوں جس نے اپنے خون سے موسم کھلائے ہیںنجانے وقت کے کتنے ہی عالم آزمائے ہیںمیں اک تاریخ ہوں اور میری جانے کتنی فصلیں ہیںمری کتنی ہی فرعیں ہیں مری کتنی ہی اصلیں ہیںحوادث ماجرا ہی ہم رہے ہیں اک زمانے سےشداید سانحہ ہی ہم رہے ہیں اک زمانے سےہمیشہ سے بپا اک جنگ ہے ہم اس میں قائم ہیںہماری جنگ خیر و شر کے بستر کی ہے زائیدہیہ چرخ جبر کے دوار ممکن کی ہے گرویدہلڑائی کے لیے میدان اور لشکر نہیں لازمسنان و گرز و شمشیر و تبر خنجر نہیں لازمبس اک احساس لازم ہے کہ ہم بعدین ہیں دنوںکہ نفی عین عین و سر بہ سر ضدین ہیں دونوںLuis Urbina نے میری عجب کچھ غم گساری کیبصد دل دانشی گزران اپنی مجھ پہ طاری کیبہت اس نے پلائی اور پینے ہی نہ دی مجھ کوپلک تک اس نے مرنے کے لیے جینے نہ دی مجھ کو''میں تیرے عشق میں رنجیدہ ہوں ہاں اب بھی کچھ کچھ ہوںمجھے تیری خیانت نے غضب مجروح کر ڈالامگر طیش شدیدانہ کے بعد آخر زمانے میںرضا کی جاودانہ جبر کی نوبت بھی آ پہنچی''
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگیہے کبھی جاں اور کبھی تسليم جاں ہے زندگیتو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپجاوداں پیہم دواں ہر دم جواں ہے زندگیاپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہےسر آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگیزندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھجوئے شير و تيشہ و سنگ گراں ہے زندگیبندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آباور آزادی میں بحر بیکراں ہے زندگیآشکارا ہے یہ اپنی قوت تسخیر سےگرچہ اک مٹی کے پیکر میں نہاں ہے زندگیقلزم ہستی سے تو ابھرا ہے مانند حباباس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگیخام ہے جب تک تو ہے مٹی کا اک انبار توپختہ ہو جائے تو ہے شمشير بے زنہار توہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپپہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرےپھونک ڈالے یہ زمین و آسمان مستعاراور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرےزندگی کی قوت پنہاں کو کر دے آشکارتا یہ چنگاری فروغ جاوداں پیدا کرےخاک مشرق پر چمک جائے مثال آفتابتا بدخشاں پھر وہی لعل گراں پیدا کرےسوئے گردوں نالۂ شبگیر کا بھیجے صفیررات کے تاروں میں اپنے رازداں پیدا کرےیہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصۂ محشر میں ہےپیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہےسلطنت
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میریخموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میرییہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میںیہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میریاٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نےچمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میریاڑا لی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نےچمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میریٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سےسراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میریالٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میریمرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کاوہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میریدریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارمز فیض دل طپیدن ہا خروش بے نفس دارمریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوںخوشی روتی ہے جس کو میں وہ محروم مسرت ہوںمری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائیمیں حرف زیر لب شرمندۂ گوش سماعت ہوںپریشاں ہوں میں مشت خاک لیکن کچھ نہیں کھلتاسکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوںیہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کاسراپا نور ہو جس کی حقیقت میں وہ ظلمت ہوںخزینہ ہوں چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نےکسی کو کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوںنظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستیمیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوںنہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہمیں اس مے خانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوںمجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہےوہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہےعطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میںکہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میںاثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کامرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میںرلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوکہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میںدیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویالکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میںنشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیںتری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںسن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جس کووظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہےدھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میںیہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کرزمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میںنہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میںیہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہےجو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہےہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گالہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گاجلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سےتری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گامگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیداچمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گاپرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کوجو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گامجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میںکہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گادکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہےتجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گاجو ہے پردوں میں پنہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہےزمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہےکیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نےگزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نےرہا دل بستۂ محفل مگر اپنی نگاہوں کوکیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نےفدا کرتا رہا دل کو حسینوں کی اداؤں پرمگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نےتعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میںیہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نےسراپا نالۂ بیدار سوز زندگی ہو جاسپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نےصفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سےکف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نےزمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہےغضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نےزباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصلبنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نےکنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھاارے غافل جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نےہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کینصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کیدکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پر نم کوجو تڑپاتا ہے پروانے کو رلواتا ہے شبنم کوذرا نظارہ ہی اے بو الہوس مقصد نہیں اس کابنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کواگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھانظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کوشجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کونہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک برگ گل تک بھییہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کوپھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میںیہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کومحبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہےذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہےدوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہناعلاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہناشراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میریشکست رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہناتھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میںعبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنابنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپناچمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہناجو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میںغلامی ہے اسیر امتیاز ما و تو رہنایہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کوتجھے بھی چاہیئے مثل حباب آبجو رہنانہ رہ اپنوں سے بے پروا اسی میں خیر ہے تیریاگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہناشراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کیسکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنامحبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نےکیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نےبیابان محبت دشت غربت بھی وطن بھی ہےیہ ویرانہ قفس بھی آشیانہ بھی چمن بھی ہےمحبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھیجرس بھی کارواں بھی راہبر بھی راہزن بھی ہےمرض کہتے ہیں سب اس کو یہ ہے لیکن مرض ایساچھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہےجلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانایہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہےوہی اک حسن ہے لیکن نظر آتا ہے ہر شے میںیہ شیریں بھی ہے گویا بے ستوں بھی کوہ کن بھی ہےاجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کومرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہےسکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہزباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہےنمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردمحکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم
ذرہ ذرہ دہر کا زندانیٔ تقدیر ہےپردۂ مجبوری و بے چارگی تدبیر ہےآسماں مجبور ہے شمس و قمر مجبور ہیںانجم سیماب پا رفتار پر مجبور ہیںہے شکست انجام غنچے کا سبو گلزار میںسبزہ و گل بھی ہیں مجبور نمو گلزار میںنغمۂ بلبل ہو یا آواز خاموش ضمیرہے اسی زنجیر عالمگیر میں ہر شے اسیرآنکھ پر ہوتا ہے جب یہ سر مجبوری عیاںخشک ہو جاتا ہے دل میں اشک کا سیل رواںقلب انسانی میں رقص عیش و غم رہتا نہیںنغمہ رہ جاتا ہے لطف زیر و بم رہتا نہیںعلم و حکمت رہزن سامان اشک و آہ ہےیعنی اک الماس کا ٹکڑا دل آگاہ ہےگرچہ میرے باغ میں شبنم کی شادابی نہیںآنکھ میری مایہ دار اشک عنابی نہیںجانتا ہوں آہ میں آلام انسانی کا رازہے نوائے شکوہ سے خالی مری فطرت کا سازمیرے لب پر قصۂ نیرنگی دوراں نہیںدل مرا حیراں نہیں خندہ نہیں گریاں نہیںپر تری تصویر قاصد گریۂ پیہم کی ہےآہ یہ تردید میری حکمت محکم کی ہےگریۂ سرشار سے بنیاد جاں پایندہ ہےدرد کے عرفاں سے عقل سنگدل شرمندہ ہےموج دود آہ سے آئینہ ہے روشن مراگنج آب آورد سے معمور ہے دامن مراحیرتی ہوں میں تری تصویر کے اعجاز کارخ بدل ڈالا ہے جس نے وقت کی پرواز کارفتہ و حاضر کو گویا پا بہ پا اس نے کیاعہد طفلی سے مجھے پھر آشنا اس نے کیاجب ترے دامن میں پلتی تھی وہ جان ناتواںبات سے اچھی طرح محرم نہ تھی جس کی زباںاور اب چرچے ہیں جس کی شوخئ گفتار کےبے بہا موتی ہیں جس کی چشم گوہر بار کےعلم کی سنجیدہ گفتاری بڑھاپے کا شعوردنیوی اعزاز کی شوکت جوانی کا غرورزندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہمصحبت مادر میں طفل سادہ رہ جاتے ہیں ہمبے تکلف خندہ زن ہیں فکر سے آزاد ہیںپھر اسی کھوئے ہوئے فردوس میں آباد ہیںکس کو اب ہوگا وطن میں آہ میرا انتظارکون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرارخاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گااب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گاتربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہواگھر مرے اجداد کا سرمایۂ عزت ہوادفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیاتتھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیاتعمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہیمیں تری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسیوہ جواں قامت میں ہے جو صورت سرو بلندتیری خدمت سے ہوا جو مجھ سے بڑھ کر بہرہ مندکاروبار زندگانی میں وہ ہم پہلو مراوہ محبت میں تری تصویر وہ بازو مراتجھ کو مثل طفلک بے دست و پا روتا ہے وہصبر سے نا آشنا صبح و مسا روتا ہے وہتخم جس کا تو ہماری کشت جاں میں بو گئیشرکت غم سے وہ الفت اور محکم ہو گئیآہ یہ دنیا یہ ماتم خانۂ برنا و پیرآدمی ہے کس طلسم دوش و فردا میں اسیرکتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موتگلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موتزلزلے ہیں بجلیاں ہیں قحط ہیں آلام ہیںکیسی کیسی دختران مادر ایام ہیںکلبۂ افلاس میں دولت کے کاشانے میں موتدشت و در میں شہر میں گلشن میں ویرانے میں موتموت ہے ہنگامہ آرا قلزم خاموش میںڈوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میںنے مجال شکوہ ہے نے طاقت گفتار ہےزندگانی کیا ہے اک طوق گلو افشار ہےقافلے میں غیر فریاد درا کچھ بھی نہیںاک متاع دیدۂ تر کے سوا کچھ بھی نہیںختم ہو جائے گا لیکن امتحاں کا دور بھیہیں پس نہ پردۂ گردوں ابھی دور اور بھیسینہ چاک اس گلستاں میں لالہ و گل ہیں تو کیانالہ و فریاد پر مجبور بلبل ہیں تو کیاجھاڑیاں جن کے قفس میں قید ہے آہ خزاںسبز کر دے گی انہیں باد بہار جاوداںخفتہ خاک پے سپر میں ہے شرار اپنا تو کیاعارضی محمل ہے یہ مشت غبار اپنا تو کیازندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہیںٹوٹنا جس کا مقدر ہو یہ وہ گوہر نہیںزندگی محبوب ایسی دیدۂ قدرت میں ہےذوق حفظ زندگی ہر چیز کی فطرت میں ہےموت کے ہاتھوں سے مٹ سکتا اگر نقش حیاتعام یوں اس کو نہ کر دیتا نظام کائناتہے اگر ارزاں تو یہ سمجھو اجل کچھ بھی نہیںجس طرح سونے سے جینے میں خلل کچھ بھی نہیںآہ غافل موت کا راز نہاں کچھ اور ہےنقش کی ناپائیداری سے عیاں کچھ اور ہےجنت نظارہ ہے نقش ہوا بالائے آبموج مضطر توڑ کر تعمیر کرتی ہے حبابموج کے دامن میں پھر اس کو چھپا دیتی ہے یہکتنی بے دردی سے نقش اپنا مٹا دیتی ہے یہپھر نہ کر سکتی حباب اپنا اگر پیدا ہواتوڑنے میں اس کے یوں ہوتی نہ بے پروا ہوااس روش کا کیا اثر ہے ہیئت تعمیر پریہ تو حجت ہے ہوا کی قوت تعمیر پرفطرت ہستی شہید آرزو رہتی نہ ہوخوب تر پیکر کی اس کو جستجو رہتی نہ ہوآہ سیماب پریشاں انجم گردوں فروزشوخ یہ چنگاریاں ممنون شب ہے جن کا سوزعقل جس سے سر بہ زانو ہے وہ مدت ان کی ہےسر گزشت نوع انساں ایک ساعت ان کی ہےپھر یہ انساں آں سوئے افلاک ہے جس کی نظرقدسیوں سے بھی مقاصد میں ہے جو پاکیزہ ترجو مثال شمع روشن محفل قدرت میں ہےآسماں اک نقطہ جس کی وسعت فطرت میں ہےجس کی نادانی صداقت کے لیے بیتاب ہےجس کا ناخن ساز ہستی کے لیے مضراب ہےشعلہ یہ کم تر ہے گردوں کے شراروں سے بھی کیاکم بہا ہے آفتاب اپنا ستاروں سے بھی کیاتخم گل کی آنکھ زیر خاک بھی بے خواب ہےکس قدر نشوونما کے واسطے بیتاب ہےزندگی کا شعلہ اس دانے میں جو مستور ہےخود نمائی خود فزائی کے لیے مجبور ہےسردی مرقد سے بھی افسردہ ہو سکتا نہیںخاک میں دب کر بھی اپنا سوز کھو سکتا نہیںپھول بن کر اپنی تربت سے نکل آتا ہے یہموت سے گویا قبائے زندگی پاتا ہے یہہے لحد اس قوت آشفتہ کی شیرازہ بندڈالتی ہے گردن گردوں میں جو اپنی کمندموت تجدید مذاق زندگی کا نام ہےخواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہےخوگر پرواز کو پرواز میں ڈر کچھ نہیںموت اس گلشن میں جز سنجیدن پر کچھ نہیںکہتے ہیں اہل جہاں درد اجل ہے لا دوازخم فرقت وقت کے مرہم سے پاتا ہے شفادل مگر غم مرنے والوں کا جہاں آباد ہےحلقۂ زنجیر صبح و شام سے آزاد ہےوقت کے افسوں سے تھمتا نالۂ ماتم نہیںوقت زخم تیغ فرقت کا کوئی مرہم نہیںسر پہ آ جاتی ہے جب کوئی مصیبت ناگہاںاشک پیہم دیدۂ انساں سے ہوتے ہیں رواںربط ہو جاتا ہے دل کو نالہ و فریاد سےخون دل بہتا ہے آنکھوں کی سرشک آباد سےآدمی تاب شکیبائی سے گو محروم ہےاس کی فطرت میں یہ اک احساس نامعلوم ہےجوہر انساں عدم سے آشنا ہوتا نہیںآنکھ سے غائب تو ہوتا ہے فنا ہوتا نہیںرخت ہستی خاک غم کی شعلہ افشانی سے ہےسرد یہ آگ اس لطیف احساس کے پانی سے ہےآہ یہ ضبط فغاں غفلت کی خاموشی نہیںآگہی ہے یہ دلاسائی فراموشی نہیںپردۂ مشرق سے جس دم جلوہ گر ہوتی ہے صبحداغ شب کا دامن آفاق سے دھوتی ہے صبحلالۂ افسردہ کو آتش قبا کرتی ہے یہبے زباں طائر کو سرمست نوا کرتی ہے یہسینۂ بلبل کے زنداں سے سرود آزاد ہےسیکڑوں نغموں سے باد صبح دم آباد ہےخفتہ گان لالہ زار و کوہسار و رود بارہوتے ہیں آخر عروس زندگی سے ہمکناریہ اگر آئین ہستی ہے کہ ہو ہر شام صبحمرقد انساں کی شب کا کیوں نہ ہو انجام صبحدام سیمین تخیل ہے مرا آفاق گیرکر لیا ہے جس سے تیری یاد کو میں نے اسیریاد سے تیری دل درد آشنا معمور ہےجیسے کعبے میں دعاؤں سے فضا معمور ہےوہ فرائض کا تسلسل نام ہے جس کا حیاتجلوہ گاہیں اس کی ہیں لاکھوں جہان بے ثباتمختلف ہر منزل ہستی کو رسم و راہ ہےآخرت بھی زندگی کی ایک جولاں گاہ ہےہے وہاں بے حاصلی کشت اجل کے واسطےسازگار آب و ہوا تخم عمل کے واسطےنور فطرت ظلمت پیکر کا زندانی نہیںتنگ ایسا حلقۂ افکار انسانی نہیںزندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ ترخوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفرمثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترانور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو تراآسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرےسبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
متھرا کہ نگر ہے عاشقی کادم بھرتی ہے آرزو اسی کاہر ذرۂ سر زمین گوکلدارا ہے جمال دلبری کابرسانا و نند گاؤں میں بھیدیکھ آئے ہیں جلوہ ہم کسی کاپیغام حیات جاوداں تھاہر نغمۂ کرشن بانسری کاوہ نور سیاہ یا کہ حسرتسر چشمہ فروغ آگہی کا
اس سے پہلے کہ تیری چشم کرممعذرت کی نگاہ بن جائےاس سے پہلے کہ تیرے بام کا حسنرفعت مہر و ماہ بن جائےپیار ڈھل جائے میرے اشکوں میںآرزو ایک آہ بن جائےمجھ پہ آ جائے عشق کا الزاماور تو بے گناہ بن جائےمیں ترا شہر چھوڑ جاؤں گااس سے پہلے کہ سادگی تیریلب خاموش کو گلہ کہہ دےمیں تجھے چارہ گر خیال کروںتو مرے غم کو لا دوا کہہ دےتیری مجبوریاں نہ دیکھ سکےاور دل تجھ کو بے وفا کہہ دےجانے میں بے خودی میں کیا پوچھوںجانے تو بے رخی سے کیا کہہ دےمیں ترا شہر چھوڑ جاؤں گاچارۂ درد ہو بھی سکتا تھامجھ کو اتنی خوشی بہت کچھ ہےپیار گو جاوداں نہیں پھر بھیپیار کی یاد بھی بہت کچھ ہےآنے والے دنوں کی ظلمت میںآج کی روشنی بہت کچھ ہےاس تہی دامنی کے عالم میںجو ملا ہے وہی بہت کچھ ہےمیں ترا شہر چھوڑ جاؤں گاچھوڑ کر ساحل مراد چلااب سفینہ مرا کہیں ٹھہرےزہر پینا مرا مقدر ہےاور ترے ہونٹ انگبیں ٹھہرےکس ترا تیرے آستاں پہ رکوںجب نہ پاؤں تلے زمیں ٹھہرےاس سے بہتر ہے دل یہی سمجھےتو نے روکا تھا ہم نہیں ٹھہرےمیں ترا شہر چھوڑ جاؤں گامجھ کو اتنا ضرور کہنا ہےوقت رخصت سلام سے پہلےکوئی نامہ نہیں لکھا میں نےتیرے حرف پیام سے پہلےتوڑ لوں رشتۂ نظر میں بھیتم اتر جاؤ بام سے پہلےلے مری جان میرا وعدہ ہےکل کسی وقت شام سے پہلےمیں ترا شہر چھوڑ جاؤں گا
میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنگل پوش تیری وادیاںفرحت نشاں راحت رساںتیرے چمن زاروں پہ ہےگلزار جنت کا گماںہر شاخ پھولوں کی چھڑیہر نخل طوبیٰ ہے یہاںکوثر کے چشمے جا بجاتسنیم ہر آب رواںہر برگ روح تازگیہر پھول جان گلستاںہر باغ باغ دلکشیہر باغ باغ بے خزاںدل کش چراگاہیں تریڈھوروں کے جن میں کارواںانجم صفت گلہائے نوہر تختۂ گل آسماںنقش ثریا جا بجاہر ہر روش اک کہکشاںتیری بہاریں دائمیتیری بہاریں جاوداںتجھ میں ہے روح زندگیپیہم رواں پیہم دواںدریا وہ تیرے تند خوجھیلیں وہ تیری بے کراںشام اودھ کے لب پہ ہےحسن ازل کی داستاںکہتی ہے راز سرمدیصبح بنارس کی زباںاڑتا ہے ہفت افلاک پران کارخانوں کا دھواںجن میں ہیں لاکھوں محنتیصنعت گری کے پاسباںتیری بنارس کی زریرشک حریر و پرنیاںبیدر کی فن کاری میں ہیںصنعت کی سب باریکیاںعظمت ترے اقبال کیتیرے پہاڑوں سے عیاںدریاؤں کا پانی، تریتقدیس کا اندازہ داںکیا بھارتیندوؔ نے کیاگنگا کی لہروں کا بیاںاقبالؔ اور چکبستؔ ہیںعظمت کے تیری نغمہ خواںجوشؔ و فراقؔ و پنتؔ ہیںتیرے ادب کے ترجماںتلسیؔ و خسروؔ ہیں تیریتعریف میں رطب اللساںگاتے ہیں نغمہ مل کے سباونچا رہے تیرا نشاںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتیرے نظاروں کے نگیںدنیا کی خاتم میں نہیںسارے جہاں میں منتخبکشمیر کی ارض حسیںفطرت کا رنگیں معجزہفردوس بر روئے زمیںفردوس بر روئے زمیںہاں ہاں ہمیں است و ہمیںسر سبز جس کے دشت ہیںجس کے جبل ہیں سرمگیںمیوے بہ کثرت ہیں جہاںشیریں مثال انگبیںہر زعفراں کے پھول میںعکس جمال حورعیںوہ مالوے کی چاندنیگم جس میں ہوں دنیا و دیںاس خطۂ نیرنگ میںہر اک فضا حسن آفریںہر شے میں حسن زندگیدل کش مکاں دل کش زمیںہر مرد مرد خوب روہر ایک عورت نازنیںوہ تاج کی خوش پیکریہر زاویے سے دل نشیںصنعت گروں کے دور کیاک یادگار مرمریںہوتی ہے جو ہر شام کوفیض شفق سے احمریںدریا کی موجوں سے الگیا اک بط نظارہ بیںیا طائر نوری کوئیپرواز کرنے کے قریںیا اہل دنیا سے الگاک عابد عزلت گزیںنقش اجنتا کی قسمجچتا نہیں ارژنگ چیںشان ایلورا دیکھ کرجھکتی ہے آذر کی جبیںچتوڑ ہو یا آگرہایسے نہیں قلعے کہیںبت گر ہو یا نقاش ہوتو سب کی عظمت کا امیںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطندل کش ترے دشت و چمنرنگیں ترے شہر و چمنتیرے جواں رعنا جواںتیرے حسیں گل پیرہناک انجمن دنیا ہے یہتو اس میں صدر انجمنتیرے مغنی خوش نواشاعر ترے شیریں سخنہر ذرہ اک ماہ مبیںہر خار رشک نستریںغنچہ ترے صحرا کا ہےاک نافۂ مشک ختنکنکر ہیں تیرے بے بہاپتھر ترے لعل یمنبستی سے جنگل خوب ترباغوں سے حسن افروز بنوہ مور وہ کبک دریوہ چوکڑی بھرتے ہرنرنگیں ادا وہ تتلیاںبابنی میں وہ ناگوں کے پھنوہ شیر جن کے نام سےلرزے میں آئے اہرمنکھیتوں کی برکت سے عیاںفیضان رب ذو المننچشموں کے شیریں آب سےلذت کشاں کام و دہنتابندہ تیرا عہد نوروشن ترا عہد کہنکتنوں نے تجھ پر کر دیاقربان اپنا مال دھنکتنے شہیدوں کو ملےتیرے لیے دار و رسنکتنوں کو تیرا عشق تھاکتنوں کو تھی تیری لگنتیرے جفا کش محنتیرکھتے ہیں عزم کوہ کنتیرے سپاہی سورمابے مثل یکتائے زمنبھیشمؔ سا جن میں حوصلہارجنؔ سا جن میں بانکپنعالم جو فخر علم ہیںفن کار نازاں جن پہ فنرائےؔ و بوسؔ و شیرؔگلدنکرؔ، جگرؔ متھلیؔ شرنولاٹھولؔ، ماہرؔ، بھارتیبچنؔ، مہادیویؔ، سمنؔکرشننؔ، نرالاؔ، پریمؔ چندٹیگورؔ و آزادؔ و رمنؔمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنکھیتی تری ہر اک ہریدل کش تری خوش منظریتیری بساط خاک کےذرے ہیں مہر و مشتریجہلم کاویری ناگ وہگنگا کی وہ گنگوتریوہ نربدا کی تمکنتوہ شوکت گوداوریپاکیزگی سرجو کی وہجمنا کی وہ خوش گوہریدلربہ آب نیلگوںکشمیر کی نیلم پریدل کش پپیہے کی صداکوئل کی تانیں مد بھریتیتر کا وہ حق سرہطوطی کا وہ ورد ہریصوفی ترے ہر دور میںکرتے رہے پیغمبریچشتیؔ و نانکؔ سے ملیفقر و غنا کو برتریعدل جہانگیری میں تھیمضمر رعایا پروریوہ نورتن جن سے ہوئیتہذیب دور اکبریرکھتے تھے افغان و مغلاک صولت اسکندریراناؤں کے اقبال کیہوتی ہے کس سے ہم سریساونت وہ یودھا ترےتیرے جیالے وہ جرینیتی ودر کی آج تککرتی ہے تیری رہبریاب تک ہے مشہور زماںچانکیہؔ کی دانش وریویاس اور وشوامتر سےمنیوں کی شان قیصریپاتنجلی و سانکھ سےرشیوں کی حکمت پروریبخشے تجھے انعام نوہر دور چرخ چنبریخوش گوہری دے آب کواور خاک کو خوش جوہریذروں کو مہر افشانیاںقطروں کو دریا گستریمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتو رہبر نوع بشرتو امن کا پیغام برپالے ہیں تو نے گود میںصاحب خرد صاحب نظرافضل تریں ان سب میں ہےباپو کا نام معتبرہر لفظ جس کا دل نشیںہر بات جس کی پر اثرجس نے لگایا دہر میںنعرہ یہ بے خوف و خطربے کار ہیں تیر و سناںبے سود ہیں تیغ و تبرہنسا کا رستہ جھوٹ ہےحق ہے اہنسا کی ڈگردرماں ہے یہ ہر درد کایہ ہر مرض کا چارہ گرجنگاہ عالم میں کوئیاس سے نہیں بہتر سپرکرتا ہوں میں تیرے لیےاب یہ دعائے مختصررونق پہ ہوں تیرے چمنسرسبز ہوں تیرے شجرنخل امید بہتریہر فصل میں ہو بارورکوشش ہو دنیا میں کوئیخطہ نہ ہو زیر و زبرتیرا ہر اک باسی رہےنیکو صفت نیکو سیرہر زن سلیقہ مند ہوہر مرد ہو صاحب ہنرجب تک ہیں یہ ارض و فلکجب تک ہیں یہ شمس و قمرمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن
کر پہلے مجھ کو زندگیٔ جاوداں عطاپھر ذوق و شوق دیکھ دل بے قرار کا
اوروں کا ہے پیام اور میرا پیام اور ہےعشق کے درد مند کا طرز کلام اور ہےطائر زیر دام کے نالے تو سن چکے ہو تمیہ بھی سنو کہ نالہ طائر بام اور ہےآتی تھی کوہ سے صدا راز حیات ہے سکوںکہتا تھا مور ناتواں لطف خرام اور ہےجذب حرم سے ہے فروغ انجمن حجاز کااس کا مقام اور ہے اس کا نظام اور ہےموت ہے عیش جاوداں ذوق طلب اگر نہ ہوگردش آدمی ہے اور گردش جام اور ہےشمع سحر یہ کہہ گئی سوز ہے زندگی کا سازغم کدۂ نمود میں شرط دوام اور ہےبادہ ہے نيم رس ابھی شوق ہے نارسا ابھیرہنے دو خم کے سر پہ تم خشت کلیسیا ابھی
تمہارے ہونٹوں کی ٹھنڈی ٹھنڈی تلاوتیںجھک کے میری آنکھوں کو چھو رہی ہیںمیں اپنے ہونٹوں سے چن رہا ہوں تمہاری سانسوں کی آیتوں کوکہ جسم کے اس حسین کعبے پہ روح سجدے بچھا رہی ہےوہ ایک لمحہ بڑا مقدس تھا جس میں تم جنم لے رہی تھیںوہ ایک لمحہ بڑا مقدس تھا جس میں میں جنم لے رہا تھایہ ایک لمحہ بڑا مقدس ہے جس کو ہم جنم دے رہے ہیںخدا نے ایسے ہی ایک لمحے میں سوچا ہوگاحیات تخلیق کر کے لمحے کے لمس کو جاوداں بھی کر دے!
یہ کون مسکراہٹوں کا کارواں لئے ہوئےشباب شعر و رنگ و نور کا دھواں لئے ہوئےدھواں کہ برق حسن کا مہکتا شعلہ ہے کوئیچٹیلی زندگی کی شادمانیاں لئے ہوئےلبوں سے پنکھڑی گلاب کی حیات مانگے ہےکنول سی آنکھ سو نگاہ مہرباں لئے ہوئےقدم قدم پہ دے اٹھی ہے لو زمین رہگزرادا ادا میں بے شمار بجلیاں لئے ہوئےنکلتے بیٹھتے دنوں کی آہٹیں نگاہ میںرسیلے ہونٹ فصل گل کی داستاں لئے ہوئےخطوط رخ میں جلوہ گر وفا کے نقش سر بسردل غنی میں کل حساب دوستاں لئے ہوئےوہ مسکراتی آنکھیں جن میں رقص کرتی ہے بہارشفق کی گل کی بجلیوں کی شوخیاں لئے ہوئےادائے حسن برق پاش شعلہ زن نظارہ سوزفضائے حسن اودی اودی بجلیاں لئے ہوئےجگانے والے نغمۂ سحر لبوں پہ موجزننگاہیں نیند لانے والی لوریاں لئے ہوئےوہ نرگس سیاہ نیم باز مے کدہ بہ دوشہزار مست راتوں کی جوانیاں لئے ہوئےتغافل و خمار اور بے خودی کی اوٹ میںنگاہیں اک جہاں کی ہوشیاریاں لئے ہوئےہری بھری رگوں میں وہ چہکتا بولتا لہووہ سوچتا ہوا بدن خود اک جہاں لئے ہوئےز فرق تا قدم تمام چہرہ جسم نازنیںلطیف جگمگاہٹوں کا کارواں لئے ہوئےتبسمش تکلمے تکلمش ترنمےنفس نفس میں تھرتھراتا ساز جاں لئے ہوئےجبین نور جس پہ پڑ رہی ہے نرم چھوٹ سیخود اپنی جگمگاہٹوں کی کہکشاں لئے ہوئے''ستارہ بار و مہ چکاں و خورفشاں'' جمال یارجہان نور کارواں بہ کارواں لئے ہوئےوہ زلف خم بہ خم شمیم مست سے دھواں دھواںوہ رخ چمن چمن بہار جاوداں لئے ہوئےبہ مستیٔ جمال کائنات، خواب کائناتبہ گردش نگاہ دور آسماں لئے ہوئےیہ کون آ گیا مرے قریب عضو عضو میںجوانیاں، جوانیوں کی آندھیاں لئے ہوئےیہ کون آنکھ پڑ رہی ہے مجھ پر اتنے پیار سےوہ بھولی سی وہ یاد سی کہانیاں لئے ہوئےیہ کس کی مہکی مہکی سانسیں تازہ کر گئیں دماغشبوں کے راز نور مہ کی نرمیاں لئے ہوئےیہ کن نگاہوں نے مرے گلے میں باہیں ڈال دیںجہان بھر کے دکھ سے درد سے اماں لئے ہوئےنگاہ یار دے گئی مجھے سکون بے کراںوہ بے کہی وفاؤں کی گواہیاں لئے ہوئےمجھے جگا رہا ہے موت کی غنودگی سے کوننگاہوں میں سہاگ رات کا سماں لئے ہوئےمری فسردہ اور بجھی ہوئی جبیں کو چھو لیایہ کس نگاہ کی کرن نے ساز جاں لئے ہوئےستے سے چہرے پر حیات رسمساتی مسکراتینہ جانے کب کے آنسوؤں کی داستاں لئے ہوئےتبسم سحر ہے اسپتال کی اداس شامیہ کون آ گیا نشاط بے کراں لئے ہوئےترے نہ آنے تک اگرچہ مہرباں تھا اک جہاںمیں رو کے رہ گیا ہوں سو غم نہاں لئے ہوئےزمین مسکرا اٹھی یہ شام جگمگا اٹھیبہار لہلہا اٹھی شمیم جاں لئے ہوئےفضائے اسپتال ہے کہ رنگ و بو کی کروٹیںترے جمال لالہ گوں کی داستاں لئے ہوئےفراقؔ آج پچھلی رات کیوں نہ مر رہوں کہ ابحیات ایسی شامیں ہوگی پھر کہاں لئے ہوئے(۲)مگر نہیں کچھ اور مصلحت تھی اس کے آنے میںجمال و دید یار تھے نیا جہاں لئے ہوئےاسی نئے جہاں میں آدمی بنیں گے آدمیجبیں پہ شاہکار دہر کا نشاں لئے ہوئےاسی نئے جہاں میں آدمی بنیں گے دیوتاطہارتوں کا فرق پاک پر نشاں لئے ہوئےخدائی آدمی کی ہوگی اس نئے جہان پرستاروں کے ہیں دل یہ پیش گوئیاں لئے ہوئےسلگتے دل شرر فشاں و شعلہ بار برق پاشگزرتے دن حیات نو کی سرخیاں لئے ہوئےتمام قول اور قسم نگاہ ناز یار تھیطلوع زندگیٔ نو کی داستاں لئے ہوئےنیا جنم ہوا مرا کہ زندگی نئی ملیجیوں گا شام دید کی نشانیاں لئے ہوئےنہ دیکھا آنکھ اٹھا کے عہد نو کے پردہ داروں نےگزر گیا زمانہ یاد رفتگاں لئے ہوئےہم انقلابیوں نے یہ جہاں بچا لیا مگرابھی ہے اک جہاں وہ بدگمانیاں لئے ہوئے
مرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤوہ خداؤں کا مقرب وہ خداوند کلامصوت انسانی کی روح جاوداںآسمانوں کی ندائے بیکراںآج ساکت مثل حرف ناتماممرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤآؤ اسرافیل کے اس خواب بے ہنگام پر آنسو بہائیںآرمیدہ ہے وہ یوں قرنا کے پاسجیسے طوفاں نے کنارے پر اگل ڈالا اسےریگ ساحل پر چمکتی دھوپ میں چپ چاپاپنے صور کے پہلو میں وہ خوابیدہ ہےاس کی دستار اس کے گیسو اس کی ریشکیسے خاک آلودہ ہیںتھے کبھی جن کی تہیں بود و نبودکیسے اس کا صور اس کے لب سے دوراپنی چیخوں اپنی فریادوں میں گمجھلملا اٹھتے تھے جس سے دیر و زودمرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤوہ مجسم ہمہمہ تھا وہ مجسم زمزمہوہ ازل سے تا ابد پھیلی ہوئی غیبی صداؤں کا نشاںمرگ اسرافیل سےحلقہ در حلقہ فرشتے نوحہ گرابن آدم زلف در خاک و نزارحضرت یزداں کی آنکھیں غم سے تارآسمانوں کی صفیر آتی نہیںعالم لاہوت سے کوئی نفیر آتی نہیںمرگ اسرافیل سےاس جہاں پر بند آوازوں کا رزقمطربوں کا رزق اور سازوں کا رزقاب مغنی کس طرح گائے گا اور گائے گا کیاسننے والوں کے دلوں کے تار چپاب کوئی رقاص کیا تھرکے گا لہرائے گا کیابزم کے فرش و در و دیوار چپاب خطیب شہر فرمائے گا کیامسجدوں کے آستان و گنبد و مینار چپفکر کا صیاد اپنا دام پھیلائے گا کیاطائران منزل و کہسار چپمرگ اسرافیل ہےگوش شنوا کی لب گویا کی موتچشم بینا کی دل دانا کی موتتھی اسی کے دم سے درویشوں کی ساری ہاؤ ہواہل دل کی اہل دل سے گفتگواہل دل جو آج گوشہ گیر و سرمہ در گلواب تنا تا ہو بھی غائب اور یارب ہا بھی گماب گلی کوچوں کی ہر آوا بھی گمیہ ہمارا آخری ملجا بھی گممرگ اسرافیل سےاس جہاں کا وقت جیسے سو گیا پتھرا گیاجیسے کوئی ساری آوازوں کو یکسر کھا گیاایسی تنہائی کہ حسن تام یاد آتا نہیںایسا سناٹا کہ اپنا نام یاد آتا نہیںمرگ اسرافیل سےدیکھتے رہ جائیں گے دنیا کے آمر بھیزباں بندی کے خوابجس میں مجبوروں کی سرگوشی تو ہواس خداوندی کے خواب
محبتاور اب کہ تیری محبت سرمدی کا بادہ گسار ہوں میںہوس پرستی کی لذت بے ثبات سے شرمسار ہوں میںمری بہیمانہ خواہشوں نے فرار کی راہ لی ہے دل سےاور ان کے بدلے اک آرزوئے سلیم سے ہمکنار ہوں میںدلیل راہ وفا بنی ہیں ضیائے الفت کی پاک کرنیںپھر اپنے فردوس گم شدہ کی تلاش میں رہ سپار ہوں میںہوا ہوں بے دار کانپ کر اک مہیب خوابوں کے سلسلے سےاور اب نمود سحر کی خاطر ستم کش انتظار ہوں میںبہار تقدیس جاوداں کی مجھے پھر اک بار آرزو ہےپھر ایک پاکیزہ زندگی کے لیے بہت بے قرار ہوں میںمجھے محبت نے معصیت کے جہنموں سے بچا لیا ہےمجھے جوانی کی تیرہ و تار پستیوں سے اٹھا لیا ہے
یہ شب تار جاوداں تو نہیںیہ شب تار جانے والی ہے
شدت درد و الم سے جب بھی گھبراتا ہوں میںتیرے نغموں کی گھنی چھاؤں میں آ جاتا ہوں میںزندگی کا آئنہ یہ ہے ترے فن کا کمالہے ادھر حد فلک تک تیری پرواز خیالچل گیا سارے دلوں پر تیرا سحر سامریجاوداں اے امرتا پریتم ہے تیری شاعریشدت احساس ہو تو خود سنور جاتا ہے فنروشنی ہوتی ہے کل دنیا میں جب جلتا ہے منسرپھرے کچھ اہل فن مارے ہوئے تقدیر کےیوں ہی بے سمجھی میں ہیں دشمن تری تحریر کےدشمنوں کے وار سے ڈرتی نہ گھبراتی ہے تولوگ پتھر پھینکتے ہیں پھول برساتی ہے توتیرے فن کے معترف ہوں گے وہ وقت آنے کو ہےپھول تیرے فن کا ہر گلشن کو مہکانے کو ہے
وہ بے خبر ہےکہ شاطر وقت کی نظر میںکوئی اکائیشجر حجر ہو کہ ذی نفس ہونظام کل سے الگ نہیں ہےوہ یہ نہیں جانتی کہ ہستی کے کارخانے میںاس کا ہونا نہ ہونا بے نام حادثہ ہےاور اس کے حصے کا کل اثاثہوہ چند لمحے وہ چند سانسیں ہیںجن میں وہ خواب دیکھتی ہےسلیقۂ ذات سے چمن کو سنوارنے کابہار جاں کو نکھارنے کا۲بجا کہ ناپائیدار ہے یہ وجود میرامیں غیر فانی حیات کے سلسلے میںاک بیچ کی کڑی ہوںرہین گردش بھی مرکز کائنات بھی ہوںجو میں نے دیکھا ہے وہ مرے خوں میں رچ گیا ہےجو میں نے سوچا ہے مجھ میں زندہ ہےاور جو کچھ سنا ہے مجھ میں سما گیا ہےہوا کی صورت ہر ایک احساسمیری سانسوں میں جی رہا ہےہر ایک منظر مرے تصور میں بس گیا ہےمیں ذات محدود اپنی پہنائیوں میںاک کائنات بھی ہوںمری رگوں میں وہ جوشش جاوداں رواں ہےجو شاخ میں پھول کی نمو ہےجو بحر میں موج کی تڑپ ہےپر کبوتر میں تاب پرواز ہےستاروں میں روشنی ہےمیں اپنے ہونے کے سب حوالوں میں رونما ہوںمیں جا بجا صورت صبا ہوںغزال خوش چشم کی کلیوں میں کھیلتا ہوںہمکتے بچے کی مسکراہٹ ہوںپیر شب خیز کی دعا ہوںمیں مہر میں ماہتاب میں ہوںیہ کیسی چاہت ہے جس سے میںایک مستقل اضطراب میں ہوںوہ کون سی منزل طلب تھیکہ رانجھا رانجھا پکارتی ہیرآپ ہی رانجھا ہو گئی تھی
جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمودکہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیداخودی میں ڈوبنے والوں کے عزم و ہمت نےاس آب جو سے کئے بحر بے کراں پیداوہی زمانے کی گردش پہ غالب آتا ہےجو ہر نفس سے کرے عمر جاوداں پیداخودی کی موت سے مشرق کی سر زمینوں میںہوا نہ کوئی خدائی کا رازداں پیداہوائے دشت سے بوئے رفاقت آتی ہےعجب نہیں ہے کہ ہوں میرے ہم عناں پیدا
آج کی رات جاوداں کر لیںآج کی رات اور آج کی رات
رات داڑھی کے اندھیرے سے تکلف برتےعرش کے سامنے رسوائی کی گردن نہ اٹھےاذن سجدہ پہ کمر تختہ نہ ہو جائے کہیںکھوکھلے لفظوں میں لوہا تو نہیں بھر سکتےسیکڑوں سال کی تبلیغ کے چالیس ثمرکشتی بن جائے تو تنور سے پانی ابلےسالہا سال سے آرام نتیجہ مطلوبتین سو ساٹھ صنم خانۂ کعبہ سے چلےریگ زاروں میں غبار اور کھجوری سائےاونٹ کی آنکھ میں تشہیر ہوا درد سفرکوئی ہندہؔ سے کہے دانت کہاں ہیں تیرےفتح مکہ سے مگر لوگ ہدایت پائیںخون جم جائے جو نعلین میں چلتے چلتےعرش کی آنکھ سے رحمت کا سمندر ابلےجبرئیل اپنی ہیئت میں ہیں نمائش منظرپاؤں پاتال میں سر چرخ سے ٹکرائے کہیںپر جو کھولے تو ہر اک سمت پہ پردے لٹکیںاور جلتا ہوا سورج ابھی کھو جائے کہیںقافلہ آیا ہے بو بکرؔ سے منسوب مگرمال تقسیم ہوا دامن حاجت منداںنور کندھے پہ اٹھائے شب ہجرت کے سفیرغار میں ساتھ رہے پاس ہی پیوند ہوئےمسجد نبوی میں انبار غنیمت روشنلوگ روتے ہوئے نکلے ہیں پریشاں منظرروشنی پہنچی ابو جہلؔ کی دیواروں تکگھر کی تاریکی میں رستہ نہ بنے بینائیپیڑ کے سائے کی پہچان یہودی راہبرک گیا آب رواں بیوہ کے دروازے پردست زہرا میں نشانات عیاں چکی سےعلم کے باب علیؔ عمر میں سب سے چھوٹےچاند کا نام ترے چاک گریبانوں میںمبتدی ڈھونڈتے ہیں مسجد اقصیٰ میں امامسدرۃ المنتہیٰ جبریل اجازت مانگےکون تھا کس نے پکارا کہ چلے بھی آؤکون موجود تھا پہلے سے وہاں کون گیاکون سنتا تھا وہاں کس نے پکارا کس کوکس کی آواز کی تنویر سے عالم چمکےسربلندی تھی مقدر میں قلم سے پہلےبکریاں کون حلیمہؔ کی چرانے جائےآمنہؔ بطن سے اظہار ہے آدم کا عروجمجتمع کس نے کیا لوگوں کو پربت کے قریبکس نے للکارا ضلالت کو مسلسل تنہاجو کی روٹی کبھی مل جائے کبھی فاقہ کشیبھوک سے پیٹ پہ پتھر کبھی باندھے کس نےتین سو تیرہ کی تعداد ہے کس گنتی میںفکر پہ دائرہ کن خندقیں کھودی جائیںدور کی دھوپ میں ہے فیصلہ کن راہ تبوکحنظلہؔ سامنے آ جائیں جو چھٹ جائے غبارمیں نے پہنچا دیا تم تک جو مجھے پہنچا تھامیں نے پہنچا دیا تم تک جو مجھے پہنچا تھامیں نے پہنچا دیا تم تک جو مجھے پہنچا تھاکوئی پردیسی ہے خیمے پہ پریشاں صورتاور فاروقؔ چلے بیوی کو ہمراہ لیےفاصلے توڑ کر آواز کے سائے پھیلےحاکم وقت کا کرتا کئی پیوند لگابکریاں جس سے سنبھالی نہیں جاتیں تھیں کبھینصف دنیا پہ خلافت کے علم لہرائےیاد ہے صاحبو خیبر کو اکھاڑا کس نےکس کی تلوار تھی آئینہ زمانے کے لیےکس نے زرخیز شجاعت کے ستارے بوئےجان دی جاوداں لمحات تلاوت مشغولخون کے دھبے ہیں قرآن پہ تابندہ نظر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books