aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "la.daakaa"
میں تو چھوٹا بچہ ہوںدل کا اپنے سچا ہوںآج لڑا کل مل لوں گادور شکایت کر دوں گالیکن ایک لڑاکا سےسب میں تم نے عام کیامفت مجھے بدنام کیا
مگر ناظر ہمارا سوختہ صلب آخری نساب اب مرنے ہی والا ہےبس اک پل ہف صدی کا فیصلہ کرنے ہی والا ہےسنو زریونؔ بس تم ہی سنو یعنی فقط تم ہیوہی راحت میں ہے جو عام سے ہونے کو اپنا لےکبھی کوئی بھی پر ہو کوئی بہمنؔ یار یا زینوؔتمہیں بہکا نہ پائے اور بیرونی نہ کر ڈالےمیں ساری زندگی کے دکھ بھگت کر تم سے کہتا ہوںبہت دکھ دے گی تم میں فکر اور فن کی نمو مجھ کوتمہارے واسطے بے حد سہولت چاہتا ہوں میںدوام جہل و حال استراحت چاہتا ہوں میںنہ دیکھو کاش تم وہ خواب جو دیکھا کیا ہوں میںوہ سارے خواب تھے قصاب جو دیکھا کیا ہوں میںخراش دل سے تم بے رشتہ بے مقدور ہی ٹھہرومرے جحیمیم ذات ذات سے تم دور ہی ٹھہروکوئی زریونؔ کوئی بھی کلرک اور کوئی کارندہکوئی بھی بینک کا افسر سینٹر کوئی پایندہہر اک حیوان سرکاری کو ٹٹو جانتا ہوں میںسو ظاہر ہے اسے شے سے زیادہ مانتا ہوں میںتمہیں ہو صبح دم توفیق بس اخبار پڑھنے کیتمہیں اے کاش بیماری نہ ہو دیوار پڑھنے کیعجب ہے سارترؔ اور رسلؔ بھی اخبار پڑھتے تھےوہ معلومات کے میدان کے شوقین بوڑھے تھےنہیں معلوم مجھ کو عام شہری کیسے ہوتے ہیںوہ کیسے اپنا بنجر نام بنجر پن میں بوتے ہیںمیں ''ار'' سے آج تک اک عام شہری ہو نہیں پایااسی باعث میں ہوں انبوہ کی لذت سے بے مایہمگر تم اک دو پایہ راست قامت ہو کے دکھلاناسنو راے دہندہ بن ہوئے تم باز مت آنافقط زریونؔ ہو تم یعنی اپنا سابقہ چھوڑوفقط زریونؔ ہو تم یعنی اپنا لاحقہ چھوڑومگر میں کون جو چاہوں تمہارے باب میں کچھ بھیبھلا کیوں ہو مرے احساس کے اسباب میں کچھ بھیتمہارا باپ یعنی میں عبث میں اک عبث تر میںمگر میں یعنی جانے کون اچھا میں سراسر میںمیں کاسہ باز و کینہ ساز و کاسہ تن ہوں کتا ہوںمیں اک ننگین بودش ہوں پہ تم تو سر منعم ہوتمہارا باپ روح القدس تھا تم ابن مریم ہو
1وہ صبح کبھی تو آئے گیان کالی صدیوں کے سر سے جب رات کا آنچل ڈھلکے گاجب دکھ کے بادل پگھلیں گے جب سکھ کا ساگر چھلکے گاجب امبر جھوم کے ناچے گا جب دھرتی نغمے گائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیجس صبح کی خاطر جگ جگ سے ہم سب مر مر کر جیتے ہیںجس صبح کے امرت کی دھن میں ہم زہر کے پیالے پیتے ہیںان بھوکی پیاسی روحوں پر اک دن تو کرم فرمائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمانا کہ ابھی تیرے میرے ارمانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںمٹی کا بھی ہے کچھ مول مگر انسانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںانسانوں کی عزت جب جھوٹے سکوں میں نہ تولی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیدولت کے لیے جب عورت کی عصمت کو نہ بیچا جائے گاچاہت کو نہ کچلا جائے گا غیرت کو نہ بیچا جائے گااپنے کالے کرتوتوں پر جب یہ دنیا شرمائے گیوو صبح کبھی تو آئے گیبیتیں گے کبھی تو دن آخر یہ بھوک کے اور بیکاری کےٹوٹیں گے کبھی تو بت آخر دولت کی اجارہ داری کےجب ایک انوکھی دنیا کی بنیاد اٹھائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمجبور بڑھاپا جب سونی راہوں کی دھول نہ پھانکے گامعصوم لڑکپن جب گندی گلیوں میں بھیک نہ مانگے گاحق مانگنے والوں کو جس دن سولی نہ دکھائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیفاقوں کی چتاؤں پر جس دن انساں نہ جلائے جائیں گےسینوں کے دہکتے دوزخ میں ارماں نہ جلائے جائیں گےیہ نرک سے بھی گندی دنیا جب سورگ بنائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گی2وہ صبح ہمیں سے آئے گیجب دھرتی کروٹ بدلے گی جب قید سے قیدی چھوٹیں گےجب پاپ گھروندے پھوٹیں گے جب ظلم کے بندھن ٹوٹیں گےاس صبح کو ہم ہی لائیں گے وہ صبح ہمیں سے آئے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گیمنحوس سماجی ڈھانچوں میں جب ظلم نہ پالے جائیں گےجب ہاتھ نہ کاٹے جائیں گے جب سر نہ اچھالے جائیں گےجیلوں کے بنا جب دنیا کی سرکار چلائی جائے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گیسنسار کے سارے محنت کش کھیتوں سے ملوں سے نکلیں گےبے گھر بے در بے بس انساں تاریک بلوں سے نکلیں گےدنیا امن اور خوشحالی کے پھولوں سے سجائی جائے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گی
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوںایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہواجی مچلتا تھا ایک ایک شے پرجیب خالی تھی کچھ مول لے نہ سکالوٹ آیا لیے حسرتیں سینکڑوںایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں
پاگل آنکھوں والی لڑکیاتنے مہنگے خواب نہ دیکھوتھک جاؤ گیکانچ سے نازک خواب تمہارےٹوٹ گئے توپچھتاؤ گیسوچ کا سارا اجلا کندنضبط کی راکھ میں گھل جائے گاکچے پکے رشتوں کی خوشبو کا ریشمکھل جائے گاتم کیا جانوخواب سفر کی دھوپ کے تیشےخواب ادھوری رات کا دوزخخواب خیالوں کا پچھتاواخوابوں کی منزل رسوائیخوابوں کا حاصل تنہائیتم کیا جانومہنگے خواب خریدنا ہوں توآنکھیں بیچنا پڑتی ہیں یارشتے بھولنا پڑتے ہیں
وہ صبح کبھی تو آئے گیان کالی صدیوں کے سر سے جب رات کا آنچل ڈھلکے گاجب دکھ کے بادل پگھلیں گے جب سکھ ساگر چھلکے گاجب امبر جھوم کے ناچے گا جب دھرتی نغمے گائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیجس صبح کی خاطر جگ جگ سے ہم سب مرمر کے جیتے ہیںجس صبح کے امرت کی دھن میں ہم زہر کے پیالے پیتے ہیںان بھوکی پیاسی روحوں پر اک دن تو کرم فرمائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمانا کہ ابھی تیرے میرے ارمانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںمٹی کا بھی ہے کچھ مول مگر انسانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںانسانوں کی عزت جب جھوٹے سکوں میں نہ تولی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیدولت کے لئے جب عورت کی عصمت کو نہ بیچا جائے گاچاہت کو نہ کچلا جائے گا غیرت کو نہ بیچا جائے گااپنے کالے کرتوتوں پر جب یہ دنیا شرمائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیبیتیں گے کبھی تو دن آخر یہ بھوک کے اور بیکاری کےٹوٹیں گے کبھی تو بت آخر دولت کی اجارہ داری کےجب ایک انوکھی دنیا کی بنیاد اٹھائے جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمجبور بڑھاپا جب سونی راہوں کی دھول نہ پھانکے گامعصوم لڑکپن جب گندی گلیوں میں بھیک نہ مانگے گاحق مانگنے والوں کو جس دن سولی نہ دکھائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیفاقوں کی چتاؤں پر جس دن انساں نہ جلائے جائیں گےسینے کے دہکتے دوزخ میں ارماں نہ جلائے جائیں گےیہ نرک سے بھی گندی دنیا جب سورگ بتائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گی
دیار شرق کی آبادیوں کے اونچے ٹیلوں پرکبھی آموں کے باغوں میں کبھی کھیتوں کی مینڈوں پرکبھی جھیلوں کے پانی میں کبھی بستی کی گلیوں میںکبھی کچھ نیم عریاں کم سنوں کی رنگ رلیوں میںسحر دم جھٹپٹے کے وقت راتوں کے اندھیرے میںکبھی میلوں میں ناٹک ٹولیوں میں ان کے ڈیرے میںتعاقب میں کبھی گم تتلیوں کے سونی راہوں میںکبھی ننھے پرندوں کی نہفتہ خواب گاہوں میںبرہنہ پاؤں جلتی ریت یخ بستہ ہواؤں میںگریزاں بستیوں سے مدرسوں سے خانقاہوں میںکبھی ہم سن حسینوں میں بہت خوش کام و دل رفتہکبھی پیچاں بگولہ ساں کبھی جیوں چشم خوں بستہہوا میں تیرتا خوابوں میں بادل کی طرح اڑتاپرندوں کی طرح شاخوں میں چھپ کر جھولتا مڑتامجھے اک لڑکا آوارہ منش آزاد سیلانیمجھے اک لڑکا جیسے تند چشموں کا رواں پانینظر آتا ہے یوں لگتا ہے جیسے یہ بلائے جاںمرا ہم زاد ہے ہر گام پر ہر موڑ پر جولاںاسے ہم راہ پاتا ہوں یہ سائے کی طرح میراتعاقب کر رہا ہے جیسے میں مفرور ملزم ہوںیہ مجھ سے پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہو
گلاب چہرے پہ مسکراہٹچمکتی آنکھوں میں شوخ جذبےوہ جب بھی کالج کی سیڑھیوں سےسہیلیوں کو لیے اترتیتو ایسے لگتا تھا جیسے دل میں اتر رہی ہوکچھ اس تیقن سے بات کرتی تھی جیسے دنیااسی کی آنکھوں سے دیکھتی ہووہ اپنے رستے میں دل بچھاتی ہوئی نگاہوں سے ہنس کے کہتیتمہارے جیسے بہت سے لڑکوں سے میں یہ باتیںبہت سے برسوں سے سن رہی ہوںمیں ساحلوں کی ہوا ہوں نیلے سمندروں کے لیے بنی ہوںوہ ساحلوں کی ہوا سی لڑکیجو راہ چلتی تو ایسے لگتا تھا جیسے دل میں اتر رہی ہووہ کل ملی تو اسی طرح تھیچمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے گلاب چہرے پہ مسکراہٹکہ جیسے چاندی پگھل رہی ہومگر جو بولی تو اس کے لہجے میں وہ تھکن تھیکہ جیسے صدیوں سے دشت ظلمت میں چل رہی ہو
ذرہ ذرہ دہر کا زندانیٔ تقدیر ہےپردۂ مجبوری و بے چارگی تدبیر ہےآسماں مجبور ہے شمس و قمر مجبور ہیںانجم سیماب پا رفتار پر مجبور ہیںہے شکست انجام غنچے کا سبو گلزار میںسبزہ و گل بھی ہیں مجبور نمو گلزار میںنغمۂ بلبل ہو یا آواز خاموش ضمیرہے اسی زنجیر عالمگیر میں ہر شے اسیرآنکھ پر ہوتا ہے جب یہ سر مجبوری عیاںخشک ہو جاتا ہے دل میں اشک کا سیل رواںقلب انسانی میں رقص عیش و غم رہتا نہیںنغمہ رہ جاتا ہے لطف زیر و بم رہتا نہیںعلم و حکمت رہزن سامان اشک و آہ ہےیعنی اک الماس کا ٹکڑا دل آگاہ ہےگرچہ میرے باغ میں شبنم کی شادابی نہیںآنکھ میری مایہ دار اشک عنابی نہیںجانتا ہوں آہ میں آلام انسانی کا رازہے نوائے شکوہ سے خالی مری فطرت کا سازمیرے لب پر قصۂ نیرنگی دوراں نہیںدل مرا حیراں نہیں خندہ نہیں گریاں نہیںپر تری تصویر قاصد گریۂ پیہم کی ہےآہ یہ تردید میری حکمت محکم کی ہےگریۂ سرشار سے بنیاد جاں پایندہ ہےدرد کے عرفاں سے عقل سنگدل شرمندہ ہےموج دود آہ سے آئینہ ہے روشن مراگنج آب آورد سے معمور ہے دامن مراحیرتی ہوں میں تری تصویر کے اعجاز کارخ بدل ڈالا ہے جس نے وقت کی پرواز کارفتہ و حاضر کو گویا پا بہ پا اس نے کیاعہد طفلی سے مجھے پھر آشنا اس نے کیاجب ترے دامن میں پلتی تھی وہ جان ناتواںبات سے اچھی طرح محرم نہ تھی جس کی زباںاور اب چرچے ہیں جس کی شوخئ گفتار کےبے بہا موتی ہیں جس کی چشم گوہر بار کےعلم کی سنجیدہ گفتاری بڑھاپے کا شعوردنیوی اعزاز کی شوکت جوانی کا غرورزندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہمصحبت مادر میں طفل سادہ رہ جاتے ہیں ہمبے تکلف خندہ زن ہیں فکر سے آزاد ہیںپھر اسی کھوئے ہوئے فردوس میں آباد ہیںکس کو اب ہوگا وطن میں آہ میرا انتظارکون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرارخاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گااب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گاتربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہواگھر مرے اجداد کا سرمایۂ عزت ہوادفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیاتتھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیاتعمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہیمیں تری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسیوہ جواں قامت میں ہے جو صورت سرو بلندتیری خدمت سے ہوا جو مجھ سے بڑھ کر بہرہ مندکاروبار زندگانی میں وہ ہم پہلو مراوہ محبت میں تری تصویر وہ بازو مراتجھ کو مثل طفلک بے دست و پا روتا ہے وہصبر سے نا آشنا صبح و مسا روتا ہے وہتخم جس کا تو ہماری کشت جاں میں بو گئیشرکت غم سے وہ الفت اور محکم ہو گئیآہ یہ دنیا یہ ماتم خانۂ برنا و پیرآدمی ہے کس طلسم دوش و فردا میں اسیرکتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موتگلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موتزلزلے ہیں بجلیاں ہیں قحط ہیں آلام ہیںکیسی کیسی دختران مادر ایام ہیںکلبۂ افلاس میں دولت کے کاشانے میں موتدشت و در میں شہر میں گلشن میں ویرانے میں موتموت ہے ہنگامہ آرا قلزم خاموش میںڈوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میںنے مجال شکوہ ہے نے طاقت گفتار ہےزندگانی کیا ہے اک طوق گلو افشار ہےقافلے میں غیر فریاد درا کچھ بھی نہیںاک متاع دیدۂ تر کے سوا کچھ بھی نہیںختم ہو جائے گا لیکن امتحاں کا دور بھیہیں پس نہ پردۂ گردوں ابھی دور اور بھیسینہ چاک اس گلستاں میں لالہ و گل ہیں تو کیانالہ و فریاد پر مجبور بلبل ہیں تو کیاجھاڑیاں جن کے قفس میں قید ہے آہ خزاںسبز کر دے گی انہیں باد بہار جاوداںخفتہ خاک پے سپر میں ہے شرار اپنا تو کیاعارضی محمل ہے یہ مشت غبار اپنا تو کیازندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہیںٹوٹنا جس کا مقدر ہو یہ وہ گوہر نہیںزندگی محبوب ایسی دیدۂ قدرت میں ہےذوق حفظ زندگی ہر چیز کی فطرت میں ہےموت کے ہاتھوں سے مٹ سکتا اگر نقش حیاتعام یوں اس کو نہ کر دیتا نظام کائناتہے اگر ارزاں تو یہ سمجھو اجل کچھ بھی نہیںجس طرح سونے سے جینے میں خلل کچھ بھی نہیںآہ غافل موت کا راز نہاں کچھ اور ہےنقش کی ناپائیداری سے عیاں کچھ اور ہےجنت نظارہ ہے نقش ہوا بالائے آبموج مضطر توڑ کر تعمیر کرتی ہے حبابموج کے دامن میں پھر اس کو چھپا دیتی ہے یہکتنی بے دردی سے نقش اپنا مٹا دیتی ہے یہپھر نہ کر سکتی حباب اپنا اگر پیدا ہواتوڑنے میں اس کے یوں ہوتی نہ بے پروا ہوااس روش کا کیا اثر ہے ہیئت تعمیر پریہ تو حجت ہے ہوا کی قوت تعمیر پرفطرت ہستی شہید آرزو رہتی نہ ہوخوب تر پیکر کی اس کو جستجو رہتی نہ ہوآہ سیماب پریشاں انجم گردوں فروزشوخ یہ چنگاریاں ممنون شب ہے جن کا سوزعقل جس سے سر بہ زانو ہے وہ مدت ان کی ہےسر گزشت نوع انساں ایک ساعت ان کی ہےپھر یہ انساں آں سوئے افلاک ہے جس کی نظرقدسیوں سے بھی مقاصد میں ہے جو پاکیزہ ترجو مثال شمع روشن محفل قدرت میں ہےآسماں اک نقطہ جس کی وسعت فطرت میں ہےجس کی نادانی صداقت کے لیے بیتاب ہےجس کا ناخن ساز ہستی کے لیے مضراب ہےشعلہ یہ کم تر ہے گردوں کے شراروں سے بھی کیاکم بہا ہے آفتاب اپنا ستاروں سے بھی کیاتخم گل کی آنکھ زیر خاک بھی بے خواب ہےکس قدر نشوونما کے واسطے بیتاب ہےزندگی کا شعلہ اس دانے میں جو مستور ہےخود نمائی خود فزائی کے لیے مجبور ہےسردی مرقد سے بھی افسردہ ہو سکتا نہیںخاک میں دب کر بھی اپنا سوز کھو سکتا نہیںپھول بن کر اپنی تربت سے نکل آتا ہے یہموت سے گویا قبائے زندگی پاتا ہے یہہے لحد اس قوت آشفتہ کی شیرازہ بندڈالتی ہے گردن گردوں میں جو اپنی کمندموت تجدید مذاق زندگی کا نام ہےخواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہےخوگر پرواز کو پرواز میں ڈر کچھ نہیںموت اس گلشن میں جز سنجیدن پر کچھ نہیںکہتے ہیں اہل جہاں درد اجل ہے لا دوازخم فرقت وقت کے مرہم سے پاتا ہے شفادل مگر غم مرنے والوں کا جہاں آباد ہےحلقۂ زنجیر صبح و شام سے آزاد ہےوقت کے افسوں سے تھمتا نالۂ ماتم نہیںوقت زخم تیغ فرقت کا کوئی مرہم نہیںسر پہ آ جاتی ہے جب کوئی مصیبت ناگہاںاشک پیہم دیدۂ انساں سے ہوتے ہیں رواںربط ہو جاتا ہے دل کو نالہ و فریاد سےخون دل بہتا ہے آنکھوں کی سرشک آباد سےآدمی تاب شکیبائی سے گو محروم ہےاس کی فطرت میں یہ اک احساس نامعلوم ہےجوہر انساں عدم سے آشنا ہوتا نہیںآنکھ سے غائب تو ہوتا ہے فنا ہوتا نہیںرخت ہستی خاک غم کی شعلہ افشانی سے ہےسرد یہ آگ اس لطیف احساس کے پانی سے ہےآہ یہ ضبط فغاں غفلت کی خاموشی نہیںآگہی ہے یہ دلاسائی فراموشی نہیںپردۂ مشرق سے جس دم جلوہ گر ہوتی ہے صبحداغ شب کا دامن آفاق سے دھوتی ہے صبحلالۂ افسردہ کو آتش قبا کرتی ہے یہبے زباں طائر کو سرمست نوا کرتی ہے یہسینۂ بلبل کے زنداں سے سرود آزاد ہےسیکڑوں نغموں سے باد صبح دم آباد ہےخفتہ گان لالہ زار و کوہسار و رود بارہوتے ہیں آخر عروس زندگی سے ہمکناریہ اگر آئین ہستی ہے کہ ہو ہر شام صبحمرقد انساں کی شب کا کیوں نہ ہو انجام صبحدام سیمین تخیل ہے مرا آفاق گیرکر لیا ہے جس سے تیری یاد کو میں نے اسیریاد سے تیری دل درد آشنا معمور ہےجیسے کعبے میں دعاؤں سے فضا معمور ہےوہ فرائض کا تسلسل نام ہے جس کا حیاتجلوہ گاہیں اس کی ہیں لاکھوں جہان بے ثباتمختلف ہر منزل ہستی کو رسم و راہ ہےآخرت بھی زندگی کی ایک جولاں گاہ ہےہے وہاں بے حاصلی کشت اجل کے واسطےسازگار آب و ہوا تخم عمل کے واسطےنور فطرت ظلمت پیکر کا زندانی نہیںتنگ ایسا حلقۂ افکار انسانی نہیںزندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ ترخوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفرمثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترانور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو تراآسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرےسبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
لڑکی سر کو جھکائے بیٹھیکافی کے پیالے میں چمچہ ہلا رہی ہےلڑکا حیرت اور محبت کی شدت سے پاگللانبی پلکوں کے لرزیدہ سایوں کواپنی آنکھ سے چوم رہا ہےدونوں میری نظر بچا کراک دوجے کو دیکھتے ہیں ہنس دیتے ہیں
اپنے سرد کمرے میںمیں اداس بیٹھی ہوںنیم وا دریچوں سےنم ہوائیں آتی ہیںمیرے جسم کو چھو کرآگ سی لگاتی ہیںتیرا نام لے لے کرمجھ کو گدگداتی ہیںکاش میرے پر ہوتےتیرے پاس اڑ آتیکاش میں ہوا ہوتیتجھ کو چھو کے لوٹ آتیمیں نہیں مگر کچھ بھیسنگ دل رواجوں کےآہنی حصاروں میںعمر قید کی ملزمصرف ایک لڑکی ہوں!
ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھاورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لا دوا نہ تھے
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی
اے دیکھنے والواس حسن کو دیکھواس راز کو سمجھویہ نقش خیالییہ فکرت عالییہ پیکر تنویریہ کرشن کی تصویرمعنی ہے کہ صورتصنعت ہے کہ فطرتظاہر ہے کہ مستورنزدیک ہے یا دوریہ نار ہے یا نوردنیا سے نرالایہ بانسری والاگوکل کا گوالاہے سحر کہ اعجازکھلتا ہی نہیں رازکیا شان ہے واللہکیا آن ہے واللہحیران ہوں کیا ہےاک شان خدا ہےبت خانے کے اندرخود حسن کا بت گربت بن گیا آ کروہ طرفہ نظارےیاد آ گئے سارےجمنا کے کنارےسبزے کا لہکناپھولوں کا مہکناگھنگھور گھٹائیںسرمست ہوائیںمعصوم امنگیںالفت کی ترنگیںوہ گوپیوں کے ساتھہاتھوں میں دیئے ہاتھرقصاں ہوا برج ناتھبنسی میں جو لے ہےنشہ ہے نہ مے ہےکچھ اور ہی شے ہےاک روح ہے رقصاںاک کیف ہے لرزاںایک عقل ہے مے نوشاک ہوش ہے مدہوشاک خندہ ہے سیالاک گریہ ہے خوش حالاک عشق ہے مغروراک حسن ہے مجبوراک سحر ہے مسحوردربار میں تنہالاچار ہے کرشناآ شیام ادھر آسب اہل خصومتہیں در پئے عزتیہ راج دلارےبزدل ہوئے سارےپردہ نہ ہو تاراجبیکس کی رہے لاجآ جا میرے کالےبھارت کے اجالےدامن میں چھپا لےوہ ہو گئی ان بنوہ گرم ہوا رنغالب ہے دریودھنوہ آ گئے جگدیشوہ مٹ گئی تشویشارجن کو بلایااپدیش سنایاغم زاد کا غم کیااستاد کا غم کیالو ہو گئی تدبیرلو بن گئی تقدیرلو چل گئی شمشیرسیرت ہے عدو سوزصورت نظر افروزدل کیفیت اندوزغصے میں جو آ جائےبجلی ہی گرا جائےاور لطف پر آئےتو گھر بھی لٹا جائےپریوں میں ہے گلفامرادھا کے لیے شیامبلرام کا بھیامتھرا کا بسیابندرا میں کنھیابن ہو گئے ویراںبرباد گلستاںسکھیاں ہیں پریشاںجمنا کا کناراسنسان ہے ساراطوفان ہیں خاموشموجوں میں نہیں جوشلو تجھ سے لگی ہےحسرت ہی یہی ہےاے ہند کے راجااک بار پھر آ جادکھ درد مٹا جاابر اور ہوا سےبلبل کی صدا سےپھولوں کی ضیا سےجادو اثری گمشوریدہ سری گمہاں تیری جدائیمتھرا کو نہ بھائیتو آئے تو شان آئےتو آئے تو جان آئےآنا نہ اکیلےہوں ساتھ وہ میلےسکھیوں کے جھمیلے
ذرا اس خود اپنے ہیجذبوں سے مجبور لڑکی کو دیکھوجو اک شاخ گل کی طرحان گنت چاہتوں کے جھکولوں کی زد میںاڑی جا رہی ہےیہ لڑکیجو اپنے ہی پھول ایسے کپڑوں سے شرماتیآنچل سمیٹے نگاہیں جھکائے چلی جا رہی ہےجب اپنے حسیں گھر کی دہلیز پر جا رکے گیتو مکھ موڑ کر مسکرائے گی جیسےابھی اس نے اک گھات میں بیٹھےدل کو پسند آنے والےشکاری کو دھوکا دیا ہے
کبھی نہ کھینچا شرارت سے جس کا آنچل بھیرچا سکی مری آنکھوں میں جو نہ کاجل بھیوہ ماں جو میرے لئے تتلیاں پکڑ نہ سکیجو بھاگتے ہوئے بازو مرے جکڑ نہ سکیبڑھایا پیار کبھی کر کے پیار میں نہ کمیجو منہ بنا کے کسی دن نہ مجھ سے روٹھ سکیجو یہ بھی کہہ نہ سکی جا نہ بولوں گی تجھ سےجو ایک بار خفا بھی نہ ہو سکی مجھ سےوہ جس کو جوٹھا لگا منہ کبھی دکھا نہ سکاکثافتوں پہ مری جس کو پیار آ نہ سکاجو مٹی کھانے پہ مجھ کو کبھی نہ پیٹ سکینہ ہاتھ تھام کے مجھ کو کبھی گھسیٹ سکیوہ ماں جو گفتگو کی رو میں سن کے میری بڑکبھی جو پیار سے مجھ کو نہ کہہ سکی گھامڑشرارتوں سے مری جو کبھی الجھ نہ سکیحماقتوں کا مری فلسفہ سمجھ نہ سکیوہ ماں کبھی جسے چونکانے کو میں لک نہ سکامیں راہ چھینکنے کو جس کے آگے رک نہ سکاجو اپنے ہاتھ سے بہروپ میرے بھر نہ سکیجو اپنی آنکھوں کو آئینہ میرا کر نہ سکیگلے میں ڈالی نہ باہوں کی پھول مالا بھینہ دل میں لوح جبیں سے کیا اجالا بھیوہ ماں کبھی جو مجھے بدھیاں پہنا نہ سکیکبھی مجھے نئے کپڑوں سے جو سجا نہ سکیوہ ماں نہ جس سے لڑکپن کے جھوٹ بول سکانہ جس کے دل کے دراں کنجیوں سے کھول سکاوہ ماں میں پیسے بھی جس کے کبھی چرا نہ سکاسزا سے بچنے کو جھوٹی قسم بھی کھا نہ سکا
لڑکی!یہ لمحے بادل ہیںگزر گئے تو ہاتھ کبھی نہیں آئیں گےان کے لمس کو پیتی جاقطرہ قطرہ بھیگتی جابھیگتی جا تو جب تک ان میں نم ہےاور ترے اندر کی مٹی پیاسی ہےمجھ سے پوچھکہ بارش کو واپس آنے کا رستہ کبھی نہ یاد ہوابال سکھانے کے موسم ان پڑھ ہوتے ہیں!
ہم سبایک اتفاق کےمختلف نام ہیںمذہبملکزباناسی اتفاق کی ان گنت کڑیاں ہیںاگر پیدائش سے پہلےانتخاب کی اجازت ہوتیتو کوئی لڑکااپنے باپ کے گھر میں پیدا ہونا پسند نہیں کرتا
وہ چائے کی پیالی پہ یاروں کے جلسےوہ سردی کی راتیں وہ زلفوں کے قصےکبھی تذکرے حسن شعلہ رخاں کےمحبت ہوئی تھی کسی کو کسی سےہر اک دل وہاں تھا نظر کا نشانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہبہت اپنا انداز تھا لاابالیکبھی تھے جلالی کبھی تھے جمالیکبھی بات میں بات یوں ہی نکالیسر راہ کوئی قیامت اٹھا لیکسی کو لڑانا کسی کو بچانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہکبھی سچی باتوں کو جھوٹا بتایاکبھی جھوٹی باتوں کو سچ کر دکھایاکبھی راز دل کہہ کے اس کو چھپایاکبھی دوستوں میں یوں ہی کچھ اڑایابتا کر چھپانا چھپا کر بتانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہکبھی بزم احباب میں شعلہ افشاںکبھی یونین میں تھے شمشیر براںکبھی بزم واعظ میں تھے پا بہ جولاںبدلتے تھے ہر روز تقدیر دوراںجہاں جیسی ڈفلی وہاں ویسا گانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہزمانہ تھا وہ ایک حیوانیت کاوہ دور ملامت تھا شیطانیت کاہمیں درد تھا ایک انسانیت کااٹھائے علم ہم تھے حقانیت کابڑھے جا رہے تھے مگر باغیانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہمقابل میں آئے جسارت تھی کس کوکوئی روک دے بڑھ کے ہمت تھی کس کوپکارے کوئی ہم کو طاقت تھی کس کوکہ ہر بوالہوس کو تھے ہم تازیانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہخیالات پر شوق کا سلسلہ تھابدل دیں زمانے کو وہ حوصلہ تھاہر اک دل میں پیدا نیا ولولہ تھاہر اک گام احباب کا قافلہ تھاادھر دعویٰ کرنا ادھر کر دکھانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ شہہ راہ میرس کے پر پیچ چکروہ شمشاد بلڈنگ پہ اک شور محشروہ مبہم سی باتیں وہ پوشیدہ نشتروہ بے فکر دنیا وہ لفظوں کے دفترکہ جن کا سرا تھا نہ کوئی ٹھکانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہکسی کو ہوئی تھی کسی سے محبتکوئی کر رہا تھا کسی کی شکایتغرض روز ڈھاتی تھی تازہ قیامتکسی کی شباہت کسی کی ملامتکسی کی تسلی کسی کا ستانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہکوئی غم زدہ تھا کوئی ہنس رہا تھاکوئی حسن ناہید پر مر مٹا تھاکوئی چشم نرگس کا بیمار سا تھاکوئی بس یوں ہی تاکتا جھانکتا تھاکبھی چوٹ کھانا کبھی مسکرانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ ہر جنوری میں نمائش کے چرچےوہ پر شوق آنکھیں وہ حیران جلوےوہ چکر پہ چکر تھے بارہ دری کےوہ حسرت کہ سو بار مل کر بھی ملتےہزاروں بہانوں کا وہ اک بہانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ رخ آفتابی پہ ابرو ہلالیوہ تمثال سیمیں وہ حسن مثالیشگوفوں میں کھیلی گلابوں میں پالیوہ خود اک ادا تھی ادا بھی نرالینگاہیں بچا کر نگاہیں ملا کربہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ ہرچند مجھ کو نہیں جانتی تھیمگر میری نظروں کو پہچانتی تھیاگرچہ مرے دل میں وہ بس گئی تھیمگر بات بس دل کی دل میں رہی تھیمگر آج احباب سے کیا چھپانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ اک شام برسات کی دن ڈھلا تھاابھی رات آئی نہ تھی جھٹپٹا تھاوہ باد بہاری سے اک گل کھلا تھادھڑکتے ہوئے دل سے اک دل ملا تھانظر سن رہی تھی نظر کا فسانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہجوانی اداؤں میں بل کھا رہی تھیکہانی نگاہوں میں لہرا رہی تھیمحبت محبت کو سمجھا رہی تھیوہ چشم تمنا جھکی جا رہی تھیقیامت سے پہلے قیامت وہ ڈھانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہہمیں بیتی باتیں جو یاد آ رہی تھیںوہ مخمور نظریں جو شرما رہی تھیںبہت عقل سادہ کو بہکا رہی تھیںبڑی بے نیازی سے فرما رہی تھیںانہیں یاد رکھنا ہمیں بھول جانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہاب وہ امنگیں نہ دل میں مرادیںاب رہ گئیں چند ماضی کی یادیںیہ جی چاہتا ہے انہیں بھی بھلا دیںغم زندگی کو کہاں تک دعا دیںحقیقت بھی اب بن گئی ہے فسانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہعلی گڑھ ہے بڑھ کر ہمیں کل جہاں سےہمیں عشق ہے اپنی اردو زباں سےہمیں پیار ہے اپنے نام و نشاں سےیہاں آ گئے ہم نہ جانے کہاں سےقسم دے کے ہم کو کسی کا بلانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہمحبت سے یکسر ہے انجان دنیایہ ویران بستی پریشان دنیاکمال خرد سے یہ حیران دنیاخود اپنے کیے پر پشیمان دنیاکہاں لے کے آیا ہمیں آب و دانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاںپھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاںآنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاںسینے اپر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاںجتنے مزے ہیں سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے جس کا ناک تلک پیٹ ہے بھراکرتا پرے ہے کیا وہ اچھل کود جا بہ جادیوار پھاند کر کوئی کوٹھا اچھل گیاٹھٹھا ہنسی شراب صنم ساقی اس سواسو سو طرح کی دھوم مچاتی ہیں روٹیاںجس جا پہ ہانڈی چولہا توا اور تنور ہےخالق کی قدرتوں کا اسی جا ظہور ہےچولھے کے آگے آنچ جو چلتی حضور ہےجتنے ہیں نور سب میں یہی خاص نور ہےاس نور کے سبب نظر آتی ہیں روٹیاںآوے توے تنور کا جس جا زباں پہ نامیا چکی چولھے کے جہاں گل زار ہوں تمامواں سر جھکا کے کیجے ڈنڈوت اور سلاماس واسطے کہ خاص یہ روٹی کے ہیں مقامپہلے انہیں مکانوں میں آتی ہیں روٹیاںان روٹیوں کے نور سے سب دل ہیں بور بورآٹا نہیں ہے چھلنی سے چھن چھن گرے ہے نورپیڑا ہر ایک اس کا ہے برفی و موتی چورہرگز کسی طرح نہ بجھے پیٹ کا تنوراس آگ کو مگر یہ بجھاتی ہیں روٹیاںپوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سےیہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کےوہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دےہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتےبابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاںپھر پوچھا اس نے کہیے یہ ہے دل کا طور کیااس کے مشاہدے میں ہے کھلتا ظہور کیاوہ بولا سن کے تیرا گیا ہے شعور کیاکشف القلوب اور یہ کشف القبور کیاجتنے ہیں کشف سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی جب آئی پیٹ میں سو قند گھل گئےگلزار پھولے آنکھوں میں اور عیش تل گئےدو تر نوالے پیٹ میں جب آ کے ڈھل گئےچودہ طبق کے جتنے تھے سب بھید کھل گئےیہ کشف یہ کمال دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی نہ پیٹ میں ہو تو پھر کچھ جتن نہ ہومیلے کی سیر خواہش باغ و چمن نہ ہوبھوکے غریب دل کی خدا سے لگن نہ ہوسچ ہے کہا کسی نے کہ بھوکے بھجن نہ ہواللہ کی بھی یاد دلاتی ہیں روٹیاںاب آگے جس کے مال پوے بھر کے تھال ہیںپورے بھگت انہیں کہو صاحب کے لال ہیںاور جن کے آگے روغنی اور شیرمال ہیںعارف وہی ہیں اور وہی صاحب کمال ہیںپکی پکائی اب جنہیں آتی ہیں روٹیاںکپڑے کسی کے لال ہیں روٹی کے واسطےلمبے کسی کے بال ہیں روٹی کے واسطےباندھے کوئی رومال ہیں روٹی کے واسطےسب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطےجتنے ہیں روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے ناچے پیادہ قواعد دکھا دکھااسوار ناچے گھوڑے کو کاوہ لگا لگاگھنگھرو کو باندھے پیک بھی پھرتا ہے ناچتااور اس سوا جو غور سے دیکھا تو جا بہ جاسو سو طرح کے ناچ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی کے ناچ تو ہیں سبھی خلق میں پڑےکچھ بھانڈ بھیگتے یہ نہیں پھرتے ناچتےیہ رنڈیاں جو ناچے ہیں گھونگھٹ کو منہ پہ لےگھونگھٹ نہ جانو دوستو تم زینہار اسےاس پردے میں یہ اپنے کماتی ہیں روٹیاںاشرافوں نے جو اپنی یہ ذاتیں چھپائی ہیںسچ پوچھئے تو اپنی یہ شانیں بڑھائی ہیںکہئے انہوں کی روٹیاں کس کس نے کھائی ہیںاشراف سب میں کہئے تو اب نان بائی ہیںجن کی دکاں سے ہر کہیں جاتی ہیں روٹیاںدنیا میں اب بدی نہ کہیں اور نکوئی ہےیا دشمنی و دوستی یا تند خوئی ہےکوئی کسی کا اور کسی کا نہ کوئی ہےسب کوئی ہے اسی کا کہ جس ہاتھ ڈوئی ہےنوکر نفر غلام بناتی ہیں روٹیاںروٹی کا اب ازل سے ہمارا تو ہے خمیرروکھی ہی روٹی حق میں ہمارے ہے شہد و شیریا پتلی ہووے موٹی خمیری ہو یا فطیرگیہوں جوار باجرے کی جیسی ہو نظیرؔہم کو تو سب طرح کی خوش آتی ہیں روٹیاں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books