کتے

MORE BYفیض احمد فیض

    یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتے

    کہ بخشا گیا جن کو ذوق گدائی

    زمانے کی پھٹکار سرمایہ ان کا

    جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی

    نہ آرام شب کو نہ راحت سویرے

    غلاظت میں گھر نالیوں میں بسیرے

    جو بگڑیں تو اک دوسرے کو لڑا دو

    ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دو

    یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے

    یہ فاقوں سے اکتا کے مر جانے والے

    مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے

    تو انسان سب سرکشی بھول جائے

    یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنا لیں

    یہ آقاؤں کی ہڈیاں تک چبا لیں

    کوئی ان کو احساس ذلت دلا دے

    کوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلا دے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    مأخذ :
    • کتاب : Nuskha Hai Wafa (Pg. 79)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY