aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "lataa.d"
ہے دسہرا یادگا عظمت ہندوستاںہندوؤں کی اک قدیمی فتح و نصرت کا نشاںاک مٹی سی یہ نشانی دولت و اقبال کییاد دلواتی ہے ان ایام فرخ فال کیجب کہ تھی ہم میں بھی ایسے زور و طاقت کی نمودہیچ تھی دیوان روئیں تن کی جس سے ہست و بودجب اکیلے اٹھ کھڑے ہوتے تھے ہم بہر نبرداور کر دیتے تھے اپنے دشمنوں کو گرد گرددل میں ہمت ہاتھ میں اپنے فقط شور الاماںباندھ کر وہ پل سمندر کو کیا ہم نے عبورجس کو حیراں دیکھ کر ہیں آج بھی اہل شعورفوج راون لا تعد تھی ریگ صحرا کی طرحاور امنڈ آئی تھی وقت جنگ دریا کی طرحراون خونخوار اور وہ کوہ پیکر اس کے دیوجن کی خوں خواری کا تھا سارے زمانے میں غریوقلعہ وہ لنکا کا جو نا قابل التسخیر تھاجس پہ نازاں اپنے دل میں راون بے پیر تھاتھے طلائی برج جس کے اور مرصع بام و درجن کی چوٹی پر نہ پہنچے کوئی مرغ تیز پرسودۂ لعل و زمرد تھی وہاں کی خاک بھیاک طلسم ایسا کہ قاصر تھا جہاں اور اک بھیہم نے ایسے دشمنوں پر فتح پائی تھی کبھیاپنے حصے میں بھی یہ معجز نمائی تھی کبھیآج وہ دن ہے کہ ہم اس یاد کو تازہ کریںروئے زیبائے عروس فتح پر غازہ کریںمل کے گائیں رام کے گن دل میں ہو جوش سرورقلب صافی مخزن وحدت ہو سینہ رشک طوریہ دسہرا عشرۂ عشرت ہے اپنے واسطےخالق کونین کی نعمت ہے اپنے واسطے
ٹک حرص و ہوا کو چھوڑ میاں مت دیس بدیس پھرے ماراقزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقاراکیا بدھیا بھینسا بیل شتر کیا گونیں پلا سر بھاراکیا گیہوں چانول موٹھ مٹر کیا آگ دھواں اور انگاراسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
معیشت دوسروں کے ہاتھ میں ہے میرے قبضہ میںجز اک ذہن رسا کچھ بھی نہیں پھر بھی مگر مجھ کوخروش عمر کے اتمام تک اک بار اٹھانا ہےعناصر منتشر ہو جانے نبضیں ڈوب جانے تکنوائے صبح ہو یا نالۂ شب کچھ بھی گانا ہےظفر مندوں کے آگے رزق کی تحصیل کی خاطرکبھی اپنا ہی نغمہ ان کا کہہ کر مسکرانا ہےوہ خامہ سوزی شب بیداریوں کا جو نتیجہ ہواسے اک کھوٹے سکے کی طرح سب کو دکھانا ہےکبھی جب سوچتا ہوں اپنے بارے میں تو کہتا ہوںکہ تو اک آبلہ ہے جس کو آخر پھوٹ جانا ہےغرض گرداں ہوں باد صبح گاہی کی طرح لیکنسحر کی آرزو میں شب کا دامن تھامتا ہوں جبیہ لڑکا پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہویہ لڑکا پوچھتا ہے جب تو میں جھلا کے کہتا ہوںوہ آشفتہ مزاج اندوہ پرور اضطراب آساجسے تم پوچھتے رہتے ہو کب کا مر چکا ظالماسے خود اپنے ہاتھوں سے کفن دے کر فریبوں کااسی کی آرزوؤں کی لحد میں پھینک آیا ہوںمیں اس لڑکے سے کہتا ہوں وہ شعلہ مر چکا جس نےکبھی چاہا تھا اک خاشاک عالم پھونک ڈالے گایہ لڑکا مسکراتا ہے یہ آہستہ سے کہتا ہےیہ کذب و افترا ہے جھوٹ ہے دیکھو میں زندہ ہوں
ذرہ ذرہ دہر کا زندانیٔ تقدیر ہےپردۂ مجبوری و بے چارگی تدبیر ہےآسماں مجبور ہے شمس و قمر مجبور ہیںانجم سیماب پا رفتار پر مجبور ہیںہے شکست انجام غنچے کا سبو گلزار میںسبزہ و گل بھی ہیں مجبور نمو گلزار میںنغمۂ بلبل ہو یا آواز خاموش ضمیرہے اسی زنجیر عالمگیر میں ہر شے اسیرآنکھ پر ہوتا ہے جب یہ سر مجبوری عیاںخشک ہو جاتا ہے دل میں اشک کا سیل رواںقلب انسانی میں رقص عیش و غم رہتا نہیںنغمہ رہ جاتا ہے لطف زیر و بم رہتا نہیںعلم و حکمت رہزن سامان اشک و آہ ہےیعنی اک الماس کا ٹکڑا دل آگاہ ہےگرچہ میرے باغ میں شبنم کی شادابی نہیںآنکھ میری مایہ دار اشک عنابی نہیںجانتا ہوں آہ میں آلام انسانی کا رازہے نوائے شکوہ سے خالی مری فطرت کا سازمیرے لب پر قصۂ نیرنگی دوراں نہیںدل مرا حیراں نہیں خندہ نہیں گریاں نہیںپر تری تصویر قاصد گریۂ پیہم کی ہےآہ یہ تردید میری حکمت محکم کی ہےگریۂ سرشار سے بنیاد جاں پایندہ ہےدرد کے عرفاں سے عقل سنگدل شرمندہ ہےموج دود آہ سے آئینہ ہے روشن مراگنج آب آورد سے معمور ہے دامن مراحیرتی ہوں میں تری تصویر کے اعجاز کارخ بدل ڈالا ہے جس نے وقت کی پرواز کارفتہ و حاضر کو گویا پا بہ پا اس نے کیاعہد طفلی سے مجھے پھر آشنا اس نے کیاجب ترے دامن میں پلتی تھی وہ جان ناتواںبات سے اچھی طرح محرم نہ تھی جس کی زباںاور اب چرچے ہیں جس کی شوخئ گفتار کےبے بہا موتی ہیں جس کی چشم گوہر بار کےعلم کی سنجیدہ گفتاری بڑھاپے کا شعوردنیوی اعزاز کی شوکت جوانی کا غرورزندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہمصحبت مادر میں طفل سادہ رہ جاتے ہیں ہمبے تکلف خندہ زن ہیں فکر سے آزاد ہیںپھر اسی کھوئے ہوئے فردوس میں آباد ہیںکس کو اب ہوگا وطن میں آہ میرا انتظارکون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرارخاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گااب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گاتربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہواگھر مرے اجداد کا سرمایۂ عزت ہوادفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیاتتھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیاتعمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہیمیں تری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسیوہ جواں قامت میں ہے جو صورت سرو بلندتیری خدمت سے ہوا جو مجھ سے بڑھ کر بہرہ مندکاروبار زندگانی میں وہ ہم پہلو مراوہ محبت میں تری تصویر وہ بازو مراتجھ کو مثل طفلک بے دست و پا روتا ہے وہصبر سے نا آشنا صبح و مسا روتا ہے وہتخم جس کا تو ہماری کشت جاں میں بو گئیشرکت غم سے وہ الفت اور محکم ہو گئیآہ یہ دنیا یہ ماتم خانۂ برنا و پیرآدمی ہے کس طلسم دوش و فردا میں اسیرکتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موتگلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موتزلزلے ہیں بجلیاں ہیں قحط ہیں آلام ہیںکیسی کیسی دختران مادر ایام ہیںکلبۂ افلاس میں دولت کے کاشانے میں موتدشت و در میں شہر میں گلشن میں ویرانے میں موتموت ہے ہنگامہ آرا قلزم خاموش میںڈوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میںنے مجال شکوہ ہے نے طاقت گفتار ہےزندگانی کیا ہے اک طوق گلو افشار ہےقافلے میں غیر فریاد درا کچھ بھی نہیںاک متاع دیدۂ تر کے سوا کچھ بھی نہیںختم ہو جائے گا لیکن امتحاں کا دور بھیہیں پس نہ پردۂ گردوں ابھی دور اور بھیسینہ چاک اس گلستاں میں لالہ و گل ہیں تو کیانالہ و فریاد پر مجبور بلبل ہیں تو کیاجھاڑیاں جن کے قفس میں قید ہے آہ خزاںسبز کر دے گی انہیں باد بہار جاوداںخفتہ خاک پے سپر میں ہے شرار اپنا تو کیاعارضی محمل ہے یہ مشت غبار اپنا تو کیازندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہیںٹوٹنا جس کا مقدر ہو یہ وہ گوہر نہیںزندگی محبوب ایسی دیدۂ قدرت میں ہےذوق حفظ زندگی ہر چیز کی فطرت میں ہےموت کے ہاتھوں سے مٹ سکتا اگر نقش حیاتعام یوں اس کو نہ کر دیتا نظام کائناتہے اگر ارزاں تو یہ سمجھو اجل کچھ بھی نہیںجس طرح سونے سے جینے میں خلل کچھ بھی نہیںآہ غافل موت کا راز نہاں کچھ اور ہےنقش کی ناپائیداری سے عیاں کچھ اور ہےجنت نظارہ ہے نقش ہوا بالائے آبموج مضطر توڑ کر تعمیر کرتی ہے حبابموج کے دامن میں پھر اس کو چھپا دیتی ہے یہکتنی بے دردی سے نقش اپنا مٹا دیتی ہے یہپھر نہ کر سکتی حباب اپنا اگر پیدا ہواتوڑنے میں اس کے یوں ہوتی نہ بے پروا ہوااس روش کا کیا اثر ہے ہیئت تعمیر پریہ تو حجت ہے ہوا کی قوت تعمیر پرفطرت ہستی شہید آرزو رہتی نہ ہوخوب تر پیکر کی اس کو جستجو رہتی نہ ہوآہ سیماب پریشاں انجم گردوں فروزشوخ یہ چنگاریاں ممنون شب ہے جن کا سوزعقل جس سے سر بہ زانو ہے وہ مدت ان کی ہےسر گزشت نوع انساں ایک ساعت ان کی ہےپھر یہ انساں آں سوئے افلاک ہے جس کی نظرقدسیوں سے بھی مقاصد میں ہے جو پاکیزہ ترجو مثال شمع روشن محفل قدرت میں ہےآسماں اک نقطہ جس کی وسعت فطرت میں ہےجس کی نادانی صداقت کے لیے بیتاب ہےجس کا ناخن ساز ہستی کے لیے مضراب ہےشعلہ یہ کم تر ہے گردوں کے شراروں سے بھی کیاکم بہا ہے آفتاب اپنا ستاروں سے بھی کیاتخم گل کی آنکھ زیر خاک بھی بے خواب ہےکس قدر نشوونما کے واسطے بیتاب ہےزندگی کا شعلہ اس دانے میں جو مستور ہےخود نمائی خود فزائی کے لیے مجبور ہےسردی مرقد سے بھی افسردہ ہو سکتا نہیںخاک میں دب کر بھی اپنا سوز کھو سکتا نہیںپھول بن کر اپنی تربت سے نکل آتا ہے یہموت سے گویا قبائے زندگی پاتا ہے یہہے لحد اس قوت آشفتہ کی شیرازہ بندڈالتی ہے گردن گردوں میں جو اپنی کمندموت تجدید مذاق زندگی کا نام ہےخواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہےخوگر پرواز کو پرواز میں ڈر کچھ نہیںموت اس گلشن میں جز سنجیدن پر کچھ نہیںکہتے ہیں اہل جہاں درد اجل ہے لا دوازخم فرقت وقت کے مرہم سے پاتا ہے شفادل مگر غم مرنے والوں کا جہاں آباد ہےحلقۂ زنجیر صبح و شام سے آزاد ہےوقت کے افسوں سے تھمتا نالۂ ماتم نہیںوقت زخم تیغ فرقت کا کوئی مرہم نہیںسر پہ آ جاتی ہے جب کوئی مصیبت ناگہاںاشک پیہم دیدۂ انساں سے ہوتے ہیں رواںربط ہو جاتا ہے دل کو نالہ و فریاد سےخون دل بہتا ہے آنکھوں کی سرشک آباد سےآدمی تاب شکیبائی سے گو محروم ہےاس کی فطرت میں یہ اک احساس نامعلوم ہےجوہر انساں عدم سے آشنا ہوتا نہیںآنکھ سے غائب تو ہوتا ہے فنا ہوتا نہیںرخت ہستی خاک غم کی شعلہ افشانی سے ہےسرد یہ آگ اس لطیف احساس کے پانی سے ہےآہ یہ ضبط فغاں غفلت کی خاموشی نہیںآگہی ہے یہ دلاسائی فراموشی نہیںپردۂ مشرق سے جس دم جلوہ گر ہوتی ہے صبحداغ شب کا دامن آفاق سے دھوتی ہے صبحلالۂ افسردہ کو آتش قبا کرتی ہے یہبے زباں طائر کو سرمست نوا کرتی ہے یہسینۂ بلبل کے زنداں سے سرود آزاد ہےسیکڑوں نغموں سے باد صبح دم آباد ہےخفتہ گان لالہ زار و کوہسار و رود بارہوتے ہیں آخر عروس زندگی سے ہمکناریہ اگر آئین ہستی ہے کہ ہو ہر شام صبحمرقد انساں کی شب کا کیوں نہ ہو انجام صبحدام سیمین تخیل ہے مرا آفاق گیرکر لیا ہے جس سے تیری یاد کو میں نے اسیریاد سے تیری دل درد آشنا معمور ہےجیسے کعبے میں دعاؤں سے فضا معمور ہےوہ فرائض کا تسلسل نام ہے جس کا حیاتجلوہ گاہیں اس کی ہیں لاکھوں جہان بے ثباتمختلف ہر منزل ہستی کو رسم و راہ ہےآخرت بھی زندگی کی ایک جولاں گاہ ہےہے وہاں بے حاصلی کشت اجل کے واسطےسازگار آب و ہوا تخم عمل کے واسطےنور فطرت ظلمت پیکر کا زندانی نہیںتنگ ایسا حلقۂ افکار انسانی نہیںزندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ ترخوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفرمثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترانور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو تراآسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرےسبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرابڑی جناب تری فیض عام ہے تیراستارے عشق کے تیری کشش سے ہیں قائمنظام مہر کی صورت نظام ہے تیراتری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کیمسیح و خضر سے اونچا مقام ہے تیرانہاں ہے تیری محبت میں رنگ محبوبیبڑی ہے شان بڑا احترام ہے تیرااگر سیاہ دلم داغ لالہ زار توامدگر کشادہ جبینم گل بہار توامچمن کو چھوڑ کے نکلا ہوں مثل نکہت گلہوا ہے صبر کا منظور امتحاں مجھ کوچلی ہے لے کے وطن کے نگار خانے سےشراب علم کی لذت کشاں کشاں مجھ کونظر ہے ابر کرم پر درخت صحرا ہوںکیا خدا نے نہ محتاج باغباں مجھ کوفلک نشیں صفت مہر ہوں زمانے میںتری دعا سے عطا ہو وہ نردباں مجھ کومقام ہم سفروں سے ہو اس قدر آگےکہ سمجھے منزل مقصود کارواں مجھ کومری زبان قلم سے کسی کا دل نہ دکھےکسی سے شکوہ نہ ہو زیر آسماں مجھ کودلوں کو چاک کرے مثل شانہ جس کا اثرتری جناب سے ایسی ملے فغاں مجھ کوبنایا تھا جسے چن چن کے خار و خس میں نےچمن میں پھر نظر آئے وہ آشیاں مجھ کوپھر آ رکھوں قدم مادر و پدر پہ جبیںکیا جنہوں نے محبت کا راز داں مجھ کووہ شمع بارگہہ خاندان مرتضویرہے گا مثل حرم جس کا آستاں مجھ کونفس سے جس کے کھلی میری آرزو کی کلیبنایا جس کی مروت نے نکتہ داں مجھ کودعا یہ کر کہ خداوند آسمان و زمیںکرے پھر اس کی زیارت سے شادماں مجھ کووہ میرا یوسف ثانی وہ شمع محفل عشقہوئی ہے جس کی اخوت قرار جاں مجھ کوجلا کے جس کی محبت نے دفتر من و توہوائے عیش میں پالا کیا جواں مجھ کوریاض دہر میں مانند گل رہے خنداںکہ ہے عزیز تر از جاں وہ جان جاں مجھ کوشگفتہ ہو کے کلی دل کی پھول ہو جائےیہ التجائے مسافر قبول ہو جائے
پرانا سوٹ پہنتا ہے کم وہ کھاتا ہےمگر کھلونے مرے سب خرید لاتا ہےوہ مجھ کو سوئے ہوئے دیکھتا ہے جی بھر کےنہ جانے سوچ کے کیا کیا وہ مسکراتا ہے
ٹیکسٹ جب عاشق برقی کا اٹک جاتا ہےطالب شوق تو سولی پہ لٹک جاتا ہے
پہلی آوازاب سعی کا امکاں اور نہیں پرواز کا مضموں ہو بھی چکاتاروں پہ کمندیں پھینک چکے مہتاب پہ شب خوں ہو بھی چکااب اور کسی فردا کے لیے ان آنکھوں سے کیا پیماں کیجےکس خواب کے جھوٹے افسوں سے تسکین دل ناداں کیجےشیرینیٔ لب خوشبوئے دہن، اب شوق کا عنواں کوئی نہیںشادابیٔ دل تفریح نظر اب زیست کا درماں کوئی نہیںجینے کے فسانے رہنے دو اب ان میں الجھ کر کیا لیں گےاک موت کا دھندا باقی ہے جب چاہیں گے نپٹا لیں گےیہ تیرا کفن وہ میرا کفن یہ میری لحد وہ تیری ہے
۱یہ شام اک آئینۂ نیلگوں یہ نم یہ مہکیہ منظروں کی جھلک کھیت باغ دریا گاؤںوہ کچھ سلگتے ہوئے کچھ سلگنے والے الاؤسیاہیوں کا دبے پاؤں آسماں سے نزوللٹوں کو کھول دے جس طرح شام کی دیویپرانے وقت کے برگد کی یہ اداس جٹائیںقریب و دور یہ گو دھول کی ابھرتی گھٹائیںیہ کائنات کا ٹھہراؤ یہ اتھاہ سکوتیہ نیم تیرہ فضا روز گرم کا تابوتدھواں دھواں سی زمیں ہے گھلا گھلا سا فلک۲یہ چاندنی یہ ہوائیں یہ شاخ گل کی لچکیہ دور بادہ یہ ساز خموش فطرت کےسنائی دینے لگی جگمگاتے سینوں میںدلوں کے نازک و شفاف آبگینوں میںترے خیال کی پڑتی ہوئی کرن کی کھنک۳یہ رات چھنتی ہواؤں کی سوندھی سوندھی مہکیہ کھیت کرتی ہوئی چاندنی کی نرم دمکسگندھ رات کی رانی کی جب مچلتی ہےفضا میں روح طرب کروٹیں بدلتی ہےیہ روپ سر سے قدم تک حسین جیسے گناہیہ عارضوں کی دمک یہ فسون چشم سیاہیہ دھج نہ دے جو اجنتا کی صنعتوں کو پناہیہ سینہ پڑ ہی گئی دیو لوک کی بھی نگاہیہ سر زمین سے آکاش کی پرستش گاہاتارتے ہیں تری آرتی ستارہ و ماہسجل بدن کی بیاں کس طرح ہو کیفیتسرسوتی کے بجاتے ہوئے ستار کی گتجمال یار ترے گلستاں کی رہ رہ کےجبین ناز تری کہکشاں کی رہ رہ کےدلوں میں آئینہ در آئینہ سہانی جھلک۴یہ چھب یہ روپ یہ جوبن یہ سج یہ دھج یہ لہکچمکتے تاروں کی کرنوں کی نرم نرم پھواریہ رسمساتے بدن کا اٹھان اور یہ ابھارفضا کے آئینہ میں جیسے لہلہائے بہاریہ بے قرار یہ بے اختیار جوش نمودکہ جیسے نور کا فوارہ ہو شفق آلودیہ جلوے پیکر شب-تاب کے یہ بزم شہودیہ مستیاں کہ مئے صاف و درد سب بے بودخجل ہو لعل یمن عضو عضو کی وہ ڈلک۵بس اک ستارۂ شنگرف کی جبیں پہ جھمکوہ چال جس سے لبالب گلابیاں چھلکیںسکوں نما خم ابرو یہ ادھ کھلیں پلکیںہر اک نگاہ سے ایمن کی بجلیاں لپکیںیہ آنکھ جس میں کئی آسماں دکھائی پڑیںاڑا دیں ہوش وہ کانوں کی سادہ سادہ لویںگھٹائیں وجد میں آئیں یہ گیسوؤں کی لٹک۶یہ کیف و رنگ نظارہ یہ بجلیوں کی لپککہ جیسے کرشن سے رادھا کی آنکھ اشارے کرےوہ شوخ اشارے کہ ربانیت بھی جائے جھپکجمال سر سے قدم تک تمام شعلہ ہےسکون جنبش و رم تک تمام شعلہ ہےمگر وہ شعلہ کہ آنکھوں میں ڈال دے ٹھنڈک۷یہ رات نیند میں ڈوبے ہوئے سے ہیں دیپکفضا میں بجھ گئے اڑ اڑ کے جگنوؤں کے شرارکچھ اور تاروں کی آنکھوں کا بڑھ چلا ہے خمارفسردہ چھٹکی ہوئی چاندنی کا دھندلا غباریہ بھیگی بھیگی اداہٹ یہ بھیگا بھیگا نورکہ جیسے چشمۂ ظلمات میں جلے کافوریہ ڈھلتی رات ستاروں کے قلب کا یہ گدازخنک فضا میں ترا شبنمی تبسم نازجھلک جمال کی تعبیر خواب آئینہ سازجہاں سے جسم کو دیکھیں تمام ناز و نیازجہاں نگاہ ٹھہر جائے راز اندر رازسکوت نیم شبی لہلہے بدن کا نکھارکہ جیسے نیند کی وادی میں جاگتا سنسارہے بزم ماہ کہ پرچھائیوں کی بستی ہےفضا کی اوٹ سے وہ خامشی برستی ہےکہ بوند بوند سے پیدا ہو گوش و دل میں کھنک۸کسی خیال میں ہے غرق چاندنی کی چمکہوائیں نیند کے کھیتوں سے جیسے آتی ہوںحیات و موت میں سرگوشیاں سی ہوتی ہیںکروڑوں سال کے جاگے ستارے نم دیدہسیاہ گیسوؤں کے سانپ نیم خوابیدہیہ پچھلی رات یہ رگ رگ میں نرم نرم کسک
۱سیاہ پیڑ ہیں اب آپ اپنی پرچھائیںزمیں سے تا مہ و انجم سکوت کے مینارجدھر نگاہ کریں اک اتھاہ گم شدگیاک ایک کر کے فسردہ چراغوں کی پلکیںجھپک گئیں جو کھلی ہیں جھپکنے والی ہیںجھلک رہا ہے پڑا چاندنی کے درپن میںرسیلے کیف بھرے منظروں کا جاگتا خوابفلک پہ تاروں کو پہلی جماہیاں آئیں۲تمولیوں کی دوکانیں کہیں کہیں ہیں کھلیکچھ اونگھتی ہوئی بڑھتی ہیں شاہراہوں پرسواریوں کے بڑے گھنگھروؤں کی جھنکاریںکھڑا ہے اوس میں چپ چاپ ہر سنگار کا پیڑدلہن ہو جیسے حیا کی سگندھ سے بوجھلیہ موج نور یہ بھرپور یہ کھلی ہوئی راتکہ جیسے کھلتا چلا جائے اک سفید کنولسپاہ روس ہے اب کتنی دور برلن سےجگا رہا ہے کوئی آدھی رات کا جادوچھلک رہی ہے خم غیب سے شراب وجودفضائے نیم شبی نرگس خمار آلودکنول کی چٹکیوں میں بند ہے ندی کا سہاگ۳یہ رس کا سیج یہ سکمار یہ سکومل گاتنین کمل کی جھپک کام روپ کا جادویہ رسمسائی پلک کی گھنی گھنی پرچھائیںفلک پہ بکھرے ہوئے چاند اور ستاروں کیچمکتی انگلیوں سے چھڑ کے ساز فطرت کےترانے جاگنے والے ہیں تم بھی جاگ اٹھو۴شعاع مہر نے یوں ان کو چوم چوم لیاندی کے بیچ کمدنی کے پھول کھل اٹھےنہ مفلسی ہو تو کتنی حسین ہے دنیایہ جھائیں جھائیں سی رہ رہ کے ایک جھینگر کیحنا کی ٹیٹو میں نرم سرسراہٹ سیفضا کے سینے میں خاموش سنسناہٹ سییہ کائنات اب اک نیند لے چکی ہوگی۵یہ محو خواب ہیں رنگین مچھلیاں تہہ آبکہ حوض صحن میں اب ان کی چشمکیں بھی نہیںیہ سرنگوں ہیں سر شاخ پھول گڑہل کےکہ جیسے بے بجھے انگارے ٹھنڈے پڑ جائیںیہ چاندنی ہے کہ امڈا ہوا ہے رس ساگراک آدمی ہے کہ اتنا دکھی ہے دنیا میں۶قریب چاند کے منڈلا رہی ہے اک چڑیابھنور میں نور کے کروٹ سے جیسے ناؤ چلےکہ جیسے سینۂ شاعر میں کوئی خواب پلےوہ خواب سانچے میں جس کے نئی حیات ڈھلےوہ خواب جس سے پرانا نظام غم بدلےکہاں سے آتی ہے مدمالتی لتا کی لپٹکہ جیسے سیکڑوں پریاں گلابیاں چھڑکائیںکہ جیسے سیکڑوں بن دیویوں نے جھولے پرادائے خاص سے اک ساتھ بال کھول دیئےلگے ہیں کان ستاروں کے جس کی آہٹ پراس انقلاب کی کوئی خبر نہیں آتیدل نجوم دھڑکتے ہیں کان بجتے ہیں۷یہ سانس لیتی ہوئی کائنات یہ شب ماہیہ پر سکوں یہ پراسرار یہ اداس سماںیہ نرم نرم ہواؤں کے نیلگوں جھونکےفضا کی اوٹ میں مردوں کی گنگناہٹ ہےیہ رات موت کی بے رنگ مسکراہٹ ہےدھواں دھواں سے مناظر تمام نم دیدہخنک دھندلکے کی آنکھیں بھی نیم خوابیدہستارے ہیں کہ جہاں پر ہے آنسوؤں کا کفنحیات پردۂ شب میں بدلتی ہے پہلوکچھ اور جاگ اٹھا آدھی رات کا جادوزمانہ کتنا لڑائی کو رہ گیا ہوگامرے خیال میں اب ایک بج رہا ہوگا۸گلوں نے چادر شبنم میں منہ لپیٹ لیالبوں پہ سو گئی کلیوں کی مسکراہٹ بھیذرا بھی سنبل ترکی لٹیں نہیں ہلتیںسکوت نیم شبی کی حدیں نہیں ملتیںاب انقلاب میں شاید زیادہ دیر نہیںگزر رہے ہیں کئی کارواں دھندلکے میںسکوت نیم شبی ہے انہیں کے پاؤں کی چاپکچھ اور جاگ اٹھا آدھی رات کا جادو۹نئی زمین نیا آسماں نئی دنیانئے ستارے نئی گردشیں نئے دن راتزمیں سے تا بہ فلک انتظار کا عالمفضائے زرد میں دھندلے غبار کا عالمحیات موت نما انتشار کا عالمہے موج دود کہ دھندلی فضا کی نبضیں ہیںتمام خستگی و ماندگی یہ دور حیاتتھکے تھکے سے یہ تارے تھکی تھکی سی یہ راتیہ سرد سرد یہ بے جان پھیکی پھیکی چمکنظام ثانیہ کی موت کا پسینا ہےخود اپنے آپ میں یہ کائنات ڈوب گئیخود اپنی کوکھ سے پھر جگمگا کے ابھرے گیبدل کے کیچلی جس طرح ناگ لہرائے۱۰خنک فضاؤں میں رقصاں ہیں چاند کی کرنیںکہ آبگینوں پہ پڑتی ہے نرم نرم پھواریہ موج غفلت معصوم یہ خمار بدنیہ سانس نیند میں ڈوبی یہ آنکھ مدماتیاب آؤ میرے کلیجے سے لگ کے سو جاؤیہ پلکیں بند کرو اور مجھ میں کھو جاؤ
ساتھیو! میں نے برسوں تمہارے لیےچاند تاروں بہاروں کے سپنے بنےحسن اور عشق کے گیت گاتا رہاآرزوؤں کے ایواں سجاتا رہامیں تمہارا مغنی تمہارے لیےجب بھی آیا نئے گیت لاتا رہاآج لیکن مرے دامن چاک میںگرد راہ سفر کے سوا کچھ نہیںمیرے بربط کے سینے میں نغموں کا دم گھٹ گیاتانیں چیخوں کے انبار میں دب گئی ہیںاور گیتوں کے سر ہچکیاں بن گئے ہیںمیں تمہارا مغنی ہوں نغمہ نہیں ہوںاور نغمے کی تخلیق کا ساز و ساماںساتھیو! آج تم نے بھسم کر دیا ہےاور میں اپنا ٹوٹا ہوا ساز تھامےسرد لاشوں کے انبار کو تک رہا ہوںمیرے چاروں طرف موت کی وحشتیں ناچتی ہیںاور انساں کی حیوانیت جاگ اٹھی ہےبربریت کے خوں خار عفریتاپنے ناپاک جبڑوں کو کھولےخون پی پی کے غرا رہے ہیں
یہ جھیل وہ ہے کہ جس کے اوپرہزاروں انساںافق کے متوازی چل رہے ہیںافق کے متوازی چلنے والوں کو پار لاتی ہیںوقت لہریںجنہیں تمنا، مگر، سماوی خرام کی ہوانہی کو پاتال زمزموں کی صدا سناتی ہیںوقت لہریںانہیں ڈبوتی ہیں وقت لہریں!تمام ملاح اس صدا سے سدا ہراساں، سدا گریزاںکہ جھیل میں اک عمود کا چور چھپ کے بیٹھا ہےاس کے گیسو افق کی چھت سے لٹک رہے ہیںپکارتا ہے: ''اب آؤ، آؤ!ازل سے میں منتظر تمہارامیں گنبدوں کے تمام رازوں کو جانتا ہوںدرخت مینار برج زینے مرے ہی ساتھیمرے ہی متوازی چل رہے ہیںمیں ہر ہوائی جہاز کا آخری بسیراسمندروں پر جہاز رانوں کا میں کنارااب آؤ، آؤ!تمہارے جیسے کئی فسانوں کو میں نے ان کےابد کے آغوش میں اتارا''تمام ملاح اس کی آواز سے گریزاںافق کی شاہراہ مبتذل پر تمام سہمے ہوئے خراماںمگر سماوی خرام والےجو پست و بالا کے آستاں پر جمے ہوئے ہیںعمود کے اس طناب ہی سے اتر رہے ہیںاسی کو تھامے ہوئے بلندی پہ چڑھ رہے ہیں!
مغفرت کی تجھ پہ مولا اب فراوانی کرےجنت الفردوس میں بھی رحمت ارزانی کرےسبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرےآسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرےحق ادا کر پاؤں تیرا ماں ترے جانے کے بعددم گھٹا جاتا ہے میرا ماں ترے جانے کے بعد
افق پر جنگ کا خونیں ستارہ جگمگاتا ہےہر اک جھونکا ہوا کا موت کا پیغام لاتا ہےگھٹا کی گھن گرج سے قلب گیتی کانپ جاتا ہےمگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں
کتنی مستانہ سی تھی عید مرے بچپن کیاب خیالوں میں بھی لاتا ہوں تو کھو جاتی ہے
لکھنؤ میرے وطن میرے چمن زار وطنتیرے گہوارۂ آغوش میں اے جان بہاراپنی دنیائے حسیں دفن کیے جاتا ہوںتو نے جس دل کو دھڑکنے کی ادا بخشی تھیآج وہ دل بھی یہیں دفن کیے جاتا ہوںدفن ہے دیکھ مرا عہد بہاراں تجھ میںدفن ہے دیکھ مری روح گلستاں تجھ میںمیری گل پوش جواں سال امنگوں کا سہاگمیری شاداب تمنا کے مہکتے ہوئے خوابمیری بیدار جوانی کے فروزاں مہ و سالمیری شاموں کی ملاحت مری صبحوں کا جمالمیری محفل کا فسانہ مری خلوت کا فسوںمیری دیوانگئ شوق مرا ناز جنوںمیرے مرنے کا سلیقہ مرے جینے کا شعورمیرا ناموس وفا میری محبت کا غرورمیری نبضوں کا ترنم مرے نغموں کی پکارمیرے شعروں کی سجاوٹ مرے گیتوں کا سنگارلکھنؤ اپنا جہاں سونپ چلا ہوں تجھ کواپنا ہر خواب جواں سونپ چلا ہوں تجھ کواپنا سرمایۂ جاں سونپ چلا ہوں تجھ کولکھنؤ میرے وطن میرے چمن زار وطنیہ مرے پیار کا مدفن ہی نہیں ہے تنہادفن ہیں اس میں محبت کے خزانے کتنےایک عنوان میں مضمر ہیں فسانے کتنےاک بہن اپنی رفاقت کی قسم کھائے ہوئےایک ماں مر کے بھی سینے میں لیے ماں کا گدازاپنے بچوں کے لڑکپن کو کلیجے سے لگائےاپنے کھلتے ہوئے معصوم شگوفوں کے لیےبند آنکھوں میں بہاروں کے جواں خواب بسائےیہ مرے پیار کا مدفن ہی نہیں ہے تنہاایک ساتھی بھی تہ خاک یہاں سوتی ہےعرصۂ دہر کی بے رحم کشاکش کا شکارجان دے کر بھی زمانے سے نہ مانے ہوئے ہاراپنے تیور میں وہی عزم جواں سال لیےیہ مرے پیار کا مدفن ہی نہیں ہے تنہادیکھ اک شمع سر راہ گزر چلتی ہےجگمگاتا ہے اگر کوئی نشان منزلزندگی اور بھی کچھ تیز قدم چلتی ہےلکھنؤ میرے وطن مرے چمن زار وطندیکھ اس خواب گہ ناز پہ کل موج صبالے کے نو روز بہاراں کی خبر آئے گیسرخ پھولوں کا بڑے ناز سے گوندھے ہوئے ہارکل اسی خاک پہ گل رنگ سحر آئے گیکل اسی خاک کے ذروں میں سما جائے گا رنگکل مرے پیار کی تصویر ابھر آئے گیاے مری روح چمن خاک لحد سے تیریآج بھی مجھ کو ترے پیار کی بو آتی ہےزخم سینے کے مہکتے ہیں تری خوشبو سےوہ مہک ہے کہ مری سانس گھٹی جاتی ہےمجھ سے کیا بات بنائے گی زمانے کی جفاموت خود آنکھ ملاتے ہوئے شرماتی ہےمیں اور ان آنکھوں سے دیکھوں تجھے پیوند زمیںاس قدر ظلم نہیں ہائے نہیں ہائے نہیںکوئی اے کاش بجھا دے مری آنکھوں کے دیےچھین لے مجھ سے کوئی کاش نگاہیں میریاے مری شمع وفا اے مری منزل کے چراغآج تاریک ہوئی جاتی ہیں راہیں میریتجھ کو روؤں بھی تو کیا روؤں کہ ان آنکھوں میںاشک پتھر کی طرح جم سے گئے ہیں میرےزندگی عرصہ گہ جہد مسلسل ہی سہیایک لمحے کو قدم تھم سے گئے ہیں میرےپھر بھی اس عرصہ گہ جہد مسلسل سے مجھےکوئی آواز پہ آواز دئیے جاتا ہےآج سوتا ہی تجھے چھوڑ کے جانا ہوگاناز یہ بھی غم دوراں کا اٹھانا ہوگازندگی دیکھ مجھے حکم سفر دیتی ہےاک دل شعلہ بجاں ساتھ لیے جاتا ہوںہر قدم تو نے کبھی عزم جواں بخشا تھا!میں وہی عزم جواں ساتھ لیے جاتا ہوںچوم کر آج تری خاک لحد کے ذرےان گنت پھول محبت کے چڑھاتا جاؤںجانے اس سمت کبھی میرا گزر ہو کہ نہ ہوآخری بار گلے تجھ کو لگاتا جاؤںلکھنؤ میرے وطن میرے چمن زار وطندیکھ اس خاک کو آنکھوں میں بسا کر رکھنااس امانت کو کلیجے سے لگا کر رکھنا
پس مرگ خاک ہوئے بدن وہ کفن میں ہوں کہ ہوں بے کفننہ مری لحد کوئی اور ہے نہ تری چتا کوئی اور ہے
شجر حجر پہ ہیں غم کی گھٹائیں چھائی ہوئیسبک خرام ہواؤں کو نیند آئی ہوئیرگیں زمیں کے مناظر کی پڑ چلیں ڈھیلییہ خستہ حالی یہ درماندگی یہ سناٹافضائے نیم شبی بھی ہے سنسنائی ہوئیدھواں دھواں سے مناظر ہیں شبنمستاں کےسیارہ رات کی زلفیں ہیں رسمسائی ہوئییہ رنگ تاروں بھری رات کے تنفس کاکہ بوئے درد میں ہر سانس ہے بسائی ہوئیخنک اداس فضاؤں کی آنکھوں میں آنسوترے فراق کی یہ ٹیس ہے اٹھائی ہوئیسکوت نیم شبی گہرا ہوتا جاتا ہےرگیں ہیں سینۂ ہستی کی تلملائی ہوئیہے آج ساز نوا ہائے خونچکاں اے دوستحیات تیری جدائی کی چوٹ کھائی ہوئیمری ان آنکھوں سے اب نیند پردہ کرتی ہےجو تیرے پنجۂ رنگیں کی تھیں جگائی ہوئیسرشک پالے ہوئے تیرے نرم دامن کےنشاط تیرے تبسم سے جگمگائی ہوئیلٹک وہ گیسوؤں کی جیسے پیچ و تاب کمندلچک بھوؤں کی وہ جیسے کماں جھکائی ہوئیسحر کا جیسے تبسم دمک وہ ماتھے کیکرن سہاگ کی بندی کی لہلہائی ہوئیوہ انکھڑیوں کا فسوں روپ کی وہ دیوئیتوہ سینہ روح نمو جس میں کنمنائی ہوئیوہ سیج سانس کی خوشبو کو جس پہ نیند آئےوہ قد گلاب کی اک شاخ لہلہائی ہوئیوہ جھلملاتے ستارے ترے پسینے کےجبین شام جوانی تھی جگمگائی ہوئیہو جیسے بت کدہ آذر کا بول اٹھنے کووہ کوئی بات سی گویا لبوں تک آئی ہوئیوہ دھج وہ دلبری وہ کام روپ آنکھوں کاسجل اداؤں میں وہ راگنی رچائی ہوئیہو خواب گاہ میں شعلوں کی کروٹیں دم صبحوہ بھیرویں تری بیداریوں کی گائی ہوئیوہ مسکراتی ہوئی لطف دید کی صبحیںتری نظر کی شعاعوں کی گدگدائی ہوئیلگی جو تیرے تصور کے نرم شعلوں سےحیات عشق سے اس آنچ کی تپائی ہوئیہنوز وقت کے کانوں میں چہچہاہٹ ہےوہ چاپ تیرے قدم کی سنی سنائی ہوئیہنوز سینۂ ماضی میں جگمگاہٹ ہےدمکتے روپ کی دیپاولی جلائی ہوئیلہو میں ڈوبی امنگوں کی موت روک ذراحریم دل میں چلی آتی ہے ڈھٹائی ہوئیرہے گی یاد جواں بیوگی محبت کیسہاگ رات کی وہ چوڑیاں بڑھائی ہوئییہ میری پہلی محبت نہ تھی مگر اے دوستابھر گئی ہیں وہ چوٹیں دبی دبائی ہوئیسپردگی و خلوص نہاں کے پردے میںجو تیری نرم نگاہی کی تھیں بٹھائی ہوئیاٹھا چکا ہوں میں پہلے بھی ہجر کے صدمےوہ سانس دکھتی ہوئی آنکھ ڈبڈبائی ہوئییہ حادثہ ہے عجب تجھ کو پا کے کھو دینایہ سانحہ ہے غضب تیری یاد آئی ہوئیعجیب درد سے کوئی پکارتا ہے تجھےگلا رندھا ہوا آواز تھر تھرائی ہوئیکہاں ہے آج تو اے رنگ و نور کی دیویاندھیری ہے مری دنیا لٹی لٹائی ہوئیپہنچ سکے گی بھی تجھ تک مری نوائے فراقجو کائنات کے اشکوں میں ہے نہائی ہوئی
محبت پھولنے پھلنے کی شے ہےاسے پامال سبزہ مت بناؤدلوں کے قافلے چلتے ہیں اس پرسو نا ہموار رستہ مت بناؤاسے کھلنے دو اپنے موسموں میںبہار عہد رفتہ مت بناؤیہ ہے معصوم اور ننھا پرندہاسے زنجیر بستہ مت بناؤیہ لہراتا ہوا آنچل ہے اس کوکسی بادل کا ٹکڑا مت بناؤیہ چشمے کا میٹھا صاف پانیسو اس پانی کو گدلا مت بناؤیہ ہے آواز مہدی اور لتا کیان آوازوں کو مردہ مت بناؤ
ادھر نہ دیکھو کہ جو بہادرقلم کے یا تیغ کے دھنی تھےجو عزم و ہمت کے مدعی تھےاب ان کے ہاتھوں میں صدق ایماں کیآزمودہ پرانی تلوار مڑ گئی ہےجو کج کلہ صاحب حشم تھےجو اہل دستار محترم تھےہوس کے پر پیچ راستوں میںکلہ کسی نے گرو رکھ دیکسی نے دستار بیچ دی ہےادھر بھی دیکھوجو اپنے رخشاں لہو کے دینارمفت بازار میں لٹا کرنظر سے اوجھل ہوئےاور اپنی لحد میں اس وقت تک غنی ہیں،ادھر بھی دیکھوجو حرف حق کی صلیب پر اپنا تن سجا کرجہاں سے رخصت ہوئےاور اہل جہاں میں اس وقت تک نبی ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books