aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "laundry"
کیسی نکھری سی نظر آتی ہے فضا عید کے روزشادماں پھرتے ہیں سب شاہ و گدا عید کے روزکتنی بے فکری سے گاتے ہیں گدا راہوں میںپیٹ خالی ہو تو گائیں بھی نہ کیا عید کے روزکیا بھلی لگتی ہے ہر پیر و جواں کے منہ سےہر طرف عید مبارک کی صدا عید کے روزامی خوش ہوں گی اور عیدی بھی وہی پائے گاوقت سے پہلے جو بیدار ہوا عید کے روزچاند انتیس کو کیا نکلا کہ آدھی شب سےٹیلرنگ شاپ میں اک تانتا بندھا عید کے روزکپڑے بھی دھل نہ سکے وقت نماز آ پہونچالانڈری والوں پہ آفت ہے بپا عید کے روزدادی اماں نے مصلے کو پرے ڈال دیاگھر میں مہمانوں کا وہ شور مچا عید کے روزآنکھ اوجھل ہوئی اور ٹوٹ سویوں پہ پڑادیر سے اسلم اسی تاک میں تھا عید کے روزعید گہہ شان سے ٹم ٹم پہ چلے ہیں ببنباپ کے کاندھوں پہ ننھا بھی چڑھا عید کے روزپکڑے لاٹھی کو مٹکتے چلے رمضانی میاںپیچھے سے بچوں کا اک گول چلا عید کے روزاپنے بیگانے جو بڑھ بڑھ کے گلے ملتے ہوںکیوں نہ پھر آئے عبادت میں مزہ عید کے روزروزے رمضان کے رکھنا تو سبھی بھول گئےکیسے بھولیں گے سویوں کو بھلا عید کے روزسال کے سال رہے یاد خدا سے غافلاے ذکیؔ ان کو بھی یاد آیا خدا عید کے روز
ہر آن نفع اور ٹوٹے میں کیوں مرتا پھرتا ہے بن بنٹک غافل دل میں سوچ ذرا ہے ساتھ لگا تیرے دشمنکیا لونڈی باندی دائی دوا کیا بندا چیلا نیک چلنکیا مندر مسجد تال کنواں کیا کھیتی باڑی پھول چمنسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
(۱)اے سب سے اول اور آخرجہاں تہاں، حاضر اور ناظراے سب داناؤں سے داناسارے تواناؤں سے توانااے بالا، ہر بالاتر سےچاند سے سورج سے امبر سےاے سمجھے بوجھے بن سوجھےجانے پہچانے بن بوجھےسب سے انوکھے سب سے نرالےآنکھ سے اوجھل دل کے اجالےاے اندھوں کی آنکھ کے تارےاے لنگڑے لولوں کے سہارےناتیوں سے چھوٹوں کے ناتیساتھیوں سے بچھڑوں کے ساتھیناؤ جہاں کی کھینے والےدکھ میں تسلی دینے والےجب اب تب تجھ سا نہیں کوئیتجھ سے ہیں سب تجھ سا نہیں کوئیجوت ہے تیری جل اور تھل میںباس ہے تیری پھول اور پھل میںہر دل میں ہے تیرا بسیراتو پاس اور گھر دور ہے تیراراہ تری دشوار اور سکڑینام ترا رہ گیر کی لکڑیتو ہے ٹھکانا مسکینوں کاتو ہے سہارا غمگینوں کاتو ہے اکیلوں کا رکھوالاتو ہے اندھیرے گھر کا اجالالاگو اچھے اور برے کاخواہاں کھوٹے اور کھرے کابید نراسے بیماروں کاگاہک مندے بازاروں کاسوچ میں دل بہلانے والےبپتا میں یاد آنے والے(۲)اے بے وارث گھروں کے وارثبے بازو بے پروں کے وارثبے آسوں کی آس ہے تو ہیجاگتے سوتے پاس ہے تو ہیبس والے ہیں یا بے بس ہیںتو نہیں جن کا وہ بے کس ہیںساتھی جن کا دھیان ہے تیرادسرایت کی وہاں نہیں پروادل میں ہے جن کے تیری بڑائیگنتے ہیں وہ پربت کو رائیبیکس کا غم خوار ہے تو ہیبری بنی کا یار ہے تو ہیدکھیا دکھی یتیم اور بیوہتیرے ہی ہاتھ ان سب کا ہے کھیواتو ہی مرض دے تو ہی دوا دےتو ہی دوا دارو میں شفا دےتو ہی پلائے زہر کے پیالےتو ہی پھر امرت زہر میں ڈالےتو ہی دلوں میں آگ لگائےتو ہی دلوں کی لگی بجھائےچمکارے چمکار کے مارےمارے مار کے پھر چمکارےپیار کا تیرے پوچھنا کیا ہےمار میں بھی اک تیری مزا ہے(۳)اے رحمت اور ہیبت والےشفقت اور دباغت والےاے اٹکل اور دھیان سے باہرجان سے اور پہچان سے باہرعقل سے کوئی پا نہیں سکتابھید ترے حکموں میں ہیں کیا کیاایک کو تو نے شاد کیا ہےایک کے دل کو داغ دیا ہےاس سے نہ تیرا پیار کچھ ایسااس سے نہ تو بیزار کچھ ایساہر دم تیری آن نئی ہےجب دیکھو تب شان نئی ہےیہاں پچھوا ہے وہاں پروا ہےگھر گھر تیرا حکم نیا ہےپھول کہیں کملائے ہوئے ہیںاور کہیں پھل آئے ہوئے ہیںکھیتی ایک کی ہے لہراتیایک کا ہر دم خون سکھاتیایک پڑے ہیں دھن کو ڈبوئےایک ہیں گھوڑے بیچ کے سوئےایک نے جب سے ہوش سنبھالارنج سے اس کو پڑا نہ پالاایک نے اس جنجال میں آ کرچین نہ دیکھا آنکھ اٹھا کرمینہ کہیں دولت کا ہے برستاہے کوئی پانی تک کو ترستاایک کو مرنے تک نہیں دیتےایک اکتا گیا لیتے لیتےحال غرض دنیا کا یہی ہےغم پہلے اور بعد خوشی ہےرنج کا ہے دنیا کے گلا کیاتحفہ یہی لے دے کے ہے یاں کایہاں نہیں بنتی رنج سہے بنرنج نہیں سب ایک سے لیکنایک سے یہاں رنج ایک ہے بالاایک سے ہے درد ایک نرالاگھاؤ ہے گو ناسور کی صورتپر اسے کیا ناسور سے نسبتتپ وہی دق کی شکل ہے لیکندق نہیں رہتی جان لیے بندق ہو وہ یا ناسور ہو کچھ ہودے نہ جو اب امید کسی کوروز کا غم کیوں کر سہے کوئیآس نہ جب باقی رہے کوئیتو ہی کر انصاف اے مرے مولاکون ہے جو بے آس ہے جیتاگو کہ بہت بندے ہیں پر ارماںکم ہیں مگر مایوس ہیں جو یاںخواہ دکھی ہے خواہ سکھی ہےجو ہے اک امید اس کو بندھی ہےکھیتیاں جن کی کھڑی ہیں سوکھیآس وہ باندھے بیٹھے ہیں مینہ کیگھٹا جن کی اساڑی میں ہےساونی کی امید نہیں ہےڈوب چکی ہے ان کی اگیتیدیتی ہے ڈھارس ان کو پچھیتیایک ہے اس امید پہ جیتااب ہوئی بیٹی اب ہوا بیٹاایک کو جو اولاد ملی ہےاس کو امنگ شادیوں کی ہےرنج ہے یا قسمت میں خوشی ہےکچھ ہے مگر اک آس بندھی ہےغم نہیں ان کو غمگیں ہیںجو دل ناامید نہیں ہیںکال میں کچھ سختی نہیں ایسیکال میں ہے جب آس سمیں کیسہل ہے موجوں سے چھٹکاراجب کہ نظر آتا ہے کناراپر نہیں اٹھ سکتی وہ مصیبتآئے گی جس کے بعد نہ راحتشاد ہو اس رہ گیر کا کیا دل؟مر کے کٹے گی جس کی منزلان اجڑوں کو کل پڑے کیوں کرگھر نہ بسے گا جن کا جنم بھران بچھڑوں کا کیا ہے ٹھکانا؟جن کو نہ ملنے دے گا زمانہاب یہ بلا ٹلتی نہیں ٹالیمجھ پہ ہے جو تقدیر نے ڈالیآئیں بہت دنیا میں بہاریںعیش کی گھر گھر پڑیں پکاریںپڑے بہت باغوں میں جھولےڈھاک بہت جنگل میں پھولےگئیں اور آئیں چاندنی راتیںبرسیں کھلیں بہت برساتیںپر نہ کھلی ہرگز نہ کھلے گیوہ جو کلی مرجھائی تھی دل کیآس ہی کا بس نام ہے دنیاجب نہ رہی یہی تو رہا کیا؟ایسے بدیسی کا نہیں غم کچھجس کو نہ ہو ملنے کی قسم کچھرونا ان بن باسیوں کا ہےدیس نکالا جن کو ملا ہےحکم سے تیرے پر نہیں چارہکڑوی میٹھی سب ہے گوارازور ہے کیا پتے کا ہوا پرچاہے جدھر لے جائے اڑا کرتنکا اک اور سات سمندرجائے کہاں موجوں سے نکل کرقسمت ہی میں جب تھی جدائیپھر ٹلتی کس طرح یہ آئی؟آج کی بگڑی ہو تو بنے بھیازل کی بگڑی خاک بنے گیتو جو چاہے وہ نہیں ٹلتابندے کا یاں بس نہیں چلتامارے اور نہ دے تو رونےتھپکے اور نہ دے تو سونےٹھہرے بن آتی ہے نہ بھاگےتیری زبردستی کے آگےتجھ سے کہیں گر بھاگنا چاہیںبند ہیں چاروں کھونٹ کی راہیںتو مارے اور خواہ نوازےپڑی ہوئی ہوں میں تیرے دروازےتجھ کو اپنا جانتی ہوں میںتجھ سے نہیں تو کس سے کہوں میںماں ہی سدا بچہ کو مارےاور بچہ ماں ماں ہی پکارے(۴)اے مرے زور اور قدرت والےحکمت اور حکومت والےمیں لونڈی تیری دکھیارےدروازے کی تیری بھکاریموت کی خواہاں جان کی دشمنجان اپنی ہے آپ اجیرناپنے پرائے کی دھتکاریمیکے اور سسرال پہ بھاریسہہ کے بہت آزار چلی ہوںدنیا سے بیزار چلی ہوںدل پر میرے داغ ہیں جتنےمنہ میں بول نہیں ہیں اتنےدکھ دل کا کچھ کہہ نہیں سکتیاس کے سوا کچھ کہہ نہیں سکتیتجھ پہ ہے روشن سب دکھ دل کاتجھ سے حقیقت اپنی کہوں کیابیاہ کے دم پائی تھی نہ لینےلینے کے یاں پڑ گئے دینےخوشی میں بھی دکھ ساتھ نہ آیاغم کے سوا کچھ ہات نہ آیاایک خوشی نے غم یہ دکھائےایک ہنسی نے گل ہی کھلائےکیسا تھا یہ بیاہ نناواںجوں ہی پڑا اس کا پرچھاواںچین سے رہنے دیا نہ جی کوکر دیا ملیامیٹ خوشی کورو نہیں سکتی تنگ ہوں یاں تکاور روؤں تو روؤں کہاں تکہنس ہنس دل بہلاؤں کیوں کراوسوں پیاس بجھاؤں کیوں کرایک کا کچھ جینا نہیں ہوتاایک نہ ہنستا بھلا نہ روتالیٹے گر سونے کے بہانےپائنتی کل ہے اور نہ سرہانےجاگیے تو بھی بن نہیں پڑتیجاگنے کی آخر کوئی حد بھیاب کل ہم کو پڑے گی مر کرگور ہے سونی سیج سے بہتربات سے نفرت کام سے وحشتٹوٹی آس اور بجھی طبیعتآبادی جنگل کا نمونہدنیا سونی اور گھر سونادن ہے بھیانک اور رات ڈرانییوں گزری ساری یہ جوانیبہنیں اور بہنیلیاں میریساتھ کی جو تھیں کھیلیاں میریمل نہ سکیں جی کھول کے مجھ سےخوش نہ ہوئیں ہنس بول کے مجھ سےجب آئیں رو دھو کے گئیں وہجب گئیں بے کل ہو کے گئیں وہکوئی نہیں دل کا بہلاواآ نہیں چکتا میرا بلاواآٹھ پہر کا ہے یہ جلاپاکاٹوں گی کس طرح رنڈاپاتھک گئی دکھ سہتے سہتےتھم گئے آنسو بہتے بہتےآگ کھلی دل کی نہ کسی پرگھل گئی جان اندر ہی اندردیکھ کے چپ جانا نہ کسی نےجان کو پھونکا دل کی لگی نےدبی تھی بھوبھل میں چنگاریلی نہ کسی نے خبر ہماریقوم میں وہ خوشیاں بیاہوں کیشہر میں وہ دھوئیں ساہوں کیتہواروں کا آئے دن آنااور سب کا تہوار مناناوہ چیت اور پھاگن کی ہوائیںوہ ساون بھادوں کی گھٹائیںوہ گرمی کی چاندنی راتیںوہ ارمان بھری برساتیںکس سے کہوں کس طور سے کاٹیںخیر کٹیں جس طور سے کاٹیںچاؤ کے اور خوشیوں کے سمے سبآتے ہیں خوش کل جان کو ہو جبرنج میں ہیں سامان خوشی کےاور جلانے والے ہی کےگھر برکھا اور پیا بدیسیآئیو برکھا کہیں نہ ایسیدن یہ جوانی کے کٹے ایسےباغ میں پنچھی قید ہو جیسےرت گئی ساری سر ٹکراتےاڑ نہ سکے پر ہوتے سارےکسی نے ہوگی کچھ کل پائیمجھے تو شادی راس نہ آئیآس بندھی لیکن نہ ملا کچھپھول آیا اور پھل نہ لگا کچھرہ گیا دے کر چاند دکھائیچاند ہوا پر عید نہ آئیپھل کی خاطر برچھی کھائیپھل نہ ملا اور جان گنوائیریت میں ذرے دیکھ چمکتےدوڑ پڑی میں جھیل سمجھ کےچاروں کھونٹ نظر دوڑائیپر پانی کی بوند نہ پائی
آپ ہیں فضل خدائے پاک سے کرسی نشیںانتظام سلطنت ہے آپ کے زیر نگیںآسماں ہے آپ کا خادم تو لونڈی ہے زمیںآپ خود رشوت کے ذمے دار ہیں فدوی نہیں
میں منافق ہوں ہر اک کا دوست بن جاتا ہوں میںدوست بن کر دوستوں میں پھوٹ ڈلواتا ہوں میںانتہا کی چڑ ہے مجھ کو دو دلوں کے قرب سےدیکھتا ہوں جب یہ فوراً جال پھیلاتا ہوں میںمیں برائی رام کی کرتا ہوں جا کر شام سےشام نے جو کچھ کہا وہ رام تک لاتا ہوں میںپیٹھ پیچھے سب کو دیتا ہوں مغلظ گالیاںسامنے لیکن ادب سے سر کے بل جاتا ہوں میںحلقۂ اہل سخن میں جو مری توقیر ہےچھن نہ جائے ہر نئے شاعر سے گھبراتا ہوں میںمجھ کو اپنی شاعری پر کس طرح ہو اعتمادخود تو کم کہتا ہوں اوروں سے کہلواتا ہوں میںداد دینے کے لئے رکھتا ہوں کچھ احباب ساتھشعر ان کے واسطے بھی مانگ کر لاتا ہوں میںبزم میں پڑھتا ہوں میں نتھنے پھلا کر چیخ کراور اس سے پیشتر تقریر فرماتا ہوں میںیہ سمجھتا ہوں کہ کوئی شعر خود کہتا نہیںیہ خبر ہر ایک کے بارے میں پھیلاتا ہوں میںاور کوئی شعر کہہ لیتا ہے اچھا بھی اگرکل کا لونڈا کہہ کے خاطر میں نہیں لاتا ہوں میںخود تو نا موزوں بھی کہہ لیتا ہوں موزوں بھی مگردوسرے کے شعر پر تنقید فرماتا ہوں میںشاعری سے واسطہ مجھ کو نہ اردو سے غرضصرف شہرت کے لئے ان سے الجھ جاتا ہوں میںکچھ بزرگوں سے مجھے بھی قرب حاصل تھا کبھینام ہو ان سے مرا یوں ان کے گن گاتا ہوں میںذکر کرتا ہوں پرانی صحبتوں کا بار باراور دور حال کو ماضی سے ٹھکراتا ہوں میںباوجود اس کے اگر ہوتی نہیں شہرت نصیبگالیاں دیتا ہوں سب کو بوکھلا جاتا ہوں میںجس سے میں واقف ہوں وہ شہرت میں آگے بڑھ گیادیکھ کر اس کو بہت کڑھتا ہوں بل کھاتا ہوں میںجانتا ہی کون تھا مشہور میں نے کر دیابس یہی کہہ کہہ کے اپنے دل کو سمجھتا ہوں میںعلم و فن کی چند باتیں جو مجھے معلوم ہیںداد پانے کے لئے ہر بار دہراتا ہوں میںداد دینی ہو تو یوں دیتا ہوں اک اک لفظ پرلفظ پورا بھی نہیں ہوتا پھڑک جاتا ہوں میںکچھ نہ تھے اشعار منہ دیکھے کی دی تھی میں نے دادوقت غیبت داد کی تردید فرماتا ہوں میںجب کسی بزم سخن میں شعر پڑھتا ہے کوئیاک طرف بیٹھا ہوا تصحیح فرماتا ہوں میںساتھ والوں پر یوں کرتا ہوں فضیلت آشکارہو نہ ہو ہر شعر میں کچھ عیب گنواتا ہوں میںیا کبھی پھر داد دیتا ہوں بہ آواز دہلساتھ والوں کی طرف پھر آنکھ مچکاتا ہوں میںسامنے جب تک رہوں میں ہوں غلاموں کا غلامآسماں سے ورنہ تارے توڑ کر لاتا ہوں میںجو نہیں لاتے ہیں خاطر میں خوشامد کو مریوہ جھڑک دیتے ہیں مجھ کو ان سے گھبراتا ہوں میںیا سمجھ جاتے ہیں جو ان میرے ہتھکنڈوں کا رازسامنے آتے ہوئے ان کے بھی کتراتا ہوں میںکمتری کا ہے شفاؔ احساس ان سب کا سببدشمنی اوروں کے دل میں تو نہیں پاتا ہوں میں
میری لکھنے میں عمر گزری ہےتیری پڑھنے کی عمر ہے لڑکیتیری سوچوں کی سب خبر ہے مجھےمجھ پہ یہ وقت آ کے بیت چکامیں بھی خود سے سوال کرتا تھاکس کی غزلوں میں کس کے جلوے ہیںکس کا چہرہ ہے کس کی نظموں میںکون روتا ہے کس کے لہجے میںکس کے شعروں میں کس کی باتیں ہیںپھر جوابات مل گئے مجھ کواب ہنسی آتی ہے سوالوں پراور تجھ پر بھی اور خود پر بھیتجھے معلوم کیا کہ اک آمدکتنے جذبوں سے حاملہ ہو کرلیٹ کر ایک بیسوا کی طرحکورے کاغذ کے سرد بستر پروہ حرامی کلام جنتی ہےجس پہ فتوے فقیہ شہر کے ہیںجو خداؤں کو گالی لگتا ہےجس پہ رجعت پسند کڑھتے ہیںجس پہ جدت پرست ہنستے ہیںجس کا ٹھٹھا اڑاتے ہیں لونڈےجس کے فن کا زمانہ بیت گیاجس سے نفرت ہے علم والوں کوجس پہ خود مجھ کو غصہ آتا ہےجسے تو بھی سمجھ نہیں پاتینام اپنا کھرچ کے جس پر سےمیں نے ردی میں بارہا بیچااور سگریٹ خریدے اپنے لیےاور اس دل کو آگ میں پھونکاجس کے جذبوں سے حاملہ ہو کرکورے کاغذ کے سرد بستر پرلیٹ کر ایک بیسوا کی طرحمیری قدرت کی شاہکار آمدوہ حرامی کلام جنتی ہےتیری سوچوں کی سب خبر ہے مجھےمیرے شعروں میں کون ہے مت سوچتیری پڑھنے کی عمر ہے لڑکیاور پھر سوچنے سے کیا حاصلبارور جستجو ہوئی بھی تو کیامیری غزلوں میں تو ہوئی بھی تو کیا
آپ کی لونڈی فصاحت بھی بلاغت بھی ہوئیروزمرہ سے کلام اپنا سجایا کیا کیا
تساہل کی چادر لپیٹے ہوئے قصہ خوانی اک شام تھیہم وہاں اپنی دن بھر کی اس جان لیوا تھکن سےنبرد آزماخوب قہووں پہ قہوے کے پیالے لنڈھاتے رہےاور اپنے بلند بانگ دعووں سے اور قہقہوں سےکہیں گھونسلوں میں چھپے تھک کے سوئے ہوئےنیم جاں طائروں کو جگاتے رہےاور گزرے زمانے کے پیروں فقیروں کی کوئی نہ کئی کرامت سناتے رہے(کس طرح صاحبان کرامات برزخ تو برزخشر انگیز زندوں کی روحیں بلانے پہ قادرسبھی کو بد اعمالیوں سے بچاتے رہے)پر جو یہ سب نہیں مانتے تھےوہ نسوار کی تیز بو میں بسےاینٹ گارے کے اک نیم پختہ تھڑے پربر افروختہ ہو کے انکار میں سر ہلاتے رہےہاں مگر وہ کہ جن کے لبوں پرچرس اور گانجے کی اودی سی تہہمستقل جم گئی تھیفقط مسکراتے رہےاور سنگت میں موجود جو ''بچہ خوش'' تھےوہ ہر آتے جاتے طرحدار کم عمر لڑکے کوآنکھوں ہی آنکھوں میں پاتے رہےپھر سب آپس میں مل کرکراچی سے کندوز تک پیشہ کرتی ہوئی کسبیوںہیجڑوں اور لونڈوں کےپر کیف قصے سناتے رہےگدگداتے رہےدل لبھاتے رہے
اپنے بڑھتے ہوئے بالوں کو کٹا لوں تو چلوںغسل خانے میں ذرا دھوم مچا لوں تو چلوںاور ایک کیک مزے دار سا کھا لوں تو چلوںابھی چلتا ہوں ذرا پیاس بجھا لوں تو چلوںرات میں اک بڑا دلچسپ تماشا دیکھامجھ سے مت پوچھ مرے یار کہ کیا کیا دیکھاٹھیک کہتے ہو مدھر سا کوئی سپنا دیکھاآنکھ تو مل لوں ذرا ہوش میں آ لوں تو چلوںمیں تھکا ہارا تھا اتنے میں مداری آیااس نے کچھ پڑھ کے مرے سر کو ذرا سہلایامیں نے خود کو کسی رنگین محل میں پایاایسے دو چار محل اور بنا لوں تو چلوںجانے کیا بات ہے باجی کو جو ہے مجھ سے جلنسب سے کہتی ہیں کہ اس لونڈے کے بگڑے ہیں چلنمجھ کو پیٹا تو مرا اشکوں سے بھیگا دامناپنے بھیگے ہوئے دامن کو سکھا لوں تو چلوںمیری آنکھوں میں ابھی تک ہے شرارت کا غروراپنی دانائی کا یعنی کہ حماقت کا غروردوست کہتے ہیں اسے تو ہے ذہانت کا غرورایسے وہموں سے ابھی خود کو نکالوں تو چلوں
زندگی شعر کا موضوع تو ہو سکتی ہےشعر کے اور جو عنواں ہیں اگر وہ نہ رہیںاس پہ کیا بحث کریںبحث پھر بحث ہےعورت پہ ہو لونڈے پہ ہو یا جنس پہ ہوبحث پھر بحث ہےاخلاق پر مذہب پہ ہو یا فلسفۂ سائنس پہ ہوبحث پھر بحث ہےزندگی اور اجل پہ ہو یا خود شعر پہ ہوبحث کس درجہ ہے لا یعنی شےبحث جو ہو نہ سکی ماں سے کہ وہ ماں ہے مریاور بیٹے سے کہ بیٹا ہے مرااور نہیں جانتے ہم دونوں بھیمیں بھی بیٹا بھی مراکس کی اولاد ہیں ہمبحث کس درجہ ہے لا یعنی شےپوچھو اس روح سے اس جسم سے خلوت میں کبھیجو لفظ سوچتا رہتا ہے یہیزندگی کس طرح کاٹی جائے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books