aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "malka"
ادائیں لے کے آئی ہے وہ فطرت کے خزانوں سےجگا سکتی ہے محفل کو نظر کے تازیانوں سےوہ ملکہ ہے خراج اس نے لیے ہیں بوستانوں سےبس اک میں نے ہی اکثر کی ہیں نافرمانیاں اس کی
اے شمع جوشؔ و مشعل ایوان آرزواے مہر ناز و ماہ شبستان آرزواے جان درد مندی و ایمان آرزواے شمع طور و یوسف کنعان آرزوذرے کو آفتاب تو کانٹے کو پھول کراے روح شعر سجدۂ شاعر قبول کر
یہیں آباد تھی اک دن مرے افکار کی ملکہمرے جذبات کی دیوی مرے اشعار کی ملکہوہ ملکہ جو برنگ عظمت شاہانہ رہتی تھییہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہ رہتی تھی
ملکۂ شہر زندگی تیراشکر کس طور سے ادا کیجےدولت دل کا کچھ شمار نہیںتنگ دستی کا کیا گلہ کیجے
نغمہ بھی ہے اداس تو سر بھی ہے بے اماںرہنے دو کچھ تو نور اندھیروں کے درمیاںاک عمر جس نے چین دیا اس جہان کولینے دو سکھ کا سانس اسے بھی سر جہاںتیار کون ہے جو مجھے بازوؤں میں لےاک یہ نوا نہ ہو تو کہو جاؤں میں کہاںاگلے جہاں سے مجھ کو یہی اختلاف ہےیہ صورتیں یہ گیت صدائیں کہاں وہاںیہ ہے ازل سے اور رہے گا یہ تا ابدتم سے نہ جل سکے گا ترنم کا آشیاں
انٹرنیٹ استھان پہ بیٹھی خواب کی ملکہ!مخمل سی پوروں سے کتنے روز بنو گی؟خواب کی ریکھارنگ رنگیلے بیر بہوٹی جیسے لفظوں کی انگنائیجلتی بجھتی تصویروں کی خواب سرائیثابت انگوروں کے دانوں جیسیدنیا کی یہ ہوش ربائیتنہائی کی گاگر سے پھر لمحہ چھلکاانٹرنیٹ استھان پہ بیٹھی خواب کی ملکہ!دور کسی کیفے میں بیٹھےخواہش اور محبت کے یہ اجلے سائنیہ جلتے ہونٹوں کے خطیہ ہنسنا روناسب کچھ آدھا سچ ہےآدھے سچ میں ڈوب مرو گیگورکھ دھندا بس اک پل کاانٹرنیٹ استھان پہ بیٹھی خواب کی ملکہ!چیٹینگ روم میںسرد دلوں کے رش میں گھٹتی سانسیںانسانوں کے چہرے پہنےجذبے کھائیں روح چبائیںتنہائی کے روپ رنگیلے رقص دکھائیںحرفوں کے بجھتے انگارےکتنے دن تک اور چنوگی؟پیاس تو مانگے رستہ جل کاانٹرنیٹ استھان پہ بیٹھی خواب کی ملکہ!
ایک عالم دیں نے کسی شاعر سے کہا یہانداز تکلم سے عیاں ہے ترے سرقہاشعار میں اوروں کے تو کرتا ہے تصرفیہ تیرا تخیل ہے کہ غالبؔ کا ہے چربہیہ شوخی و جدت تری قدرت سے ہے باہریہ شے تو حقیقت میں بزرگوں کا ہے ورثہشاعر نے ادب سے یہ کہا عالم دیں سےتقلید تو ہے فطرت انساں کا تقاضاتقلید سے آزاد نہیں آپ کا بھی ذہناس پر بھی حنیفہؔ و غزالیؔ کا ہے غلبہتقریر و مضامیں پہ اکابر علما کےحضرت کو بھی کیا خوب تصرف کا ہے ملکہآپ اور شریعت کے یہ پر پیچ مسائلکیا رومیؔ و رازیؔ کا نہیں یہ بھی عطیہقدرت ہو تصرف پہ تو جائز ہے تصرفنایاب ہے اقوال سلف کا یہ خزینہانسان کے اعمال تو نیت پہ ہیں موقوفنیت ہو اگر صاف تو شر کا نہیں شبہہآگاہ نہیں آپ توارد کے عمل سےافسوس ہے کہتے ہیں توارد کو بھی سرقہجائز اسے رکھا ہے ہر اک اہل نظر نےڈھل جائے نئے جام میں گر بادۂ کہنہتنقید کریں آپ ذرا سوچ سمجھ کرالٹا نہ پڑے آپ کی گردن پہ یہ حربہتنقید کا فن اس قدر آسان نہیں ہےشہرت کا اسے آپ بنائیں نہ ذریعہ
محل سے باہربارش ہو رہی ہےاور بادشاہ کی بہننوکروں کے ساتھبلیک کوئن کھیل رہی ہےبادشاہ کے بچے قومی ترانہ یاد کر رہے ہیںملکہ پیانو کے پاس بیٹھیکپڑے کی گڑیا بنا رہی ہےبادشاہ اپنی برساتی ڈھونڈ رہا ہےچھتری وزیر اعظم کے پاس ہےچار گھوڑوں والی بگھی کے بغیربادشاہ کنیز کو پھول پیش کرنا چاہتا ہےکسی بھی حالت میںہم پھول نہیں توڑ سکتےجنگی مشقوں کی وجہ سےباغ مرمت کے لیے بند ہے
ہماپنے وجود کی گہرائیوں میں سموئے ہوئےتشنگی کا کربازل سے زندہ ہیںبے نام سی تشنگی روح و جاں کیہمیں قطرہ قطرہ پئے جا رہی ہےمرے وجود سے لپٹا ہوامبہم سا خوفلمحہ لمحہ مجھے ڈس رہا ہےاورایک بے کیف احساس کی نیلاہٹمری رگ و پے میںسرایت کرتی جا رہی ہے
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
دیکھوں جو آسماں سے تو اتنی بڑی زمیںاتنی بڑی زمین پہ چھوٹا سا ایک شہرچھوٹے سے ایک شہر میں سڑکوں کا ایک جالسڑکوں کے جال میں چھپی ویران سی گلیویراں گلی کے موڑ پہ تنہا سا اک شجرتنہا شجر کے سائے میں چھوٹا سا اک مکانچھوٹے سے اک مکان میں کچی زمیں کا صحنکچی زمیں کے صحن میں کھلتا ہوا گلابکھلتے ہوئے گلاب میں مہکا ہوا بدنمہکے ہوئے بدن میں سمندر سا ایک دلاس دل کی وسعتوں میں کہیں کھو گیا ہوں میںیوں ہے کہ اس زمیں سے بڑا ہو گیا ہوں میں
قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماںچشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں!حسن ازل کی ہے نمود چاک ہے پردۂ وجوددل کے لیے ہزار سود ایک نگاہ کا زیاں!سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحاب شب!کوہ اضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں!گرد سے پاک ہے ہوا برگ نخیل دھل گئےریگ نواح کاظمہ نرم ہے مثل پرنیاںآگ بجھی ہوئی ادھر، ٹوٹی ہوئی طناب ادھرکیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواںآئی صدائے جبرئیل تیرا مقام ہے یہیاہل فراق کے لیے عیش دوام ہے یہیکس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مئے حیاتکہنہ ہے بزم کائنات تازہ ہیں میرے واردات!کیا نہیں اور غزنوی کارگہ حیات میںبیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات!ذکر عرب کے سوز میں، فکر عجم کے ساز میںنے عربی مشاہدات، نے عجمی تخیلاتقافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیںگرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات!عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشقعشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدۂ تصورات!صدق خلیل بھی ہے عشق صبر حسین بھی ہے عشق!معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق!آیۂ کائنات کا معنئ دیر یاب تو!نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو!جلوتیان مدرسہ کور نگاہ و مردہ ذوقجلوتیان میکدہ کم طلب و تہی کدو!میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغمیری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو!باد صبا کی موج سے نشو و نمائے خار و خس!میرے نفس کی موج سے نشو و نمائے آرزو!خون دل و جگر سے ہے میری نوا کی پرورشہے رگ ساز میں رواں صاحب ساز کا لہو!فرصت کشمکش میں ایں دل بے قرار رایک دو شکن زیادہ کن گیسوئے تابدار رالوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب!گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب!عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغذرۂ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب!شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود!فقر جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا اماممیرا قیام بھی حجاب !میرا سجود بھی حجاب!تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئےعقل، غیاب و جستجو! عشق، حضور و اضطراب!تیرہ و تار ہے جہاں گردش آفتاب سے!طبع زمانہ تازہ کر جلوۂ بے حجاب سے!تیری نظر میں ہیں تمام میرے گزشتہ روز و شبمجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم تخیل بے رطب!تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا!عشق تمام مصطفی! عقل تمام بو لہب!گاہ بحیلہ می برد، گاہ بزور می کشدعشق کی ابتدا عجب عشق کی انتہا عجب!عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراقوصل میں مرگ آرزو! ہجر میں لذت طلب!عین وصال میں مجھے حوصلۂ نظر نہ تھاگرچہ بہانہ جو رہی میری نگاہ بے ادب!گرمئ آرزو فراق! شورش ہائے و ہو فراق!موج کی جستجو فراق! قطرہ کی آبرو فراق!
کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ!مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!اس جلوۂ بے پردہ کو پردہ میں چھپا دیکھ!ایام جدائی کے ستم دیکھ جفا دیکھ!بیتاب نہ ہو معرکۂ بیم و رجا دیکھ!ہیں تیرے تصرف میں یہ بادل یہ گھٹائیںیہ گنبد افلاک یہ خاموش فضائیںیہ کوہ یہ صحرا یہ سمندر یہ ہوائیںتھیں پیش نظر کل تو فرشتوں کی ادائیںآئینۂ ایام میں آج اپنی ادا دیکھ!سمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارے!دیکھیں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے!ناپید ترے بحر تخیل کے کنارےپہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارےتعمیر خودی کر اثر آہ رسا دیکھخورشید جہاں تاب کی ضو تیرے شرر میںآباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہنر میںجچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میںجنت تری پنہاں ہے ترے خون جگر میںاے پیکر گل کوشش پیہم کی جزا دیکھ!نالندہ ترے عود کا ہر تار ازل سےتو جنس محبت کا خریدار ازل سےتو پیر صنم خانۂ اسرار ازل سےمحنت کش و خوں ریز و کم آزار ازل سےہے راکب تقدیر جہاں تیری رضا دیکھ!
کبھی نہ کھینچا شرارت سے جس کا آنچل بھیرچا سکی مری آنکھوں میں جو نہ کاجل بھیوہ ماں جو میرے لئے تتلیاں پکڑ نہ سکیجو بھاگتے ہوئے بازو مرے جکڑ نہ سکیبڑھایا پیار کبھی کر کے پیار میں نہ کمیجو منہ بنا کے کسی دن نہ مجھ سے روٹھ سکیجو یہ بھی کہہ نہ سکی جا نہ بولوں گی تجھ سےجو ایک بار خفا بھی نہ ہو سکی مجھ سےوہ جس کو جوٹھا لگا منہ کبھی دکھا نہ سکاکثافتوں پہ مری جس کو پیار آ نہ سکاجو مٹی کھانے پہ مجھ کو کبھی نہ پیٹ سکینہ ہاتھ تھام کے مجھ کو کبھی گھسیٹ سکیوہ ماں جو گفتگو کی رو میں سن کے میری بڑکبھی جو پیار سے مجھ کو نہ کہہ سکی گھامڑشرارتوں سے مری جو کبھی الجھ نہ سکیحماقتوں کا مری فلسفہ سمجھ نہ سکیوہ ماں کبھی جسے چونکانے کو میں لک نہ سکامیں راہ چھینکنے کو جس کے آگے رک نہ سکاجو اپنے ہاتھ سے بہروپ میرے بھر نہ سکیجو اپنی آنکھوں کو آئینہ میرا کر نہ سکیگلے میں ڈالی نہ باہوں کی پھول مالا بھینہ دل میں لوح جبیں سے کیا اجالا بھیوہ ماں کبھی جو مجھے بدھیاں پہنا نہ سکیکبھی مجھے نئے کپڑوں سے جو سجا نہ سکیوہ ماں نہ جس سے لڑکپن کے جھوٹ بول سکانہ جس کے دل کے دراں کنجیوں سے کھول سکاوہ ماں میں پیسے بھی جس کے کبھی چرا نہ سکاسزا سے بچنے کو جھوٹی قسم بھی کھا نہ سکا
وہ ایک طرز سخن کی خوشبووہ ایک مہکا ہوا تکلملبوں سے جیسے گلوں کی بارشکہ جیسے جھرنا سا گر رہا ہوکہ جیسے خوشبو بکھر رہی ہوکہ جیسے ریشم الجھ رہا ہوعجب بلاغت تھی گفتگو میںرواں تھا دریا فصاحتوں کاوہ ایک مکتب تھا آگہی کاوہ علم و دانش کا مے کدہ تھاوہ قلب اور ذہن کا تصادمجو گفتگو میں رواں دواں تھاوہ اس کے الفاظ کی روانیوہ اس کا رک رک کے بات کرناوہ شعلۂ لفظ اور معانیکہیں لپکنا کہیں ٹھہرناٹھہر کے پھر وہ کلام کرنابہت سے جذبوں کی پردہ داریبہت سے جذبوں کو عام کرناجو میں نے پوچھاگزشتہ شب کے مشاعرے میں بہت سے شیدائی منتظر تھےمجھے بھی یہ ہی پتہ چلا تھا کہ آپ تشریف لا رہے ہیںمگر ہوا کیاذرا توقف کے بعد بولے نہیں گیا میںنہ جا سکا میںسنو ہوا کیامیں خود کو مائل ہی کر نہ پایایہ میری حالت میری طبیعتپھر اس پہ میری یہ بد مزاجی و بد حواسییہ وحشت دلمیاں حقیقت ہے یہ بھی سن لو کہ اب ہمارے مشاعرے بھینہیں ہیں ان وحشتوں کے حاملجو میری تقدیر بن چکی ہیںجو میری تصویر بن چکی ہیںجو میری تقصیر بن چکی ہیںپھر اک توقفکہ جس توقف کی کیفیت پر گراں سماعت گزر رہی تھیاس ایک ساعت کا ہاتھ تھامے یہ اک وضاحت گزر رہی تھیادب فروشوں نے جاہلوں نے مشاعرے کو بھی اک تماشہ بنا دیا ہےغزل کی تقدیس لوٹ لی ہے ادب کو مجرا بنا دیا ہےسخن وروں نے بھی جانے کیا کیا ہمارے حصے میں رکھ دیا ہےستم تو یہ ہے کہ چیخ کو بھی سخن کے زمرے میں رکھ دیا ہےالٰہی توبہسماعتوں میں خراشیں آنے لگی ہیں اب اور شگاف ذہنوں میں پڑ گئے ہیںمیاں ہمارے قدم تو کب کے زمیں میں خفت سے گڑ گئے ہیںخموشیوں کے دبیز کہرے سے چند لمحوں کا پھر گزرناوہ جیسے خود کو اداسیوں کے سمندروں میں تلاش کرناوہ جیسے پھر سرمئی افق پر ستارے الفاظ کے ابھرنایہ زندگی سے جو بے نیازی ہے کس لیے ہےیہ روز و شب کی جو بد حواسی ہے کس لیے ہےبس اتنا سمجھوکہ خود کو برباد کر چکا ہوںسخن تو آباد خیر کیا ہومگر جہاں دل دھڑک رہے ہوں وہ شہر آباد کر چکا ہوںبچا ہی کیا ہےتھا جس کے آنے کا خوف مجھ کو وہ ایک ساعت گزر چکی ہےوہ ایک صفحہ کہ جس پے لکھا تھا زندگی کو وہ کھو چکا ہےکتاب ہستی بکھر چکی ہےپڑھا تھا میں نے بھی زندگی کومگر تسلسل نہیں تھا اس میںادھر ادھر سے یہاں وہاں سے عجب کہانی گڑھی گئی تھیسمجھ میں آئی نہ اس لیے بھی کے درمیاں سے پڑھی گئی تھیسمجھتا کیسےنہ فلسفی میں نہ کوئی عالمعقوبتوں کے سفر پہ نکلا میں اک ستارہ ہوں آگہی کااجل کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اک استعارہ ہوں زندگی کاعتاب نازل ہوا ہے جس پر میں وہ ہی معتوب آدمی ہوںستم گروں کو طلب ہے جس کی میں وہ ہی مطلوب آدمی ہوںکبھی محبت نے یہ کہا تھا میں ایک محبوب آدمی ہوںمگر وہ ضرب جفا پڑی ہے کہ ایک مضروب آدمی ہوںمیں ایک بیکل سا آدمی ہوں بہت ہی بوجھل سا آدمی ہوںسمجھ رہی ہے یہ دنیا مجھ کو میں ایک پاگل سا آدمی ہوںمگر یہ پاگل یہ نیم وحشی خرد کے ماروں سے مختلف ہےجو کہنا چاہا تھا کہہ نہ پایاکہا گیا جو اسے یہ دنیا سمجھ نہ پائینہ بات اب تک کہی گئی ہےنہ بات اب تک سنی گئی ہےشراب و شعر و شعور کا جو اک تعلق ہے اس کے بارے میں رائے کیا ہےسنا ہے ہم نے کہ آپ پر بھی بہت سے فتوے لگے ہیں لیکنشراب نوشی حرام ہے تویہ مسئلہ بھی بڑا عجب ہےمیں ایک میکش ہوں یہ تو سچ ہےمگر یہ میکش کبھی کسی کے لہو سے سیراب کب ہوا ہےہمیشہ آنسو پیے ہیں اس نے ہمیشہ اپنا لہو پیا ہےیہ بحث چھوڑو حرام کیا ہے حلال کیا ہے عذاب کیا ہے ثواب کیا ہےشراب کیا ہےاذیتوں سے نجات ہے یہ حیات ہے یہشراب و شب اور شاعری نے بڑا سہارا دیا ہے مجھ کوسنبھال رکھا شراب نے اور رہی ہے محسن یہ رات میریاسی نے مجھ کو دئے دلاسے سنی ہے اس نے ہی بات میریہمیشہ میرے ہی ساتھ جاگی ہمیشہ میرے ہی ساتھ سوئیمیں خوش ہوا تو یہ مسکرائی میں رو دیا تو یہ ساتھ روئییہ شعر گوئی ہے خود کلامی کا اک ذریعہاسی ذریعہ اسی وسیلہ سے میں نے خود سے وہ باتیں کی ہیںجو دوسروں سے میں کہہ نہ پایاحرام کیا ہے حلال کیا ہے یہ سب تماشے ہیں مفتیوں کےیہ سارے فتنے ہیں مولوی کےحرام کر دی تھی خود کشی بھی کہ اپنی مرضی سے مر نہ پائےیہ مے کشی بھی حرام ٹھہری کہ ہم کو اپنا لہو بھی پینے کا حق نہیں ہےکہ اپنی مرضی سے ہم کو جینے کا حق نہیں ہےکسے بتائیںضمیر و ظرف بشر پہ موقوف ہیں مسائلسمندروں میں انڈیل جتنی شراب چاہےنہ حرف پانی پہ آئے گا اور نہ اوس کی تقدیس ختم ہوگیتو مے کشی کو حرام کہنے سے پہلے دیکھوکہ پینے والے کا ظرف کیا ہے ہیں کس کے ہاتھوں میں جام و مینایہ نکتہ سنجی یہ نکتہ دانی جو مولوی کی سمجھ میں آتی تو بات بنتینہ دین و مذہب کو جس نے سمجھا نہ جس نے سمجھا ہے زندگی کوطہورا پینے کی بات کر کے حرام کہتا ہے مے کشی کوجو دین و مذہب کا ذکر آیا تو میں نے پوچھاکہ اس حوالے سے رائے کیا ہےیہ خود پرستی خدا پرستی کے درمیاں کا جو فاصلہ ہےجو اک خلا ہے یہ کیا بلا ہےیہ دین و مذہب فقط کتابیںبجز کتابوں کے اور کیا ہےکتابیں ایسی جنہیں سمجھنے کی کوششیں کم ہیں اور زیادہ پڑھا گیا ہےکتابیں ایسی کہ عام انساں کو ان کے پڑھنے کا حق ہے لیکنانہیں سمجھنے کا حق نہ ہرگز دیا گیا ہےکہ ان کتابوں پہ دین و مذہب کے ٹھیکیدار اجارہ داروں کی دسترس ہےاسی لیے تو یہ دین و مذہب فساد د فتنہ بنے ہوئے ہیںیہ دین و مذہبجو علم و حکمت کے ساتھ ہو تو سکون ہوگاجو دسترس میں ہو جاہلوں کی جنون ہوگایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ زندگی کا جواز کیا ہےیہ تم ہو جی جی کے مر رہے ہو یہ میں ہوں مر مر کے جی رہا ہوںیہ راز کیا ہےہے کیا حقیقت مجاز کیا ہےسوائے خوابوں کے کچھ نہیں ہےبجز سرابوں کے کچھ نہیں ہےیہ اک سفر ہے تباہیوں کا اداسیوں کی یہ رہ گزر ہےنہ اس کو دنیا کا علم کوئی نہ اس کو اپنی کوئی خبر ہےکبھی کہیں پر نظر نہ آئے کبھی ہر اک شے میں جلوہ گر ہےکبھی زیاں ہے کبھی ضرر ہےنہ خوف اس کو نہ کچھ خطر ہےکبھی خدا ہے کبھی بشر ہےہوا حقیقت سے آشنا تو یہ سوئے دار و رسن گیا ہےکبھی ہنسا ہے یہ زیر خنجر کبھی یہ سولی پہ ہنس دیا ہےکبھی یہ گل نار ہو گیا ہے سناں پہ گفتار ہو گیا ہےکبھی ہوا ہے یہ غرق دریاکبھی یہ تقدیر دشت و صحرارقم ہوا ہے یہ آنسوؤں میںکبھی لہو نے ہے اس کو لکھاحکایت دل حکایت جاں حکایت زندگی یہی ہےاگر سلیقے سے لکھی جائے عبارت زندگی یہی ہےیہ حسن ہے اس دھنک کی صورتکہ جس کے رنگوں کا فلسفہ ہی کبھی کسی پر نہیں کھلا ہےیہ فلسفہ جو فریب پیہم کا سلسلہ ہےکہ اس کے رنگوں میں اک اشارہ ہے بے رخی کااک استعارہ ہے زندگی کاکبھی علامت ہے شوخیوں کیکبھی کنایہ ہے سادگی کابدلتے موسم کی کیفیت کے ہیں رنگ پنہاں اسی دھنک میںکشش شرارت و جاذبیت کے شوخ رنگوں نے اس دھنک کو عجیب پیکر عطا کیا ہے اک ایسا منظر عطا کیا ہےکہ جس کے سحر و اثر میں آ کرلہو بہت آنکھیں رو چکی ہیں بہت تو بینائی کھو چکی ہیںبصارتیں کیا بصیرتیں بھی تو عقل و دانائی کھو چکی ہیںنہ جانے کتنے ہی رنگ مخفی ہیں اس دھنک میںبس ایک رنگ وفا نہیں ہیںاس ایک رنگت کی آرزو نے لہو رلایا ہے آدمی کویہی بتایا ہے آگہی کویہ اک چھلاوا ہے زندگی کاحسین دھوکہ ہے زندگی کامگر مقدر ہے آدمی کافریب گندم سمجھ میں آیا تو میں نے جانایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ ایک لغزش ہے جس کے دم سے حیات نو کا بھرم کھلا ہے
دوست! میں دیکھ چکا تاج محل۔۔۔۔۔واپس چلمرمریں مرمریں پھولوں سے ابلتا ہیراچاند کی آنچ میں دہکے ہوئے سیمیں مینارذہن شاعر سے یہ کرتا ہوا چشمک پیہمایک ملکہ کا ضیا پوش و فضا تاب مزارخود بہ خود پھر گئے نظروں میں بہ انداز سوالوہ جو رستوں پہ پڑے رہتے ہیں لاشوں کی طرحخشک ہو کر جو سمٹ جاتے ہیں بے رس اعصابدھوپ میں کھوپڑیاں بجتی ہیں تاشوں کی طرحدوست میں دیکھ چکا تاج محل۔۔۔۔۔واپس چل
نیند سے اب بھی دور ہیں آنکھیں گو کہ رہیں شب بھر بے خوابیادوں کے بے معنی دفتر خوابوں کے افسردہ شہابسب کے سب خاموش زباں سے کہتے ہیں اے خانہ خرابگزری بات صدی یا پل ہو گزری بات ہے نقش بر آبمستقبل کی سوچ، اٹھا یہ ماضی کی پارینہ کتابمنزل ہے یہ ہوش و خبر کی اس آباد خرابے میںدیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں
میرے شہر کے سارے رستے بند ہیں لوگومیں اس شہر کا نغمہ گرجو دو اک موسم غربت کے دکھ جھیل کے آیاتاکہ اپنے گھر کی دیواروں سےاپنی تھکی ہوئی اور ترسی ہوئیآنکھیں سہلاؤںاپنے دروازے کے اترتے روغن کواپنے اشکوں سے صیقل کر لوںاپنے چمن کے جلے ہوئے پودوںاور گرد آلود درختوں کیمردہ شاخوں پر بین کروںہر مہجور ستون کو اتنا ٹوٹ کے چوموںمیرے لبوں کے خون سےان کے نقش و نگار سبھی جی اٹھیںگلی کے لوگوں کو اتنا دیکھوںاتنا دیکھوںمیری آنکھیںبرسوں کی ترسی ہوئی آنکھیںچہروں کے آنگن بن جائیںپھر میں اپنا ساز اٹھاؤںآنسوؤں اور مسکانوں سے جھلمل جھلملنظمیں غزلیں گیت سناؤںاپنے پیاروںدرد کے ماروں کا درماں بن جاؤںلیکن میرے شہر کے سارے رستوں پراب باڑ ہے لوہے کے کانٹوں کیشہ دروازے پر کچھ پہرے دار کھڑے ہیںجو مجھ سے اور مجھ جیسے دل والوں کیپہچان سے عاریمیرے ساز سےسنگینوں سے بات کریںمیں ان سے کہتا ہوںدیکھومیں اس شہر کا نغمہ گر ہوںبرسوں بعد کڑی راہوں کیساری اذیت جھیل کے اب واپس آیا ہوںاس مٹی کی خاطرجس کی خوشبوئیںدنیا بھر کی دوشیزاؤں کے جسموں کی مہکوں سےاور سارے جہاں کےسبھی گلابوں سےبڑھ کر ہےمجھ کو شہر میںمیرے شہر میں جانے دولیکن تنے ہوئے نیزوں نےمیرے جسم کو یوں برمایامیرے ساز کو یوں ریزایامیرا ہمکتا خون اور میرے سسکتے نغمےشہ دروازے کی دہلیز سےرستے رستےشہر کے اندر جا پہنچے ہیںاور میں اپنے جسم کا ملبہساز کا لاشہاپنے شہر کے شہ دروازےکی دہلیز پہ چھوڑ کےپھر انجانے شہروں کی شہراہوں پرمجبور سفر ہوںجن کو تج کر گھر آیا تھاجن کو تج کر گھر آیا تھا
نگاہوں کا مقدر آ کے چمکاتی ہے دیوالیپہن کر دیپ مالا ناز فرماتی ہے دیوالی
بہت سے کام ہیںلپٹی ہوئی دھرتی کو پھیلا دیںدرختوں کو اگائیںڈالیوں پہ پھول مہکا دیںپہاڑوں کو قرینے سے لگائیںچاند لٹکائیںخلاؤں کے سروں پہ نیلگوں آکاشپھیلائیںستاروں کو کریں روشنہواؤں کو گتی دے دیںپھدکتے پتھروں کو پنکھ دے کر نغمگی دے دیںلبوں کو مسکراہٹانکھڑیوں کو روشنی دے دیںسڑک پر ڈولتی پرچھائیوں کوزندگی دے دیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books