aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "marsiye"
اور دلوں کے مرثیےاک دوسرے کے نام کر دیتے
کہیں گونجتے تھے وہ مرثیےکہ انیسؔ نے بھی کہے نہیں
۱دور جا کر قریب ہو جتنے
ہاں میری بیاض شعر میں بھیبربادئ دل کے مرثیے ہیں
ہم نے فرعون کا قصیدہ لکھاہم نے کوفے میں مرثیے بیچے
سروں کو تھامے قصیدے اداس بیٹھے ہیںہے مرثیے کی نگاہوں میں ابر ٹھہرا ہوا
نظم جو مرنے والوں کے غم میں لکھیںاس کو ہم اے میاں مرثیہ ہی کہیں
دھیمے سر میں گاتےحیات ناپائیدار کے مرثیے سناتے
تھیں لرزتی کانپتی ڈالیاںکہ لبوں پہ سب کے تھے مرثیے
نظم کی شاعرہ!مرثیے مانگتی، بے گناہی کا تازہ لہو تھوکتی
دیار شوق میں گونجے ہیں مرثیے کتنےبجھا گئی ہے نسیم سحر دیے کتنے
ہاں مگر عشق وہ ہے کہ جس کے لیےاس کے غم میں نہ گائے کوئی مرثیے
لٹے ہوئے قدیم قافلوں کے مرثیے ہو تممری ہر ایک سانس میں غزل کی اک کتاب ہے
مرثیے پڑھےاور تم پھر بھی ساکت بیٹھے ہو
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہے
ہے میری زندگی اب روز و شب یک مجلس غم ہاعزا ہا مرثیہ ہا گریہ ہا آشوب ماتم ہا
دوسری مالیے کے بہانے سے سرکار نے کاٹ لی ہےجس کی پگ زور والوں کے پاؤں تلے
ہے مگر کیا اس یہودی کی شرارت کا جوابوہ کلیم بے تجلی وہ مسیح بے صلیب
وہ خواب سارے شباب سارےجو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے
ہے مرثیہ خواں قوم ہیں اردو کے بہت کمکہہ دو کہ انیسؔ اس کا لکھیں مرثیۂ غم
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books