aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mukarram"
اب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیں
گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھییہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہے
تیرے قبضہ میں ہے گردوں تری ٹھوکر میں زمیںہاں اٹھا جلد اٹھا پائے مقدر سے جبیں
ہے ان کی بے حسی میں تو مقدس تر حرامی پنمگر آہنگ میرا کھو گیا شاید کہاں جانے
معززین عدالت بھی حلف اٹھانے کومثال سائل مبرم نشستہ راہ میں ہیں
اب چمکے گا بے صبر نگاہوں کا مقدراس بام سے نکلے گا ترے حسن کا خورشید
اک بجھی روح لٹے جسم کے ڈھانچے میں لیےسوچتی ہوں میں کہاں جا کے مقدر پھوڑوں
وہ کتاب حسن وہ علم و ادب کی طالبہوہ مہذب وہ مؤدب وہ مقدس راہبہ
بہت قدیم فراق تھا جس میںایک مقرر حد سے آگے
پوچھ کر اپنی نگاہوں سے بتا دے مجھ کومیری راتوں کے مقدر میں سحر ہے کہ نہیں
ان کے بھی مقدر میں لکھی اک خون میں لتھڑی شام نہ ہوسورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے
اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارکاک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
ہے ازل سے ان غریبوں کے مقدر میں سجودان کی فطرت کا تقاضا ہے نماز بے قیام
ترک خرگاہی ہو یا اعرابیٔ والا گہرنسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہو گئی
یہ جشن مبارک ہو پر یہ بھی صداقت ہےہم لوگ حقیقت کے احساس سے عاری ہیں
فضاؤں میں سنوارا اک حد فاصل مقرر کیچٹانیں چیر کر دریا نکالے خاک اسفل سے
زندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہیںٹوٹنا جس کا مقدر ہو یہ وہ گوہر نہیں
بس ترا نام ہی مکمل ہےاس سے بہتر بھی نظم کیا ہوگی!
ناقوس کی آواز آتی ہےکیا اب بھی مقدس مسجد پر
جس کے مقدر میں رہیصبح طلب سے تیرگی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books