aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nafas-e-be-asar"
ہر نفس اپنا امنگوں کی ہے تفسیر نئیآج ہر سانس سے بے باک ارادے ہیں عیاںاب کے تزئین چمن ہوگی لہو کی سرخیفصل گل اب کے نئے جلوے بکھیرے گی یہاں
نالۂ بے اثر اللہ کے بندوں کے لیےصلۂ دار و رسن حق کے رسولوں کے لیےقصر شداد کے در بند ہیں بھوکوں کے لیےپھونک دو قصر کو گر کن کا تماشا ہے یہیزندگی چھین لو دنیا سے جو دنیا ہے یہی
اے دل بے خبرجو ہوا جا چکی اب نہیں آئے گیجو شجر ٹوٹ جاتا ہے پھلتا نہیںواپسی موسموں کا مقدر تو ہےجو سماں بیت جائے پلٹتا نہیںجانے والے نہیں لوٹتے عمر بھراب کسے ڈھونڈھتا ہے سر رہ گزراے دل کم نظر اے مرے بے خبر اے مرے ہم سفروہ تو خوشبو تھا اگلے نگر جا چکاچاندنی تھا ہوا صرف رنگ قمرخواب تھا آنکھ کھلتے ہی اوجھل ہواپیڑ تھا رت بدلتے ہوا بے ثمراے دل بے اثر اے مرے چارہ گریہ ہے کس کو خبر!کب ہوائے سفر کا اشارہ ملے!کب کھلیں ساحلوں پر سفینوں کے پرکون جانے کہاں منزل موج ہے!کس جزیرے پہ ہے شاہ زادی کا گھر اے مرے چارہ گراے دل بے خبر کم نظر معتبرتو کہ مدت سے ہے زیر بار سفربے قرار سفرریل کی بے ہنر پٹریوں کی طرحآس کے بے ثمر موسموں کی طرحبے جہت منزلوں کی مسافت میں ہےرستہ بھولے ہوئے رہرووں کی طرحچوب نار سفراعتبار نظر کس گماں پر کریںاے دل بے بصریہ تو ساحل پہ بھی دیکھتی ہے بھنورریت میں کشت کرتی ہے آب بقاکھولتی ہے ہواؤں میں باب اثرتجھ کو رکھتی ہے یہ زیب دار سفر بے قرار سفراے دل بے ہنرگرم سانسوں کی وہ خوشبوئیں بھول جاوہ چہکتی ہوئی دھڑکنیں بھول جابھول جا نرم ہونٹوں کی شادابیاںحرف اقرار کی لذتیں بھول جابھول جا وہ ہوا بھول جا وہ نگرکون جانے کہاں روشنی کھو گئیلٹ گیا ہے کہاں کاروان سحراب کہاں گیسوؤں کے وہ سائے کہاںاس کی آہٹ سے چمکے ہوئے بام و در اے دل بے بصررنگ آسودگی کے تماشے کہاںجھٹپٹا ہے یہاں رہ گزر رہ گزروہ تو خوشبو تھا اگلے نگر جا چکااب کسے ڈھونڈھتا ہے ارے بے خبرجانے والے نہیں لوٹتے عمر بھراے دل کم نظر اے مرے چارہ گر اے مرے ہم سفر
اے خدا ان سلگتے ہونٹوں کیکیا دعا بے اثر گئی ہوگی
بادشاہوں کا قصۂ من و توتیرہ سکوں کا تیرہ تر جادوسرخ تاریکیاں سیاہ لہومنتشر رات منتشر گیسوبے اثر آہ بے اثر آنسو
چھائی ہوئی ہے تیرگی اس پہ یہ منہ کی ہے جھڑیرات کٹے گی کس طرح حشر نما ہے ہر گھڑیدیکھتی ہے سوئے فلک ہائے ترس ترس کے آنکھاور مجھے ڈبوئے گی آج برس برس کے آنکھگریہ بے اثر مرا اپنا اثر دکھائے کیادل کی لگی بجھائے کیا دل کی لگی بجھائے کیاآج یہ ابر کی گرج خوب رلائے گی مجھےلوں گی ہزار کروٹیں نیند نہ آئے گی مجھےسینے میں دل کباب ہے مجھ سے ہو صبر کس طرحایک بلا شباب ہے مجھ سے ہو جبر کس طرحکوند رہی ہیں بجلیاں ابر کا زور شور ہےمیں ہوں کہ بے قرار ہوں تم ہو کہ خواب گور ہےمیں نے سہے ہیں دکھ پہ دکھ عمر کٹے گی یاس میںطبع کو انتشار ہے اور خلل حواس میںضبط کہاں سے لاؤں میں سرد ہوا کو دیکھ کرجان پہ ہے بنی ہوئی شب کی فضا کو دیکھ کربرق کی تیغ ہے ستم سینہ فگار کیوں نہ ہوزخم جگر ہرے ہوئے یاد بہار کیوں نہ ہورات کی بات یاد ہے رات کا پیار یاد ہےنیند بھری وہ چشم مست اس کا خمار یاد ہےہے یہ جنازۂ شباب یا کہ مرا پلنگ ہےآہ تمہیں خبر نہیں جان سے کوئی تنگ ہےکیا ہی وہ خوش نصیب ہیں راج ہے اور سہاگ ہےموتیوں سے بھری ہے مانگ رنگ ہے اور راگ ہےکیا ہی وہ خوش نصیب ہیں جن کے لئے سنگار ہےآہ مرا شباب حسن رنج سے ہمکنار ہےکوک رہی ہیں کوئلیں جھوم رہی ہیں ڈالیاںپاپی پپیہا اس طرف بول رہا ہے پی کہاںپی ہے کہاں بتاؤں کیا قصۂ غم سناؤں کیاموت بھی راہبر نہیں پی کا سراغ پاؤں کیااف یہ کلیجے کی دھڑک ہائے یہ آہ و زاریاںخلق ہے میٹھی نیند میں مجھ کو ہیں بے قراریاںجوش ہے پائمال غم پست ہیں جی کے حوصلےرسم و رواج کا اثر مٹ رہا ہے ولولے
صنم کدوں میں چراغاں ہے مے کدوں کی طرفنگاہ پیر مغاں کی سبیل جاری ہےہر اک فسوں ہے، مگر بے اثر ہے چارہ گرو
مجھ میں اترو خمار شب ہو کرمجھ پہ بکھرو نہ تم طرب ہو کرمجھ کو دنیا سے بے خبر کر دومجھ پہ دنیا کو بے اثر کر دو
پیش آتے ہیں جو باہر حکمرانوں کی طرحگفتگو کرتے ہیں جو رستم زمانوں کی طرحگھر میں رہتے ہیں مگر وہ بے زبانوں کی طرحکاٹتے ہیں وقت اپنا نیم جانوں کی طرحسامنے بیگم کے ان کی ہر بڑائی بے اثراے مرے ہمدم خدا کے واسطے شادی نہ کر
جسم کی بھی ایک جمہوریت ہےجو ہر کس و ناکس میں بے نام تقسیم ہو کےآدمی کو بے اثر کر دیتی ہےجسم کی بھی ایک آمریت ہوتی ہےجو کسی ایک میں جل بجھ کےسب کے لیے راکھ بن جاتی ہے
گر کبھی ایسے ہیکچھ نرم سے جذبات کوالفاظ کا پیراہن دوںہتھکڑی ہاتھ میں پڑ جاتی ہےاور کاغذ پہ کسیپردۂ سیمیں کی طرحایک ایک کر کےابھرتے ہیںہزاروں چہرےبین کرتے ہوئےبے اثر گمنام سوالپوچھتے ہیں کے یہ انصافلہو میں کب تک
در حقیقت خامشی معراج ہے گفتار کیاس سے بہتر کوئی بھی صورت نہیں اظہار کیہو گئی ہے نطق کی ہر ہر ادا جب بے اثرمیں نے دیکھا ہے طلسم خامشی کو کارگرخامشی ایسے بھی لمحوں کی کہانی کہہ گئیجن میں گویائی پشیمانی اٹھا کر رہ گئی
وہ پریم چند منشئ بے مثل و بے بدلتھی جس کے دم سے بزم ادب میں چہل پہلافسانے جس کے شمع ہدایت تھے بر محلنا وقت آہ ہو گیا وہ لقمۂ اجلاس سوز جاں گسل سے ہر اک دل کباب ہےفرط تپش ہے آتش غم بے حساب ہےعلمی شغف سے اس کے نہیں کون باخبرہر قلب پر فسانے ہوئے نقش کالحجرہے بحر علم تیری روانی سے سربسردامان و جیب اردو و ہندی ہیں پر گہرطرز بیاں ہر ایک کا تو نے دکھا دیادھبہ ہر اک کا اپنے قلم سے مٹا دیابزم ادب کو خواب میں بھی یہ نہ تھا خیالانیس سو چھتیس کا نحس ہوگا اس کو سالاول وفات برق کا اس کو ہوا ملالپھر چل دیا جہان سے یہ منشی با کمالنقش قرار سیل فنا سے مٹا ہے آجایوان نظم و نثر میں ماتم بپا ہے آجتجھ کو پریم چند یہ شاید نہیں خبرکتنا وفات کا تری دنیا پہ ہے اثرصوفیؔ جہاں میں ڈھونڈھتی ہے اس کو ہر نظراے ماہتاب عشق بتا تو چھپا کدھرکیا شوق سامعیں کا فراموش ہو گیاافسانہ کہتے کہتے جو خود ہائے سو گیا
قل الروح من امر ربیان لوگوں سے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہر بات لفظ سے شروع ہوتی ہےمیں آج ان کو چھوڑنے آیا ہوںٹھیک اس جگہ پہ جہاں سے کوئی لفظ شروع نہیں ہوتاصرف چند آنکھیں ہوتی ہیں ان آنکھوں آنکھوں کو رکھنے کے کے ہوا ہوا میں ڈولتی ہیںصرف چند آنکھیں ہوتی ہیں آسمان کے چھوٹے سے ٹکڑے کو اتار کر دیر تک گونجتی رہیصرف چند آنکھیں ہوتی ہیں جو انتظار کرتی ہیں کہ کوئی ان میں اترےاور ان سے کہے کہ چلو ہم تمہیں پھر سے پیڑوں اور پرندوں سے آباد کر دیںچلو پھر سے تمہیں بے لوث محبت کی جلوتیں اور خلوتیں بخش دےسو یہ میرا قصہ ہے کہ میں نے اترنے کی روایت کا بڑا احترام کیاخود کو بھول دوسروں کا کام کیایہ ابھاگ ان کا تھا کہ انہوں نے مجھے پہچانا نہیںمیں کوئی اور راہ ہو لیتا پر دل مانا نہیںمیں بہت پاس سے گزرا تھادل ہی دل میں جو عمر بھر لہراتی ہے زبان پر کبھی نہیں آتیاس موسیقی کا لمس بن کے میں بہت پاس سے گزرا تھامیں بہت پاس سے گزرا تھااور میری آمد کے عرصہ میں زمین کی آب و ہوانیکی و بدی خوبصورتی و بد صورتی سب سے بے نیاز تھی سراپا راز تھیاور گیان ایک جاگے ہوئے دل کا نام تھاسوالوں سے بے بے نیاز جواب نا تمام تھاخدا سے ملتی جلتی آدمی کی محبتبچھڑی ہوئی ازل کی نعمتہر چند کہ حاصل ابد ہےاور بے نیاز نیک و بد ہےپھر بھی نظر میں آدمی کی اوقاتاور دنیا جو جسم و جاں کی حد ہےاور کے حقیر راستوں میں تم مجھ سے شاعری کا مطلب پوچھتے ہومیں نہیں بتا سکتا میں کیوں بتاؤں میں نہیں بتاتایہ قصہ میری دیہاتی آنکھوں میرے دیہاتی دل کا ہےجب بہت بہت گھنی رات میں مسافر کے پاؤں تلے راستہ نہیں ہوتاتب وہ کس انوکھے ستارے سے راستہ پوچھتا ہےتب کون سا اشارہ مسافر کے پاؤں کو تاریک کر دینے کی شرط بتاتا ہےپیڑ کی پھلنگی پر مہوکھا بولتا ہےپانی کی زبان جاننے والی ٹٹہری کی چونچ سے دن نکلتا ہےتم نہیں بتا سکتے تم نے کبھی نہیں بتایا تم کبھی نہیں بتاؤگےتمہاری آبادیاں اکال میں مرے ہوئے لوگوں کی بد دعائیں ہیںماضی حال مستقبل تین اندھے فقیروں کی صدائیں ہیںمیں تم میں شامل سفر ہوں مگر پناہ مانگتا اپنی اجل کو ڈھونڈھتا ہوںاور جو اپنی اجل کو ڈھونڈھتا ہےتمہاری دنیا اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیمگر میں ایسے عہد با اثر میں ہوںکہ جس کی ہر صدا صدائے بے اثر ہےاور گفتگو کا پیڑ بے ثمر ہےخدا سے کر چکے ہیں جو کلام وہ کلیم اپنی بازگشت چھوڑ کے چلے گئےاور خاک باز گشت آجاڑ رہی ہے التباس میںاور وہ خامشی تھی جو مہان آتما کا رمز تھیاور اس کی آنکھ سبز تھیپھر بھی سوچ کے جی ڈرتا ہےپھر بھی سوچ کے جی ڈرتا ہےجانے والے آنے والوں کو ایسی ہی آس بندھاتے ہیںہاتھ نہیں آتی ہے امر لتایہاں پہنچ کر میں سوچتا ہوںیہاں پہنچ کر میں سوچتا ہوںمجھے آنسو کس نے دئےاور کون سا آنسو میرے ورثہ کا باطن ہےکس سے بچھڑ کر مٹی پانی بنتی ہےندی اکیلی بہتی ہےدنیا چھوڑ کے کون سمندر کی تہ میں بیٹھ کے لکھتا ہے اور اپنا قلم ڈبوتا ہےجس پل پر چل کے کہنے والا سننے والے تک پہنچتا ہےوہ ایک ایسا سچ ہے جسے موت زندگی سے چھپ کر بولتی ہےانسانی دل کی شکل سے ملتے جلتے خیمے اب بھی جلتے ہیں
فہم و ادراک و احساس یوں بے اثرجیسے میں اک کھنڈراور تو مجھ میں لفظوں کا زندہ شجراپنی پر پیچ بانہوں سے سایہ فگناور میں بے خبرمیرے زندہ شجرتیرے سائے میں آئندگاں کی مہکتیری سرسر میں بھی رفتگاں کی گرج
سوچتا ہوں کیا لکھوںلفظ بے معنی ہیں سارے بے اثر تحریر ہےذہن خوابیدہ ہےرسوا خواب کی تعبیر ہےایک سناٹا ہے طاری چار سودل ہیں ویراںمحفلیں سنسان ہیںروح بھی مجروح ہےاور جسم بھی بے جان ہےلمحہ لمحہ ڈس رہی ہے تیرگیبڑھ رہا ہے ظلمت شب کا فسوں
خامشی گر تمہیں مرغوب ہے تنہا ہی رہوزندگی شور سے منسوب ہے تنہا ہی رہوٹوٹے آئینے ہیں اور عکس بھی ہیں مسخ شدہیہ صداقت کسے مطلوب ہے تنہا ہی رہواب تو ہر سمت تماشے ہیں وما ادراکبے اثر صحبت مجذوب ہے تنہا ہی رہوتم جسے شافع حاجات سمجھتے ہو یہاںوہ کسی اور کا مندوب ہے تنہا ہی رہوظلمت عقل ہدایت سے منور نہ ہوئیکیسے دیکھو گے جو محجوب ہے تنہا ہی رہو
سونا سونا ہے گھربے اثر بام و دریوں نہ ہوگی بسرمجھ کو آواز دےروح گھبرائی ہےتیرگی چھائی ہےاے دمکتی سحرمجھ کو آواز دےاشک بہنے لگےزخم کھلنے لگےاے مرے چارہ گرمجھ کو آواز دےزندگی کچھ نہیںروشنی کچھ نہیںبن ترے ہم سفرمجھ کو آواز دےآرزو کے لئےجستجو کے لئےہر نئے موڑ پرمجھ کو آواز دےہے مجھے یہ خبرتو نہیں بے خبردل بضد ہے مگرمجھ کو آواز دےکوئی کب تک جیےکب تلک کے لئےلمحۂ مختصرمجھ کو آواز دے
بیوہ ہیں نالۂ غم ہے با اثر ہماراتڑپائے گا دلوں کو درد جگر ہماراسرتاج اٹھ گیا ہے آخر کدھر ہماراویراں ہو گیا ہے آباد گھر ہماراعبرت کی جا ہے پھرنا یوں در بدر ہمارا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books