aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nator"
مجھ سے سہیلی نے کہاممتاز ایسا لکھتی جاجس میں ہوں کچھ چوڑیوںجھنکار کی باتیںکچھ تذکرے ہوں چنریوں کےاظہار کی باتیںاڑتے سنہری آنچلوں میںموتیوں کی سی لڑیپہلی وہ شیطانی میریپہلی وہ جو میری ہنسیبالی عمر کی دل کشیوہ بچپنے کی شوخیاںخوابوں میں خواہش کے سرابدھڑکن کی وہ سرگوشیاںگوٹا کناری ٹانکتےانگلیوں میں سوئی کی چبھندانتوں میں انگلی داب کرہوتی شروع پھر سے لگنپہلی دفعہ دھڑکا تھا کبیہ دل تجھے کچھ یاد ہےوہ خوشبوؤں رنگوں کی دنیااب بھی کیا آباد ہےمیں نے کہا میری سکھیدنیا کیا تو نے نہ تکیمصروف اتنی زندگیکہ چوڑیاں پہنی نہیںجو چنریاں رنگین تھیںوہ دھوپ لے کر اڑ گئیںمیری عمر کی تتلیاںاب اور جانب مڑ گئیںاب دوپٹوں پر کبھی نہگوٹا موتی ٹانکتی ہوںسوئیاں ہاتھوں پر نہیں ابدل کو اپنے ٹانکتی ہوںخوشبوؤں کے دیس سےمیں دور اتنی آ گئیجینے کی خاطرمرد ساانداز میں اپنا گئیرشتوں کو ناطوں کو نبھاتےفرض ادا کرتے ہوئےتو نے جو چونکایا لگامدت ہوئی عورت ہوئے
جنگل جنگل پڑی پکارچوہے نے چھاپہ اخبارنیلے پیلے صفحے چارتصویریں چالیس ہزاراس پر خبروں کی بھر مارایک کے اوپر ایک سواررشتے ناطوں کے جھگڑےطوطے مینا کی تکرارپھول سجائے بلبل نےخوب رہا مینا بازاربندر کی تصویروں پرشہد کی مکھی کی یلغارگیدڑ نے اعلان کیاسارس گیا سمندر پارزرافے کی گردن میںکھیلوں کی خبروں کے ہارہاتھی دنگل جیت گیاشیر چلا کرنے کو شکاربکرے دنبے اور ہرنکھڑے ہوئے ہیں نمبردارکوئل سائے میں خوش ہےبھینسے گرمی سے بیزارمہنگائی میں مندہ ہےبھالو سیٹھ کا کاروبارلومڑ کھو گیا رستے میںامی روئیں زار و زارسہی معمہ حل کر کےبکری جیتی پانچ ہزارلیکن جنگل میں کیا ہےگاہک آئے بس دو چارکتر کتر کر کھا گیا آخرچوہا سب ردی اخبارچوہے نے چھاپہ اخبار
بھیڑ کیا کون سے لوگ ہیںمہربانوں کی رشتوں کی ناطوں کی بھیڑجنہیں مجھ سے بڑھ کر تمنا ہے تنخواہ کے چیک کیبھیڑ کیا کون سے لوگ ہیںمری غم-نوازی سے بڑھ کر جنہیں صرف کافی کا پیالہ بہت ہےبھیڑ کیا کون سب ہیںان حسیناؤں کی جن کے آنچل کبھی خواب میں بھی نہ بھیگےمیری چاہ میںمجھے بھیڑ سے واسطہ کیامجھے کیا دھنک رنگ ہولی کا اڑتا گلالمجھے اپنے مرقد پہ ہنسنے کا موقع ملاابھی برف باری تھمی ہےذرا وقت کی چال مدھم ہوئی ہے
وہ شاہزادہ جو جنگلوں میں تلاش کرتا رہا تھا پانیوہیں پہ اس کو پری ملی تھیتمام جنگل بھی کٹ چکے ہیںسراج انور کے سارے جنگل کہیں نہیں ہیںوہ ساری پریاں بھی سو گئی ہیںنہ شہزادےنہ کوئی جادو بھری کہانی کہاں ہیں نسطور کے وہ قصےجو ہاتھ اپنا بڑھا کے داوات کھینچتا تھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books