aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ohda-baraa"
تاریخ کے بنے ہوئے تھیلوں میں ہمیشہکوئی بے حد اہم چیز رہ جاتی ہےبے شک ہوائیں عظیم ترین صناع ہیںان خرابوں کی جو نقش ہیں بے رنگی کے ساتھایک پر اسرار غیر معروف اندھیرے کی دبیز دیواروں پرلیکن آنکھیںایسے پیچیدہ منظر کوصحت اور ثقاہت کے ساتھنقل نہیں کر سکتیںخواہ بینائی کی کسی بھی قبیل سےعلاقہ رکھتی ہوںاب بالکل نیا تناظر ضروری ہےاس نا دیدنی سے عہدہ برا ہونے کے لیےورنہ دیکھنا ایک احمقانہ تصور ہے جسےبس آنکھیں ہی مانتی ہیں
میں اگر شاعر تھا مولا تو مری عہدہ برائی کیا تھی آخرشاعری میں متکفل تھا تو یہ کیسی نا مناسب احتمالیکیا کروں میںبند کر دوں اپنا باب لفظ و معنیاور کہف کے غار میں جھانکوں جہاں بیٹھے ہوئےاصحاب معبود حقیقی کی عبادت میں مگن ہیںاور سگ تازی سا چوکیدار ان کے پاس بیٹھوںوحدت و توحید کا پیغام سن کرورد کی صورت اسے دہراتا جاؤںپوچھتا ہوںکیا مری مشق سخن توحید کی ازلی شناساو قرض کے بگتاشن کی داعی نہیں ہےمیں تو راس المال سارا پیشگی ہی دے چکا ہوںقرض کی واپس ادائی میںمرے الفاظ کا سارا ذخیرہ لٹ چکا ہےشعر کو حرف و ندا میں ڈھالناتسبیح و تہلیل و عبادت سے کہاں کمتر ہے مولاشاعری جزویست از پیغمبری کس نے کہا تھامیں تو اتنا جانتا ہوںمیری تمجید و پرستش لفظ کی قرات میں ڈھلتی ہےتو پھر تخلیق کا واضح عمل تسبیح یا مالا کے منکوں کی طرح ہے
ایک شب تو طبع موزوں نے اڑا دی نیند بھیاور دماغ و قلب کی رگ رگ پھڑکنے لگ گئیذہن پر چھانے لگیں پھر شاعری کی بدلیاںعالم مشہود کا چھپنے لگا پھر آسماںآمد موزوں تھی یا بڑھتا ہوا سیلاب تھاشعر کاغذ پر نکھرنے کے لیے بیتاب تھااک تلاطم سا بپا تھا بحر احساسات میںبے ثباتی حکمراں تھی عالم اثبات میںطبع کہتی تھی زمانے بھر کی آنکھیں کھول دوںذرہ و خورشید میزان سخن میں تول دوںذرہ ذرہ کو سنا دوں آج پیغام حیاتاک اشارے سے بدل دوں یہ نظام کائناتگنبد گردوں پہ اب تخئیل کی پرواز تھیدل کی دھڑکن جیسے اسرافیل کی آواز تھیخامہ تھا یا کہ کوئی رخش صبا رفتار تھاجو تخیل کی ہوا سے برسر پیکار تھادفعتاً دو نرم و نازک ہاتھ شانوں سے لگےبرق خرمن سوز جیسے آشیانے پر گرےمڑ کے دیکھا تو کھڑا ہے ایک طفل خورد سالجس کی آنکھوں میں تمنا جس کی نظروں میں سوالمدرسے کی فیس پنسل پن کتابیں کاپیاںمشتمل تھا چند اشیاء پر نگاہوں کا بیاںاور پھر اس طفل کی صورت پہ گہری سوچ تھیجو مجھے اک دعوت فکر و عمل سی دے گئیمیں نے دیکھا ذہن میں اک گیند ہے لٹو بھی ہےاور پنسل چھیلنے کا خوش نما چاقو بھی ہےخوب صورت ہیٹ ہے اک خوش نما پوشاک ہےذہن کی گردش کا محور ٹرائیکل کا چاک ہےٹکٹکی سی باندھ کر کچھ دیر تک دیکھا کیامیں اسی عالم میں پھر محسوس یوں کرنے لگااک جمودی کیفیت چھانے لگی ادراک پرعرش سے گرتا ہو جیسے کوئی فرش خاک پرذہن سے جوش سخن کا رنگ کم ہونے لگاطبع موزوں کا سر تسلیم خم ہونے لگاایک مایوسی دماغ و قلب پر چھانے لگیاور جماہی پر جماہی نیند سی آنے لگیپھر پلٹ کر کی نظر اپنی ادھوری نظم پرایک بجلی سی گری میرے دماغ و قلب پرموت کی تھی حکمرانی پیکر احساس پرشاعری کا تھا جنازہ بستر قرطاس پر
کہا دوست نے اے ذہیں چل بتابنی مرغی پہلے کہ انڈا بنا
نقش بر آب ہے وابستگئ حسن و شبابنکہت گل کی طرح عشق ہے پابند ہوااس سے بہتر تھا کہ مجھ سے تجھے نفرت ہوتیپھول مرجھاتے ہیں کانٹا نہیں مرجھا سکتاتیر نفرت کا رہا کرتا ہے دل میں پیوستشمع یہ تیرگیٔ غم میں بھی تابندہ رہےدست نفرت کی بنائی ہوئی دیوار اداسنگ و آہن کی طرح پختہ و پائندہ رہے
شام ہوتی ہے سحر ہوتی ہے یہ وقت رواںجو کبھی سنگ گراں بن کے مرے سر پہ گراراہ میں آیا کبھی میری ہمالہ بن کرجو کبھی عقدہ بنا ایسا کہ حل ہی نہ ہوااشک بن کر مری آنکھوں سے کبھی ٹپکا ہےجو کبھی خون جگر بن کے مژہ پر آیاآج بے واسطہ یوں گزرا چلا جاتا ہےجیسے میں کشمکش زیست میں شامل ہی نہیں!
اف میں کس رہ میں غم دل کا مداوا ڈھونڈوںکس طرف جاؤں کسے دل سے لگائے رکھوںزندگی بھر کہ پھر اس زیست کو جنت سمجھوںہر دم ایک ایک نفس چاہے جدھر جا کے رہوںکون اس زیست کو کر سکتا ہے محدود و مقیماس کی ایک ایک ادا برق صفت شعلہ نفسجی رہا ہوں نئی امید لئے ہر اک پلغم لئے دل میں کہ میں کیا نہ بنا کیوں نہ بناخوش ہوں ہر غم سے کہ ادراک کی سوغات ہے یہسوچ لیتا ہوں کہ میں کیا ہوں یہی کیا کم ہے
حرفگویائی کی زنجیر میں جب قید ہوااسم بناعہد بنانظم بناقصۂ کام و دہن کا غم مطلوب بناخوب و نا خوب بناحرف نا گفتہمگر ذہن کا آزار بنادل کی دیوار بناراہ دشوار بناقصۂ شوق کی وارفتہ کہانی نہ بناحیلۂ وصل کی غم دیدہ نشانی نہ بناوار ہے منزل گویائیسبھی جانتے ہیںحرف نا گفتہ کے یہ زخم مگر میرے ہیںجن کو تنہائی مریمجھ سے سوا جانتی ہے
وہ اب بھی سمندر میںاٹھلاتی سطحوں کے نیلے بہاؤ میںاپنے الاؤ میںقصر زمرد میں تنہا بھٹکتی ہےاک با آہ آب و آتش میںرنگوں کی بارش میںاب بھی وہ زلفیں جھٹکتی ہےتو عود و عنبر کی مہکار آتی ہےقطرات اڑ کردہن کتنے گھونگوں کا بھرتے ہیںاس کی جھلک دیکھنے کے لئےآج بھی لوگ مرتے ہیںاب بھی یہاں کشتیوں آب دوزوںجہازوں کے عرشوں پہاس کی ہی باتیں ہیںدنیا کے سیاحساتوں سمندر کے ملاحاس کے نہ ہونے پہہونے پہ تکرار کرتے ہیںاس کی کشش میںبہت دور کے پانیوں میںسفر کے لئےخود کو تیار کرتے ہیں
بجانماز جنازہ ہم نے ادا تو کی تھیپہ تجھ کو سجدہ نہیں کیا تھا
رنگوں کی پھلوار سے سجنیرنگ بنا سنسارنیلا پیلا اودا لالرنگوں کا دربارجاگ گیا سنسارہولی کا تہواران رنگوں کو رنگ نہ سمجھومہکے ان سے بستی بستی نگری نگری ہر اک دواریک جہتی اخلاص محبت امن مسرت پیاررنگوں کی پھلوار سے مہکا اب کے برس گلزاراب کے برس گلزاررنگ بنا سنسار
مادی دور کے جوانوں نےعہد حاضر کے پاسبانوں نےگنتیوں کا بنا کے اک لشکرکر لیا قبضہ ساری دنیا پرہندسے ہو گئے خرد کے نقیبضرب و تقسیم سے بنی تہذیبدہر کی رہنما ہوئی تعدادکچھ نہ باقی رہا بجز اعدادآدمیت کا غم مٹا ڈالااسم کو بھی عدد بنا ڈالا
آؤیادوں کی دہلیز پر بیٹھ کربادۂ عہد رفتہ کے ساغر میں ہمتلخیاں حال کی گھول دیںآج کو بھول کرکل کو آواز دیںآئنہ تو سلامت نہیں ہوگا ابتم نے سرگوشیوں میں دیا یوں جوابآئنہ میرے تم ہو سلامت رہو
روز اڑا دے نیندتلخی بھرا اک خوابخواب کے پردے پرروز یہ فلم چلےایک لق و دق دشتاس پہ کڑکتی دھوپبار گراں بر دوشاک ننھی سی جانتشنہ تھکن سے چوراور فقط امیداک بے سایہ پیڑ
مجھے تم سے کوئی محبت نہ الفتتعلق بھی اب ہے برائے تعلقمگر تم سے جب بھی ملا ہوںمجھے میرا سایہجسے میں وہیں چھوڑ آیاجہاں وہ خیالوں کی وادی میںخواہش کی تتلی کے پیچھے اڑا جا رہا تھاتمہاری گھنی زلف کی بدلیوں میںزمیں سے بہت دور لیکنمیرے پیر میں ڈور ایسی بندھی تھیکہ جس نے مجھے بدلیوں سے اٹھا کرزمیں پر بٹھا کرمیرے چاروں جانب کئی دائرے بن دئے ہیںہے دشوار جن سے نکلنامگر تم سے جب بھی ملا ہوںمجھے میرا سایہ بہت یاد آیا
بنا سکتا ہوں میں بھی خوبصورت کشتیاںلیکنبنانا چاہتا ہوں جب بھی کوئی خوش نما کشتیاڑا لیتا ہے کاغذ خشک موسممیرے ہاتھوں سے
چتونیں رجھانے والیسادگی ستانے والیہر ادا لبھانے والیکون سی ادا کرو گےاتنا حسن کیا کرو گے
ٹیلی ویژن عہد حاضر کا اک افلاطون ہےلگ گیا ہے جو ہمارے منہ کو یہ وہ خون ہےاس طرح ٹیلی ویژن کا ہر ڈراما ہو گیاجیسے لازم شیروانی پر پجامہ ہو گیااشتہار اس طرح لازم ہے خبر نامے کے بعدجیسے فل اسٹاپ کی موجودگی کامے کے بعداک ڈرامہ نشر ہوتا ہے جو آدھی رات میںوہ بہت مقبول ہے اس عہد کے جنات میںجس جگہ ٹائم بچا تھوڑا سا گانا دے دیارات کے بارہ بجے قومی ترانہ دے دیامحفل شعری کو آدھی رات میں بھگتا دیابھیرویں کا راگ پونے نو بجے چپکا دیاآج پھر فنی خرابی ہو گئی دو چار بارانتظار و انتظار و انتظار و انتظارٹیلی ویژن ہو گیا سنگین بیوی کی طرحاور بیوی ہو گئی رنگین ٹی وی کی طرح
ایک انساں کی حقیقت کیا ہےزندگی سے اسے نسبت کیا ہےآندھی اٹھے تو اڑا لے جائےموج بپھرے تو بہا لے جائےایک انساں کی حقیقت کیا ہےڈگمگائے تو سہارا نہ ملےسامنے ہو پہ کنارا نہ ملےایک انساں کی حقیقت کیا ہےکند تلوار قلم کر ڈالےسرد شعلہ ہی بھسم کر ڈالےزندگی سے اسے نسبت کیا ہےایک انساں کی حقیقت کیا ہے
بڑا شوق تھاکہ بسیں شہر لاہور میںچھوڑ کر زندگی یہ مضافات کیچل رہیں اس نگار وطن میںکہ جس میں ہیں ہر سو مہکتی فضائیںبرستی ہیں مخمور کالی گھٹائیںیہ لاہور تھامیرے خوابوں کا مسکنمری چاہتوں کا ختنگزارے تھے عہد جوانی میں میں نےیہاں سینکڑوں دنبرس ہا برس تکرہا میں مقیدبہت دور اس ایک چھوٹے نگر میںوہ چھوٹا نگر جس نے آسودگی دیدیا رزق بھی گرچہ مجھ کو فراواںمگر میرے دل میں وہ اترا نہیں ایک دن بھیزمین چاند موسم ستارےسبھی ایک سے تھےمگر پھر بھی مجھ کو وہ بھایا نہیں ایک دن بھیمجھے آخرش زندگی لے ہی آئیاسی میرے خوابوں کے گھر میںسمندر کی صورت افق تا افقدور پھیلے نگر میںولیکن وہ شہر نگاراں وہ شہر ختنمیری یادوں کا مسکننہ جانے کہاں ہے؟اسے آج تک ڈھونڈ پایا نہیں میںنہ وہ مال ہے نہ وہ شملہ پہاڑینہ ٹمٹم نہ ٹانگہ نہ اک آدھ گاڑیجمال سحر ہے نہ مہکی فضائیںسماعت پہ بار گراں موٹروں کی صدائیںہے شور قیامت دھواں ہی دھواں ہےمرا شہر لاہور جانے کہاں ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books