aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ojhal"
یہ واقعےحادثےتصادمہر ایک غماور ہر اک مسرتہر اک اذیتہر ایک لذتہر اک تبسمہر ایک آنسوہر ایک نغمہہر ایک خوشبووہ زخم کا درد ہوکہ وہ لمس کا ہو جادوخود اپنی آواز ہو کہ ماحول کی صدائیںیہ ذہن میں بنتی اور بگڑتی ہوئی فضائیںوہ فکر میں آئے زلزلے ہوں کہ دل کی ہلچلتمام احساسسارے جذبےیہ جیسے پتے ہیںبہتے پانی کی سطح پرجیسے تیرتے ہیںابھی یہاں ہیںابھی وہاں ہیںاور اب ہیں اوجھلدکھائی دیتا نہیں ہے لیکنیہ کچھ تو ہےجو کہ بہہ رہا ہےیہ کیسا دریا ہےکن پہاڑوں سے آ رہا ہےیہ کس سمندر کو جا رہا ہےیہ وقت کیا ہے
کچھ باتیں ان کہی رہنے دوکچھ باتیں ان سنی رہنے دوسب باتیں دل کی کہہ دیں اگرپھر باقی کیا رہ جائے گاسب باتیں اس کی سن لیں اگرپھر باقی کیا رہ جائے گااک اوجھل بے کلی رہنے دواک رنگیں ان بنی دنیا پراک کھڑکی ان کھلی رہنے دو
کل واشنگٹن شہر کی ہم نے سیر بہت کی یارگونج رہی تھی سب دنیا میں جس کی جے جے کارملکوں ملکوں ہم گھومے تھے بنجاروں کی مثللیکن اس کی سج دھج سچ مچ دل داروں کی مثلروشنیوں کے رنگ بہیں یوں رستہ نظر نہ آئےمن کی آنکھوں والا بھی یاں اندھا ہو ہو جائےاونچے بام چراغاں رستے روپ بھرے بازارجاگتی آنکھوں سے دیکھا ہے خوابوں کا سنسارایک سفید عمارت جس کی نگر نگر میں دھوماندر دنیا بھر کی کالک باہر سے معصومیہی سفید عمارت جس میں بہت بڑی سرکاریہیں کریں سوداگر چھوٹی قوموں کا بیوپاریہیں پہ جادو گر بیٹھا جب کہیں کی ڈور ہلائےہر بستی ناگا ساکی ہیروشیما بن جائےاسی عمارت سے کچھ دور ہی اک کالی دیوارلوگوں کا میلہ ایسا لگا تھا جیسے کوئی تیوہاراس کالی دیوار پہ کندہ دیکھے ہزاروں نامان ناموں کے بیچ لکھا تھا شہدائے وتنامآس پاس تو جمع ہوا تھا خلقت کا انبوہسب کی آنکھوں میں سناٹا چہروں پر اندوہبیکل بہنیں گھائل مائیں اور دکھی بیوائیںساجن تم کس دیس سدھارے سوچیں محبوبائیںاپنے پیاروں دل داروں کا اوجھل مکھڑا ڈھونڈیںاس کالی دیوار پہ ان کے نام کا ٹکڑا ڈھونڈیںدلوں میں دکھ آنکھوں میں شبنم ہاتھوں میں پھول اٹھائےاس ناموں کے قبرستان کا بھید کوئی کیا پائےنا تربت نا کتبہ کوئی نا ہڈی نا ماسپھر بھی پاگل نیناں کو تھی پیا ملن کی آسکہیں کہیں اس کالی سل پر کوئی سفید گلابیوں بے تاب پڑا تھا جیسے اندھی آنکھ کا خوابکانٹا بن کر سبھی کے دل میں کھٹکے ایک سوالکس کارن مٹی میں ملائے ہیروں جیسے لالہوچی من کے دیس میں ہم نے کیا کیا ستم نہ ڈھائےاس کے جیالے تو آزادی کا سورج لے آئےلیکن اتنے چاند گنوا کر ہم نے بھلا کیا پایاہم بد قسمت ایسے جن کو دھوپ ملی نا سایامکھ موتی دے کر حاصل کی یہ کالی دیواریہ کالی دیوار جو ہے بس اک خالی دیواریہ کالی دیوار جو ہے ناموں کا قبرستانواشنگٹن کے شہر میں دفن ہیں کس کس کے ارمان
مری نظروں سے اوجھل اب مقام جہد ہستی ہےنہ وہ احساس عشرت ہے، نہ وہ انجم پرستی ہےاکیلا جان کر مجھ کو مری تنہائی ڈستی ہے
اے دل بے خبرجو ہوا جا چکی اب نہیں آئے گیجو شجر ٹوٹ جاتا ہے پھلتا نہیںواپسی موسموں کا مقدر تو ہےجو سماں بیت جائے پلٹتا نہیںجانے والے نہیں لوٹتے عمر بھراب کسے ڈھونڈھتا ہے سر رہ گزراے دل کم نظر اے مرے بے خبر اے مرے ہم سفروہ تو خوشبو تھا اگلے نگر جا چکاچاندنی تھا ہوا صرف رنگ قمرخواب تھا آنکھ کھلتے ہی اوجھل ہواپیڑ تھا رت بدلتے ہوا بے ثمراے دل بے اثر اے مرے چارہ گریہ ہے کس کو خبر!کب ہوائے سفر کا اشارہ ملے!کب کھلیں ساحلوں پر سفینوں کے پرکون جانے کہاں منزل موج ہے!کس جزیرے پہ ہے شاہ زادی کا گھر اے مرے چارہ گراے دل بے خبر کم نظر معتبرتو کہ مدت سے ہے زیر بار سفربے قرار سفرریل کی بے ہنر پٹریوں کی طرحآس کے بے ثمر موسموں کی طرحبے جہت منزلوں کی مسافت میں ہےرستہ بھولے ہوئے رہرووں کی طرحچوب نار سفراعتبار نظر کس گماں پر کریںاے دل بے بصریہ تو ساحل پہ بھی دیکھتی ہے بھنورریت میں کشت کرتی ہے آب بقاکھولتی ہے ہواؤں میں باب اثرتجھ کو رکھتی ہے یہ زیب دار سفر بے قرار سفراے دل بے ہنرگرم سانسوں کی وہ خوشبوئیں بھول جاوہ چہکتی ہوئی دھڑکنیں بھول جابھول جا نرم ہونٹوں کی شادابیاںحرف اقرار کی لذتیں بھول جابھول جا وہ ہوا بھول جا وہ نگرکون جانے کہاں روشنی کھو گئیلٹ گیا ہے کہاں کاروان سحراب کہاں گیسوؤں کے وہ سائے کہاںاس کی آہٹ سے چمکے ہوئے بام و در اے دل بے بصررنگ آسودگی کے تماشے کہاںجھٹپٹا ہے یہاں رہ گزر رہ گزروہ تو خوشبو تھا اگلے نگر جا چکااب کسے ڈھونڈھتا ہے ارے بے خبرجانے والے نہیں لوٹتے عمر بھراے دل کم نظر اے مرے چارہ گر اے مرے ہم سفر
(۱)اے سب سے اول اور آخرجہاں تہاں، حاضر اور ناظراے سب داناؤں سے داناسارے تواناؤں سے توانااے بالا، ہر بالاتر سےچاند سے سورج سے امبر سےاے سمجھے بوجھے بن سوجھےجانے پہچانے بن بوجھےسب سے انوکھے سب سے نرالےآنکھ سے اوجھل دل کے اجالےاے اندھوں کی آنکھ کے تارےاے لنگڑے لولوں کے سہارےناتیوں سے چھوٹوں کے ناتیساتھیوں سے بچھڑوں کے ساتھیناؤ جہاں کی کھینے والےدکھ میں تسلی دینے والےجب اب تب تجھ سا نہیں کوئیتجھ سے ہیں سب تجھ سا نہیں کوئیجوت ہے تیری جل اور تھل میںباس ہے تیری پھول اور پھل میںہر دل میں ہے تیرا بسیراتو پاس اور گھر دور ہے تیراراہ تری دشوار اور سکڑینام ترا رہ گیر کی لکڑیتو ہے ٹھکانا مسکینوں کاتو ہے سہارا غمگینوں کاتو ہے اکیلوں کا رکھوالاتو ہے اندھیرے گھر کا اجالالاگو اچھے اور برے کاخواہاں کھوٹے اور کھرے کابید نراسے بیماروں کاگاہک مندے بازاروں کاسوچ میں دل بہلانے والےبپتا میں یاد آنے والے(۲)اے بے وارث گھروں کے وارثبے بازو بے پروں کے وارثبے آسوں کی آس ہے تو ہیجاگتے سوتے پاس ہے تو ہیبس والے ہیں یا بے بس ہیںتو نہیں جن کا وہ بے کس ہیںساتھی جن کا دھیان ہے تیرادسرایت کی وہاں نہیں پروادل میں ہے جن کے تیری بڑائیگنتے ہیں وہ پربت کو رائیبیکس کا غم خوار ہے تو ہیبری بنی کا یار ہے تو ہیدکھیا دکھی یتیم اور بیوہتیرے ہی ہاتھ ان سب کا ہے کھیواتو ہی مرض دے تو ہی دوا دےتو ہی دوا دارو میں شفا دےتو ہی پلائے زہر کے پیالےتو ہی پھر امرت زہر میں ڈالےتو ہی دلوں میں آگ لگائےتو ہی دلوں کی لگی بجھائےچمکارے چمکار کے مارےمارے مار کے پھر چمکارےپیار کا تیرے پوچھنا کیا ہےمار میں بھی اک تیری مزا ہے(۳)اے رحمت اور ہیبت والےشفقت اور دباغت والےاے اٹکل اور دھیان سے باہرجان سے اور پہچان سے باہرعقل سے کوئی پا نہیں سکتابھید ترے حکموں میں ہیں کیا کیاایک کو تو نے شاد کیا ہےایک کے دل کو داغ دیا ہےاس سے نہ تیرا پیار کچھ ایسااس سے نہ تو بیزار کچھ ایساہر دم تیری آن نئی ہےجب دیکھو تب شان نئی ہےیہاں پچھوا ہے وہاں پروا ہےگھر گھر تیرا حکم نیا ہےپھول کہیں کملائے ہوئے ہیںاور کہیں پھل آئے ہوئے ہیںکھیتی ایک کی ہے لہراتیایک کا ہر دم خون سکھاتیایک پڑے ہیں دھن کو ڈبوئےایک ہیں گھوڑے بیچ کے سوئےایک نے جب سے ہوش سنبھالارنج سے اس کو پڑا نہ پالاایک نے اس جنجال میں آ کرچین نہ دیکھا آنکھ اٹھا کرمینہ کہیں دولت کا ہے برستاہے کوئی پانی تک کو ترستاایک کو مرنے تک نہیں دیتےایک اکتا گیا لیتے لیتےحال غرض دنیا کا یہی ہےغم پہلے اور بعد خوشی ہےرنج کا ہے دنیا کے گلا کیاتحفہ یہی لے دے کے ہے یاں کایہاں نہیں بنتی رنج سہے بنرنج نہیں سب ایک سے لیکنایک سے یہاں رنج ایک ہے بالاایک سے ہے درد ایک نرالاگھاؤ ہے گو ناسور کی صورتپر اسے کیا ناسور سے نسبتتپ وہی دق کی شکل ہے لیکندق نہیں رہتی جان لیے بندق ہو وہ یا ناسور ہو کچھ ہودے نہ جو اب امید کسی کوروز کا غم کیوں کر سہے کوئیآس نہ جب باقی رہے کوئیتو ہی کر انصاف اے مرے مولاکون ہے جو بے آس ہے جیتاگو کہ بہت بندے ہیں پر ارماںکم ہیں مگر مایوس ہیں جو یاںخواہ دکھی ہے خواہ سکھی ہےجو ہے اک امید اس کو بندھی ہےکھیتیاں جن کی کھڑی ہیں سوکھیآس وہ باندھے بیٹھے ہیں مینہ کیگھٹا جن کی اساڑی میں ہےساونی کی امید نہیں ہےڈوب چکی ہے ان کی اگیتیدیتی ہے ڈھارس ان کو پچھیتیایک ہے اس امید پہ جیتااب ہوئی بیٹی اب ہوا بیٹاایک کو جو اولاد ملی ہےاس کو امنگ شادیوں کی ہےرنج ہے یا قسمت میں خوشی ہےکچھ ہے مگر اک آس بندھی ہےغم نہیں ان کو غمگیں ہیںجو دل ناامید نہیں ہیںکال میں کچھ سختی نہیں ایسیکال میں ہے جب آس سمیں کیسہل ہے موجوں سے چھٹکاراجب کہ نظر آتا ہے کناراپر نہیں اٹھ سکتی وہ مصیبتآئے گی جس کے بعد نہ راحتشاد ہو اس رہ گیر کا کیا دل؟مر کے کٹے گی جس کی منزلان اجڑوں کو کل پڑے کیوں کرگھر نہ بسے گا جن کا جنم بھران بچھڑوں کا کیا ہے ٹھکانا؟جن کو نہ ملنے دے گا زمانہاب یہ بلا ٹلتی نہیں ٹالیمجھ پہ ہے جو تقدیر نے ڈالیآئیں بہت دنیا میں بہاریںعیش کی گھر گھر پڑیں پکاریںپڑے بہت باغوں میں جھولےڈھاک بہت جنگل میں پھولےگئیں اور آئیں چاندنی راتیںبرسیں کھلیں بہت برساتیںپر نہ کھلی ہرگز نہ کھلے گیوہ جو کلی مرجھائی تھی دل کیآس ہی کا بس نام ہے دنیاجب نہ رہی یہی تو رہا کیا؟ایسے بدیسی کا نہیں غم کچھجس کو نہ ہو ملنے کی قسم کچھرونا ان بن باسیوں کا ہےدیس نکالا جن کو ملا ہےحکم سے تیرے پر نہیں چارہکڑوی میٹھی سب ہے گوارازور ہے کیا پتے کا ہوا پرچاہے جدھر لے جائے اڑا کرتنکا اک اور سات سمندرجائے کہاں موجوں سے نکل کرقسمت ہی میں جب تھی جدائیپھر ٹلتی کس طرح یہ آئی؟آج کی بگڑی ہو تو بنے بھیازل کی بگڑی خاک بنے گیتو جو چاہے وہ نہیں ٹلتابندے کا یاں بس نہیں چلتامارے اور نہ دے تو رونےتھپکے اور نہ دے تو سونےٹھہرے بن آتی ہے نہ بھاگےتیری زبردستی کے آگےتجھ سے کہیں گر بھاگنا چاہیںبند ہیں چاروں کھونٹ کی راہیںتو مارے اور خواہ نوازےپڑی ہوئی ہوں میں تیرے دروازےتجھ کو اپنا جانتی ہوں میںتجھ سے نہیں تو کس سے کہوں میںماں ہی سدا بچہ کو مارےاور بچہ ماں ماں ہی پکارے(۴)اے مرے زور اور قدرت والےحکمت اور حکومت والےمیں لونڈی تیری دکھیارےدروازے کی تیری بھکاریموت کی خواہاں جان کی دشمنجان اپنی ہے آپ اجیرناپنے پرائے کی دھتکاریمیکے اور سسرال پہ بھاریسہہ کے بہت آزار چلی ہوںدنیا سے بیزار چلی ہوںدل پر میرے داغ ہیں جتنےمنہ میں بول نہیں ہیں اتنےدکھ دل کا کچھ کہہ نہیں سکتیاس کے سوا کچھ کہہ نہیں سکتیتجھ پہ ہے روشن سب دکھ دل کاتجھ سے حقیقت اپنی کہوں کیابیاہ کے دم پائی تھی نہ لینےلینے کے یاں پڑ گئے دینےخوشی میں بھی دکھ ساتھ نہ آیاغم کے سوا کچھ ہات نہ آیاایک خوشی نے غم یہ دکھائےایک ہنسی نے گل ہی کھلائےکیسا تھا یہ بیاہ نناواںجوں ہی پڑا اس کا پرچھاواںچین سے رہنے دیا نہ جی کوکر دیا ملیامیٹ خوشی کورو نہیں سکتی تنگ ہوں یاں تکاور روؤں تو روؤں کہاں تکہنس ہنس دل بہلاؤں کیوں کراوسوں پیاس بجھاؤں کیوں کرایک کا کچھ جینا نہیں ہوتاایک نہ ہنستا بھلا نہ روتالیٹے گر سونے کے بہانےپائنتی کل ہے اور نہ سرہانےجاگیے تو بھی بن نہیں پڑتیجاگنے کی آخر کوئی حد بھیاب کل ہم کو پڑے گی مر کرگور ہے سونی سیج سے بہتربات سے نفرت کام سے وحشتٹوٹی آس اور بجھی طبیعتآبادی جنگل کا نمونہدنیا سونی اور گھر سونادن ہے بھیانک اور رات ڈرانییوں گزری ساری یہ جوانیبہنیں اور بہنیلیاں میریساتھ کی جو تھیں کھیلیاں میریمل نہ سکیں جی کھول کے مجھ سےخوش نہ ہوئیں ہنس بول کے مجھ سےجب آئیں رو دھو کے گئیں وہجب گئیں بے کل ہو کے گئیں وہکوئی نہیں دل کا بہلاواآ نہیں چکتا میرا بلاواآٹھ پہر کا ہے یہ جلاپاکاٹوں گی کس طرح رنڈاپاتھک گئی دکھ سہتے سہتےتھم گئے آنسو بہتے بہتےآگ کھلی دل کی نہ کسی پرگھل گئی جان اندر ہی اندردیکھ کے چپ جانا نہ کسی نےجان کو پھونکا دل کی لگی نےدبی تھی بھوبھل میں چنگاریلی نہ کسی نے خبر ہماریقوم میں وہ خوشیاں بیاہوں کیشہر میں وہ دھوئیں ساہوں کیتہواروں کا آئے دن آنااور سب کا تہوار مناناوہ چیت اور پھاگن کی ہوائیںوہ ساون بھادوں کی گھٹائیںوہ گرمی کی چاندنی راتیںوہ ارمان بھری برساتیںکس سے کہوں کس طور سے کاٹیںخیر کٹیں جس طور سے کاٹیںچاؤ کے اور خوشیوں کے سمے سبآتے ہیں خوش کل جان کو ہو جبرنج میں ہیں سامان خوشی کےاور جلانے والے ہی کےگھر برکھا اور پیا بدیسیآئیو برکھا کہیں نہ ایسیدن یہ جوانی کے کٹے ایسےباغ میں پنچھی قید ہو جیسےرت گئی ساری سر ٹکراتےاڑ نہ سکے پر ہوتے سارےکسی نے ہوگی کچھ کل پائیمجھے تو شادی راس نہ آئیآس بندھی لیکن نہ ملا کچھپھول آیا اور پھل نہ لگا کچھرہ گیا دے کر چاند دکھائیچاند ہوا پر عید نہ آئیپھل کی خاطر برچھی کھائیپھل نہ ملا اور جان گنوائیریت میں ذرے دیکھ چمکتےدوڑ پڑی میں جھیل سمجھ کےچاروں کھونٹ نظر دوڑائیپر پانی کی بوند نہ پائی
وقت کے تیز گام دریا میںتو کسی موج کی طرح ابھریآنکھوں آنکھوں میں ہو گئی اوجھلاور میں ایک بلبلے کی طرحاسی دریا کے اک کنارے پرنرکلوں کے مہیب جھاوے میںایسا الجھا کہ یہ بھی بھول گیابلبلے کی بساط ہی کیا تھی
صبح سے شام ہوئی اور ہرن مجھ کو چھلاوے دیتاسارے جنگل میں پریشان کیے گھوم رہا ہے اب تکاس کی گردن کے بہت پاس سے گزرے ہیں کئی تیر مرےوہ بھی اب اتنا ہی ہشیار ہے جتنا میں ہوںاک جھلک دے کے جو گم ہوتا ہے وہ پیڑوں میںمیں وہاں پہنچوں تو ٹیلے پہ کبھی چشمے کے اس پار نظر آتا ہےوہ نظر رکھتا ہے مجھ پرمیں اسے آنکھ سے اوجھل نہیں ہونے دیتا
ہر اک دور میں ہر زمانے میں ہمزہر پیتے رہے، گیت گاتے رہےجان دیتے رہے زندگی کے لیےساعت وصل کی سر خوشی کے لیےدین و دنیا کی دولت لٹاتے رہےفقر و فاقہ کا توشہ سنبھالے ہوئےجو بھی رستہ چنا اس پہ چلتے رہےمال والے حقارت سے تکتے رہےطعن کرتے رہے ہاتھ ملتے رہےہم نے ان پر کیا حرف حق سنگ زنجن کی ہیبت سے دنیا لرزتی رہیجن پہ آنسو بہانے کو کوئی نہ تھااپنی آنکھ ان کے غم میں برستی رہیسب سے اوجھل ہوئے حکم حاکم پہ ہمقید خانے سہے، تازیانے سہےلوگ سنتے رہے ساز دل کی صدااپنے نغمے سلاخوں سے چھنتے رہےخونچکاں دہر کا خونچکاں آئینہدکھ بھری خلق کا دکھ بھرا دل ہیں ہمطبع شاعر ہے جنگاہ عدل و ستممنصف خیر و شر حق و باطل ہیں ہم
ادھر نہ دیکھو کہ جو بہادرقلم کے یا تیغ کے دھنی تھےجو عزم و ہمت کے مدعی تھےاب ان کے ہاتھوں میں صدق ایماں کیآزمودہ پرانی تلوار مڑ گئی ہےجو کج کلہ صاحب حشم تھےجو اہل دستار محترم تھےہوس کے پر پیچ راستوں میںکلہ کسی نے گرو رکھ دیکسی نے دستار بیچ دی ہےادھر بھی دیکھوجو اپنے رخشاں لہو کے دینارمفت بازار میں لٹا کرنظر سے اوجھل ہوئےاور اپنی لحد میں اس وقت تک غنی ہیں،ادھر بھی دیکھوجو حرف حق کی صلیب پر اپنا تن سجا کرجہاں سے رخصت ہوئےاور اہل جہاں میں اس وقت تک نبی ہیں
ہم پڑاؤ کو سمجھے منزللکچھ ہوا آنکھوں سے اوجھلورتمان کے موہ جال میں آنے والا کل نہ بھلائیںآؤ پھر سے دیا جلائیں
ہجوم تشنہ لباں کی نگاہ سے اوجھلچھلک رہے ہیں شراب ہوس کے پیمانے
دن تو اڑ جاتے ہیںیہ سب کالے پر والے بگلے ہیںجو ہنستے کھیلتے لمحوں کواپنے پنکھوں میں موند کے آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیںراحت جیسے خواب ہے ایسے انسانوں کاجن کی امیدوں کے دامن میں پیوند لگے ہیںجامہ ایک طرف سیتے ہیں دوسری جانب پھٹ جاتا ہےیہ دنیا لمحہ لمحہ جیتی ہےمریمؔ اب کپڑے سیتی ہےآنکھوں کی بینائی ساتھ نہیں دیتی اباور غضنفرؔجو رومال میں لڈو باندھ کے اس کے گھر میں پھینکا کرتا تھااور اس کی آنکھوں کی توصیف میں غزلیں لکھوا کر لایا کرتا تھااس نے اور کہیں شادی کر لی ہےاب اپنی لکڑی کی ٹال پہ بیٹھااپنی کج رائی اور جوانی کے قصے دہرایا کرتا ہےٹال سے اٹھ کر جب گھر میں آتا ہےبیٹی پر قدغن رکھتا ہےنئے زمانے کی اولاد اب ویسی نہیں رہ گئیبدکاری بڑھتی جاتی ہےجو دن بیت گئے کتنے اچھے تھے!
میری رامائن ادھوری ہے ابھیمیری سیتااور مجھ میں حائل دوری ہے ابھیمیری سیتا اداس ہےرشتوں کا پھیلا بن باس ہےپھرنا ہے مجھے ابھیجنگل جنگل صحرا صحرا ساگر ساگرمیرا حمزہ وہی میرا لچھمن ہے ابھیزمانہ تو عیار ہےسو بھیس بدل لیتا ہےسادھوؤں کے بہروپ میں ہیں پوشیدہ ابھینہ جانے راکشش کتنےآج پھرزمانے نے چھل لیا ہے مجھےمیری سیتا کوحالات کے راون نےہر لیا ہے ابھیدور بہت دورمیری نگاہوں سے اوجھلساحل سمندر کی ریت پروہ بے سدھ پڑی رو رہی ہے ابھیتاہماپنی شکستہ حالی سےاس نے ہار نہیں مانی ہے ابھیوقت کے لنکیشور کے آگےاس نے آتم سمرپن کیا نہیں ہے ابھیریت میں دھنسی اپنی ننھی سی کشتی کووہ تک رہی ہے غور سےاپنے رام کے قدموں کی آہٹکی منتظر سماعت کو سمیٹے ہوئےسراپا بگوش بنیدکھ کی بھٹی میں تپ کے نکھر رہی ہے ابھیملن کی شبھ گھڑی کا اسے ابھی ہے یقیناس کے خشک ہونٹوں پہ ہے میرا ہی نامرام رام رامصاحبوحقیقت تو یہ ہے کہ راکشس باہر نہیں ہے کہیںراکشس تو خود اپنے اندردرون خانۂ دل میں روپوش ہے کہیںمیری سیتامیری بھولی بھالی سیتا کوانتظار اس سنہرے پل کا ہےجب میرا غصہ شانت ہوگااور میرے اندر سےمریادہ پرش رام اتپن ہوں گے کبھی نہ کبھیتب راون اپنے آپ ہی پراست ہو جائے گاتبھی رام جی اپنی سیتا کواپنے پہلو میں اٹھا کر لے جائیں گےاپنے دل کے سنگھاسن پر بٹھائیں گے تبھیتبھی دیپ جلیں گےگھر آنگن میں اوپر نیچے چاروں اورتبھی دن دسہرا ہوگاتبھی رات دیوالی ہوگی
مسرت کا گھیرا سمٹتا چلا جا رہا ہےکھلا کھیت گندم کا پھیلا ہوا ہےبہت دور آکاش کا شامیانہ انوکھی مسہری بنائے رسیلے اشاروں سے بہکا رہا ہےتھپیڑوں سے پانی کی آواز پنچھی کے گیتوں میں گھل کر پھسلتے ہوئے اب نگاہوں سے اوجھل ہوئی جا رہی ہےمیں بیٹھی ہوئی ہوںدوپٹا میرے سر سے ڈھلکا ہوا ہےمجھے دھیان آتا نہیں ہے مرے گیسوؤں کو کوئی دیکھ لے گامسرت کا گھیرا سمٹتا چلا جا رہا ہےبس اب اور کوئی نئی چیز میرے مسرت کے گھیرے میں آنے نہ پائے
لمحہ لمحہ روزمرہ زندگی کے ساتھ ہےایک لمحہ جو کسی ایسے جہاں کی زندگی کا ہاتھ ہےجس میں میں رہتا نہیں جس میں کوئی رہتا نہیںجس میں کوئی دن نہیں ہے رات کا پہرا نہیںجس میں سنتا ہی نہیں کوئی نہ کوئی بات ہےروزمرہ زندگی سے یوں گزرتا ہے کبھیساتھ لے جاتا ہے گزری عمر کے حصے کبھیجو بسر اب تک ہوا اس کو غلط کرتا ہوااور ہی اک زندگی سے آشنا کرتا ہواجو گماں تک میں نہ تھا اس کو دکھا جاتا ہواوہم تک جس کا نہ تھا اس وقت کو لاتا ہواپھر چلا جاتا ہے اپنے اصل کے آثار میںاور ہم مصروف ہو جاتے ہیں پھراپنے روز و شب کے کاروبار میں
کچھ دور تلککچھ دور تلکوہ لمحہ اس کے ساتھ چلاجب اس نے دل میں یہ سوچایہ گرتی دیواریںیہ دھواںیہ کالی چھتیںیہ اندھے دیئےسنولاتے ہوئے سارے چہرےاب اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو جائیں گےجب نگر نگر کی سیاہیان ٹیڑھی میڑھی سڑکوں کیآوارہ گردیہنستے جسمکھنکتے پیالوںکی موسیقیاس کو راس نہ آئیاس نے کہااب آؤ لوٹ چلیںاک شام وہ اپنے گھر پہنچااور اس سے ملنے کو آئےسب ساتھی اس کے بچپن کےسب کہنے لگےان جگ مگ کرتے شہروں کاکچھ حال بتاؤاپنے سفر کیکچھ روداد کہووہ خاموش رہاوہ دیکھ رہا تھا اس میلے سے طاق کوجس پراب بھی ایک گھڑی رکھی تھیاور وہ بند پڑی تھی
کیسی نکھری سی نظر آتی ہے فضا عید کے روزشادماں پھرتے ہیں سب شاہ و گدا عید کے روزکتنی بے فکری سے گاتے ہیں گدا راہوں میںپیٹ خالی ہو تو گائیں بھی نہ کیا عید کے روزکیا بھلی لگتی ہے ہر پیر و جواں کے منہ سےہر طرف عید مبارک کی صدا عید کے روزامی خوش ہوں گی اور عیدی بھی وہی پائے گاوقت سے پہلے جو بیدار ہوا عید کے روزچاند انتیس کو کیا نکلا کہ آدھی شب سےٹیلرنگ شاپ میں اک تانتا بندھا عید کے روزکپڑے بھی دھل نہ سکے وقت نماز آ پہونچالانڈری والوں پہ آفت ہے بپا عید کے روزدادی اماں نے مصلے کو پرے ڈال دیاگھر میں مہمانوں کا وہ شور مچا عید کے روزآنکھ اوجھل ہوئی اور ٹوٹ سویوں پہ پڑادیر سے اسلم اسی تاک میں تھا عید کے روزعید گہہ شان سے ٹم ٹم پہ چلے ہیں ببنباپ کے کاندھوں پہ ننھا بھی چڑھا عید کے روزپکڑے لاٹھی کو مٹکتے چلے رمضانی میاںپیچھے سے بچوں کا اک گول چلا عید کے روزاپنے بیگانے جو بڑھ بڑھ کے گلے ملتے ہوںکیوں نہ پھر آئے عبادت میں مزہ عید کے روزروزے رمضان کے رکھنا تو سبھی بھول گئےکیسے بھولیں گے سویوں کو بھلا عید کے روزسال کے سال رہے یاد خدا سے غافلاے ذکیؔ ان کو بھی یاد آیا خدا عید کے روز
انسانوں کے دل میں بچوںاک پیار کا دریا بہتا ہےجو آنکھ سے اوجھل رہتا ہے
ایک پرندے کی طرحپانیوں سے ٹکراتی ہوئیآنکھ سے اوجھل ہو جاؤںایک ایسے درخت کی طرحجو ساری عمردھوپ اور چھاؤں کا مزا لیتا ہےایک ایسے بنجارے کی طرحجو پہاڑوں اور میدانوں کواپنے قدموں کی دھول میںسمیٹ لیتا ہےکسی ایسی رقاصہ کی طرحجو اپنے من کا بوجھاپنے جسم پر ڈال دیتی ہےکسی ایسی جنگ میں شریک ہو کرجو بھوک اور نفرت کے خلافلڑی جا رہی ہوماری جاؤں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books