aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "phaatak"
ہم پھٹک سکتے نہیں پرہیزگاری کے قریبعقل مند آتے نہیں ایمان داری کے قریب
شب کے پھاٹک سے پرےمیں نے چرائے بوسےجو تیرے زانو کی رحل پہ ٹھٹکےدھان کے خیمے میں اک تو تھایا پانی کا لگاتار خروشآخری بار جوانی کی کتابدختر رز نے کھولی
میں جب بھی سوچتا ہوں اپنے بارے میںکوئی قوت مجھے میرے مخالف کھینچتی ہےمجھے محسوس ہوتا ہےمرا ہر عضومرکز سے بغاوت کر چکا ہےخون کے دوران کے ہمراہبکتر بند گاڑی میںمسلح فوجیوں کے ساتھکوئی قید ہو کر جا رہا ہےکھل گئے ہیں سب مشام جاں کے پھاٹککھڑی ہیں سر جھکائے صف بہ صفہارے ہوئے الفاظ کی فوجیںکوئی اس شہر کی تہذیب لے کر جا رہا ہے
سمجھنا چاہیے مجبوریاں اہل چمن کو سبز بیلوں کینمو محتاج ہے جن کی ہمیشہ اک سہارے کیدرختوں کے تنے دیوار پھاٹک یا منڈیریں ہوںپنپتی ہیں سہاروں پر تو یہ سرسبز رہتی ہیںسہارے چھوٹ جائیں گرتو پھر جینے کی مجبوریکسی نعم البدل کو ڈھونڈ لیتی ہےوگرنہ ان کی شادابی خزاں کی نذر ہوتی ہےمحبت انس چاہت بھی انہیں کمزور بیلوں کے مشابہ ہیںانہیں بھی ہم نواؤں ہم نشینوں کے سہاروں کی ضرورت ہےسہارا چھوٹ جائےتو انہیں بھی زندہ رہنے کے لئےنعم البدل درکار ہوتا ہےنہیں تو بن سہارے دوستی رشتے مراسم انس چاہت اور تعلقکی یہ کومل سبز بیلیں سب خزاں کی نظر ہوںاور وقت سے پہلے ہی مر جائیں
یوں ٹیڑھی ترچھی آڑیجیسے سڑک ہو ان کیاپنی ہی کھیتی باڑیدو دوست پیچھے بیٹھےدو چڑھ گئے اگاڑییہ پھٹ پھٹی ہے کوئییا بھاگتی پہاڑیپھٹ پھٹ پھٹاک کر کےجب یہ سڑک پہ دھاڑیدائیں کو پہلے گھومیپھر بائیں سمت تاڑیاک بس سے بچ کے نکلیاک سائیکل پچھاڑیاک ٹیکسی کو رگڑانمبر پلیٹ اکھاڑیفٹ پاتھ پر جو اچھلیٹکرایا اک کباڑیپھر روڑ پر اتر کرمچوا دی بھگ بھگاڑیوہ چوک کا سپاہیروکی تھی جس نے گاڑیلو وہ بھی کود بھاگاپھاندی بڑی سی جھاڑییوں ڈگمگا کے لڑکےچاچو کے سارے آڑیدکھلائیں جیسے سرکسکچھ مسخرے اناڑی
'جاگتے رہو' کی صدائیںعنایتوں کا خراج وصول کرتے نہیں تھکتی ہیںسرکس کا پنڈال کھچا کھچ بھرا ہےمیمنوں کے باڑے میںسہما دبکا۔۔۔گھاس کھاتا شیرکیسا بے ضرر دکھائی دیتا ہےبونوں کی اچھل کودفلک شگاف قہقہے۔۔۔مسلسل قہقہےتالیوں کی گونج!محل سرا کے بند پھاٹک کو چھو کر لوٹ آتی ہےبستی کے جہاں دیدہ بوڑھےفریادی ماتم کرتےپنڈال سے روانہ ہو جاتے ہیں
یہ ہے علامت فسطائیت گراؤ سےہمارے بچوں کے اسکول سے ہٹاؤ اسےیہ خونی قلعہ کا پھاٹک ہے یا دہان جہیمفصیل سنگ عبارت ہے خوں کے دھبوں سےدیئے لہوں کے فروزاں کیے ہوئے ہر طاقہے جن کے سامنے خیرہ طلا و گوہر و سیمصدائے رقص نکلتی ہوئی جھرونکوں سےکسی حسینۂ فرعون کا محل جیسےستون مرمریں انگڑائی لے کے نیند میں چورلباس برہنگی میں نہاں قلو پطرہمیان نیل کوئی لاش دیکھ کر ہنس دے
میں جانتا ہوں کہ پھاٹکوں کومیں کھول سکتا ہوں، جب بھی چاہوںمگر مجھے اپنے جسم کو بھینٹ کرنا ہوگاکٹانا ہوگا بدن کو اپنےکہ جوں ہی پھاٹک کھلیں گے مجھ کوبشر سے حیوان بننا ہوگاکروڑوں برسوں کے ارتقا کو پھلانگ کر پیچھے جانا ہوگا
اب کی گرمی کی چھٹی میںیعنی اس گزری گرمی میںگئے لکھنؤ ہم خالہ کے گھردیکھے طرح طرح کے منظربھول بھلیاں ہم نے دیکھیجا کے نہ نکلے جس میں کوئیدیکھا حسین آباد کا پھاٹکدیکھا سنیما دیکھا ناٹکلاٹ شہیدوں والی دیکھیپارک گئے ہم ہاتھی والیکونسل چمبر دیکھا ہم نےزو بھی جا کر بھالو دیکھےناچ دکھاتے کالو دیکھےبیلی گارد ہم نے دیکھیجس میں چلے تھے گولے گولیگئے امین آباد بھی یارواور ہوئے ہم شاد بھی یاروگنج کی ہم نے سیر بھی کر لیہر منظر سے جھولی بھر لیگزرے قیصر باغ سے ہو کرچار باغ کا چلتا منظردیکھ کے ہر منظر کو آئےلوٹ کے اپنے گھر کو آئے
وہ پیپرس کے جنگلوں کے شمالی کنارے پہ بیٹھینیل کے پانیوں کو کات رہی تھیاس نے میرے خاک آلود چہرے کونیل کا آئینہ دکھایاہم متبرک تیل کے نمکین چراغ ہتھیلیوں پہ رکھےشہر پناہ کی طرف چل دیےجہاں دیوتاباریابی کے منتظر تھےہمارے قدموں کی آہٹ پا کرمقدس پھاٹک کے سنہرے کواڑزمین کے آخری کناروں تک کھل گئےاور شہر کی عطر بیز گلیاںہمارے تلوے چومنے لگیں
میرے ہاتھ سوالی ہیںاور میں الٹا کنوئیں کی تہہ میںپانی کے کندھے جھٹک جھٹک کرکرنوں کے یخ بستہ کبوتر ڈھونڈھ رہا ہوںچپ کے رستے لمبے ہو کر تنہا کواڑوں تک پہنچے ہیںکس کی دستک کون آیا ہےکون ہے یہ جو بارش کے انجانےترنم کی چھتری کے نیچے کھڑا ہےیہ سنسان حویلی اور لکڑی کے پھاٹککس کا رستہ تکتے تکتے بوڑھی عمر کو پنچے ہیںکل جب چاند ہوا کے ٹانگوں میں سےسکہ بن کر گرتا تھاکاٹی فصل کے ڈنٹھل دودھ کی پوروں میں گھلتے تھےاور میں اپنا ہم چہرہ تھادونوں ہاتھ محبت والے دل کی سبز منڈیروں پر تھےپھر نہ جانے آدھی رات کو کس کے پاؤںجان کے زخموں میں سے پھوٹےاور صدا کی کالی آندھیدور افق سے گرد کا بٹوا لے کر اٹھی
کہنا مانو دھرتی ماں کاراج محل کا اونچا پھاٹک بند ہوا تو بند ہوا
بند کے اس طرف خود اگی جھاڑیوں میں لگی رس بھری بیریاں خوب تیار ہیںپر مرے واسطے ان کو دامن میں بھر لینا ممکن نہیںاے خدا جگنوؤں قمقموں اور ستاروں کی پاکیزہ تابندگیوہ جگہ سو رہی ہے جہاں پر چناروں کے اونچے درختوں سے نتھری ہوئی جاں فزا چاندنیخوشبوئیں خیمہ زن ہیں جہاں رات دنمیری ان سرحدوں تک رسائی نہیںاور پچھم کی چنچل سریلی ہوا میرے آنگن سے ہو کر گزرتی نہیںمیں کہ بارش کے قطروں سے نتھرے ہوئے سبز پتوں کے بوسوں سے محروم ہوںان کواڑوں کی پرلی طرف دیر سے بند پھاٹک پہ ٹھہرے ہوئے اجنبیآس اور بے کلیحرف اور ان کہیکچھ نہیںمیں نے کچھ بھی تو دیکھا نہیںمیرے کمرے کی سیلن گھٹن اور خستہ دواروں کے پیارے خدااور کچھ نہ سہیتو مجھے اک گنہ کی اجازت ملے
جب بھی بچھڑی ہوئی دلی کا سماں یاد آیابھولی بسری ہوئی یادوں کا جہاں یاد آیااپنے آغاز جوانی کا سماں یاد آیاکوچۂ رود گراں لال کنواں یاد آیااسی پھاٹک میں تو گزرا تھا لڑکپن اپناایک اک طفل تو ایک ایک جواں یاد آیاچاچا کلن کی مٹھائی کی دوکاں یاد آئیاس کے اوپر کسی مہوش کا مکاں یاد آیاہائے وہ نقرئی آواز وہ تیکھے خد و خالپس چلمن وہ نظاروں کا جہاں یاد آیاکیا نہ یاد آیا غریب الوطنی میں ہم کوایک اک وہم تو ایک ایک گماں یاد آیاآئی ہمدرد دوا خانے کی جب یاد ہمیںایک تابندہ و پائندہ جہاں یاد آیاالجمعیۃ کے قریں ہو کے تصور جو چلاحفظ رحمان سا اک مرد جہاں یاد آیاجس کی تقریر رگ و پے میں اتر جاتی تھیسب سے تھا جس کا جدا طرز بیاں یاد آیاکالے صاحب کا احاطہ بھی نظر میں گھومامحفل شعر و سخن کا بھی سماں یاد آیابلیماران سے پہلے گلی قاسم جاں میںغالبؔ خستہ کا بوسیدہ مکاں یاد آیاوہیں یاد آیا دوا خانۂ ہندوستانیخان اجمل سا مسیحائے زماں یاد آیاکوچۂ داغؔ سے ہو کر جو چلا حسن خیالشاعر اہل نظر اہل زباں یاد آیاچاندنی چوک کی یاد آئی جو گہما گہمیوہ حسیں شام کا پرکیف سماں یاد آیاکالے برقعوں میں وہ ملبوس حسیناؤں کے غولچاند کے ٹکڑوں کا اک سیل رواں یاد آیاگھنٹہ گھر لوگ سمجھتے تھے جسے دلی کی ناکپوری دلی کا وہ تنہا نگراں یاد آیاہو کے فوارے سے جا پہنچا دریبے میں خیالسونے چاندی کی دکانوں کا جہاں یاد آیاجامع مسجد نظر آئی تو ادھر کو لپکےخوانچہ والوں کا انداز بیاں یاد آیاسیڑھیوں پر وہ کٹوروں کی صدا گونج اٹھیپیچ کھاتا ہوا حقے کا دھواں یاد آیاجامع مسجد کے مناروں سے جسے دیکھا تھاوہ نظارہ کہ جو تھا راحت جاں یاد آیاکابکوں جیسے مکانات نظر میں گھومےایک اک فٹ کا ہر اک پیر و جواں یاد آیااک اچٹتی سی نظر لال قلعہ پر بھی پڑیدل پہ دھچکا سا لگا شاہ جہاں یاد آیااردو بازار کی یاد آئی اس انداز کے ساتھکہ صحافت کا کوئی بحر رواں یاد آیاآ گئے یاد وہیں سائلؔ و بیخودؔ کیفیؔداغؔ والوں کا پھر انداز بیاں یاد آیامیر مشتاقؔ کی مردانہ روی یاد آئیخدمت خلق کا اک عزم جواں یاد آیایاد آئی وہیں مولانا سمیع اللہ کیجیسے با ہمت و پامرد جواں یاد آیاشاعروں کی جہاں رہتی تھی نشست و برخاستجگرؔ خستہ کو دیکھا تھا کہاں یاد آیابسملؔ و بیدیؔ و محرومؔ و وفاؔ و گلزارؔمجمع شاعر و صاحب نظراں یاد آیاچاوڑی پھر گئی آنکھوں میں جوانی کی طرحکوچہ ہائے صنم سیم تناں یاد آیایک بیک سین جو بدلا تو سماں یاد آیادہشت و خوف کا ایک سیل رواں یاد آیاخاک اڑنے لگی دلی کے گلی کوچوں میںمتفکر سا ہر اک پیر و جواں یاد آیاچھوڑ کر دلی کو جانے لگے دلی والےاک ہجوم بہ لب آہ و فغاں یاد آیاپاؤں تک جن کا نہ دیکھا تھا کھلے سر دیکھانوحہ گر قافلۂ لالہ رخاں یاد آیاقافلے دلی سے جانے لگے بن بن کے جہاںمقبرے کا وہ ہمایوں کے سماں یاد آیاتھا قیامت کا وہ منظر کہ تھی نفسی نفسیحال پر اپنے فلک گریہ کناں یاد آیایعنی برسات یہ کہتی تھی کہ برسوں برسوںکتنا اس دور میں اللہ میاں یاد آیااور اک پردہ اٹھا اور سماں یاد آیااور اک منظر دل دوز وہاں یاد آیاغدر کی کھنچ گئی آنکھوں میں مکمل تصویرظفرؔ سوختہ تن سوختہ جاں یاد آیاشاہزادوں کے جو سر پیش ظفرؔ یاد آئےاپنا غم بھول گئے جب وہ سماں یاد آیاتیرے خورشید ترے چاند ستارے دلیچھوٹ کر تجھ سے مہاجر ہیں بچارے دلیبے وطن ہو کے ترے راج دلارے دلیجی رہے ہیں تری یادوں کے سہارے دلی
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگمیں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیاتتیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہےتیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثباتتیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہےتو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائےیوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائےاور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سواراحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
بھلے دنوں کی بات ہےبھلی سی ایک شکل تھینہ یہ کہ حسن تام ہونہ دیکھنے میں عام سی
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نےشاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہوایک بے نام سی امید پہ اب بھی شایداپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
یوں ہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلقنہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئییوں ہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھولنہ ان کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئیاسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتےترے فراق میں ہم دل برا نہیں کرتے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books