aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "pheti"
مظلومرات چھائی تو ہر اک درد کے دھارے چھوٹےصبح پھوٹی تو ہر اک زخم کے ٹانکے ٹوٹےدوپہر آئی تو ہر رگ نے لہو برسایادن ڈھلا خوف کا عفریت مقابل آیایا خدا یہ مری گردان شب و روز و سحریہ مری عمر کا بے منزل و آرام سفرکیا یہی کچھ مری قسمت میں لکھا ہے تو نےہر مسرت سے مجھے عاق کیا ہے تو نےوہ یہ کہتے ہیں تو خوشنود ہر اک ظلم سے ہےوہ یہ کہتے ہیں ہر اک ظلم ترے حکم سے ہےگر یہ سچ ہے تو ترے عدل سے انکار کروں؟ان کی مانوں کہ تری ذات کا اقرار کروں؟
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
جب کوئل اپنی ان کو آواز ہے سناتیسنتے ہی غم کو مارے چھاتی ہے امنڈی آتیپی پی کی دھن کو سن کر بے کل ہیں کہتی جاتیمت بول اے پپیہے پھٹتی ہے میری چھاتیکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
آج بھی کتنی ان گنت شمعیںمیرے سینے میں جھلملاتی ہیںکتنے عارض کی جھلکیاں اب تکدل میں سیمیں ورق لٹاتی ہیںکتنے ہیرا تراش جسموں کیبجلیاں دل میں کوند جاتی ہیںکتنی تاروں سے خوش نما آنکھیںمیری آنکھوں میں مسکراتی ہیںکتنے ہونٹوں کی گل فشاں آنچیںمیرے ہونٹوں میں سنسناتی ہیںکتنی شب تاب ریشمی زلفیںمیرے بازو پہ سرسراتی ہیںکتنی خوش رنگ موتیوں سے بھریبالیاں دل میں ٹمٹماتی ہیںکتنی گوری کلائیوں کی لویںدل کے گوشوں میں جگمگاتی ہیںکتنی رنگیں ہتھیلیاں چھپ کردھیمے دھیمے کنول جلاتی ہیںکتنی آنچل سے پھوٹتی کرنیںمیرے پہلو میں رسمساتی ہیںکتنی پائل کی شوخ جھنکاریںدل میں چنگاریاں اڑاتی ہیںکتنی انگڑائیاں دھنک بن کرخود ابھرتی ہیں ٹوٹ جاتی ہیںکتنی گل پوش نقرئی بانہیںدل کو حلقے میں لے کے گاتی ہیںآج بھی کتنی ان گنت شمعیںمیرے سینے میں جھلملاتی ہیںاپنے اس جلوہ گر تصور کیجاں فزا دل کشی سے زندہ ہوںان ہی بیتے جوان لمحوں کیشوخ تابندگی سے زندہ ہوںیہی یادوں کی روشنی تو ہےآج جس روشنی سے زندہ ہوںآؤ میں تم سے اعتراف کروںمیں اسی شاعری سے زندہ ہوں
نہ سوگ میں ہوں کہ اس کو اوڑھوںغم و الم خلق کو دکھاؤںنہ روگ ہوں میں کہ اس کی تاریکیوں میں خفت سے ڈوب جاؤںنہ میں گناہ گار ہوں نہ مجرمکہ اس سیاہی کی مہر اپنی جبیں پہ ہر حال میں لگاؤںاگر نہ گستاخ مجھ کو سمجھیںاگر میں جاں کی امان پاؤںتو دست بستہ کروں گزارشکہ بندہ پرورحضور کے حجرۂ معطر میں ایک لاشہ پڑا ہوا ہےنہ جانے کب کا گلا سڑا ہےیہ آپ سے رحم چاہتا ہےحضور اتنا کرم تو کیجےسیاہ چادر مجھے نہ دیجئےسیاہ چادر سے اپنے حجرے کی بے کفن لاش ڈھانپ دیجئےکہ اس سے پھوٹی ہے جو عفونتوہ کوچے کوچے میں ہانپتی ہےوہ سر پٹکتی ہے چوکھٹوں پربرہنگی تن کی ڈھانپتی ہےسنیں ذرا دل خراش چیخیںبنا رہی ہیں عجب ہیولےجو چادروں میں بھی ہیں برہنہ
اسی اکیلے پہاڑ پر تو مجھے ملا تھایہی بلندی ہے وصل تیرایہی ہے پتھر مری وفا کااجاڑ چٹیل اداس ویراںمگر میں صدیوں سے، اس سے لپٹی ہوئی کھڑی ہوںپھٹی ہوئی اوڑھنی میں سانسیں تری سمیٹےہوا کے وحشی بہاؤ پر اڑ رہا ہے دامنسنبھالا لیتی ہوں پتھروں کو گلے لگا کرنکیلے پتھرجو وقت کے ساتھ میرے سینے میں اتنے گہرے اتر گئے ہیںکہ میرے جیتے لہو سے سب آس پاس رنگین ہو گیا ہےمگر میں صدیوں سے اس سے لپٹی ہوئی کھڑی ہوںاور ایک اونچی اڑان والے پرند کے ہاتھتجھ کو پیغام بھیجتی ہوںتو آ کے دیکھےتو کتنا خوش ہوکہ سنگریزے تمام یاقوت بن گئے ہیںدمک رہے ہیںگلاب پتھر سے اگ رہا ہے
اس خاک سے پھوٹی ہے زلیخا کی جوانییا چاہ سے نکلا ہے کوئی یوسف ثانی
اے مری امید میری جاں نوازاے مری دل سوز میری کارسازمیری سپر اور مرے دل کی پناہدرد و مصیبت میں مری تکیہ گاہعیش میں اور رنج میں میری شفیقکوہ میں اور دشت میں میری رفیقکاٹنے والی غم ایام کیتھامنے والی دل ناکام کیدل پہ پڑا آن کے جب کوئی دکھتیرے دلاسے سے ملا ہم کو سکھتو نے نہ چھوڑا کبھی غربت میں ساتھتو نے اٹھایا نہ کبھی سر سے ہاتھجی کو ہو کبھی اگر عسرت کا رنجکھول دیے تو نے قناعت کے گنجتجھ سے ہے محتاج کا دل بے ہراستجھ سے ہے بیمار کو جینے کی آسخاطر رنجور کا درماں ہے توعاشق مہجور کا ایماں ہے تونوح کی کشتی کا سہارا تھی توچاہ میں یوسف کی دل آرا تھی تورام کے ہمراہ چڑھی رن میں توپانڈو کے بھی ساتھ پھری بن میں توتو نے سدا قیس کا بہلایا دلتھام لیا جب کبھی گھبرایا دلہو گیا فرہاد کا قصہ تمامپر ترے فقروں پہ رہا خوش مدامتو نے ہی رانجھے کی یہ بندھوائی آسہیر تھی فرقت میں بھی گویا کہ پاسہوتی ہے تو پشت پہ ہمت کی جبمشکلیں آساں نظر آتی ہیں سبہاتھ میں جب آ کے لیا تو نے ہاتسات سمندر سے گزرنا ہے باتساتھ ملا جس کو ترا دو قدمکہتا ہے وہ یہ ہے عرب اور عجمگھوڑے کی لی اپنے جہاں تو نے باگسامنے ہے تیرے گیا اور پراگعزم کو جب دیتی ہے تو میل جستگنبد گردوں نظر آتا ہے پستتو نے دیا آ کے ابھارا جہاںسمجھے کہ مٹھی میں ہے سارا جہاںذرے کو خورشید میں دے کھپابندے کو اللہ سے دے تو ملادونوں جہاں کی ہے بندھی تجھ سے لڑدین کی تو اصل ہے دنیا کی جڑنیکیوں کی تجھ سے ہے قائم اساستو نہ ہو تو جائیں نہ نیکی کے پاسدین کی تجھ بن کہیں پرسش نہ ہوتو نہ ہو تو حق کی پرستش نہ ہوخشک تھا بن تیرے درخت عملتو نے لگائے ہیں یہ سب پھول پھلدل کو لبھاتی ہے کبھی بن کے حورگاہ دکھاتی ہے شراب طہورنام ہے سدرہ کبھی طوبیٰ تراروز نرالا ہے تماشا تراکوثر و تسنیم ہے یا سلسبیلجلوے ہیں سب تیرے یہ بے قال و قیلروپ ہیں ہر پنتھ میں تیرے الگہے کہیں فردوس کہیں ہے سورگچھوٹ گئے سارے قریب اور بعیدایک نہ چھوٹی تو نہ چھوٹی امیدتیرے ہی دم سے کٹے جو دن تھے سختتیرے ہی صدقے سے ملا تاج و تختخاکیوں کی تجھ سے ہے ہمت بلندتو نہ ہو تو کام ہوں دنیا کے بندتجھ سے ہی آباد ہے کون و مکاںتو نہ ہو تو ہے بھی برہم جہاںکوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاشہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاشاک تمنا میں ہے اولاد کیایک کو دل دار کی ہے لو لگیایک کو ہے دھن جو کچھ ہاتھ آئےدھوم سے اولاد کی شادی رچائےایک کو کچھ آج اگر مل گیاکل کی ہے یہ فکر کہ کھائیں گے کیاقوم کی بہبود کا بھوکا ہے ایکجن میں ہو ان کے لیے انجام نیکایک کو ہے تشنگیٔ قرب حقجس نے کیا دل سے جگر تک ہے شقجو ہے غرض اس کی نئی جستجولاکھ اگر دل ہیں تو لاکھ آرزوتجھ سے ہیں دل سب کے مگر باغ باغگل کوئی ہونے نہیں پاتا چراغسب یہ سمجھتے ہیں کہ پائی مرادکہتی ہے جب تو کہ اب آئی مرادوعدہ ترا راست ہو یا ہو دروغتو نے دیے ہیں اسے کیا کیا فروغوعدے وفا کرتی ہے گو چند تورکھتی ہے ہر ایک کو خورسند توبھاتی ہے سب کو تری لیت و لعلتو نے کہاں سیکھی ہے یہ آج کلتلخ کو تو چاہے تو شیریں کرےبزم عزا کو طرب آگیں کرےآنے نہ دے رنج کو مفلس کے پاسرکھے غنی اس کو رہے جس کے پاسیاس کا پاتی ہے جو تو کچھ لگاؤسیکڑوں کرتی ہے اتار اور چڑھاؤآنے نہیں دیتی دلوں پر ہراسٹوٹنے دیتی نہیں طالب کی آسجن کو میسر نہ ہو کملی پھٹیخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کیچٹنی سے روٹی کا ہے جن کی بناؤبیٹھے پکاتے ہیں خیالی پلاؤپاؤں میں جوتی نہیں پر ہے یہ ذوقگھوڑا جو سبزہ ہو تو نیلا ہو طوقفیض کے کھولے ہیں جہاں تو نے بابدیکھتے ہیں جھونپڑے محلوں کے خوابتیرے کرشمے ہیں غضب دل فریبدل میں نہیں چھوڑتے صبر و شکیبتجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیاپھونک دیا کان میں کیا جانے کیادل سے بھلایا زن و فرزند کولگ گیا گھن نخل برومند کوکھانے سے پینے سے ہوا سرد جیایسی کچھ اکسیر کی ہے لو لگیدین کی ہے فکر نہ دنیا سے کامدھن ہے یہی رات دن اور صبح شامدھونکنی ہے بیٹھ کے جب دھونکناشہہ کو سمجھتا ہے اک ادنیٰ گداپیسے کو جب تاؤ پہ دیتا ہے تاؤپوچھتا یاروں سے ہے سونے کا بھاؤکہتا ہے جب ہنستے ہیں سب دیکھ کررہ گئی اک آنچ کی باقی کسرہے اسی دھند میں وہ آسودہ حالتو نے دیا عقل پہ پردہ سا ڈالتول کر گر دیکھیے اس کی خوشیکوئی خوشی اس کو نہ پہنچے کبھیپھرتے ہیں محتاج کئی تیرہ بختجن کے پیروں میں تھا کبھی تاج و تختآج جو برتن ہیں تو کل گھر کروملتی ہے مشکل سے انہیں نان جوتیرے سوا خاک نہیں ان کے پاسساری خدائی میں ہے لے دے کے آسپھولے سماتے نہیں اس آس پرصاحب عالم انہیں کہیے اگرکھاتے ہیں اس آس پہ قسمیں عجیبجھوٹے کو ہو تخت نہ یارب نصیبہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجومآتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوملگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنےحوصلہ کا لگتا ہے جی چھوٹنےہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگعرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگجی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیےپھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیےبیٹھنے لگتا ہے دل آوے کی طرحیاس ڈراتی ہے چھلاوے کی طرحہوتا ہے شکوہ کبھی تقدیر کااڑتا ہے خاکہ کبھی تدبیر کاٹھنتی ہے گردوں سے لڑائی کبھیہوتی ہے قسمت کی ہنسائی کبھیجاتا ہے قابو سے آخر دل نکلکرتی ہے ان مشکلوں کو تو ہی حلکان میں پہنچی تری آہٹ جو ہیںرخت سفر یاس نے باندھا وہیںساتھ گئی یاس کے پژمردگیہو گئی کافور سب افسردگیتجھ میں چھپا راحت جاں کا ہے بھیدچھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید
نہیں میرا آنچل میلا ہےاور تیری دستار کے سارے پیچ ابھی تک تیکھے ہیںکسی ہوا نے ان کو اب تک چھونے کی جرأت نہیں کی ہےتیری اجلی پیشانی پرگئے دنوں کی کوئی گھڑیپچھتاوا بن کے نہیں پھوٹیاور میرے ماتھے کی سیاہیتجھ سے آنکھ ملا کر بات نہیں کر سکتیاچھے لڑکےمجھے نہ ایسے دیکھاپنے سارے جگنو سارے پھولسنبھال کے رکھ لےپھٹے ہوئے آنچل سے پھول گر جاتے ہیںاور جگنوپہلا موقع پاتے ہی اڑ جاتے ہیںچاہے اوڑھنی سے باہر کی دھوپ کتنی ہی کڑی ہو!
مری گلی کے غلیظ بچوتم اپنے میلے بدن کی ساری غلاظتوں کو ادھار سمجھوتمہاری آنکھیںاداسیوں سے بھری ہوئی ہیںازل سے جیسے ڈری ہوئی ہیںتمہارے ہونٹوں پہ پیڑھیوں کی جمی ہوئی تہہ یہ کہہ رہی ہےحیات کی آب جو پس پشت بہہ رہی ہےتمہاری جیبیں منافقت سے اٹی ہوئی ہیںسبھی قمیصیں پھٹی ہوئی ہیںتمہاری پھیکی ہتھیلیوں کی بجھی لکیریںبقا کی ابجد سے اجنبی ہیںتمہاری قسمت کی آسمانی نشانیاں اب خطوط وحدانیت کا مقسوم ہو رہی ہیںنظر سے معدوم ہو رہی ہیںمری گلی کے غلیظ بچوتمہارے ماں باپ نے تمدن کا قرض لے کرتمہاری تہذیب بیچ دی ہےتمہارا استاد اپنی ٹوٹی ہوئی چھڑی لے کے چپ کھڑا ہےکہ اس کے سوکھے گلے میں نان جویں کا ٹکڑا اڑا ہوا ہےمری گلی کے غلیظ بچوتمہارے میلے بدن کی ساری غلاظتیں اب گئے زمانوں کے ارمغاں ہیںتمہارے ورثے کی داستاں ہیںانہیں سنبھالوکہ آنے والا ہر ایک لمحہ تمہارے جھڑتے ہوئے پپوٹوں سے جانے والے دنوں دنوں کی اتار لے گامری گلی کے غلیظ بچوضدوں کو چھوڑوقریب آؤرتوں کی نفرت کو پیار سمجھوخزاں کو رنگ بہار سمجھوغلاظتوں کو ادھار سمجھو
سہانی نمود جہاں کی گھڑی تھیتبسم فشاں زندگی کی کلی تھیکہیں مہر کو تاج زر مل رہا تھاعطا چاند کو چاندنی ہو رہی تھیسیہ پیرہن شام کو دے رہے تھےستاروں کو تعلیم تابندگی تھیکہیں شاخ ہستی کو لگتے تھے پتےکہیں زندگی کی کلی پھوٹتی تھیفرشتے سکھاتے تھے شبنم کو روناہنسی گل کو پہلے پہل آ رہی تھیعطا درد ہوتا تھا شاعر کے دل کوخودی تشنہ کام مے بے خودی تھیاٹھی اول اول گھٹا کالی کالیکوئی حور چوٹی کو کھولے کھڑی تھیزمیں کو تھا دعویٰ کہ میں آسماں ہوںمکاں کہہ رہا تھا کہ میں لا مکاں ہوںغرض اس قدر یہ نظارہ تھا پیاراکہ نظارگی ہو سراپا نظاراملک آزماتے تھے پرواز اپنیجبینوں سے نور ازل آشکارافرشتہ تھا اک عشق تھا نام جس کاکہ تھی رہبری اس کی سب کا سہارافرشتہ کہ پتلا تھا بے تابیوں کاملک کا ملک اور پارے کا پاراپئے سیر فردوس کو جا رہا تھاقضا سے ملا راہ میں وہ قضا رایہ پوچھا ترا نام کیا کام کیا ہےنہیں آنکھ کو دید تیری گواراہوا سن کے گویا قضا کا فرشتہاجل ہوں مرا کام ہے آشکارااڑاتی ہوں میں رخت ہستی کے پرزےبجھاتی ہوں میں زندگی کا شرارامری آنکھ میں جادوئے نیستی ہےپیام فنا ہے اسی کا اشارامگر ایک ہستی ہے دنیا میں ایسیوہ آتش ہے میں سامنے اس کے پاراشرر بن کے رہتی ہے انساں کے دل میںوہ ہے نور مطلق کی آنکھوں کا تاراٹپکتی ہے آنکھوں سے بن بن کے آنسووہ آنسو کہ ہو جن کی تلخی گواراسنی عشق نے گفتگو جب قضا کیہنسی اس کے لب پر ہوئی آشکاراگری اس تبسم کی بجلی اجل پراندھیرے کا ہو نور میں کیا گزارابقا کو جو دیکھا فنا ہو گئی وہقضا تھی شکار قضا ہو گئی وہ
کون اس گتھی کو سلجھائے دنیا ایک پہیلیدو دن ایک پھٹی چادر میں دکھ کی آندھی جھیلیدو کڑوی سانسیں لیں دو چلموں کی راکھ انڈیلیاور پھر اس کے بعد نہ پوچھو کھیل جو ہونی کھیلیپنواڑی کی ارتھی اٹھی بابا اللہ بیلی
رات دنیا سے چھپ کرمیں ایسے جہاں کو خیالوں میںلاتا ہوں جس میں سبھی دوست ہوںاس طرح جس طرحپیڑ کی ایک ٹہنی کٹے تو سبھی ٹہنیاںخود پہ محسوس کرتی ہیںآرے کے دانتاور سبھی ٹہنیاں اپنا رس بانٹتی ہیں کٹی شاخ سےپھر کئی ٹہنیاں پھوٹتی ہیں اسی شاخ سے
لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذراچھو کے میرا بدناپنے بچے کے دل کا دھڑکنا سنوناف کے اس طرفاس کی جنبش کو محسوس کرتے ہو تمبس یہیں چھوڑ دوتھوڑی دیر اور اس ہاتھ کو میرے ٹھنڈے بدن پر یہیں چھوڑ دومیرے بے کل نفس کو قرار آ گیامیرے عیسیٰ مرے درد کے چارہ گرمیرا ہر موئے تناس ہتھیلی سے تسکین پانے لگااس ہتھیلی کے نیچے مرا لال کروٹ سی لینے لگاانگلیوں سے بدن اس کا پہچان لوتم اسے جان لوچومنے دو مجھے اپنی یہ انگلیاںان کی ہر پور کو چومنے دو مجھےناخنوں کو لبوں سے لگا لوں ذراپھول لاتی ہوئی یہ ہری انگلیاںمیری آنکھوں سے آنسو ابلتے ہوئےان سے سینچوں گی میںپھول لاتی ہوئی انگلیوں کی جڑیں چومنے دو مجھےاپنے بال اپنے ماتھے کا چاند اپنے لبیہ چمکتی ہوئی کالی آنکھیںمرے کانپتے ہونٹ میری چھلکتی ہوئی آنکھ کو دیکھ کر کتنی حیران ہیںتم کو معلوم کیا تم کو معلوم کیاتم نے جانے مجھے کیا سے کیا کر دیامیرے اندر اندھیرے کا آسیب تھایا کراں تا کراں ایک انمٹ خلایوں ہی پھرتی تھی میںزیست کے ذائقے کو ترستی ہوئیدل میں آنسو بھرے سب پہ ہنستی ہوئیتم نے اندر مرا اس طرح بھر دیاپھوٹتی ہے مرے جسم سے روشنیسب مقدس کتابیں جو نازل ہوئیںسب پیمبر جو اب تک اتارے گئےسب فرشتے کہ ہیں بادلوں سے پرےرنگ سنگیت سر پھول کلیاں شجرصبح دم پیڑ کی جھومتی ڈالیاںان کے مفہوم جو بھی بتائے گئےخاک پر بسنے والے بشر کو مسرت کے جتنے بھی نغمے سنائے گئےسب رشی سب منی انبیا اولیاخیر کے دیوتا حسن نیکی خداآج سب پر مجھےاعتبار آ گیا اعتبار آ گیا
پھوٹی لب نازک سے وہ اک شوخ سی لالیتھوڑی سی شفق عارض تاباں نے چرا لیپھر بام کی جانب اٹھے ابروئے ہلالی
افق روس سے پھوٹی ہے نئی صبح کی ضوشب کا تاریک جگر چاک ہوا جاتا ہے
کیا گیت ہیں وہ کوہیاروں کےکیا گھائل ان کی بانی ہےکیا لاج رنگی وہ پھٹی چادرجو تھرکی تپت نے تانی ہےوہ گھاؤ گھاؤ تن ان کےپر نس نس میں اگنی دہکیوہ باٹ گھری سنگینوں سےاور جھپٹ شکاری کتوں کی
لو پو پھٹی وہ چھپ گئی تاروں کی انجمنلو جام مہر سے وہ چھلکنے لگی کرنکھچنے لگا نگاہ میں فطرت کا بانکپنجلوے زمیں پہ برسے زمیں بن گئی دلہنگونجے ترانے صبح کا اک شور ہو گیاعالم مئے بقا میں شرابور ہو گیا
اتنے بڑے نظام میں صرف اک میری ہی نیکی سے کیا ہوتا ہےمیں تو اس سے زیادہ کر ہی کیا سکتا ہوںمیز پر اپنی ساری دنیاکاغذ اور قلم اور ٹوٹی پھوٹی نظمیںساری چیزیں بڑے قرینے سے رکھ دی ہیںدل میں بھری ہوئی ہیں اتنی اچھی اچھی باتیںان باتوں کا دھیان آتا ہے تو یہ سانس بڑی ہی بیش بہا لگتی ہےمجھ کو بھی تو کیسی کیسی باتوں سے راحت ملتی ہےمجھ کو اس راحت میں صادق پا کرسارے جھوٹ مری تصدیق کو آ جاتے ہیںایک اگر میں سچا ہوتامیری اس دنیا میں جتنے قرینے سجے ہوئے ہیںان کی جگہ بے ترتیبی سے پڑے ہوئے کچھ ٹکڑے ہوتےمیرے جسم کے ٹکڑے کالے جھوٹ کے اس چلتے آرے کے نیچے
عید بہت ہی دھوم سے آئیبازاروں میں رونق لائیپہن کے اچھے اچھے کپڑےبچے اپنے گھر سے نکلےکپڑے گوٹے اور پھٹے کےجھلمل کرتے جھم جھم کرتےعید ملن کو پہنچے گھر گھرکتنے خوش تھے باہم مل کرپھینی اور مٹھائی کھائیمیٹھی میٹھی عید منائیملے انہیں عیدی کے پیسےکھیل کھلونے خوب خریدےجا کر باغ میں جھولا جھولےدنیا کے سارے غم بھولےسب نے دل سے عید منائیمگر ہمیں تو ذرا نہ بھائیتم جو نہیں تھیں پاس ہمارےدل بھر آیا غم کے مارےمیری سیمیںؔ میری پیاریتم کو مبارک عید تمہاریتم نے منائی خوب یہ عیدہمیں تمہاری ہوئی نہ دیدہم تو جب تم کو دیکھیں گےعید اسی دن کی سمجھیں گے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books