aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "pittaa"
ساقی کی ہر نگاہ پہ بل کھا کے پی گیالہروں سے کھیلتا ہوا لہرا کے پی گیابے کیفیوں کے کیف سے گھبرا کے پی گیاتوبہ کو توڑ تاڑ کے تھرا کے پی گیازاہد! یہ تیری شوخئ رندانہ دیکھنارحمت کو باتوں باتوں میں بہلا کے پی گیاسر مستئ ازل مجھے جب یاد آ گئیدنیائے اعتبار کو ٹھکرا کے پی گیاآزردگئ خاطر ساقی کو دیکھ کرمجھ کو یہ شرم آئی کہ شرما کے پی گیااے رحمت تمام مری ہر خطا معافمیں انتہائے شوق میں گھبرا کے پی گیاپیتا بغیر اذن یہ کب تھی مری مجالدر پردہ چشم یار کی شہ پا کے پی گیااس جان مے کدہ کی قسم بارہا جگرؔکل عالم بسیط پہ میں چھا کے پی گیا
آئی جب ان کی یاد تو آتی چلی گئیہر نقش ماسوا کو مٹاتی چلی گئیہر منظر جمال دکھاتی چلی گئیجیسے انہیں کو سامنے لاتی چلی گئیہر واقعہ قریب تر آتا چلا گیاہر شے حسین تر نظر آتی چلی گئیویرانۂ حیات کے ایک ایک گوشہ میںجوگن کوئی ستار بجاتی چلی گئیدل پھنک رہا تھا آتش ضبط فراق سےدیپک کو مے گسار بناتی چلی گئیبے حرف و بے حکایت و بے ساز و بے صدارگ رگ میں نغمہ بن کے سماتی چلی گئیجتنا ہی کچھ سکون سا آتا چلا گیااتنا ہی بے قرار بناتی چلی گئیکیفیتوں کو ہوش سا آتا چلا گیابے کیفیوں کو نیند سی آتی چلی گئیکیا کیا نہ حسن یار سے شکوے تھے عشق کوکیا کیا نہ شرمسار بناتی چلی گئیتفریق حسن و عشق کا جھگڑا نہیں رہاتمئیز قرب و بعد مٹاتی چلی گئیمیں تشنہ کام شوق تھا پیتا چلا گیاوہ مست انکھڑیوں سے پلاتی چلی گئیاک حسن بے جہت کی فضائے بسیط میںاڑتی گئی مجھے بھی اڑاتی چلی گئیپھر میں ہوں اور عشق کی بیتابیاں جگرؔاچھا ہوا وہ نیند کی ماتی چلی گئی
مجھ رند حسن کار کی مے خواریاں نہ پوچھاس خواب جاں فروز کی بیداریاں نہ پوچھکرتی ہے کیوں شراب خرد باریاں نہ پوچھبے ہوشیوں میں کیوں ہے یہ ہشیاریاں نہ پوچھپیتا ہوں وہ جو زلف کی رنگیں گھٹاؤں میںکھنچتی ہے ان گھنی ہوئی پلکوں کی چھاؤں میں
معلوم ہے مجھ کو یہ دنیاکس طرح وجود میں آئی ہےکس طرح فنا ہوگی اک دنمعلوم ہے مجھ کو انساں نےکس طرح سے کی تخلیق خداکس طرح بتوں کو پیدا کیامعلوم ہے مجھ کو میں کیا ہوںکس واسطے اب تک زندہ ہوںاک اس کے جواب کا علم نہیںیہ تیس برس کیسے کاٹےہاں یاد ہے اتنا میں اک دنٹافی کے لیے رویا تھا بہتاماں نے مجھے پیٹا تھا بہتہاں یاد ہے اتنا میں اک دنتتلی کا تعاقب کرتے ہوئےاک پیڑ سے جا ٹکرایا تھاہاں اتنا یاد ہے میں اک دننیندوں کے دیار میں سپنوں کیپریوں سے لپٹ کر سویا تھاہاں اتنا یاد ہے میں اک دنگھر والوں سے اپنے لڑ بھڑ کےتوڑ آیا تھا سب رشتے ناطےہاں اتنا یاد ہے میں اک دنجب بہت دکھی تھا تنہا تھااک جسم کی آگ میں پگھلا تھا
اپنے ہی دل کا پیالہ پیے مدہوش ہوں میںجھوٹی پیتا نہیں مغرب کی وہ مے نوش ہوں میں
ایک تھا راجہ مہدی علی خاں ایک تھی اس کی رانیرانی کی اک ماں تھی یعنی بچہ لوگ کی نانیکرنا خدا کا ایسا ہوا اک روز کوئی ہمسایہراجہ کے دربار میں اک چھوٹی سی چوہیا لایادیکھا جب اس چوہیا کو حیران ہوئے درباریپیتی تھی وہ کوکو کولا کھاتی تھی ترکاریانگریزی میں باتیں کر کے فلمی گانے گاتیرنگ برنگے ڈانس دکھا کر سب کا جی بہلاتیپردے سے یہ منظر دیکھا جب رانی کی ماں نےسوچا ہمسائے سے لے لے چوہیا کسی بہانےبڑھیا نے سر پیٹا اپنا خوب کیا واویلااوڑھ لیا پھر وہ دوپٹہ رنگ تھا جس کا میلاکہنے لگی چلا چلا کر راجہ تیری دہائییہ ہے میرا چور کہ اس نے میری بھینس چرائیچھین لو اس سے بھینسیں میری اور منہ پر مارو چانٹادیکھو دیکھو سوکھ کے میری بھینسیں ہوئی ہے کانٹاراجہ مہندی علی خاں جو تھے راجاؤں کے راجہکام نہ کچھ بھی کرتے آٹھوں پہر بجاتے باجاگرج کے بولے او مردود بتا کیوں بھینس چرائیہم نے تو اس بھینس کے آگے برسوں بین بجائیراجہ کی یہ بات سنی تو کہنے لگا ہم سایاجئے وہ ساس کہ چوہیا کو بھی جس نے بھینس بنایاراج ہے تیرا اس نگری میں خوب سزا دے مجھ کوعقل بڑی یا بھینس بس اتنی بات بتا دے مجھ کو
بلبل کا بچہکھاتا تھا کھچڑیپیتا تھا پانیبلبل کا بچہ
جانتے ہو میں ہوں کیا میں ہوں ویشیاپتا ہے میں نے ہے کیا کیا کیامیں ناچتی ہوں کوٹھوں پر خوش ہوتی ہوں بس نوٹوں پرہر رات ہر رات میں اپنا جسم بیچتی ہوںاتنا درد میں بس پیسوں کے لئے تو سہتی ہوںمیں لوگوں کی راتیں رنگین کرتی ہوںہر رات یہ اپرادھ سنگین کرتی ہوںمیرا نام عام میں لینے نہیںنوٹ کے علاوہ میری زندگی کا کوئی نایک نہیںزندگی میں میرا نہ ہے استیو نہ کوئی ایمانسماج کے لئے تو میں ہوں ہی نہیں انساناگر ہے تو بس ہے ایک پہچانہوں ایک کوٹھے والی کرتی ہوں اپنا ہی جسم نیلامہر رات میری ایک نئے گراہک کے ساتھ ہوتی ہےہر رات میری آتما اپنی پہچان کھوتی ہےمیری ماں کا بھی تو یہی کام تھا نہیں جانتی میرے پتا کا کیا نام تھاجان کر بھی کیا کر لیتی وہ بھی ایک ویشیا تھیکام ان کا لوگوں کو سکھ دینا تھا چنتا نہیںوراثت میں ان سے بس یہی ایک کام ملاجس کے کارن ہی شاید مجھے جیون میں کچھ نہ ملانہیں نہیں گلتی ان کی نہیں انہوں نے تو پڑھانا چاہا تھاپر کیا کریں مالکن کو یہ بالکل ناگوار تھانہ جائے دیا مجھے اس نرک سے باہر نہ بننے دی کوئی پہچانان کے دباؤ میں ہی تو مجھے کھونا پڑا میرا ایماناب لوگوں کو بھی کیا دوش دوں جو مجھ پر تھوک کر جاتے ہیںنہیں جانتے وہ میرا سچ بس کچھ بھی کہہ جاتے ہیںدکھ تو خوب ہوتا ہے پر اب عادت سی ہو گئی ہےسوچتی ہوں کبھی کیا میری یہ عادت واقعی سہی ہےکیا مجھے جینے کا کوئی موکا ملے گاکیا میرے جیون میں بھی پیار کا پھول کھلے گاہم سفر نہیں بس ایک ہم درد ہی چاہیےپہچان نہیں تھوڑا سا بس پیار ہی چاہیےایمان نہیں تھوڑی سی بس عزت ہی چاہیےارمان ہے بس ایک کوئی ویشیا نہیں نہیں ویشنوی کر بلائےپیسے دیکھ کر نہیں پیار دے کر گلے سے لگائےکسی کے گھر ٹوٹنے کا نہیں جڑنے کا کارن بننا چاہتی ہوںبس ایک بار کسی کے دکھ کا نیوارن بننا چاہتی ہوںکسی کی بیوی نہ سہی بہن بننا چاہتی ہوںہر بار کی طرح ویشیا نہیں ایک انسان بننا چاہتی ہوں
ڈالا ہے آدمی نے ہر اک آدمی پہ جال''ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال''نکلا تمام عمر کی کوشش کا یہ مآلآیا تھا روتا پیٹتا جاتا ہے خستہ حالاس پر یہ حال ہے کہ اکڑتا ہے آدمیغیروں سے اور اپنوں سے لڑتا ہے آدمی
ہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبتعلیم نہ ہوگی جس میں کبھی سب آزادی سے گھومیں گےاستاد پڑھیں گے درجوں میں ہم لوگ خوشی سے گھومیں گےاسکول نہ جا کر باغوں میں تفریح کریں گے بے مطلبہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبپڑھنے کے لیے بچوں کو جہاں مرغا نہ بنایا جائے گاچانٹے نہ جمائے جائیں گے ڈنڈوں سے نہ پیٹا جائے گااستاد کے مولیٰ بخش جہاں دکھلا نہ سکیں گے کچھ کرتبہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبجو یاد کرے گا خوب سبق تا عمر نہ ہوگا پاس وہیجو کھیل میں لے گا دلچسپی پڑھنے میں نہ ہوگا فیل کبھیدراصل ہمارے مکتب کا ہوگا ہر اک دستور عجبہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبجس دن بھی پڑا بیمار کوئی اسکول میں ہوگا ہالی ڈےدو بوند بھی پانی برسا تو ہو جائے گا فوراً رینی ڈےہفتے میں تو کم سے کم چھ دن اتوار منائیں گے ہم سبہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبکھلیں گے کبھی جب ہم کرکٹ تو خوب اڑائیں گے چھکےہاکی میں دکھائیں گے وہ ہنر رہ جائیں گے سب ہکے بکےہر ٹیم سے میچیں جیتے گا ہم لوگوں کا فٹ بال کلبہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتب
پھر ایک گھڑی ایسی آئی سب چیزیں ہو گئی پرائیانہیں ماں باپ نے تو پھر کر دی میری پروائیایک راج کمار آیہ تھا گھوڑی چڑھامیدیں اچھلنے لگیں تھی بڑھ چڑھاچھاؤں کو ملا تھا امیدوں کا سمندرنئی زندگی کی خوشی تھی دل کے اندرپیا سنگ نئے گھر جانا تھاشادی تو بس ایک بہانہ تھاجنموں کے لئے ملنے والا پیا کا پیار تھابننے والا اب وہی میرا سنسار تھا
تمہیں معلوم تو ہوگاسبھی موسم بدلتے ہیںکبھی تپتی دوپہریں جون کیتن من جلاتیں ہیںکبھی یخ بستہ راتوں کادسمبر لوٹ آتا ہےکبھی پت جھڑ کا موسم خون پیتا ہے درختوں کاکبھی سوکھی ہوئی شاخوں پہ کلیاں کھلکھلاتی ہیںخزاں کا دم نکلتے ہیبہاریں مسکراتی ہیںتمہیں معلوم تو ہوگاسبھی موسم بدلتے ہیںمگر یہ بھی حقیقت ہےہمارے دل کے آنگن میںکسی صورت نہیں بدلاتمہاری یاد کا موسم
مرغا مرغی پیار سے دیکھیںننھا چوزہ کھیل کرےمیں کس کو بولوں جو میرےماتا پتا کا میل کرےچڑیا اور چڑا مل جل کردانا دنکا لائےاپنے چھوٹے سے بچے کوکھول کے چونچ کھلائےمیں جب اپنے بھاگ کو سوچوںآنکھ میں آنسو آئےمرغا مرغی پیار سے دیکھیں
ہر لحظہ پیتا رہتا ہے تو گھونٹ خون کےاور آم آم ہی نہیں بھرپور جام ہے
شیخ صاحب! سچ تو یہ ہے ان دنوں پیتا تھا میںان دنوں پیتا تھا یعنی جن دنوں جیتا تھا میں
اسے میسج تو بھیجا ہےکہ کافی پر ملو مجھ سےوہ آ جائے گی تو اچھامیں پہلے صرف دو کافی منگاؤں گامیں کیپیچینو پیتا ہوںوہ کیسی کافی پیتی ہےاس کا اندازہ تو اس کے آنے پر ہوگاہمارے پاس تو باتیں بھی کم ہیںسو کافی جلد پی لیں گےجو اس کے کپ میں تھوڑا جھاگ کافی کا بچا ہوگامیں اس کی شیپ کو پڑھ کر اسے فیوچر بتاؤں گابتاؤں گا اسے میںکیسے وہ مجھ جیسے اک لڑکے کی دنیا کو بدل دے گیاسے معلوم ہوگا کیا کہ کافی کپ کی ریڈنگ کا طریقہ یہ نہیں ہوتا؟میں کیفے آ چکا ہوںوہ بھی رستے میں کہیں ہوگیبہت سے لوگ کیفے آ کے پڑھتے لکھتے رہتے ہیںمحمد علوی کی نظمیں تو میں بھی ساتھ لایا ہوںیہ ہوگا تو نہیں پھر بھی وہ آئی ہی نہیں تو پھرانہیں لوگوں کے جیسے میں بھی پڑھ کر وقت کاٹوں گااسے آنے میں دیری ہو رہی ہےمیں اک کافی تو تنہا پی چکا ہوںذرا سا جھاگ کپ میں ہے جسے دیکھو تو لگتا ہےکہ اک لڑکا اکیلا بیٹھ کر کچھ پڑھ رہا ہےتسلی دے رہا ہوں اب میں خود کویہ میری شام کا فیوچر نہیں ہےکہ کافی کپ کی ریڈنگ کا طریقہ یہ نہیں ہوتا
کیا خدا تجھ کو بھول جاؤں میںکس لیے تیرے گن گاؤں میںمجھ کو انساں بنا دیا تو نےسیدھا رستہ بتا دیا تو نےپھر سمجھ دی کہ نیک کام کروںکتنا اونچا اٹھا دیا تو نےکیا یہ احسان بھول جاؤں میںکس لیے تیرے گن نہ گاؤں میںچاند سورج جو جگمگاتے ہیںگرمی اور روشنی بہاتے ہیںزندگی کا یہی سہارا ہیںکھیتیاں بھی یہی پکاتے ہیںیہ نہ چمکیں تو کچھ نہ کھاؤں میںکس لیے تیرے گن نہ گاؤں میںیہ گھٹائیں یہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوایہ سمندر پہاڑ یہ دریایہ گھنے اور یہ لہلہاتے کھیتتو نے میرے لیے کیے پیدادین کو تیری کیا گناؤں میںکس لئے تیرے گن نہ گاؤں میںگائے یا بھینس بیل یا بکریاونٹ گھوڑے پہاڑ سے ہاتھیدودھ گھی دیں مجھے سواری دیںجوتیں بوئیں یہی میری کھیتیکیا دیا تو نے کیا بتاؤں میںکس لیے تیرا گن نہ گاؤں میںتو نے ماتا پتا کا پیار دیاپھر مجھے علم سے سنوار دیابڑھ کے ان سب سے تندرستی دیجو دیا تو نے بے شمار دیاچاہیے سر تجھے جھکاؤں میںکس لیے تیرے گن نہ گاؤں میں
اکثر میں نے سوچا ہےمیں بے حد سگریٹ پیتا ہوںسگریٹ پینا چھوڑوں گا
سگرٹ کا جو اڑائے دھواں وہ بھی آدمیپیتا ہے ہیروئن جو یہاں وہ بھی آدمینسوار میں جو پائے اماں وہ بھی آدمیبیڑا چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیجو پی پلا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
تیری تصویر مرے ذہن پہ جب چھاتی ہےزندہ رہتا ہوں مگر جان نکل جاتی ہےزہر پیتا ہوں تری یاد میں دن رات صنمکتنی مشکل ہے ابھی اپنی ملاقات صنم
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books