aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "raaz-e-husn"
یہ رنگ و بو یہ نظارے یہ بزم آرائینیاز و ناز و ادا حسن عشق رعنائیشباب نظم و غزل در پئے شکیبائیمجھے یہ ساعت گذراں کہاں پہ لے آئیقرار دیکھ لیا اضطرار دیکھ لیاغم حبیب غم روزگار دیکھ لیااداس چہروں پہ اڑتا غبار دیکھ لیانوائے شوق کو بے اختیار دیکھ لیاخزاں گزیدہ سا رنگ بہار دیکھ لیاگماں دریدہ یقین تار تار دیکھ لیاتمام عشوۂ حسن نگار دیکھ لیاجنوں کا سجدہ سر کوئے یار دیکھ لیاسواد عقل و خرد بے وقار دیکھ لیارہا نہ خود کا بھی پھر اعتبار دیکھ لیاکبھی جو دیکھا نہ تھا بار بار دیکھ لیانہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلومنوشتۂ پس دیوار کیا ہے کیا معلوم
انشاؔ جی یہ کون آیا کس دیس کا باسی ہےہونٹوں پہ تبسم ہے آنکھوں میں اداسی ہےخوابوں کے گلستاں کی خوشبوئے دل آرا ہےیا صبح تمنا کے ماتھے کا ستارا ہےترسی ہوئی نظروں کو اب اور نہ ترسا رےاے حسن کے سوداگر اے روپ کے بنجارےرمنا دل انشاؔ کا اب تیرا ٹھکانا ہواب کوئی بھی صورت ہو اب کوئی بہانا ہو
ماضی کی ڈیوڑھی کی چلمنکھلے دریچے کی جالی سےچھن چھن آئیںروپ کی جوت حنا کی لالی کل کی یادیںسوندھی خوشبو ٹھنڈی بوندیںکل کے باسی آنسو جن سےفردا کے بالیں کا پردا بھیگ رہا ہےسحر زدہ محبوس حسینہسپنوں کے شیلاٹ کی رانیآئینوں میں حسن شکستہ دیکھ رہی ہےکتنے چہرے ٹوٹے ٹوٹےپہچانے ان پہچانے سےآگے پیچھے آگے پیچھے بھاگ رہے ہیںقلعے کے آسیب کی صورت کس کی سسکی کس کا نالہکمرے کی خاموش فضا میں در آیا ہے
تجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےوقت کی بے عنوان کہانی کب تک بے عنوان رہےاے مرے سوچ نگر کی رانی اے مرے خلد خیال کی حوراتنے دنوں جو میں گھلتا رہا ہوں تیرے بنا یونہی دور ہی دورسوچ تو کیا پھل مجھ کو ملا میں من سے گیا پھر تن سے گیاشہر وطن میں اجنبی ٹھہرا آخر شہر وطن سے گیاروح کی پیاس بجھانی تھی پر یہاں ہونٹوں کی پیاس بھی بجھ نہ سکیبچتے سنبھلتے بھی ایک سلگتا روگ بنی مرے جی کی لگیدور کی بات نہ سوچ ابھی مرے ہات میں تو ذرا ہات تو دےتجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےباغ میں ہے اک بیلے کا تختہ بھینی ہے اس بیلے کی سگندھاے کلیو کیوں اتنے دنوں تم رکھے رہیں اسے گود میں بندکتنے ہی ہم سے روپ کے رسیا آئے یہاں اور چل بھی دیئےتم ہو کہ اتنے حسن کے ہوتے ایک نہ دامن تھام سکےصحن چمن پر بھونروں کے بادل ایک ہی پل کو چھائیں گےپھر نہ وہ جا کر لوٹ سکیں گے پھر نہ وہ جا کر آئیں گےاے مرے سوچ نگر کی رانی وقت کی باتیں رنگ اور بوہر کوئی ساتھ کسی کا ڈھونڈے گل ہوں کہ بیلے میں ہوں کہ توجو کچھ کہنا ہے ابھی کہہ لے جو کچھ سننا ہے سن لےتجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیے
چاند کب سے ہے سر شاخ صنوبر اٹکاگھاس شبنم میں شرابور ہے شب ہے آدھیبام سونا ہے، کہاں ڈھونڈیں کسی کا چہرا(لوگ سمجھیں گے کہ بے ربط ہیں باتیں اپنی)شعر اگتے ہیں دکھی ذہن سے کونپل کونپلکون موسم ہے کہ بھرپور ہیں غم کی بیلیںدور پہنچے ہیں سرکتے ہوئے اودے بادلچاند تنہا ہے (اگر اس کی بلائیں لے لیں؟)دوستو جی کا عجب حال ہے، لینا بڑھناچاندنی رات ہے کاتک کا مہینہ ہوگامیر مغفور کے اشعار نہ پیہم پڑھناجینے والوں کو ابھی اور بھی جینا ہوگاچاند ٹھٹھکا ہے سر شاخ صنوبر کب سےکون سا چاند ہے کس رت کی ہیں راتیں لوگودھند اڑنے لگی بننے لگی کیا کیا چہرےاچھی لگتی ہیں دوانوں کی سی باتیں لوگوبھیگتی رات میں دبکا ہوا جھینگر بولاکسمساتی کسی جھاڑی میں سے خوشبو لپکیکوئی کاکل کوئی دامن، کوئی آنچل ہوگاایک دنیا تھی مگر ہم سے سمیٹی نہ گئی
تو ہے دریائے مقدس تو کہ ہے عصیاں سے پاکتیرا دامن ہے ابھی آلائش انساں سے پاکتیری شوکت کے ہیں شاہد اے وفادار کہنتیرے برجوں اور ترے قلعوں کے آثار کہنتیرے ساحل سے ٹپکتی اب بھی ہے شان بلندآسماں فرسا ہیں اب بھی تیرے ایوان بلندتیرے فرسودہ نشاں ہیں نقش ناز حسن و عشقتیری موجوں میں نہاں ہے آہ راز حسن و عشق
تیری ہر جنبش میں ہے راز نظام کائناتتیری ہر کاوش سے پاتا ہے نمو رنگ حیات
اک مکمل زندگی ہے شاعر شیریں بیاںمحرم راز فنا ہے اور بقا کا ترجماںاس کی ہستی کی ہے قیمت اک نگاہ التفاتہیچ خودداری کے آگے ہیں زمین و آسماںوہ کہیں مجبور مطلق ہے کہیں مختار کلحسن کا بے دام بندہ ورنہ ہے شاہ جہاںخم جبیں ہوتی ہے اس کی نقش پائے دوست پراور جھک جاتے ہیں اس کے پاؤں پر دونوں جہاںاس سے پوشیدہ نہیں ہیں رازہائے حسن و عشقترجماں ہے اہل الفت کا وہ سر دلبراںپھول برساتا ہے اپنے دوستوں کی بزم میںاور گراتا ہے صف اغیار پر یہ بجلیاںاس کے نازک قلب میں ملتا ہے مظلوموں کا دردبے کسوں کا ہے وہ حامی بے زبانوں کی زباںفطرتاً آزاد بے خوف و خطر بے باک ہےزندگی دیتی ہیں اس کو زندگی کی تلخیاںدل کے طوفاں میں قلم اس کا ہے کشتی نوح کیاور ہے اس کا تصور ایک بحر بیکراںقلب اس کا ملک کے حالات کا آئینہ دارقوم کے جذبات کی تشہیر ہے اس کا بیاںدین ہے اس کا محبت اس کی دنیا شاعریہے تشدد کا مخالف حامئ امن و اماںاے شفاؔ ان کو مگر شاعر نہ کہہ دینا کہیںبزم میں لا کر جو پڑھتے ہیں کلام دیگراں
تری ہستی کو راز دو جہاں معلوم تھا گویافرشتوں کا تقدس تھا ترے حسن تکلم میں
مجھے رونے دو رونے دواسی پیپل کے سائے میںجہاں اک درد کی تاثیر کا مارابتاتا تھا کہ راز درد و غم کیا ہےمداوائے الم کیا ہے
بہہ گئے آنسوؤں میں خواب مرےمیرے ہمراز و غم گسار و جلیس
تھیں کھلی جلوہ گہ خاص میں راہیں ان کیواقف راز حقیقت تھیں نگاہیں ان کی
مرا درد نغمۂ بے صدامری ذات ذرۂ بے نشاںمیرے درد کو جو زباں ملےمجھے اپنا نام و نشاں ملےمیری ذات کا جو نشاں ملےمجھے راز نظم جہاں ملےجو مجھے یہ راز نہاں ملےمری خامشی کو بیاں ملےمجھے کائنات کی سروریمجھے دولت دو جہاں ملے
سورن سنگھ اس خاک کا بیٹا ہے ہم مکتب مراعہد طفلی میں تھا جو ہم راز و ہم مشرب مرا
بادلوں سے کریں گے راز و نیازدکھ ہوا سے کہا سنا کریں گے
بود و نبود حیاتسوز دل کائناتراز حیات و مماترسم و رہ التفاتجلوۂ ذات و صفاتاک جہان ممکنات
دفعتاً چمکی حقیقت کی تجلی سامنےمحنت پیہم سے راز زندگانی مل گیا
ہنس کے رومیؔ نے کہا نادان سنآ کروں تجھ پہ عیاں میں راز دوست
مری پستی میں ہے راز بلندیزمیں پر میں تو رشک آسماں ہوں
آشنائے راز وحدت فلسفئ بے مثالگوہر دریائے دانش نکتہ دان با کمال
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books