aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "saahil"
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزلکہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحل
یہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جا
اس عشق پہ ہم بھی ہنستے تھے بے حاصل سا بے حاصل تھااک زور بپھرتے ساگر میں نا کشتی تھی نا ساحل تھا
دیکھتا ہے تو فقط ساحل سے رزم خیر و شرکون طوفاں کے طمانچے کھا رہا ہے میں کہ تو
وہ رود دجلہ کا ساحلوہ کشتی وہ ملاح کی بند آنکھیں
شاعرساحل دریا پہ میں اک رات تھا محو نظر
دور ساحل پہ بیٹھی ہوئی ایک ننھی سی بچیہماری ہنسی اور موجوں کے آہنگ سے بے خبر
برسات کے بادل چھاتے ہیںکیا اب بھی ہوائے ساحل کے
تم نے ساحل پہ کھڑے گرجے کی دیوار سے لگ کراپنی گہناتی ہوئی کوکھ کو محسوس کیا ہے؟
آج محبت کا جنم دن ہےآج ہم اداسی کی چھری سے
تھکے ہارے ہوئے خوابوں کے ساحل پر کہیں امید کا چھوٹا سا اک گھربنتے بنتے رہ گیا ہے
یہ ضابطہ ہے کہ باطل کو مت کہوں باطلیہ ضابطہ ہے کہ گرداب کو کہوں ساحل
زندگی تلخ سہی زہر سہی سم ہی سہیدرد و آزار سہی جبر سہی غم ہی سہی
ننھی لڑکیساحل کے اتنے نزدیک
محبت کے راستے میںایک سڑک ہے
میں ترا شہر چھوڑ جاؤں گاچھوڑ کر ساحل مراد چلا
یہ تو ساحل پہ بھی دیکھتی ہے بھنورریت میں کشت کرتی ہے آب بقا
دو رویہ ساحل دیوار اور پس دیواراک آئنوں کا سمندر ہے کون دیکھے گا
کچھ بالکل مٹی کے مادھو کچھ خنجر کی دھار ملےکچھ منجدھار میں کچھ ساحل پر کچھ دریا کے پار ملے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books