او دیس سے آنے والے بتا

اختر شیرانی

او دیس سے آنے والے بتا

اختر شیرانی

MORE BY اختر شیرانی

    او دیس سے آنے والا ہے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کس حال میں ہیں یاران وطن

    آوارۂ غربت کو بھی سنا

    کس رنگ میں ہے کنعان وطن

    وہ باغ وطن فردوس وطن

    وہ سرو وطن ریحان وطن

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا اب بھی وہاں کے باغوں میں

    مستانہ ہوائیں آتی ہیں

    کیا اب بھی وہاں کے پربت پر

    گھنگھور گھٹائیں چھاتی ہیں

    کیا اب بھی وہاں کی برکھائیں

    ویسے ہی دلوں کو بھاتی ہیں

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا اب بھی وطن میں ویسے ہی

    سرمست نظارے ہوتے ہیں

    کیا اب بھی سہانی راتوں کو

    وہ چاند ستارے ہوتے ہیں

    ہم کھیل جو کھیلا کرتے تھے

    کیا اب وہی سارے ہوتے ہیں

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا اب بھی شفق کے سایوں میں

    دن رات کے دامن ملتے ہیں

    کیا اب بھی چمن میں ویسے ہی

    خوش رنگ شگوفے کھلتے ہیں

    برساتی ہوا کی لہروں سے

    بھیگے ہوئے پودے ہلتے ہیں

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    شاداب و شگفتہ پھولوں سے

    معمور ہیں گل زار اب کہ نہیں

    بازار میں مالن لاتی ہے

    پھولوں کے گندھے ہار اب کہ نہیں

    اور شوق سے ٹوٹے پڑتے ہیں

    نوعمر خریدار اب کہ نہیں

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا شام پڑے گلیوں میں وہی

    دلچسپ اندھیرا ہوتا ہے

    اور سڑکوں کی دھندلی شمعوں پر

    سایوں کا بسیرا ہوتا ہے

    باغوں کی گھنیری شاخوں میں

    جس طرح سویرا ہوتا ہے

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا اب بھی وہاں ویسی ہی جواں

    اور مدھ بھری راتیں ہوتی ہیں

    کیا رات بھر اب بھی گیتوں کی

    اور پیار کی باتیں ہوتی ہیں

    وہ حسن کے جادو چلتے ہیں

    وہ عشق کی گھاتیں ہوتی ہیں

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    میرانیوں کے آغوش میں ہے

    آباد وہ بازار اب کہ نہیں

    تلواریں بغل میں دابے ہوئے

    پھرتے ہیں طرحدار اب کہ نہیں

    اور بہلیوں میں سے جھانکتے ہیں

    ترکان سیہ کار اب کہ نہیں

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا اب بھی مہکتے مندر سے

    ناقوس کی آواز آتی ہے

    کیا اب بھی مقدس مسجد پر

    مستانہ اذاں تھراتی ہے

    اور شام کے رنگیں سایوں پر

    عظمت کی جھلک چھا جاتی ہے

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والا بتا

    کیا اب بھی وہاں کے پنگھٹ پر

    پنہاریاں پانی بھرتی ہیں

    انگڑائی کا نقشہ بن بن کر

    سب ماتھے پہ گاگر دھرتی ہیں

    اور اپنے گھروں کو جاتے ہوئے

    ہنستی ہوئی چہلیں کرتی ہیں

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    برسات کے موسم اب بھی وہاں

    ویسے ہی سہانے ہوتے ہیں

    کیا اب بھی وہاں کے باغوں میں

    جھولے اور گانے ہوتے ہیں

    اور دور کہیں کچھ دیکھتے ہی

    نوعمر دیوانے ہوتے ہیں

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا اب بھی پہاڑی چوٹیوں پر

    برسات کے بادل چھاتے ہیں

    کیا اب بھی ہوائے ساحل کے

    وہ رس بھرے جھونکے آتے ہیں

    اور سب سے اونچی ٹیکری پر

    لوگ اب بھی ترانے گاتے ہیں

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا اب بھی پہاڑی گھاٹیوں میں

    گھنگھور گھٹائیں گونجتی ہیں

    ساحل کے گھنیرے پیڑوں میں

    برکھا کی ہوائیں گونجتی ہیں

    جھینگر کے ترانے جاگتے ہیں

    موروں کی صدائیں گونجتی ہیں

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا اب بھی وہاں میلوں میں وہی

    برسات کا جوبن ہوتا ہے

    پھیلے ہوئے بڑ کی شاخوں میں

    جھولوں کا نشیمن ہوتا ہے

    امڈے ہوئے بادل ہوتے ہیں

    چھایا ہوا ساون ہوتا ہے

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا شہر کے گرد اب بھی ہے رواں

    دریائے حسیں لہرائے ہوئے

    جوں گود میں اپنے من کو لیے

    ناگن ہو کوئی تھرائے ہوئے

    یا نور کی ہنسلی حور کی گردن

    میں ہو عیاں بل کھائے ہوئے

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا اب بھی فضا کے دامن میں

    برکھا کے سمے لہراتے ہیں

    کیا اب بھی کنار دریا پر

    طوفان کے جھونکے آتے ہیں

    کیا اب بھی اندھیری راتوں میں

    ملاح ترانے گاتے ہیں

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا اب بھی وہاں برسات کے دن

    باغوں میں بہاریں آتی ہیں

    معصوم و حسیں دوشیزائیں

    برکھا کے ترانے گاتی ہیں

    اور تیتریوں کی طرح سے رنگیں

    جھولوں پر لہراتی ہیں

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا اب بھی افق کے سینے پر

    شاداب گھٹائیں جھومتی ہیں

    دریا کے کنارے باغوں میں

    مستانہ ہوائیں جھومتی ہیں

    اور ان کے نشیلے جھونکوں سے

    خاموش فضائیں جھومتی ہیں

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا شام کو اب بھی جاتے ہیں

    احباب کنار دریا پر

    وہ پیڑ گھنیرے اب بھی ہیں

    شاداب کنار دریا پر

    اور پیار سے آ کر جھانکتا ہے

    مہتاب کنار دریا پر

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا آم کے اونچے پیڑوں پر

    اب بھی وہ پپیہے بولتے ہیں

    شاخوں کے حریری پردوں میں

    نغموں کے خزانے گھولتے ہیں

    ساون کے رسیلے گیتوں سے

    تالاب میں امرس گھولتے ہیں

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا پہلی سی ہے معصوم ابھی

    وہ مدرسے کی شاداب فضا

    کچھ بھولے ہوئے دن گزرے ہیں

    جس میں وہ مثال خواب فضا

    وہ کھیل وہ ہم سن وہ میداں

    وہ خواب گہہ مہتاب فضا

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا اب بھی کسی کے سینے میں

    باقی ہے ہماری چاہ بتا

    کیا یاد ہمیں بھی کرتا ہے

    اب یاروں میں کوئی آہ بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    للہ بتا للہ بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا ہم کو وطن کے باغوں کی

    مستانہ فضائیں بھول گئیں

    برکھا کی بہاریں بھول گئیں

    ساون کی گھٹائیں بھول گئیں

    دریا کے کنارے بھول گئے

    جنگل کی ہوائیں بھول گئیں

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا گاؤں میں اب بھی ویسی ہی

    مستی بھری راتیں آتی ہیں

    دیہات کی کمسن ماہ وشیں

    تالاب کی جانب جاتی ہیں

    اور چاند کی سادہ روشنی میں

    رنگین ترانے گاتی ہیں

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا اب بھی گجردم چرواہے

    ریوڑ کو چرانے جاتے ہیں

    اور شام کے دھندلے سایوں کے

    ہم راہ گھروں کو آتے ہیں

    اور اپنی رسیلی بانسریوں

    میں عشق کے نغمے گاتے ہیں

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا گاؤں پہ اب بھی ساون میں

    برکھا کی بہاریں چھاتی ہیں

    معصوم گھروں سے بھور بھئے

    چکی کی صدائیں آتی ہیں

    اور یاد میں اپنے میکے کی

    بچھڑی ہوئی سکھیاں گاتی ہیں

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    دریا کا وہ خواب آلودہ سا گھاٹ

    اور اس کی فضائیں کیسی ہیں

    وہ گاؤں وہ منظر وہ تالاب

    اور اس کی ہوائیں کیسی ہیں

    وہ کھیت وہ جنگل وہ چڑیاں

    اور ان کی صدائیں کیسی ہیں

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا اب بھی پرانے کھنڈروں پر

    تاریخ کی عبرت طاری ہے

    ان پورنا کے اجڑے مندر پر

    مایوسی و حسرت طاری ہے

    سنسان گھروں پر چھاؤنی کے

    ویرانی و رقت طاری ہے

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    آخر میں یہ حسرت ہے کہ بتا

    وہ غارت ایماں کیسی ہے

    بچپن میں جو آفت ڈھاتی تھی

    وہ آفت دوراں کیسی ہے

    ہم دونوں تھے جس کے پروانے

    وہ شمع شبستاں کیسی ہے

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    مرجانا تھا جس کا نام بتا

    وہ غنچہ دہن کس حال میں ہے

    جس پر تھے فدا طفلان وطن

    وہ جان وطن کس حال میں ہے

    وہ سرو چمن وہ رشک سمن

    وہ سیم بدن کس حال میں ہے

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا اب بھی رخ گلرنگ پہ وہ

    جنت کے نظارے روشن ہیں

    کیا اب بھی رسیلی آنکھوں میں

    ساون کے ستارے روشن ہیں

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    کیا اب بھی شہابی عارض پر

    گیسوئے سیہ بل کھاتے ہیں

    یا بحر شفق کی موجوں پر

    دو ناگ پڑے لہراتے ہیں

    اور جن کی جھلک سے ساون کی

    راتوں کے سپنے آتے ہیں

    او دیس سے آنے والے بتا

    او دیس سے آنے والے بتا

    اب نام خدا ہوگی وہ جواں

    میکے میں ہے یا سسرال گئی

    دوشیزہ ہے یا آفت میں اسے

    کمبخت جوانی ڈال گئی

    گھر پر ہی رہی یا گھر سے گئی

    خوش حال رہی خوش حال گئی

    او دیس سے آنے والے بتا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ناصر جہاں

    ناصر جہاں

    عابدہ پروین

    عابدہ پروین

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites