aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "samaa.ato"
سو میں نے ساحت دیروز میں ڈالا ہے اب ڈیرامرے دیروز میں زہر ہلاہل تیغ قاتل ہے
ثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانی
لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیںروح بھی ہوتی ہے اس میں یہ کہاں سوچتے ہیں
یہ بات سمجھ میں آئی نہیںاور امی نے سمجھائی نہیں
تن من میں پھول سجاتی تھیںجب چاند کی رم جھم کرنوں سے
میں جانتی ہوں کہ تم سن نہیں رہے مری باتسماج جھوٹ سہی پھر بھی اس کا پاس کرو
ہے مگر اس نقش میں رنگ ثبات دوامجس کو کیا ہو کسی مرد خدا نے تمام
مری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائیمیں حرف زیر لب شرمندۂ گوش سماعت ہوں
چپ ہیں وہ زباں درازچین ہے سماج میں
تو مرے پاس مرے گھر پہ مرے ساتھ ہے سونوںؔمیز پر پھول سجاتے ہوئے دیکھا ہے کئی بار
اپنی سانس کے شعلوں سے گل زار کھلاتے گزری ہےجھوٹی سچی باتوں کے بازار سجاتے گزری ہے
جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاںپھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاں
کہیں نغمگی میں وہ بین تھےکہ سماعتوں نے سنے نہیں
بے حرف و بے حکایت و بے ساز و بے صدارگ رگ میں نغمہ بن کے سماتی چلی گئی
سماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میں
کہ جس توقف کی کیفیت پر گراں سماعت گزر رہی تھیاس ایک ساعت کا ہاتھ تھامے یہ اک وضاحت گزر رہی تھی
کسی کی آنکھیں کسی کے چہرے پر لگاتی ہےکسی کے جسم پر کسی کا چہرہ سجاتی ہے
دیر سے ایک ناسمجھ بچہاک کھلونے کے ٹوٹ جانے پر
بڑی پلیٹوں میں جو افطار کے حصے بناتی تھیںجو کلمے کاڑھ کر لکڑی کے فریموں میں سجاتی تھیں
تو میری نظموں سے خوف کھانے لگیں جریدےسماج پر احتجاج کرنے کا حق جو مانگوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books