aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sarvat"
نہیں ہو تم مرے اور میرا فردا بھی نہیں میراسو میں نے ساحت دیروز میں ڈالا ہے اب ڈیرا
دست دولت آفريں کو مزد یوں ملتی رہیاہل ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکوٰۃ
جب درخت خاموش تھےاور بادل شور کر رہے تھے
اور اشیا کا پرستار بھی میںاور ثروت جو نہیں اس کا طلب گار بھی میں!
میں ان سے پوچھتا ہوں:پل کیسے بنایا جاتا ہے
اہل ثروت کی یہ تجویز ہے سرکش لڑکیتجھ کو دربار میں کوڑوں سے نچایا جائے
تیرا غم کچھ بھی سہی میرا الم کچھ بھی سہیاہل ثروت کی سیاست کا ستم کچھ بھی سہی
درخت! میرے دوستتم مل جاتے ہو کسی نہ کسی موڑ پر
آدمی پیڑ اور مکانصاف نیلا آسمان
ایک نظم کہیں سے بھی شروع ہو سکتی ہےجوتوں کی جوڑی سے
بنت حوا ہوں میں یہ مرا جرم ہےاور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے
خوشبو کی آواز سنیغنچہ لب کے کھلتے ہی
اتنے گھراتنے سیارے
زمیں اطراف کی کالی ہوئی جلنے لگے دیوےہوائیں خشک پتوں کو گرا کر سو گئیں شاید
دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے سیارے کو لفظوں سے بھر دیافیصلوں اور فاصلوں کو طول دینے کا فن انہیں خوب آتا ہے
تو بے تکلف ضمیر تک اپنا بیچ دیتے ہیںجاہ و ثروت کی منڈیوں میں
کسی زمانے میں ہم نے،ناصرؔ، فرازؔ، محسنؔ، جمالؔ، ثروتؔ کے شعر اپنی چہکتی دیوار پر لکھے تھے
سلاخوں سے ادھرکچھ درخت، ایک سڑک، کتے کی زنجیر تھامے ایک آدمی
مجھے شکوہ نہیں ان صاحبان جاہ و ثروت سےنہیں آتی مرے حصہ میں جن کی ایک بھی پائی
سایہ ہے گہری چپ کا اکیلے مکان پردل مطمئن بہت ہے مگر اس گمان پر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books