ایک پل بنایا جا رہا ہے

ثروت حسین

ایک پل بنایا جا رہا ہے

ثروت حسین

MORE BY ثروت حسین

    میں ان سے پوچھتا ہوں:

    پل کیسے بنایا جاتا ہے

    پل بنانے والے کہتے ہیں:

    تم نے کبھی محبت نہیں کی

    میں کہتا ہوں: محبت کیا چیز ہے

    وہ اپنے اوزار رکھتے ہوئے کہتے ہیں:

    محبت کا مطلب جاننا چاہتے ہو

    تو پہلے دریا سے ملو۔۔۔

    روئے زمین پر دریا سے زیادہ محبت کرنے والا کوئی نہیں

    دریا اپنے سمندر کی طرف بہتا رہتا ہے

    یہ سپردگی ہے

    یہ سپردگی بچپن ہے اور بچپن بہشت۔۔۔

    لیکن بہشت تک پہنچنے کے لئے ایک جہنم سے گزرنا پڑتا ہے

    میں پوچھتا ہوں جہنم کیا ہے؟

    وہ کہتے ہیں: اس سوال کا جواب درختوں کے پاس ہے

    کوئی بھی موسم ہو وہ اپنی جگہ نہیں چھوڑتے

    انہیں مٹی سے محبت ہے

    انہیں پرندوں اور چیونٹیوں سے محبت ہے

    جو ان کے جسم میں گھر بناتی ہیں

    'گھر کیا ہے؟' میں پوچھتا ہوں؟

    وہ سب ہنسنے لگتے ہیں

    پہلا مزدور کہتا ہے:

    اپنی عورت کی طرف جاؤ

    ہر سوال کا جواب مل جائے گا

    مآخذ:

    • کتاب : AN EVENING OF CAGED BEASTS (Pg. 118)
    • Author : Asif Farrukhi
    • مطبع : Ameena Saiyid, Oxford University (1999)
    • اشاعت : 1999

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY