aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shaper"
بیچ سڑک میںجس کا شاپر پھٹا تھا
شجر حجر نہیں کہ ہمہمیشہ پا بہ گل رہیں
ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجر
چاہے امید کی شمعیں ہوں کہ یادوں کے چراغمستقل بعد بجھا دیتا ہے رفتہ رفتہ
شجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراک
گل کرو شمعیں بڑھا دو مے و مینا و ایاغاپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو
یہ صبحیں یہ شامیں یہ دن اور راتیہ رنگین دل کش حسیں کائنات
مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیںجو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیں' اب اکثر
ویراں گلی کے موڑ پہ تنہا سا اک شجرتنہا شجر کے سائے میں چھوٹا سا اک مکان
بہت شجر تھے تھوڑے گھر تھےجن کو تھا دوری نے گھیرا
تمہارے بام کی شمعیں بھی تابناک نہیںمرے فلک کے ستارے بھی زرد زرد سے ہیں
حسین پھول حسیں پتیاں حسیں شاخیںلچک رہی ہیں کسی جسم نازنیں کی طرح
کیا شکر مصری قند گری کیا سانبھر میٹھا کھاری ہےکیا داکھ منقےٰ سونٹھ مرچ کیا کیسر لونگ سپاری ہے
جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوز دروںجس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند
میں نے ماضی سے کئی خشک سی شاخیں کاٹیںتم نے بھی گزرے ہوئے لمحوں کے پتے توڑے
کتنی نکھری صبحیں گزریںکتنی مہکی شامیں چھائیں
اپنا موضوع سخن ان کے سوا اور نہیںطبع شاعر کا وطن ان کے سوا اور نہیں
جو مے تھی بہا دی مٹی میںمہمان کا شہپر توڑ دیا
تو بھی ایسا ہی دل آرام شجر ہے جس نےمجھ کو اس دشت قیامت سے بچائے رکھا
شجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books