aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tap-e-diq"
ہر اک سائنس کا چھیکا گڑنت ہےبڑا دشمن مرے جی کا گڑنت ہےتپ دق کا نیا ٹیکا گڑنت ہےنمک بالکل نہیں پھیکا گڑنت ہےبڑھا جاتا ہے ہر اسٹپ پہ ٹنشناٹنشن اے دل ناداں اٹنشن
میری آنکھوں سے وہ سوکھا ہوا ڈھانچہ نہیں گرتاجسم ہی جسم تو تھا، روح کہاں تھی اس میںکوڑھ تھا اس کو تپ دق تھا؟ نہ جانے کیا تھا؟یا بڑھاپا ہی تھا شاید۔۔۔پسلیاں سوکھے ہوئے کیکروں کے شاخچے جیسےرتھ پہ جاتے ہوئے دیکھا تھاچٹانوں سے ادھر۔۔۔اپنی لاٹھی پہ گرے پیڑ کی مانند کھڑا تھا
میں اس افلاس زدہ دور سے بچ کر اے دوستلکھ نہیں سکتا کسی حال میں بوسیدہ ادباور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ میں پیش کروںبے تپ و تاب و پراگندہ و ژولیدہ ادب
طاق دل پہ تری یادوں کو سجا رکھا ہےاس تبرک کی ضرورت مجھے جب پڑتی ہےاپنی آنکھوں سے لگاتی ہوں انہیں چومتی ہوںاور پھر طاق پہ دوبارہ سجا دیتی ہوںعہد فرقت میں شب و روز گزر جاتے ہیں
شعلہ زن ان کے لہو میں ہے جلال محمودآج تک جو تہہ محراب رہے وقف سجوداے کہ معلوم نہیں تجھ کو خودی کا مقصودآتشیں عزم سے ہے معرکۂ بود و نبودعشق و مستی ہمہ تن دبدبہ ہائے محمودپاک ہے اسود و احمر سے شبستان وجودزندگی جس سے لرزتی ہے خلیل اللہیہو خراب ظن و تخمیں تو ہے نار نمرودمجھ سے نومیدیٔ نظارۂ انوار نہ پوچھاب مرا جذب دروں بھی ہے پشیمان نمودایک تصویر کے دو رخ ہیں جلال اور جمالوہی گلزار خلیل اور وہی نار نمرودتو ہے نامحرم تاب و تپ باطن ورنہتیری آہوں سے پگھل جائے ستاروں کا وجودسینۂ لالہ ہو یا آئینہ زار شبنمڈھونڈ لیتی ہے نظر جلوہ گہ لا موجودایک ہنگامۂ عرفان و تجسس کے بغیرزیست بیکار یقیں خام نمازیں بے سود
قوم کے درد سے ہوں سوز وفا کی تصویرمیری رگ رگ سے ہے پیدا تپ غم کی تاثیر
اب یہ مسافت کیسے طے ہو اے دل تو ہی بتاکٹتی عمر اور گھٹتے فاصلے پھر بھی وہی صحرا
کہاں تک خیمۂ دل میں چھپائیںاپنی آسوں اور پیاسوں کوکہاں تک خوف کے بے شکل صحرا کی ہتھیلی پرکریدے جائیں آنکھیں اورلکیریں روشنی کی پھر نہ بن پائیںہم انساں ہو کے بھی سائے کی خوشبو کو ترس جائیں
تاب نظارہ کہاں کس کو بھلا آج کے دنذرہ ذرہ ہوا خورشید نما آج کے دنمست و سرشار چمن لالہ و نرگس شادابجھوم کر چھائی ہے گلشن پہ گھٹا آج کے دنجام پر جام چھلکنے لگے میخانے میںساتھ مے پیتے ہیں ارباب وفا آج کے دنمہندی ہاتھوں میں حنا پیرہن رنگیں میںمہ وشوں کی کوئی دیکھے تو ادا آج کے دندوستو صدق و اہنسا کے اصولوں پہ چلوچھوڑ دو رسم و رہ جور و جفا آج کے دنمطرب وقت سے کہہ دو کوئی نغمہ چھیڑےگونج اٹھے ساز پہ شاعر کی نوا آج کے دنذہن و باطن کو کرو صاف ذرا ہم وطنوسیکھ لو رسم وفا صدق و صفا آج کے دنکون سی بزم ہے جس میں نہیں سامان طربہے بشر کون جو شادان نہ ہو آج کے دنمٹ گئی تیرہ شبی مہر منور سے بسنتؔنور ہی نور گلستاں میں ہوا آج کے دن
بربط دل کے تار ٹوٹ گئےہیں زمیں بوس راحتوں کے محلمٹ گئے قصہ ہائے فکر و عمل!بزم ہستی کے جام پھوٹ گئےچھن گیا کیف کوثر و تسنیمزحمت گریہ و بکا بے سودشکوۂ بخت نا رسا بے سودہو چکا ختم رحمتوں کا نزولبند ہے مدتوں سے باب قبولبے نیاز دعا ہے رب کریمبجھ گئی شمع آرزوئے جمیلیاد باقی ہے بے کسی کی دلیلانتظار فضول رہنے دےراز الفت نباہنے والےبار غم سے کراہنے والےکاوش بے حصول رہنے دے
ایک شب تو طبع موزوں نے اڑا دی نیند بھیاور دماغ و قلب کی رگ رگ پھڑکنے لگ گئیذہن پر چھانے لگیں پھر شاعری کی بدلیاںعالم مشہود کا چھپنے لگا پھر آسماںآمد موزوں تھی یا بڑھتا ہوا سیلاب تھاشعر کاغذ پر نکھرنے کے لیے بیتاب تھااک تلاطم سا بپا تھا بحر احساسات میںبے ثباتی حکمراں تھی عالم اثبات میںطبع کہتی تھی زمانے بھر کی آنکھیں کھول دوںذرہ و خورشید میزان سخن میں تول دوںذرہ ذرہ کو سنا دوں آج پیغام حیاتاک اشارے سے بدل دوں یہ نظام کائناتگنبد گردوں پہ اب تخئیل کی پرواز تھیدل کی دھڑکن جیسے اسرافیل کی آواز تھیخامہ تھا یا کہ کوئی رخش صبا رفتار تھاجو تخیل کی ہوا سے برسر پیکار تھادفعتاً دو نرم و نازک ہاتھ شانوں سے لگےبرق خرمن سوز جیسے آشیانے پر گرےمڑ کے دیکھا تو کھڑا ہے ایک طفل خورد سالجس کی آنکھوں میں تمنا جس کی نظروں میں سوالمدرسے کی فیس پنسل پن کتابیں کاپیاںمشتمل تھا چند اشیاء پر نگاہوں کا بیاںاور پھر اس طفل کی صورت پہ گہری سوچ تھیجو مجھے اک دعوت فکر و عمل سی دے گئیمیں نے دیکھا ذہن میں اک گیند ہے لٹو بھی ہےاور پنسل چھیلنے کا خوش نما چاقو بھی ہےخوب صورت ہیٹ ہے اک خوش نما پوشاک ہےذہن کی گردش کا محور ٹرائیکل کا چاک ہےٹکٹکی سی باندھ کر کچھ دیر تک دیکھا کیامیں اسی عالم میں پھر محسوس یوں کرنے لگااک جمودی کیفیت چھانے لگی ادراک پرعرش سے گرتا ہو جیسے کوئی فرش خاک پرذہن سے جوش سخن کا رنگ کم ہونے لگاطبع موزوں کا سر تسلیم خم ہونے لگاایک مایوسی دماغ و قلب پر چھانے لگیاور جماہی پر جماہی نیند سی آنے لگیپھر پلٹ کر کی نظر اپنی ادھوری نظم پرایک بجلی سی گری میرے دماغ و قلب پرموت کی تھی حکمرانی پیکر احساس پرشاعری کا تھا جنازہ بستر قرطاس پر
مری زندگی کی لکھی ہوئیمرے طاق دل پہ سجی ہوئیوہ کتاب اب بھی ہے منتظرجسے میں کبھی نہیں پڑھ سکی
کبھی تغیر جو موسموں کانرالے گیتوں کے ساتھ آیاتو زندگی کی عزیز تر ساعتوں کے مالکبھڑک اٹھے تھےپلک پلک پر کئی کہے ان کہے فسانےمچل گئے تھےتو قند گفتار میں بھی تلخی رچی ہوئی تھیفضا کی آلودگی کا شکوہ تھا ان کے لب پرشنیدہ باتوں کا خوف ان کے دلوں میں ایسا بسا ہوا تھاکہ وہ کسی بات پر یقیں بھی نہ کرنے پاتےگرے تھے ان کی سماعتوں اور بصارتوں پر دبیز پردےکبھی جو موسم نے رخ جو بدلاتو ان کے ہوش و حواس جاگےانہوں نے قدرت کے رنگ دیکھےتو زندگی کا یقین آیابہار کی سمت لوٹ آئے
آج کے دن نے یہ کیا ظلم کیاپھر نیا درد نیا زخم دیاصبر کر اے دل بے تاب و حزیں
وہ کویتاابھی ہے مرے ذہن کی دھند میں جوہزاروں دلوں سے نچوڑی ہوئی سادگیاور ہونٹوں سے چھینے ہوئےقہقہوں میں رچی ہےمگر کوئی کیسے لکھے وہ کویتاکہ اب انگلیوں سے ٹپکنے لگا ہے لہواور زباںمنجمد خون کے ذائقے سے تڑخنے لگی ہےیہ ممکن ہےوہ خون میرا ہو یا ہو کسی اجنبی کامگر اس سے کیا خون تو خون ہی ہےکسی فلسفی سوچ کی تال پرڈولتی گردنیں کہہ رہی ہیںادھر کالی کالی فصیلوں کے پیچھے بڑی روشنی ہےمگر جانے کیوںروشنی کی کوئی نئی آیتاب تک مری آنکھ کی پتلیوں کے رسولوں پہ اتری نہیںتو شاید میں آسیب ہوںدشت احساس کا اور بھٹکتا ہوںجیسے کوئی روح پیاسی
اس کے بلوریں پیکر پرکتنے داغ نظر آتے تھےکتنے نیل ابھر آتے تھےجیسے کوئی نا شائستہاپنے آلودہ ہاتھوں سےبلوریں ساغر کو چھو لےوہ شاید جھلاتی بھی تھیروتی بھی چلاتی بھی تھینفرت سے بل کھاتی بھی تھیاور انہیں شعلوں کے دم سےچولہا بھی جلتا رہتا تھالیکن اب کتنے ہی دن سےاس کے بلوریں پیکر پرکوئی داغ نہیں آیا ہےجیسے مے خانہ میں ساغرگرد ماہ و سال میں لپٹاسب کی نظر سے دور پڑا ہےاب نہ کبھی وہ جھلاتی ہےاب نہ کبھی وہ چلاتی ہےنفرت کے بل کھاتے شعلےسب کے سب دم توڑ چکے ہیںاور چولہا ٹھنڈا ٹھنڈا ہے
(۱)اے سب سے اول اور آخرجہاں تہاں، حاضر اور ناظراے سب داناؤں سے داناسارے تواناؤں سے توانااے بالا، ہر بالاتر سےچاند سے سورج سے امبر سےاے سمجھے بوجھے بن سوجھےجانے پہچانے بن بوجھےسب سے انوکھے سب سے نرالےآنکھ سے اوجھل دل کے اجالےاے اندھوں کی آنکھ کے تارےاے لنگڑے لولوں کے سہارےناتیوں سے چھوٹوں کے ناتیساتھیوں سے بچھڑوں کے ساتھیناؤ جہاں کی کھینے والےدکھ میں تسلی دینے والےجب اب تب تجھ سا نہیں کوئیتجھ سے ہیں سب تجھ سا نہیں کوئیجوت ہے تیری جل اور تھل میںباس ہے تیری پھول اور پھل میںہر دل میں ہے تیرا بسیراتو پاس اور گھر دور ہے تیراراہ تری دشوار اور سکڑینام ترا رہ گیر کی لکڑیتو ہے ٹھکانا مسکینوں کاتو ہے سہارا غمگینوں کاتو ہے اکیلوں کا رکھوالاتو ہے اندھیرے گھر کا اجالالاگو اچھے اور برے کاخواہاں کھوٹے اور کھرے کابید نراسے بیماروں کاگاہک مندے بازاروں کاسوچ میں دل بہلانے والےبپتا میں یاد آنے والے(۲)اے بے وارث گھروں کے وارثبے بازو بے پروں کے وارثبے آسوں کی آس ہے تو ہیجاگتے سوتے پاس ہے تو ہیبس والے ہیں یا بے بس ہیںتو نہیں جن کا وہ بے کس ہیںساتھی جن کا دھیان ہے تیرادسرایت کی وہاں نہیں پروادل میں ہے جن کے تیری بڑائیگنتے ہیں وہ پربت کو رائیبیکس کا غم خوار ہے تو ہیبری بنی کا یار ہے تو ہیدکھیا دکھی یتیم اور بیوہتیرے ہی ہاتھ ان سب کا ہے کھیواتو ہی مرض دے تو ہی دوا دےتو ہی دوا دارو میں شفا دےتو ہی پلائے زہر کے پیالےتو ہی پھر امرت زہر میں ڈالےتو ہی دلوں میں آگ لگائےتو ہی دلوں کی لگی بجھائےچمکارے چمکار کے مارےمارے مار کے پھر چمکارےپیار کا تیرے پوچھنا کیا ہےمار میں بھی اک تیری مزا ہے(۳)اے رحمت اور ہیبت والےشفقت اور دباغت والےاے اٹکل اور دھیان سے باہرجان سے اور پہچان سے باہرعقل سے کوئی پا نہیں سکتابھید ترے حکموں میں ہیں کیا کیاایک کو تو نے شاد کیا ہےایک کے دل کو داغ دیا ہےاس سے نہ تیرا پیار کچھ ایسااس سے نہ تو بیزار کچھ ایساہر دم تیری آن نئی ہےجب دیکھو تب شان نئی ہےیہاں پچھوا ہے وہاں پروا ہےگھر گھر تیرا حکم نیا ہےپھول کہیں کملائے ہوئے ہیںاور کہیں پھل آئے ہوئے ہیںکھیتی ایک کی ہے لہراتیایک کا ہر دم خون سکھاتیایک پڑے ہیں دھن کو ڈبوئےایک ہیں گھوڑے بیچ کے سوئےایک نے جب سے ہوش سنبھالارنج سے اس کو پڑا نہ پالاایک نے اس جنجال میں آ کرچین نہ دیکھا آنکھ اٹھا کرمینہ کہیں دولت کا ہے برستاہے کوئی پانی تک کو ترستاایک کو مرنے تک نہیں دیتےایک اکتا گیا لیتے لیتےحال غرض دنیا کا یہی ہےغم پہلے اور بعد خوشی ہےرنج کا ہے دنیا کے گلا کیاتحفہ یہی لے دے کے ہے یاں کایہاں نہیں بنتی رنج سہے بنرنج نہیں سب ایک سے لیکنایک سے یہاں رنج ایک ہے بالاایک سے ہے درد ایک نرالاگھاؤ ہے گو ناسور کی صورتپر اسے کیا ناسور سے نسبتتپ وہی دق کی شکل ہے لیکندق نہیں رہتی جان لیے بندق ہو وہ یا ناسور ہو کچھ ہودے نہ جو اب امید کسی کوروز کا غم کیوں کر سہے کوئیآس نہ جب باقی رہے کوئیتو ہی کر انصاف اے مرے مولاکون ہے جو بے آس ہے جیتاگو کہ بہت بندے ہیں پر ارماںکم ہیں مگر مایوس ہیں جو یاںخواہ دکھی ہے خواہ سکھی ہےجو ہے اک امید اس کو بندھی ہےکھیتیاں جن کی کھڑی ہیں سوکھیآس وہ باندھے بیٹھے ہیں مینہ کیگھٹا جن کی اساڑی میں ہےساونی کی امید نہیں ہےڈوب چکی ہے ان کی اگیتیدیتی ہے ڈھارس ان کو پچھیتیایک ہے اس امید پہ جیتااب ہوئی بیٹی اب ہوا بیٹاایک کو جو اولاد ملی ہےاس کو امنگ شادیوں کی ہےرنج ہے یا قسمت میں خوشی ہےکچھ ہے مگر اک آس بندھی ہےغم نہیں ان کو غمگیں ہیںجو دل ناامید نہیں ہیںکال میں کچھ سختی نہیں ایسیکال میں ہے جب آس سمیں کیسہل ہے موجوں سے چھٹکاراجب کہ نظر آتا ہے کناراپر نہیں اٹھ سکتی وہ مصیبتآئے گی جس کے بعد نہ راحتشاد ہو اس رہ گیر کا کیا دل؟مر کے کٹے گی جس کی منزلان اجڑوں کو کل پڑے کیوں کرگھر نہ بسے گا جن کا جنم بھران بچھڑوں کا کیا ہے ٹھکانا؟جن کو نہ ملنے دے گا زمانہاب یہ بلا ٹلتی نہیں ٹالیمجھ پہ ہے جو تقدیر نے ڈالیآئیں بہت دنیا میں بہاریںعیش کی گھر گھر پڑیں پکاریںپڑے بہت باغوں میں جھولےڈھاک بہت جنگل میں پھولےگئیں اور آئیں چاندنی راتیںبرسیں کھلیں بہت برساتیںپر نہ کھلی ہرگز نہ کھلے گیوہ جو کلی مرجھائی تھی دل کیآس ہی کا بس نام ہے دنیاجب نہ رہی یہی تو رہا کیا؟ایسے بدیسی کا نہیں غم کچھجس کو نہ ہو ملنے کی قسم کچھرونا ان بن باسیوں کا ہےدیس نکالا جن کو ملا ہےحکم سے تیرے پر نہیں چارہکڑوی میٹھی سب ہے گوارازور ہے کیا پتے کا ہوا پرچاہے جدھر لے جائے اڑا کرتنکا اک اور سات سمندرجائے کہاں موجوں سے نکل کرقسمت ہی میں جب تھی جدائیپھر ٹلتی کس طرح یہ آئی؟آج کی بگڑی ہو تو بنے بھیازل کی بگڑی خاک بنے گیتو جو چاہے وہ نہیں ٹلتابندے کا یاں بس نہیں چلتامارے اور نہ دے تو رونےتھپکے اور نہ دے تو سونےٹھہرے بن آتی ہے نہ بھاگےتیری زبردستی کے آگےتجھ سے کہیں گر بھاگنا چاہیںبند ہیں چاروں کھونٹ کی راہیںتو مارے اور خواہ نوازےپڑی ہوئی ہوں میں تیرے دروازےتجھ کو اپنا جانتی ہوں میںتجھ سے نہیں تو کس سے کہوں میںماں ہی سدا بچہ کو مارےاور بچہ ماں ماں ہی پکارے(۴)اے مرے زور اور قدرت والےحکمت اور حکومت والےمیں لونڈی تیری دکھیارےدروازے کی تیری بھکاریموت کی خواہاں جان کی دشمنجان اپنی ہے آپ اجیرناپنے پرائے کی دھتکاریمیکے اور سسرال پہ بھاریسہہ کے بہت آزار چلی ہوںدنیا سے بیزار چلی ہوںدل پر میرے داغ ہیں جتنےمنہ میں بول نہیں ہیں اتنےدکھ دل کا کچھ کہہ نہیں سکتیاس کے سوا کچھ کہہ نہیں سکتیتجھ پہ ہے روشن سب دکھ دل کاتجھ سے حقیقت اپنی کہوں کیابیاہ کے دم پائی تھی نہ لینےلینے کے یاں پڑ گئے دینےخوشی میں بھی دکھ ساتھ نہ آیاغم کے سوا کچھ ہات نہ آیاایک خوشی نے غم یہ دکھائےایک ہنسی نے گل ہی کھلائےکیسا تھا یہ بیاہ نناواںجوں ہی پڑا اس کا پرچھاواںچین سے رہنے دیا نہ جی کوکر دیا ملیامیٹ خوشی کورو نہیں سکتی تنگ ہوں یاں تکاور روؤں تو روؤں کہاں تکہنس ہنس دل بہلاؤں کیوں کراوسوں پیاس بجھاؤں کیوں کرایک کا کچھ جینا نہیں ہوتاایک نہ ہنستا بھلا نہ روتالیٹے گر سونے کے بہانےپائنتی کل ہے اور نہ سرہانےجاگیے تو بھی بن نہیں پڑتیجاگنے کی آخر کوئی حد بھیاب کل ہم کو پڑے گی مر کرگور ہے سونی سیج سے بہتربات سے نفرت کام سے وحشتٹوٹی آس اور بجھی طبیعتآبادی جنگل کا نمونہدنیا سونی اور گھر سونادن ہے بھیانک اور رات ڈرانییوں گزری ساری یہ جوانیبہنیں اور بہنیلیاں میریساتھ کی جو تھیں کھیلیاں میریمل نہ سکیں جی کھول کے مجھ سےخوش نہ ہوئیں ہنس بول کے مجھ سےجب آئیں رو دھو کے گئیں وہجب گئیں بے کل ہو کے گئیں وہکوئی نہیں دل کا بہلاواآ نہیں چکتا میرا بلاواآٹھ پہر کا ہے یہ جلاپاکاٹوں گی کس طرح رنڈاپاتھک گئی دکھ سہتے سہتےتھم گئے آنسو بہتے بہتےآگ کھلی دل کی نہ کسی پرگھل گئی جان اندر ہی اندردیکھ کے چپ جانا نہ کسی نےجان کو پھونکا دل کی لگی نےدبی تھی بھوبھل میں چنگاریلی نہ کسی نے خبر ہماریقوم میں وہ خوشیاں بیاہوں کیشہر میں وہ دھوئیں ساہوں کیتہواروں کا آئے دن آنااور سب کا تہوار مناناوہ چیت اور پھاگن کی ہوائیںوہ ساون بھادوں کی گھٹائیںوہ گرمی کی چاندنی راتیںوہ ارمان بھری برساتیںکس سے کہوں کس طور سے کاٹیںخیر کٹیں جس طور سے کاٹیںچاؤ کے اور خوشیوں کے سمے سبآتے ہیں خوش کل جان کو ہو جبرنج میں ہیں سامان خوشی کےاور جلانے والے ہی کےگھر برکھا اور پیا بدیسیآئیو برکھا کہیں نہ ایسیدن یہ جوانی کے کٹے ایسےباغ میں پنچھی قید ہو جیسےرت گئی ساری سر ٹکراتےاڑ نہ سکے پر ہوتے سارےکسی نے ہوگی کچھ کل پائیمجھے تو شادی راس نہ آئیآس بندھی لیکن نہ ملا کچھپھول آیا اور پھل نہ لگا کچھرہ گیا دے کر چاند دکھائیچاند ہوا پر عید نہ آئیپھل کی خاطر برچھی کھائیپھل نہ ملا اور جان گنوائیریت میں ذرے دیکھ چمکتےدوڑ پڑی میں جھیل سمجھ کےچاروں کھونٹ نظر دوڑائیپر پانی کی بوند نہ پائی
مدراس کی مٹی میں نہاں تاج شہیداںبھارت کے مسلماں
ابر کی بات کرواشک تہ چشم دبے رہنے دو
یوں فضاؤں میں رواں ہے یہ صدائے دلنشیںذہن شاعر میں ہو جیسے اک اچھوتا سا خیالیا سحر کے سیم گوں رخسار پر پہلی کرنسرخ ہونٹوں سے بچھائے جس طرح بوسوں کے جال
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books