aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "thand"
روز ہی بڑھیا اٹھ کر کیوں کہتی ہےپیاس لگی ہےپانی ڈالتے ڈالتے مگ سے آ جاتی ہےگلاس گراؤ گے تمہاتھ تمہارے کانپ رہے ہیںجان جلا رکھی ہے اس نےخراٹے کیا میں لیتا ہوںناک تو اس کی پھراتی ہےآدھی رات کو اٹھ کر کہتی ہے کہ پنکھا بند کرو ناں ٹھنڈلگتی ہےپاؤں مار کے خود ہی تو چادر پھینکی تھیپاؤں پلنگ پہ مار کر پیر سجا رکھا ہےساری رات دباتا ہوںپین کلر کھا کھا کے بھی اب اوب گیا ہوںساری عمر جلایا اس نےایک برس ہونے کو آیاسیڑھی پر پھسلی تھی تو سر پھوڑ لیا تھااپنے ہاتھ سے آگ کے اوپر رکھ کر آیا تھا میں اس کواور کہا تھا تو چل میں بھی آتا ہوںپر جائے تب ناںساری رات مرے بستر پر کروٹیں لیتی رہتی ہے
چاند بھی کمبل اوڑھے نکلا تھاستارہ ٹھٹھر رہیں تھےسردی بڑھ رہی تھیٹھنڈ سے بچنے کے لیےمجھے بھی کچھ رشتہ جلانے پڑے
دسمبر کا مہینہ اور دلی کی سردیستاروں کی جھلملاتی جھرمٹ سے پرےآسمان کے ایک سنسان گوشے میںپونم کا ٹھٹھرتا ہوا کوئی چاند جیسےبادلوں میں کھاتا ہے متواتر ہچکولےہولے ہولےتنہا مسافراور دور تک کہرے کی چادر میں لپٹیبل کھاتی سڑکیںدھند کی غبار میں کھویا ہوا انڈیا گیٹٹھنڈ میں ٹھوکریں کھاتا مسافرخوش نصیب ہےبادلوں میں گھس جاتا ہے چاندمیری کرسمس کی رونقیں پھیلی ہیں تمامستاروں سے روشن سجے دھجے بازارلذیذ کھانوں کی خوشبوئیں جہاں پھیلی ہیں ہر سوبازار کی گرم فضاؤں میںمے کی سرمستی میں ڈوبا ہوا ہے پورے شہر کا شبابتنہا مسافر کیچند روزہ مسافت بھی کیا شے ہے یارو!ہم وطنوں سے دوراپنوں سے دورجمنا تٹ پر جیسے بن مانجھی کے ناؤبوٹ کلب کے سرد پانی میں جیسےتیرتا رکتا ہوا کوئی تنہا حبابتنہا مسافر سوچتا ہےکوئی ہے جس کا وہ ہاتھ تھام لے ہولے ہولےکوئی ہے جو اس کے ساتھ کچھ دور چلے ہولے ہولےدھند میں کھوئی ہوئی منزلیںطویل سڑکیںاور تنہا مسافرجیسے پونم کا ٹھٹھرتا ہوا کوئی چاندبادلوں میں کھاتا ہے متواتر ہچکولےہولے ہولے
نہ گرمیوں کا زور ہے نہ سردیوں کی مار ہےنہ دھوپ تن پہ بار ہے نہ ٹھنڈ ناگوار ہےہوا بھی خوش گوار ہے نہ گرم ہے نہ سرد ہےنہ بجلیاں نہ آندھیاں نہ ابر ہے نہ گرد ہےہیں سبزہ زار ان دنوں پہاڑ دشت اور بنہے سچ تو یوں بہار پر ہے آج کل چمن چمنہیں جنگلوں میں سبز سبز کھیت لہلہا رہےعجب ادا سے جھوم جھوم کر ہیں دل لبھا رہےفضا میں دل کشی ہی کچھ یہ آ گئی ہے اب نئینظر پڑی جو کھیت پر تو کھیلتی چلی گئیخزاں نے پیڑوں کے لباس پھینکے تھے اتار کردلہن بنا دیا انہیں بہار نے سنوار کرچمن کے پھول دیکھ کر ہماری عقل دنگ ہےبنفشئ سفید سرخ زرد ان کا رنگ ہےدلوں میں ہے کچھ آج کل امنگ سی بھری ہوئیمسرتوں کے جوش سے کلی کلی کھلی ہوئینکھر گئیں مہاوٹوں کی بارشوں سے پتیاںنتھر نتھر کے صاف ہو گئیں تمام ندیاںہیں پیڑوں میں چھپے ہوئے پرند چہچہا رہےخدا کی شان دیکھ کر خوشی سے ہیں وہ گا رہےیہ لطف دیکھ دیکھ کر زباں پہ بار بار ہےیہ موسم بہار ہے یہ موسم بہار ہے
اے مرے شبد، مرے بھید، مہا دھن میرےرات میں خوشبو تری! نیند میں بوسہ تیرا...ٹھنڈ میں آگ تری تاپوں، کھلوںجی اٹھوں!اپنے آنسو ترے ہاتھوں کے کٹورے میں رکھوںدیر تک تجھ سے لپٹ کر یونہی روتی جاؤںاے مرے شبد! ترے معنی کی ست رنگ گرہکبھی سلجھاؤںکبھی انگلی میں الجھا بیٹھوںگم رہوں تجھ میں کہیں، تجھ میں کہیں کھو جاؤںاے مرے شبد! مرے عشق، مرے افسانےشام گل رنگ کرے، خواب کو دو چند کرےتیری بارش میں نکھرتا ہوا سبزہ میرامانگ آشاؤں کی بھرتی ہوئی اس دنیا میںاور کوئی بھی نہیں، کوئی نہیںتو میرا!!!
یہ اک بچے کا قصہ ہےیہ بچہ تھا بڑا ضدینتیجہ یہ ہوا ضد کایہ عادت پڑ گئی اس کیجو سیدھی بات بھی کہتےسمجھتا اس کو وہ الٹیوہ کہتا گرم کو ٹھنڈاوہ کہتا ٹھنڈ کو گرمیوہ کہتا فرش کو تکیہوہ کہتا میز کو کرسیوہ کہتا ہیٹ کو اچکنوہ کہتا کوٹ کو صدریوہ کہتا حوض کو دریاوہ کہتا جھیل کو ندیوہ کہتا گوشت کو روٹیوہ کہتا دودھ کو پانیوہ کہتا مرچ کو شلغموہ کہتا پیاز کو مولیوہ کہتا بھیڑ کو گھوڑاوہ کہتا بیل کو بکریکھلاتے اس کو گر لڈووہ کھانا چاہتا برفیمنگاتے اس سے گر آلوتو دیتا لا کے وہ گوبھیغرض میں کیا کہوں نیرؔتھی بات اس کی ہر اک اوندھی
مگر ٹنڈ بالکل نہ کروانا تمکہ ہو جاتی ہے ٹھنڈ میں سٹی گم
اچانکخود میں یہ کیسی تبدیلیاں محسوس کر رہا ہوں میںمیرے بال دراز اور گھنے ہو گئے ہیںمیں اب دو چوٹیاں باندھنے لگا ہوںمیری آنکھیں پہلے سے زیادہ مخمور ہو گئی ہیںوہ اب دیکھنے کے بجائے زیادہ رونے لگی ہیںمیرے ہونٹ کہرے کی ٹھنڈ کی طرح سفید پڑ گئے ہیںوہ اب بولنے کے بجائے زیادہ کپکپانے لگے ہیںمیرا سینہ پہلے سپاٹ تھااب اس پر دو اٹھانیں اٹھ آئی ہیںدودھ سی کوئی شے اس میں ٹھاٹھیں مارنے لگی ہےمیں پہلے قمیص اور پینٹ پہنتا تھااب میں شلوار اور جمپر پہننے لگا ہوںلگتا ہے ابھی گیارہ ستمبر ہی کو میںغسل جنابت سے فارغ ہوا ہوںاچانکاچانک خود میں یہ کیسی تبدیلیاںمحسوس کر رہا ہوں میںابھی ابھی تھوڑی دیر پہلے مجھے ایک زبردست قے ہوئی تھیدائی آئی تھیاس نے میرا جمپر اتار کے میری کوکھ کےمیری کوکھ پرٹھنڈا ٹھار قبر سا ہاتھ رکھ کے کہا تھامبارک ہو تم ماں بننے والے ہو
ٹھنڈ کھا کر ٹھٹھر گئے پتےآندھیوں میں بکھر گئے پتےپیڑ ہر راہ چلنے والے سےپوچھتے ہیں کدھر گئے پتےآئے لے کر جلوس آہوں کاسر جھکائے گزر گئے پتےاتنا سنسان تو نہ تھا منظرجتنا سنسان کر گئے پتےدل کی پگڈنڈیاں اداس ہیں آجکوئی کہتا ہے مر گئے پتے
پوسٹ مین کی سائیکل کی گھنٹیمیرے دل کی دھڑکنیں بڑھا دیتی ہےخط ہاتھ میں آتے ہیان کی یادیں بھی ساتھ چلتی آتی ہےایک مدہوش کرنے والی لفافہ کی خوشبوذہن پر چھا جاتی ہےسیاہی کی لکھاوٹاس کی انگلیوں کی چھون یاد دلاتی ہےکاغذ کا کھردرا احساسدل کو گدگداتا ہےپتر پر لکھا مضمونٹھنڈ کی گرم چائے سا گرماتا ہےایسے جانے کتنے خط ڈاکیہ لاتا رہااور ہر دیوالی پر انہیں خطوں کا انعام پاتا رہا
کپل وستو کے شہزادےتو بھوکا ہےترے کمزور سے تن پر کوئی کپڑا نہیں ہےاور باہر ٹھنڈ ہےاور ہاتھ میں سکہ نہیں کوئیچل اٹھتجھ کو کسی مل میں کہیں نوکر کرا آؤں
دماغ لے لو دماغ لے لوبڑی ہی محنت سے پرورش کی ہے سالہا سال لگ چکے ہیںدماغ کو علم و فن دیا اورذہن کو پاکیزگی عطا کیسمجھنا اور سوچنا سکھایاشعور بخشا دماغ کو آگہی عطا کیحساب جانے کتاب جانےپڑھا لکھا ہےدماغ کے پاس تجربہ ہےدماغ لے لوسنو سنو آپ کے یہ الجھے ہوئے مسائل کو حل کرے گامرا یہ دعویٰ ہے آپ کی زندگی نہایت سہل کرے گاذرا ذرا کر کے صبح سے شام تک میں کتنوں کو بیچ آیا دماغ اپنامرا پسینہ تھا جس کا ایندھن وہ شعلہ شعلہ چراغ اپنایہ رات کا کون سا پہر ہےمیں راستہ بھولنے لگا ہوںیہ سال کا آخری ہے موسممیں ٹھنڈ سے کپکپا رہا ہوں
برف کی گڑیاجانتی ہےدھوپ میں کتنا پسیجنا ہےٹھنڈ میں کتنا اکڑنا ہےاسے بتایا گیا ہے گڑیا ہونے کا مطلباجلا ہونا اندھیروں کو کھٹکتا ہےہر اندھیرا اسے تارا بنانا چاہتا ہےدامن میں سمیٹنالیکن چاند کی طرح ماتھے پر سجانا نہیں چاہتاکیوں کہ اختر شماری سے محض رات کاٹی جا سکتی ہےدن نہیںبرف کی گڑیا پگھلنا چاہتی ہےوہ باہر آنا چاہتی ہے اپنے وجود کے سانچے سے
میں دسمبر کی ٹھنڈ میں اکثرپہن لیتا ہوںاس سوئیٹر کووہ سوئیٹر کبھی جسے تو نےاپنے ہاتھوں سےمیرے لئے بنا تھاوہ سوئیٹر کہ جس کےہر ایک پھندے میںتو نے اپنے لمس کواپنے پیار کے ساتھ بن کرمجھے سونپ دیا تھاکہ میں اسےزیب تن کر لوںاوردور ہوتے ہوئے بھی میں تجھ سےتیرے بالکل قریب ہو جاؤںوہ سوئیٹر جو ایک ذریعہ تھا تیرے میرے قریب ہونے کاتیری فرقت ترے وصال میں میںزیب تن کرتا تھا اسے اکثرلیکن اس بار کے دسمبر میںٹھنڈ بھی ہےاور ترا فراق بھی ہےمگر نہ جانے کیوںمجھے یہ خوف کھائے جاتا ہےکہ وہ سوئیٹرجو کبھی قربتیں بڑھاتا تھافاصلے مٹاتا تھاتجھ سے مجھےاور دور نہ کر دےرونے کو مجبور نہ کر دے
چیخ ٹائم پیس کیصبح کے نو بج گئےاور پلکوں سے مریآخری سوئی نکالی یوں گئیٹھنڈ سے بجتے ہیں دانتگرم پانی بھی نہیںہو رہا ہے وقت دفتر کا بھی ابلوڈ شیڈنگ آج پھرچار سو ہے حکمراںشیو کرنے کی کوئی صورت نہیںآئرن ہو کس طرحچائے کافی ناشتہ کچھ بھی نہیںآج بھی ہم ہیں غلام ابن غلامبند کمرہسانس روکےکروٹیں ہر پل بدلتا ہی رہاصبح کی ٹھنڈی ہوا دستک نہیں دیتی کبھیمیری پیشانی کو چومے مہر تازہ کی کرنیہ مقدر میں کہاں
ہوا لال اینٹوں کی گلیوں سے گزرتیسیلن زدہ کوٹھریوں میں بچے جنتی ہےگھٹی گھٹی سانسیں لیتی ہوئیجب باہر نکلتی ہےتو ٹھنڈ سے کبڑی ہو چکی ہوتی ہےسیدھا چلنے کی خواہش میںاونچے نیچے رستوں پرگھوڑوں کے سموں تلےکیچڑ میں لت پت سر پٹختیاٹھنے کی کوشش کرتی ہےاور رینگتے رینگتے کسی حویلی میں جا گھستی ہےجہاں رات کا سناٹا بین کر رہا ہوتا ہےقدموں کی مانوس سی چاپوں سےحویلی کے سناٹوں میںگونج کی دراڑیں پڑنے لگتی ہیںہوا کسے ڈھونڈھتی ہےوہ جانتی ہے کہ پساروں میں اجداد کے فن کا لوہاصندوقوں میں بھرا پڑا ہےپرکھوں کے افکارشیلفوں پر قرینے سے سجے ہیںایک بڑے کمرے میں گول میز پرکروشیے سے کاڑھے ہوئے رومال میںاس نے اپنی آنکھیں بھی کاڑھ دی ہیںوہ روتی ہوئیرومال میں کاڑھی ہوئی آنکھوں کو چومتی ہےاور حویلی کے در و دیوار سے لپٹی ہوئیآخری نشانی تلاش کر رہی ہوتی ہےکہ سناٹا چیخ اٹھتا ہے
پستہ کاجو انڈے کھاؤٹھنڈ سے اپنا آپ بچاؤدیتا ہے ہر ایک دہائیسردی آئی سردی آئی
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
اب سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دوتم چاند سے ماتھے والے ہواور اچھی قسمت رکھتے ہوبچے کی سو بھولی صورتاب تک ضد کرنے کی عادتکچھ کھوئی کھوئی سی باتیںکچھ سینے میں چبھتی یادیںاب انہیں بھلا دو سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دوسو جاؤ تم شہزادے ہواور کتنے ڈھیروں پیارے ہواچھا تو کوئی اور بھی تھیاچھا پھر بات کہاں نکلیکچھ اور بھی یادیں بچپن کیکچھ اپنے گھر کے آنگن کیسب بتلا دو پھر سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دویہ ٹھنڈی سانس ہواؤں کییہ جھلمل کرتی خاموشییہ ڈھلتی رات ستاروں کیبیتے نہ کبھی تم سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
چشتی نے جس زمیں میں پیغام حق سنایانانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایاتاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایاجس نے حجازیوں سے دشت عرب چھڑایامیرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہےیونانیوں کو جس نے حیران کر دیا تھاسارے جہاں کو جس نے علم و ہنر دیا تھامٹی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھاترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھامیرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہےٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سےپھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سےوحدت کی لے سنی تھی دنیا نے جس مکاں سےمیر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سےمیرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہےبندے کلیم جس کے پربت جہاں کے سینانوح نبی کا آ کر ٹھہرا جہاں سفینارفعت ہے جس زمیں کی بام فلک کا زیناجنت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینامیرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books