aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tilak"
کسی کے سر پہ چوٹیا رکھ دیںماتھے اوپر تلک سجائیںکسی کے چھوٹے سے چہرے پرموٹی سی داڑھی پھیلائیںکچھ دن ان سے جی بہلائیںاور یہ جب میلے ہو جائیںداڑھی چوٹی تلک سبھی کوتوڑ پھوڑ کے گڈمڈ کر دیںملی جلی یہ مٹی پھر سےالگ الگ سانچوں میں بھر دیںنئے نئے آکار بنائیں
دنیا کو کہاں تک جانا ہےیہ کتنا بڑا افسانہ ہےسب کان لگائے بیٹھے ہیںاور رات سرکتی جاتی ہےیہ رات کہاں تک جانی ہےکچھ اس کا اور و چھور نہیںیہ رات سمندر ہے جس میںآواز بہت ہے رونے کیبس دور تلک تاریکی ہےکچھ دور ذرا سی روشنیاںپھر تاریکی پھر روشنیاںیہ رات بلا کی مایا ہےجو کچھ کا کچھ کر دیتی ہےآنکھوں کو جگاتی ہے برسوںپھر نیند کا دھکا دیتی ہےپھر خواب دکھاتی ہے برسوںپھر خوابوں سے چونکاتی ہےیہ کھیل بھیانک راتوں کاانسان کی ننھی ذاتوں کاخوش ہونا اور دہل جاناپھر آنسو آنسو گل جانااس کھیل میں جو بھی ہار گیاپھر مٹھی سے سنسار گیااس کھیل میں پھنسنا ہے پیارےبس ہاتھ میں جتنی مٹی ہےاس مٹی سے سنسار بنااسے اپنے آنسو کا پانیاسے اپنے ہجر کی گرمی دےاسے موسم موسم نرمی دےاسے اپنے انگ لگا پیارےاسے اپنے رنگ لگا پیارےدنیا کو کہاں تک جانا ہےیہ کتنا بڑا افسانہ ہےیہ بھید نہ کوئی جان سکااس بھید کا چکر بھاری ہے
آ مرے اندر آپوتر مہران کے پانیٹھنڈے میٹھے مٹیالے پانیمٹیالے جیون رنگ جلدھو دے سارا کرودھ کپٹشہروں کی دشاؤں کا سب چھلیوں سینچ مجھے کر دے میری مٹی جل تھلترے تل کی کالی چکنی مٹی سےماتھے پر تلک لگاؤںہاتھ جوڑ ڈنڈوت کروںاو من کے بھید سے گہرےہولے ہولے سانس کھینچتےاوم سمان امراو مہان ساگرمیں اتری تیرے ٹھنڈے جل میں کمر کمرتیرے ٹھنڈے میٹھے مہربان پانی سے منہ دھو لوںاور دھو لوں آنسوکھارے آنسوتیرے میٹھے پانی سے دھو لوںاو مہان مٹیالے ساگر آسن مری کتھامیں بڑی ابھاگن بھاگ مرابے درد ہاتھ میں رہا سداٹوٹا مرا مٹی سے ناطہکیسے ٹوٹااک آندھی بڑی بھیانک لال چڑیلمجھے لے اڑیاٹھا کر پٹکا اس نے کہاں سے کہاں!تیرے چرنوں میں سیس جھکاتی ایک اکیلی جانمرے ساتھ مرا کوئی میت نہیںکوئی رنگ روپ' کوئی پریت نہیںمری ان گڑھ پھیکی مرجھاتی بولی میں کوئی سنگیت نہیںمری پیڑھیوں کے بیتے یگ میرے ساتھ نہیںبس اک نردئی دھرم ہےجس کا بھرم نہیںوہ دھرم جو کہتا ہے مٹی مری بیرن ہےجو مجھے سکھاتا ہے ساگر مرا دشمن ہےہاں' دور کہیںآکاش کی اونچائی سے پرےرہتا ہے خدااتنا روکھامٹی سے جوڑ نہیں جس کاسب ناطے پریت اور بیر کے اس کی کارن میں کیسے جوڑوںمیں مٹی مرا جنم مٹیمیں مٹی کو کیسے چھوڑوںاو مٹیالے بلوان مہا ساگرمیں اکھڑی دھرتی سےبھگوان مرا رس سوکھ گیاپھر بھی سنتی ہوں اپنے لہو میں بیتے سمے کی نرم دھمکوہ سمے جو میرے جنم سے پہلے بیت گیامرے کانوں میںاک شور ہے جھرجھر بہتے ندی نالوں کااور کوئی مہک بڑی بے کل ہےجو گونج بنی مری چھاتی سے ٹکراتی ہےاو مہان ساگرجیونःرس دےاپنے تل میں جل پودا بن کر جڑ لینے دےسدا جیےاو مہان ساگر سندھوتو سدا جیےاور جئیں ترے پانی میں پھسلتی مچھلیاںشانت سکھی یوں ہیترے پانی میں ناؤ کھیتےترے بالک سدا جئیںاو پالن ہار ہمارےدھرتی کے رکھوالےان داتاتری دھرتینرم رتیلی مہربان سندھ کی دھرتیسدا جیے
ہزاروں صدیاں گزر چکی ہیںکسی سمے میں وہ تھی ست ونتیکہیں ساوتریکہیں تھی میراہر ایک یگ میںعقیدتوں کی لہر میں بھیگیتپسیا کے سحر میں گم سمروایتوں کے نشے میں ڈوبیتمہارے قدموں کی گرد کو وہ تلک بناتیدئے جلاتی تھی نقش پا پرجنم جنم کا اٹوٹ رشتہنباہے جاتیہزاروں صدیوں سفر کیا ہےنظر جمائےتمہارے پیچھےتمہارے دکھ پر دکھی ہوئی ہےتمہارے سکھ پر سکھی ہوئی ہےمگر بتاؤہزاروں صدیوں کے درمیاں کوئی ایسا لمحہجو تم نے اس کے لیے جیا ہوسوائے آنسو کے کوئی جگنوکبھی جو آنچل میں جڑ دیا ہوپرانے برگد پہ ایک دھاگاکہیں تو اس کے بھی نام کا ہواندھیری طاقوں پہ اس کی خاطررکھا ہوا بھی تو اک دیا ہونہیں ہے کچھ بھیکہیں نہیں ہےوہ اپنی تاریخ میں تمہارالکھے بھی گر نامکس طرح سے
اب جو نظر اٹھا کے ادھر سے ادھر تلکدیکھا تو آم وام کا قصہ تمام ہے
پیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندوستانجان فدا ہے اس پر اپنی دل اس پر قربانملک نہیں یہ ہے جنت کا دل کش ایک مکانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندوستانپیارے پیارے دریا اس کے پیاری پیاری نہریںپیارے پیارے چشمے اس کے پیاری پیاری لہریںپیارے پیارے منظر پیاری پیاری اس کی شانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستانپیاری کھیتی باڑی پیاری پیاری پیداوارپیاری پیاری آب و ہوا ہے پیاری اس کی بہاردل میں ہمارے رہتا ہے ہر وقت اسی کا دھیانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستانپیارا پیارا دن ہے اس کا پیاری پیاری راتپیارا شام و سحر کا جلوہ پیاری ہر اک باتپیارے پیارے نظاروں کی پیاری پیاری کانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستانپیارے پھل پیاری ترکاری پیارے اس کے پھولپیارے آم اور جامن اس کے پیارے نیم ببولپیارے غلے پیارے میوے پیارے پیارے دھانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندوستانپیاری گرمی پیاری سردی پیاری ہر برساتپیاری ہر ہر بات ہے اس کی پیاری ہر ہر گھاتپیاری ہے ہر اک ادا پیارا ہر ایک نشانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستاناقبالؔ اور ٹیگورؔ سے شاعر پی سی رے سے فاضلوی سی رامن شاہ سلیماں جے سی بوس سے کاملگاندھیؔ اور جناحؔ سے لیڈر ذاکرؔ سے ودوانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستانجوہرؔ انصاریؔ اجملؔ آزادؔ جواہر لالؔدادا بھائیؔ داسؔ تلکؔ گوکھیلؔ سے نیک خصال
موت نے رات کے پردے میں کیا کیسا وارروشنئ صبح وطن کی ہے کہ ماتم کا غبار
اگرچہ سوت سے تکلے نے دھاگے کو نہ کھینچا تھامرے ریشے بنت کے مرحلے میں تھےرگیں ماں کی دریدوں سے نہ بچھڑی تھیںمیں اپنے جسم سے کچھ فاصلے پر تھامگر میرے عقیدے کا تعین کرنے والوں نےمرے مسلک کے بارے میںجو سوچا تھا اسے تجسیم کر ڈالامیں جس دم اپنے ہونے پر اتر آیامجھے تقسیم کر ڈالاکسی نے میرے ماتھے پر تلک داغاصلیبوں کو مری چھاتی پہ کھینچااور کانوں میں اذاں بھر دیپھر اس کے بعدپیشانی پہ انگارےصلیبیں اپنے سینے پرسماعت پر نمیدہ زنگ کے تالے سنبھالےمیں نے ساری عمردنیا کے تصرف میں گزاری ہےمری فطرت سمٹنا اورقسمت ٹوٹ جانا ہےمیں پارہ ہوںمجھے دنیا مسلتی ہےنفی اثبات کی ضربیںمجھے تقسیم کرتی ہیںبکھرتا ہوںمرے ذرے تھرکتے ہیںتو کہتے ہیںہمیں نابود مت کرناکہ جب تقسیم ہونے کا عمل ممکن نہیں رہتاتو پھر ذرہذرا بھر چوٹ کھانے پردھماکے کو اگلتا ہےدھماکے کو سمجھتے ہودھماکہ جس سے حرف کن ٹپکتا ہےہمیں نابود مت کرنا
تجھ پہ گاندھی جواہر نے رکھی نظرتیری حسرتؔ تلکؔ نے سدا لی خبرجان دے کے ہوئے تجھ پہ لاکھوں امراندرا نے سنوارا تھا تجھ کو مگر
میں خود سے مایوس نہیں ہوںانساں سے مایوس ہوں تھوڑادھرتی پر آنے سے پہلےوہ اور میں ساتھ رہا کرتے تھےجنت میںلیکن اس کو صدیاں بیتیںاب اس سے میرا کیا رشتہویسے وہ بھی مجھ جیسا ہےمیری طرح کھاتا پیتا چلتا پھرتا ہےہم دونوں ہم شکل ہیں اتنےکچھ بھی کرے وہچاند پہ جائے دھرتی پرجنگ کرے اور خون بہائےآنچ مرے دامن پر آئےہم دونوں ہم شکل ہیں لیکنکیا میں اپنی ماں بہنوں کوچوراہے پر ننگا کر سکتا ہوںوہ کرتا ہےوہ پستانیں جن سے میں نے دودھ پیابلوان بنا ہوںجن پر میں نے شعر کہےتصویریں بنائیںکیا میں ان کو کاٹ کےکتوں کو کھلوا سکتا ہوںکہتے ہیں کھلوایا اس نےکیا میں نسوانی پیکر کوجو میرا موضوع سخن ہےپھول سے کوملچاند سے شیتلکی بوتلجو میری بیوی کا بدن ہے اس کوٹکڑے ٹکڑے کر سکتا ہوںاس نے کیا ہےکیا میں اپنی بیٹی سے منہ کالا کر کےاپنے بھائی بندوں ہم جنسوں کوبڈھوں جوانوں معصوموں کوزندہ جلا کرپھانسی کے تختے پہ چڑھا کران کے لہو کا تلک لگا کرمونچھ پہ تاؤ دے سکتا ہوںاس نے دیا ہےمیں خود سے مایوس نہیں ہوںانساں سے مایوس ہوں تھوڑاآج ہی سارے اخباروں میں خبر چھپی ہےاس دھرتی کے اک حصے گجرات میں اس نےمیرے منہ پر تھوک دیا ہے
رات اندھیری کالا بادل دور تلک ویرانیایک اکیلی کشتی جس کے نیچے گہرا پانیلہروں کی پھنکار کے آگے کشتی کا من ڈولےشوا سمندر کے سینے پہ برکھا موتی رولےدور کسی ویران جزیرے اوپر الو بولےالو کی آواز کو سن کے جاگ اٹھی پروائیرات کا دیسی شالا اوڑھے پیڑ سے ملنے آئیشاخ پہ اٹکی ڈال پہ مٹکی پتوں پہ لہرائیبات نہیں تھی اتنی جتنی پھیل گئی رسوائی
ٹوپی جنیوو ٹیکہ مالا چھاپ تلک کی جھوٹی ہالاہیں یہ سب بازار کی چیزیں نقلی اور بے کار کی چیزیںتن من میں گر کوڑھ ہوا ہے کب اوس کو ریشم نے ڈھکا ہےپھیکا ہے ہر ایک لباس دل میں اگر نہیں وشواسکالی سفید اگر ہیں نذریں جیون پہ لگتی ہیں قیدیںپھیکے پھیکے چاند ستارہ اندر دھنش کے رنگ بھی سارےایسا ہے پر میرا گھرجس میں نہیں دیوار یا درکرنوں کا سایا پڑتا ہےانساں بس انساں رہتا ہےمیرا گھر ہے روح مریرستہ منزل سبھی وہی
اک لڑکی تھی کتنی پیاریاندرا اس کا ناماس کا بچپن نٹ کھٹ چنچل شور مچاتا گزرااس کا عزم قدم قدم پر لاوا بن کا بپھرااک لڑکی تھی کتنی پیاریاندرا اس کا ناماس کے اندر کتنے طوفانوں کی رنگ بھری شکتی تھیاس کے اندر مانوتا کی آگ ابلتی رہتی تھیاک لڑکی تھی کتنی پیاریاندرا اس کا نامسامراج سے ٹکرائی تھی جب اس کی بانر سیناسکھ کے دن بیتیں سب کے آزادی ہو دن رینااک لڑکی تھی کتنی پیاریاندرا اس کا نامگاندھیؔ اور نہروؔ کی وراثت اس بیٹی کے نام آئیاس مٹی سے تلک رچاؤ جس دھرتی کے کام آئیاک لڑکی تھی کتنی پیاریاندرا اس کا نامبچو کرو پرنام
ماہ کامل حیرت کی تصویر ہو جیسےحد چاہ نخشب عالمگیر ہو جیسےہولی کے رنگوں کا دھوکہچہروں پر تحریر ہو جیسےبھیگی رات میں آب شر انگیز کے مارےمست ستارےاپنی چالیں چوک رہے ہیںدہلیزوں پر پگھلی شمعیںنیلے بادل کے پردے میں اوجھل ہوتےآنکھ کے تارے ڈھونڈ رہی ہیںآئینوں سے نالاں نقش سے عاری چہرےجذبوں کے عقدوں میں الجھےمورتیوں کی مالا جپتےکان میں حلقے ڈالےگیروے بادل پہنے ناچ رہے ہیںلال تلک میں آنکھ اگائےشمعیں تھامے چوب اٹھائےیک رنگی دستاریں جبے گنبد اوڑھےصدیوں کی دیوار پہ روتےرقص وحشت کا زہراب انڈیل رہے ہیںنا بینائی کے پیغمبررنگ رچاتیموت کی بولی بول رہے ہیںچیخ رہے ہیںان کے پیراہن کو دیکھوچہرے دیکھو آنکھیں دیکھودیکھو سب ہاتھوں کو دیکھوجس پر رنگ نظر آ جائےجان سے جائے
آکہ اس دل میں تیرے لیے ہے بہت سی جگہیہ تو دونوں کو معلوم ہےآرزوؤں کی کثرت سے تنگی کا مارا ہواحسرتوں سے پریشان ہےاس کی بوسیدگی کے گواہمحبت وفا دشمنی بغض کینہ حسدیہ جہاں مختصراور تو عز و جلپھر بھی اتنا یقیں کر ہی سکتا ہے تویہ وہ گھر ہے کہ جس میں اگر تو براجےیہ تیرا بنےاور تب تک رہے گا بسیرا تراجب تلک تو اسےاپنے رہنے کے قابل سمجھتا رہے!
تنہائی کے صحراؤں میںچلتے چلتےاب تو میریآنکھوں کی ویران گلی سےپاؤں کے چھالےبہہ نکلے ہیںاک مدت سے جسم کی دھرتیپیاسی ہے سوکھے کے کارنجیون کے اندھیارے پتھ پردور تلک سناٹا سا ہےقدموں کی آہٹ بھی نہیں ہے
ناگہاں گویا اذان فجرکانوں میں پڑیمیں دوڑ کرمندر کی سیڑھی پر چڑھاٹوپی اتاریخاک جھاڑی دوار سےاور صحن کو خالی کیا ہر خار سےپھر سجدۂ حق کا بجا لانا ہواسینے کے اندر قلب کا آنا ہوااک شنکھ گونجامیں حرم کی سمت لپکاداخلے کے وقتماتھے پر تلک کھینچابلند آواز میںجے ہو کا جب نعرہ لگایاآسماں کو ایک ملبے کی طرح بکھرا ہوا پایا
جب نور کے پردے سے ہٹا پردۂ ظلماتجب صبح کے ماتھے سے مٹی گرد خرافاتپو پھوٹنے والی تھی تو مشرق تھا حنائیملنے کو تھی دنیا کو شعاعوں کی بدھائیسہمی ہوئی اتری تو تھی آکاش سے شبنمغنچوں کو تبسم کا وہ پیغام تھی تاہمکلیوں کو جو بدمست ہوا چوم رہی تھیاس چھیڑ پر ہر شاخ چمن جھوم رہی تھیچڑیوں کی چہک دور سے دیتی تھی سنائیاڑنے کی جسارت ابھی ان میں نہ تھی آئیسبزہ کہیں چپ چاپ گہر رول رہا تھاگل ہنس کے کہیں بند قبا کھول رہا تھافطرت کے پجاری بھی بہت جاگ چکے تھےسیروں کے لئے لوگ بھی کچھ بھاگ چکے تھےتقدیس کے پابند بھی گنگا کے کنارےجاتے تھے کہیں تیز کہیں سست بے چارےپوجا کوئی کرتا تھا تلک کوئی بناتاجل ہاتھ میں لیتا کوئی ماتھے پہ لگاتااتنے میں نمایاں ہوا اک پیکر نوریقدموں میں شفق جس کے پڑی بہر حضوریسانچے میں ڈھلے جیسے کہ اندام تھے سارےلپکے وہ قدم چومنے بہتے ہوئے دھارےبوجھل تھی پلک نیند کے بے ساختہ پن سےچھٹتی تھی کرن جیسے کہ ہر موئے بدن سےتھالی جو اٹھائے تھی تو دل والوں کو مہمیزمحجوب ہوا دیکھ کے خورشید سحر خیزساری کی سنبھالے ہوئے چٹکی سے تھی چوننبڑھتی تھی اسے دیکھ کے ہر قلب کی دھڑکندریا میں دھرے پاؤں بڑے ناز و ادا سےپریاں سی لپکنے لگیں پانی کی ردا سےرک رک کے جو دو چار قدم اور بڑھائےچونن کو سنبھالے ہوئے تھالی کو اٹھائےنذرانہ دیا پھول کا امواج کو اس نےتھالی کو لیا خادمۂ خاص نے بڑھ کےپھر آب مقدس میں جو ڈبکی سی لگائیبدلی سی ذرا دیر کو مہتاب پہ چھائیپانی سے پری پر کو جھٹکتی ہوئی نکلیاندام گل اندام سے لپٹی ہوئی ساریموتی سے برستے تھے ہر اک موئے سیہ سےشبنم کے وہ قطرے تھے کنول پر جو پڑے تھےوہ مست خرام آئی اسی طور گئی بھیپر برق تپاں خرمن ہستی پر گری بھی
مایۂ ہندوستاں تھا بال گنگا دھر تلکاس چمن کا باغباں تھا بال گنگا دھر تلکخوش کلام و خوش بیاں تھا بال گنگا دھر تلکمہرباں تھا راز داں تھا بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدپارسا تھا پارسا تھا بال گنگا دھر تلکبے ریا تھا بے ریا تھا بال گنگا دھر تلکرہنما تھا رہنما تھا بال گنگا دھر تلکپیشوا تھا پیشوا تھا بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدملک کی روح رواں تھا بال گنگا دھر تلکباعث آرام جاں تھا بال گنگا دھر تلکہر کسی کا قدرداں تھا بال گنگا دھر تلکاس زمیں پر آسماں تھا بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدافتخار ہند تھا وہ بال گنگا دھر تلکجاں نثار ہند تھا وہ بال گنگا دھر تلکنو بہار ہند تھا وہ بال گنگا دھر تلکپاس دار ہند تھا وہ بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدمرد میدان سیاست بال گنگا دھر تلکبا مروت با محبت بال گنگا دھر تلکصاحب اقبال و شوکت بال گنگا دھر تلکپاک صورت پاک سیرت بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدہر گھڑی سینہ سپر تھا بال گنگا دھر تلککتنا بے خوف و خطر تھا بال گنگا دھر تلکدل جلوں سے با خبر تھا بال گنگا دھر تلکسب کا منظور نظر تھا بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدزینت باغ وطن تھا بال گنگا دھر تلکاک پھلا پھولا چمن تھا بال گنگا دھر تلکنوحہ خوان و نعرہ زن تھا بال گنگا دھر تلکواقف رنج و محن تھا بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدرہنمائی کر گیا وہ بال گنگا دھر تلکسر پر احساں دھر گیا وہ بال گنگا دھر تلککب کسی سے ڈر گیا وہ بال گنگا دھر تلکمرنے والا مر گیا وہ بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدکاش پھر دنیا میں آئے بال گنگا دھر تلکشکل پھر اپنی دکھائے بال گنگا دھر تلکاور پھر گیتا سنائے بال گنگا دھر تلکبسملؔ آ کر پھر نہ جائے بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعد
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books