چشم بد دور
زمیں پر
پاؤں جب محکم جمائے
دسترس سے آسمانوں کی نکل آئے
حقیقت
صاف تھی
شفاف تھی
وہ کلبۂ تاریک یوں پر نور ہوتا جا رہا تھا
میں ہر اک وہم و گماں سے دور ہوتا جا رہا تھا
ناگہاں گویا اذان فجر
کانوں میں پڑی
میں دوڑ کر
مندر کی سیڑھی پر چڑھا
ٹوپی اتاری
خاک جھاڑی دوار سے
اور صحن کو خالی کیا ہر خار سے
پھر سجدۂ حق کا بجا لانا ہوا
سینے کے اندر قلب کا آنا ہوا
اک شنکھ گونجا
میں حرم کی سمت لپکا
داخلے کے وقت
ماتھے پر تلک کھینچا
بلند آواز میں
جے ہو کا جب نعرہ لگایا
آسماں کو ایک ملبے کی طرح بکھرا ہوا پایا
ادھر شہنائی سی گونجی
کسی کی مانگ میں سندور
ننہا سا فرشتہ
چشم بد دور
- کتاب : کتاب گمراہ کررہی ہے (Pg. 108)
- Author :شہرام سرمدی
- مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2018)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.