aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "vaisaa"
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
وقت کے اگلے شہر کے سارے باشندےسب دن سب راتیںجو تم سے ناواقف ہوں گےوہ کب میری بات سنیں گےمجھ سے کہیں گےجاؤ اپنی راہ لو راہیہم کو کتنے کام پڑے ہیںجو بیتی سو بیت گئیاب وہ باتیں کیوں دہراتے ہوکندھے پر یہ جھولی رکھےکیوں پھرتے ہو کیا پاتے ہومیں بے چارہاک بنجارہآوارہ پھرتے پھرتے جب تھک جاؤں گاتنہائی کے ٹیلے پر جا کر بیٹھوں گاپھر جیسے پہچان کے مجھ کواک بنجارہ جان کے مجھ کووقت کے اگلے شہر کے سارے ننھے منے بھولے لمحےننگے پاؤںدوڑے دوڑے بھاگے بھاگے آ جائیں گےمجھ کو گھیر کے بیٹھیں گےاور مجھ سے کہیں گےکیوں بنجارےتم تو وقت کے کتنے شہروں سے گزرے ہوان شہروں کی کوئی کہانی ہمیں سناؤان سے کہوں گاننھے لمحو!ایک تھی رانیسن کے کہانیسارے ننھے لمحےغمگیں ہو کر مجھ سے یہ پوچھیں گےتم کیوں ان کے شہر نہ آئیںلیکن ان کو بہلا لوں گاان سے کہوں گایہ مت پوچھوآنکھیں موندواور یہ سوچوتم ہوتیں تو کیسا ہوتاتم یہ کہتیںتم وہ کہتیںتم اس بات پہ حیراں ہوتیںتم اس بات پہ کتنی ہنستیںتم ہوتیں تو ایسا ہوتاتم ہوتیں تو ویسا ہوتا
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی
وہ چائے کی پیالی پہ یاروں کے جلسےوہ سردی کی راتیں وہ زلفوں کے قصےکبھی تذکرے حسن شعلہ رخاں کےمحبت ہوئی تھی کسی کو کسی سےہر اک دل وہاں تھا نظر کا نشانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہبہت اپنا انداز تھا لاابالیکبھی تھے جلالی کبھی تھے جمالیکبھی بات میں بات یوں ہی نکالیسر راہ کوئی قیامت اٹھا لیکسی کو لڑانا کسی کو بچانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہکبھی سچی باتوں کو جھوٹا بتایاکبھی جھوٹی باتوں کو سچ کر دکھایاکبھی راز دل کہہ کے اس کو چھپایاکبھی دوستوں میں یوں ہی کچھ اڑایابتا کر چھپانا چھپا کر بتانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہکبھی بزم احباب میں شعلہ افشاںکبھی یونین میں تھے شمشیر براںکبھی بزم واعظ میں تھے پا بہ جولاںبدلتے تھے ہر روز تقدیر دوراںجہاں جیسی ڈفلی وہاں ویسا گانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہزمانہ تھا وہ ایک حیوانیت کاوہ دور ملامت تھا شیطانیت کاہمیں درد تھا ایک انسانیت کااٹھائے علم ہم تھے حقانیت کابڑھے جا رہے تھے مگر باغیانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہمقابل میں آئے جسارت تھی کس کوکوئی روک دے بڑھ کے ہمت تھی کس کوپکارے کوئی ہم کو طاقت تھی کس کوکہ ہر بوالہوس کو تھے ہم تازیانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہخیالات پر شوق کا سلسلہ تھابدل دیں زمانے کو وہ حوصلہ تھاہر اک دل میں پیدا نیا ولولہ تھاہر اک گام احباب کا قافلہ تھاادھر دعویٰ کرنا ادھر کر دکھانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ شہہ راہ میرس کے پر پیچ چکروہ شمشاد بلڈنگ پہ اک شور محشروہ مبہم سی باتیں وہ پوشیدہ نشتروہ بے فکر دنیا وہ لفظوں کے دفترکہ جن کا سرا تھا نہ کوئی ٹھکانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہکسی کو ہوئی تھی کسی سے محبتکوئی کر رہا تھا کسی کی شکایتغرض روز ڈھاتی تھی تازہ قیامتکسی کی شباہت کسی کی ملامتکسی کی تسلی کسی کا ستانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہکوئی غم زدہ تھا کوئی ہنس رہا تھاکوئی حسن ناہید پر مر مٹا تھاکوئی چشم نرگس کا بیمار سا تھاکوئی بس یوں ہی تاکتا جھانکتا تھاکبھی چوٹ کھانا کبھی مسکرانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ ہر جنوری میں نمائش کے چرچےوہ پر شوق آنکھیں وہ حیران جلوےوہ چکر پہ چکر تھے بارہ دری کےوہ حسرت کہ سو بار مل کر بھی ملتےہزاروں بہانوں کا وہ اک بہانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ رخ آفتابی پہ ابرو ہلالیوہ تمثال سیمیں وہ حسن مثالیشگوفوں میں کھیلی گلابوں میں پالیوہ خود اک ادا تھی ادا بھی نرالینگاہیں بچا کر نگاہیں ملا کربہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ ہرچند مجھ کو نہیں جانتی تھیمگر میری نظروں کو پہچانتی تھیاگرچہ مرے دل میں وہ بس گئی تھیمگر بات بس دل کی دل میں رہی تھیمگر آج احباب سے کیا چھپانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہوہ اک شام برسات کی دن ڈھلا تھاابھی رات آئی نہ تھی جھٹپٹا تھاوہ باد بہاری سے اک گل کھلا تھادھڑکتے ہوئے دل سے اک دل ملا تھانظر سن رہی تھی نظر کا فسانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہجوانی اداؤں میں بل کھا رہی تھیکہانی نگاہوں میں لہرا رہی تھیمحبت محبت کو سمجھا رہی تھیوہ چشم تمنا جھکی جا رہی تھیقیامت سے پہلے قیامت وہ ڈھانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہہمیں بیتی باتیں جو یاد آ رہی تھیںوہ مخمور نظریں جو شرما رہی تھیںبہت عقل سادہ کو بہکا رہی تھیںبڑی بے نیازی سے فرما رہی تھیںانہیں یاد رکھنا ہمیں بھول جانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہاب وہ امنگیں نہ دل میں مرادیںاب رہ گئیں چند ماضی کی یادیںیہ جی چاہتا ہے انہیں بھی بھلا دیںغم زندگی کو کہاں تک دعا دیںحقیقت بھی اب بن گئی ہے فسانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہعلی گڑھ ہے بڑھ کر ہمیں کل جہاں سےہمیں عشق ہے اپنی اردو زباں سےہمیں پیار ہے اپنے نام و نشاں سےیہاں آ گئے ہم نہ جانے کہاں سےقسم دے کے ہم کو کسی کا بلانابہت یاد آتا ہے گزرا زمانہمحبت سے یکسر ہے انجان دنیایہ ویران بستی پریشان دنیاکمال خرد سے یہ حیران دنیاخود اپنے کیے پر پشیمان دنیاکہاں لے کے آیا ہمیں آب و دانہبہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
ہے دنیا جس کا ناؤں میاں یہ اور طرح کی بستی ہےجو مہنگوں کو یہ مہنگی ہے اور سستوں کو یہ سستی ہےیاں ہر دم جھگڑے اٹھتے ہیں ہر آن عدالت بستی ہےگر مست کرے تو مستی ہے اور پست کرے تو پستی ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کا مان رکھے تو اس کو بھی ارمان ملےجو پان کھلا دے پان ملے جو روٹی دے تو نان ملےنقصان کرے نقصان ملے احسان کرے احسان ملےجو جیسا جس کے ساتھ کرے پھر ویسا اس کو آن ملےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کی جاں بخشے تو اس کی بھی حق جان رکھےجو اور کسی کی آن رکھے تو اس کی بھی حق آن رکھےجو یاں کا رہنے والا ہے یہ دل میں اپنے جان رکھےیہ ترت پھرت کا نقشہ ہے اس نقشے کو پہچان رکھےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو پار اتارے اوروں کو اس کی بھی پار اترنی ہےجو غرق کرے پھر اس کو بھی ڈبکوں ڈبکوں کرنی ہےشمشیر تبر بندوق سناں اور نشتر تیر نہرنی ہےیاں جیسی جیسی کرنی ہے پھر ویسی ویسی بھرنی ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اوپر اونچا بول کرے تو اس کا بول بھی بالا ہےاور دے پٹکے تو اس کو بھی کوئی اور پٹکنے والا ہےبے ظلم و خطا جس ظالم نے مظلوم ذبح کر ڈالا ہےاس ظالم کے بھی لوہو کا پھر بہتا ندی نالا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو مصری اور کے منہ میں دے پھر وہ بھی شکر کھاتا ہےجو اور تئیں اب ٹکر دے پھر وہ بھی ٹکر کھاتا ہےجو اور کو ڈالے چکر میں پھر وہ بھی چکر کھاتا ہےجو اور کو ٹھوکر مار چلے پھر وہ بھی ٹھوکر کھاتا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کو ناحق میں کوئی جھوٹی بات لگاتا ہےاور کوئی غریب اور بیچارہ حق نا حق میں لٹ جاتا ہےوہ آپ بھی لوٹا جاتا ہے اور لاٹھی پاٹھی کھاتا ہےجو جیسا جیسا کرتا ہے پھر ویسا ویسا پاتا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کی پگڑی لے بھاگے اس کا بھی اور اچکا ہےجو اور پہ چوکی بٹھلاوے اس پر بھی دھونس دھڑکا ہےیاں پشتی میں تو پشتی ہے اور دھکے میں یاں دھکا ہےکیا زور مزے کا جمگھٹ ہے کیا زور یہ بھیڑ بھڑکا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےہے کھٹکا اس کے ہاتھ لگا جو اور کسی کو دے کھٹکااور غیب سے جھٹکا کھاتا ہے جو اور کسی کے دے جھٹکاچیرے کے بیچ میں چیرا ہے اور پٹکے بیچ جو ہے پٹکاکیا کہیے اور نظیرؔ آگے ہے زور تماشا جھٹ پٹکاکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے
نقش یاں جس کے میاں ہاتھ لگا پیسے کااس نے تیار ہر اک ٹھاٹھ کیا پیسے کاگھر بھی پاکیزہ عمارت سے بنا پیسے کاکھانا آرام سے کھانے کو ملا پیسے کاکپڑا تن کا بھی ملا زیب فزا پیسے کاجب ہوا پیسے کا اے دوستو آ کر سنجوگعشرتیں پاس ہوئیں دور ہوئے من کے روگکھائے جب مال پوے دودھ دہی موہن بھوگدل کو آنند ہوئے بھاگ گئے روگ اور دھوگایسی خوبی ہے جہاں آنا ہوا پیسے کاساتھ اک دوست کے اک دن جو میں گلشن میں گیاواں کے سرو و سمن و لالہ و گل کو دیکھاپوچھا اس سے کہ یہ ہے باغ بتاؤ کس کااس نے تب گل کی طرح ہنس دیا اور مجھ سے کہامہرباں مجھ سے یہ تم پوچھا ہو کیا پیسے کایہ تو کیا اور جو ہیں اس سے بڑے باغ و چمنہیں کھلے کیاریوں میں نرگس و نسرین و سمنحوض فوارے ہیں بنگلوں میں بھی پردے چلونجا بجا قمری و بلبل کی صدا شور افگنواں بھی دیکھا تو فقط گل ہے کھلا پیسے کاواں کوئی آیا لیے ایک مرصع پنجڑالال دستار و دوپٹا بھی ہرا جوں طوطااس میں اک بیٹھی وہ مینا کہ ہو بلبل بھی فدامیں نے پوچھا یہ تمہارا ہے رہا وہ چپکانکلی منقار سے مینا کے صدا پیسے کاواں سے نکلا تو مکاں اک نظر آیا ایسادر و دیوار سے چمکے تھا پڑا آب طلاسیم چونے کی جگہ اس کی تھا اینٹوں میں لگاواہ وا کر کے کہا میں نے یہ ہوگا کس کاعقل نے جب مجھے چپکے سے کہا پیسے کاروٹھا عاشق سے جو معشوق کوئی ہٹ کا بھرااور وہ منت سے کسی طور نہیں ہے منتاخوبیاں پیسے کی اے یارو کہوں میں کیا کیادل اگر سنگ سے بھی اس کا زیادہ تھا کڑاموم سا ہو گیا جب نام سنا پیسے کاجس گھڑی ہوتی ہے اے دوستو پیسے کی نمودہر طرح ہوتی ہے خوش وقتئ و خوبی بہبودخوش دلی تازگی اور خرمی کرتی ہے درودجو خوشی چاہیئے ہوتی ہے وہیں آ موجوددیکھا یارو تو یہ ہے عیش و مزا پیسے کاپیسے والے نے اگر بیٹھ کے لوگوں میں کہاجیسا چاہوں تو مکاں ویسا ہی ڈالوں بنواحرف تکرار کسی کی جو زباں پر آیااس نے بنوا کے دیا جلدی سے ویسا ہی دکھااس کا یہ کام ہے اے دوستو یا پیسے کاناچ اور راگ کی بھی خوب سی تیاری ہےحسن ہے ناز ہے خوبی ہے طرح داری ہےربط ہے پیار ہے اور دوستی ہے یاری ہےغور سے دیکھا تو سب عیش کی بسیاری ہےروپ جس وقت ہوا جلوہ نما پیسے کادام میں دام کے یارو جو مرا دل ہے اسیراس لیے ہوتی ہے یہ میری زباں سے تقریرجی میں خوش رہتا ہے اور دل بھی بہت عیش پذیرجس قدر ہو سکا میں نے کیا تحریر نظیرؔوصف آگے میں لکھوں تا بہ کجا پیسے کا
کچھ بھی تو نہیں ویساجیسا تجھے سوچا تھاجتنا تجھے چاہا تھا
میرے لیے تمہارا پیار بالکل ویسا تھاجیسے چائے کے آخری گھونٹ میں دوسرے کپ کی طلبدوسرا کپ جس کی قسمت میں اکثر لکھا ہوتا ہےمیز کے کنارے پڑے پڑے ٹھنڈا ہوناخیر یہی فرق ہے انسان اور چائے میںکہ انسان کو پہلی محبت میں ہی دوسرے کپ والی بے رخی مل جاتی کبھی
ایک عمر ہوتی ہےجس میں کوئی لڑکا ہویا وہ کوئی لڑکی ہوسوچتے ہیں دونوں ہیہم ہی حرف اول ہیںاس جہان کہنہ کواپنی فکر نو سے ہماک لگن کی لو سے ہمجس طرح کا چاہیں گےویسا ہی بنا لیں گےپتھروں کو مر مر کےپیکروں میں ڈھالیں گے
یہ راماینجو ہندستان کی رگ رگ میں شامل ہےجسے اک بالمیکی نام کے شاعر نے لکھا تھابہت ہی خوب صورت ایک ایپک ہےفسانہ در فسانہ بات کوئی منجمد ہےاموشن قید ہیں لاکھوں طرح کےکئی کردار ہیں جو صاحب کردار لگتے ہیںمگر اک بات ہےجو مدتوں سے مجھ کو کھلتی ہےکہ افسانے میںسب کے درد و غم کا ذکر ملتا ہےمگر وہ ایک لڑکیپھول سے بھی سو گنا نازکجو سیتا کی بہن تھیاور جس کی مانگ میں سندور بھرتے وقت ہیشری رام کے بھائی لکھن نےآگ کی موجودگی میں یہ کہا تھامیں تم سے زندگی بھر عشق فرمایا کروں گااور سائے کی طرح ہی ساتھ میں ہر دم رہوں گاجو لڑکی ایک پل میںسات جنموں کے لیے بیوی لکھن کی ہو گئی تھیوہی لڑکیجسے سب ارملا کہہ کر بلاتے تھےجو اپنے باپ کے سینے سے لگ کر وقت رخصت خوب روئیاس کے اشکوں سےفسانے کا کوئی حصہ کہیں بھیگا نہیں ہےاور اس کے درد کی کوئی نشانی تک نہیں ملتیمگر سچ ہےکہ راماین میں ویسا غم زدہ کردار کوئی بھی نہیں ملتامیں اس کردار سے خاصا متأثر ہوںکہ جب چودہ برس کے واسطے شری رام کو بن واس جانا تھاآمادہ تھے لکھن بھی بھائی کی سیوا میں جانے کوذرا سا بھی نہیں سوچاکہ جس لڑکی سے پوری زندگی کا ربط جوڑا ہےکہ جس نے خوب صورت نین میں کچھ خواب بوئے ہیںاسے کس کے سہارے چھوڑ کر وہ جا رہے ہیںمگر وہ ارملا کو چھوڑ کر بھائی کے پیچھے چل پڑےکوئی تڑپتی آرزو سیارملا کے ہونٹھ سے گر کرکئی ٹکڑوں میں نیچے فرش پر بکھری ہوئی تھیزور سے آواز ننھی پھڑپھڑائیاور زخمی ہو گیا تھا پیار کا وہ ایک دامنجو کبھی پھولوں کی خوشبو میں بھگویا تھامحض کانٹے ہی کانٹے ہر طرف تھےاک امارت بننے سے پہلے ہی ٹوٹی تھیتو یعنی ارملا چودہ برس تکخلوتوں کے موسموں سے روز لڑتی تھیسہیلی ساتھ تھیلیکن سبھی خوشیوں کو وہ اگنور کرتی تھیتمنائیں اگر بادل کی طرح گھرنے لگتی تھیںتمناؤں کی بارش میں نہانے سے وہ بچتی تھیچرا لیتی تھی وہ آنکھیںاگر غلطی سے کوئی آئنہ تعریف کر دیتاہوائیں جسم میں اس کے اگر سہرن جگا دیتیںتو خود کو اپنی ہی بانہوں میں بھر کرخود سے یہ کہتیلکھن آئیں گے جلدی مان بھی جاؤ بہاروںاور سو جاؤ ستاروں تمکہ مجھ کو رات دن جگنے کی عادت ہو گئی ہےاور محبت کے لیے یہ عمر کی دولت پڑی ہےمگر جب خواہشوں کے باندھ اکثر ٹوٹتے ہوں گےتو پھر سیلاب میںکیا کیا نہ بہہ کر کھو گیا ہوگاہزاروں ادھ کھلے ارمان بھی مرجھا گئے ہوں گےتبسم نےکسی پل ڈس لیا ہوگا لبوں کو گرتو سارا زہر موقع دیکھ کراس کے بدن میں رقص کرتا پھر رہا ہوگاکبھی کوئل کی کالی کوک گر کانوں میں پہنچی ہوتو شریانوں میں بہتا خون سارا جم گیا ہوگاپرائے مرد کا کوئی تصور چھونے سے پہلےوہ لڑکی ڈر گئی ہوگیاچانک مر گئی ہوگی
بھروسا بھروسایہ کیا رٹ لگائی ہے تم نے؟تم الگ ہو کوئی اس جہاں سےارےجیسا میں ویسے تممیں ہی جب آج کی صبح ویسا نہ تھا جیسا سویا تھا راتتو پھر کس لیے اور کیوںمیں تمہاری پرانی وفاداریوں پر بھروسا کروںیہ بتاؤ
یہ آنکھیں بالکل ویسی ہیںجیسی مرے خواب میں آتی تھیںپیشانی تھوڑی ہٹ کر ہےپر ہونٹوں پر مسکان کی بنتی مٹتی لہریں ویسی ہیںآواز کا زیر و بم بھی بالکل ویسا ہےاور ہاتھ جنہیں میں خواب میں بھیچھونا چاہوں تو کانپ اٹھوںیہ ہاتھ بھی بالکل ویسے ہیںیہ چہرہ بالکل ویسا ہےپر اس پر چھائی خاموشی کچھ ان دیکھیاور اس چہرے پر شام ذرا سی گہری ہےان شانوں کا پھیلاؤ تھوڑا کم ہےلیکن قامت بالکل ویسی ہےاور تم سے مل کر میرے دل کی حالت بالکل ویسی ہے
کیا وہ بھیکبھی تھاہاں وہ تھاایک چھوٹا سا بیجایک دنزمین سے باہر آیاپل پل بڑھتا رہاپل پل ترستا رہارہائی کے لیےلیکنرہائی ہر کسی کو نہیں ملتیوہ ایک ہی جگہکھڑا ہوابڑھتا ہی چلا گیاکیا اس نے پھل دیے؟نہیںلیکن وہپھل دینے کے قابل بن گیاایک دنبہت زور کا طوفان آیاسب کچھ اکھاڑ کے لے گیاکیا اسے بھی؟ہاں اسے بھی...کئی دن اداسی رہیآخرکتنے دنایک دن سب کچھپھر سے ویسا ہی ہو گیالیکناس درخت کی جگہکبھی نہ بھر سکیاس درخت جیساکوئی نہیں ہو سکتااس کے پھلوں کی تمناآج بھی کہیں دفن ہےاس کے سوکھے پتےآج بھیمیری یادوں میں اڑتے ہیںیاد ہےاس کا گرنا بھیاس کے کتنے خواب ہوں گےکتنی خواہشیں ہوں گیکچھ بننے کیتمنا تھیوہ بھی جینا چاہتا تھاوقت نےجینے نہیں دیا اسےکچھ بننے نہیں دیا اسےاس درخت کی چھاؤں میری تھیمیںایک پرندے کی صورتاسے تلاش کر رہی ہوںمیرا آشیانہاس درخت کی ایک ٹہنی پر تھا
''میرا جی کو ماننے والے کم ہیں لیکن ہم بھی ہیںفیضؔ کی بات بڑی ہے پھر بھی اب ویسا کون آئے گا''
نہ تھے شاعر ہی کچھ بڑے غالبدل لگی میں بھی خوب تھے غالبخوب ہنستے ہنساتے رہتے تھےبڑی پر لطف بات کہتے تھےعام ان کو پسند تھے بے حدیعنی رسیا تھے آم کے بے حدخود بھی بازار سے منگاتے تھےدوست بھی آم ان کو بھجواتےپھر بھی آموں سے جی نہ بھرتا تھاآم کا شوق ان کو اتنا تھاان کے قصے تمہیں سنائیں ہمان کی باتوں سے کچھ ہنسائیں ہمایک محفل میں وہ بھی بیٹھے تھےلوگ آموں کا ذکر کرتے تھےآم ایسا ہو آم ویسا ہوپوچھا غالب سے عام کیسا ہوبولے غالب کہ پوچھتے ہو اگرصرف دو خوبیوں پہ رکھیے نظربات پہلی یہ ہے کہ میٹھا ہودوسری بات یہ بہت سا ہوایک دن دوست ان کے گھر آئےآم غالب نے تھے بہت کھائےسامنے گھر کے تھے پڑے چھلکےاس گلی میں سے کچھ گدھے گزرےان گدھوں نے نہ چھلکے وہ کھائےسونگھ کر ان کو بڑھ گئے آگےدوست نے جب یہ ماجرا دیکھاسوچا غالب کو اب ہے سمجھانادوست بولے ہے شے بری سی آمدیکھو کھاتے نہیں گدھے بھی آمہنس کے غالب یہ دوست سے بولےجی ہاں بے شک گدھے نہیں کھاتےبادشہ کر رہے تھے سیر باغخوش تھا آموں سے ان کا قلب و دماغبادشہ کے تھے ساتھ غالب بھیڈالتے تھے نظر وہ للچائیجی میں یہ تھا کہ خوب کھائیں آمبادشہ سے جو آج پائیں عامگھورتے تھے جو غالب آموں کوبادشہ بولے گھورتے کیا ہوبادشہ سے یہ بولے وہ ہنس کرمہر ہوتی ہے دانے دانے پردیکھتا ہوں یوں گھور کر میں آمشاید ان پر لکھا ہو میرا ناممقصد ان کا جو بادشہ پائےپھر بہت آم ان کو بھجوائے
سب دن ایک جیسے نہیں ہوتےکل کا دن تو ایسا نہیں تھاجیسا آج کا ہےہر دن اپنی اپنی گپھا میںچھپاجب سویرے سویرےہم سے سامنا کرتا ہےتو کہتا ہےآج کا دن گزارو تو جانیںاور ہمکمر بستہ ہو جاتے ہیںآج کے دن کے گزارنے کووہ دن ہم گزار لیتے ہیںاور ہم اس گزرے ہوئےدن کوپیچھے پلٹ کر دیکھتے ہیںسورج کے ساتھڈوبتےاندھیرے میں منہ چھپاتےبہت ٹھونک کر آیا تھاخود کوجیسے ہمیں یہ دن گزارنے نہ دے گااور گڑگڑائیں گے ہماس کے سامنےاور اپنی گردن جو ہم ہمیشہاکڑی رکھتے ہیںاس کے سامنے جھکا دیں گےاور اپنی آنکھیںپھٹی پھٹی کر کے اس کے سامنے التجا کریں گےکہ آج کا دن ویسا ہی گزرےجیساایک دن گزارا تھاجیسے ہم کبھی نہیں بھولتےبھلے سےسارے دن ایسے ویسے گزرتے رہیںہم نہیں جھکائیں گے اپنیگردناور لگا دیں گے اس میںہمیشہ کے لیےکلفجو اس کے سامنے ہمیںجھکنے نہیں دے گابھلے وہ دن کتنا ہی برا گزرے
سب کچھ اتنا ہی تازہ ہےمیں نے شرٹ سنبھال کے رکھیوقت کو میں نے روک کے رکھاسب کچھ ویسے کا ویسا ہےلیکن جاناںیہ تو بتا توشرٹ کے کالر پر جو تیریکالی زلف کا بال ٹکا تھااس پر سفیدی کیسے آئی
ہمارا روز کا معمول تھا، سونے سے پہلےباتیں کرنے اور جھگڑنے کاگلے شکوے کہ جن میں اگلی پچھلیساری باتیں یاد کر کے روتے دھوتے تھےکبھی ہنستے بھی تھے تو صرف کچھ لمحےذرا سی دیر میں ویسا ہی جھگڑا اور وہی طعنےوہی سر پیٹنا، آنسو بہانا، چیخنا، رونایوں ہی روتے ہوئے خوابوں کے دوزخ میںبھٹکنا، اور سو جانا!گزشتہ شب بھی کچھ ایسی ہی حالت تھیمگر سونے سے پہلے وہ بہت ہی تلملایا تھاکہا تھا میں چلا جاؤں گا لیکن تمفقط آدھے ہی رہ جاؤ گے اک ٹوٹے کھلونے سے!مجھے غیظ و غضب نے جیسے پاگل کر دیا تھادفع ہو جاؤ! مرا تم سے کوئی رشتہ نہیں باقی
پریم جگت کے رہنے والو پریم سے رشتہ جوڑوہردے ہے پربھو کا ڈیرا اسے کبھی نہ توڑوالٹی گنگا بہتی ہے بہنے دو اس کو چھوڑواپنے جیون دھارا کو تم سیدھے رخ پر موڑوکرم کرے گا جو اچھا اچھائی پہ وہ مرے گااور برا کوئی جو کرے گا ویسا ہی وہ بھرے گاپن کیا ہے جو بھی کسی نے اس کو تو وہ ملے گاباغ میں اس کے جیون کے وہ بن کر پھول کھلے گاہندو مسلم سکھ عیسائی سب ہیں بھائی بھائیبھا نہیں سکتی کبھی کسی کو اک دوجے کی جدائیآج ہے رکشا بندھن کا دن ہے یہ کتنا سہانابھائی بہن کے پریم کا یہ دن سب کو سنائے فسانہشیلا نے ارشد کی لے لی جا کے ہاتھ میں کلائیپھر یہ بولی رکشا بندھن آج ہی ہے مرے بھائیپیار بھرا یہ ہاتھ جو رکھ دو سر پر آج ہمارےہر دکھ ہر غم دور ہو جائے خوشیاں آئے دوارےپیار ہی پوجا پیار عبادت پیار سے رشتہ جوڑوہر دکھ ہر غم دور ہو جائے خوشیاں آئے دوارےزینب بھی راہل کے ہاتھ میں باندھ کے بولی راکھیدکھ سنکٹ کے ساگر کی نیا کا تو ہے ماجھیپوتر پریم کا جگ میں دیکھو کیسا یہ اپہار ہےاسی پیار اور پریم سے بھیا سکھ مے یہ سنسار ہےکبھی کسی بھی بہن پہ بھیا سنکٹ آ نہیں پائےپھول نہ ہرگز کبھی کسی کی خوشیوں کے مرجھائےسیتا گیتا شبنم شاہیں میں ہے بھید نہ بھاؤچاروں کا ہے ایک چرتر اور سب کا ایک سبھاؤبوند لہو کی ایک رگوں میں تن بھی ایک سمانپریم پاٹھ پڑھایا سب نے گیتا ہو یا پرانہو ہر دن رکشا بندھن کا سب پریم کی جوت جلائیںپریم کی خوشبو سے مہکے گھر آنگن چاروں دشائیں
تمہیں یاد ہوگاتم نے مجھے پچھلے برس خط میں اپریل بھیجاجو مجھ تک پہنچتے پہنچتے اگست ہو گیالفظ پیلے پتوں کی طرحفرش پر بکھر گئےدسمبر کی سرد راتوں میںمیں وعدوں کے آتش دان پربیٹھی جاگتی رہیمیری رگوں میں جما ہوا دسمبرآنکھوں سے پگھل کربہتا رہتا ہےاس برس مجھےخط میں کچھ نہیں بھیجناکچھ بھی نہیںشاید اذیتوں سے بھریشاخوں پرکسی وعدے کی کونپلپھوٹ پڑےموسموں کا کیا ہے کب بدل جائیںبے اعتبار لہجوں کی طرحوقت سب کچھ الٹ پلٹ رہا ہےشاید تمہارے لوٹنے تکبہت کچھ ویسا نہ رہےجیسا تم چھوڑ گئے تھےلوہے کے جبڑےمٹی کے ملبوسکو تار تار کرتے جا رہے ہیںپل جہاں سے تم پارک کے کنارےکھڑے دکھائی دیتے تھےوہ منظر میٹرو بس نے نگل لیا ہےسنبل کے پیڑوں کی جگہ شاپنگ مال لے چکا ہےاور ہاںوہ پھولوں والی دکانجہاں سے ہم بکے لیتے تھےوہاں فاسٹ فوڈ بن گیادل کی جگہ انتڑیوں نے لے لی ہےکیا کچھ اور کیسے بدل جاتا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books