ارملا

تری پراری

ارملا

تری پراری

MORE BYتری پراری

    یہ راماین

    جو ہندستان کی رگ رگ میں شامل ہے

    جسے اک بالمیکی نام کے شاعر نے لکھا تھا

    بہت ہی خوب صورت ایک ایپک ہے

    فسانہ در فسانہ بات کوئی منجمد ہے

    اموشن قید ہیں لاکھوں طرح کے

    کئی کردار ہیں جو صاحب کردار لگتے ہیں

    مگر اک بات ہے

    جو مدتوں سے مجھ کو کھلتی ہے

    کہ افسانے میں

    سب کے درد و غم کا ذکر ملتا ہے

    مگر وہ ایک لڑکی

    پھول سے بھی سو گنا نازک

    جو سیتا کی بہن تھی

    اور جس کی مانگ میں سندور بھرتے وقت ہی

    شری رام کے بھائی لکھن نے

    آگ کی موجودگی میں یہ کہا تھا

    میں تم سے زندگی بھر عشق فرمایا کروں گا

    اور سائے کی طرح ہی ساتھ میں ہر دم رہوں گا

    جو لڑکی ایک پل میں

    سات جنموں کے لیے بیوی لکھن کی ہو گئی تھی

    وہی لڑکی

    جسے سب ارملا کہہ کر بلاتے تھے

    جو اپنے باپ کے سینے سے لگ کر وقت رخصت خوب روئی

    اس کے اشکوں سے

    فسانے کا کوئی حصہ کہیں بھیگا نہیں ہے

    اور اس کے درد کی کوئی نشانی تک نہیں ملتی

    مگر سچ ہے

    کہ راماین میں ویسا غم زدہ کردار کوئی بھی نہیں ملتا

    میں اس کردار سے خاصا متأثر ہوں

    کہ جب چودہ برس کے واسطے شری رام کو بن واس جانا تھا

    آمادہ تھے لکھن بھی بھائی کی سیوا میں جانے کو

    ذرا سا بھی نہیں سوچا

    کہ جس لڑکی سے پوری زندگی کا ربط جوڑا ہے

    کہ جس نے خوب صورت نین میں کچھ خواب بوئے ہیں

    اسے کس کے سہارے چھوڑ کر وہ جا رہے ہیں

    مگر وہ ارملا کو چھوڑ کر بھائی کے پیچھے چل پڑے

    کوئی تڑپتی آرزو سی

    ارملا کے ہونٹھ سے گر کر

    کئی ٹکڑوں میں نیچے فرش پر بکھری ہوئی تھی

    زور سے آواز ننھی پھڑپھڑائی

    اور زخمی ہو گیا تھا پیار کا وہ ایک دامن

    جو کبھی پھولوں کی خوشبو میں بھگویا تھا

    محض کانٹے ہی کانٹے ہر طرف تھے

    اک امارت بننے سے پہلے ہی ٹوٹی تھی

    تو یعنی ارملا چودہ برس تک

    خلوتوں کے موسموں سے روز لڑتی تھی

    سہیلی ساتھ تھی

    لیکن سبھی خوشیوں کو وہ اگنور کرتی تھی

    تمنائیں اگر بادل کی طرح گھرنے لگتی تھیں

    تمناؤں کی بارش میں نہانے سے وہ بچتی تھی

    چرا لیتی تھی وہ آنکھیں

    اگر غلطی سے کوئی آئنہ تعریف کر دیتا

    ہوائیں جسم میں اس کے اگر سہرن جگا دیتیں

    تو خود کو اپنی ہی بانہوں میں بھر کر

    خود سے یہ کہتی

    لکھن آئیں گے جلدی مان بھی جاؤ بہاروں

    اور سو جاؤ ستاروں تم

    کہ مجھ کو رات دن جگنے کی عادت ہو گئی ہے

    اور محبت کے لیے یہ عمر کی دولت پڑی ہے

    مگر جب خواہشوں کے باندھ اکثر ٹوٹتے ہوں گے

    تو پھر سیلاب میں

    کیا کیا نہ بہہ کر کھو گیا ہوگا

    ہزاروں ادھ کھلے ارمان بھی مرجھا گئے ہوں گے

    تبسم نے

    کسی پل ڈس لیا ہوگا لبوں کو گر

    تو سارا زہر موقع دیکھ کر

    اس کے بدن میں رقص کرتا پھر رہا ہوگا

    کبھی کوئل کی کالی کوک گر کانوں میں پہنچی ہو

    تو شریانوں میں بہتا خون سارا جم گیا ہوگا

    پرائے مرد کا کوئی تصور چھونے سے پہلے

    وہ لڑکی ڈر گئی ہوگی

    اچانک مر گئی ہوگی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY