aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "vera"
مجھے جمال بدن کا ہے اعتراف مگرمیں کیا کروں کہ ورائے بدن بھی دیکھتا ہوںیہ کائنات فقط ایک رخ نہیں رکھتیچمن بھی دیکھتا ہوں اور بن بھی دیکھتا ہوںمری نظر میں ہیں جب حسن کے تمام اندازمیں فن بھی دیکھتا ہوں فکر و فن بھی دیکھتا ہوںنکل گیا ہوں فریب نگاہ سے آگےمیں آسماں کو شکن در شکن بھی دیکھتا ہوںوہ آدمی کہ سبھی روئے جن کی میت پرمیں اس کو زیر کفن خندہ زن بھی دیکھتا ہوں
نغمہ در جاں رقص برپا خندہ بر لبدل تمناؤں کے بے پایاں الاؤ کے قریبدل مرے صحرا نورد پیر دلریگ کے دل شاد شہری ریگ تواور ریگ ہی تیری طلبریگ کی نکہت ترے پیکر میں تیری جاں میں ہےریگ صبح عید کے مانند زرتاب و جلیلریگ صدیوں کا جمالجشن آدم پر بچھڑ کر ملنے والوں کا وصالشوق کے لمحات کے مانند آزاد و عظیمریگ نغمہ زنکہ ذرے ریگ زاروں کی وہ پازیب قدیمجس پہ پڑ سکتا نہیں دست لئیمریگ صحرا زرگری کی ایک کی لہروں سے دورچشمۂ مکر و ریا شہروں سے دورریگ شب بیدار ہے سنتی ہے ہر جابر کی چاپریگ شب بیدار ہے نگراں ہے مانند نقیبدیکھتی ہے سایۂ آمر کی چاپریگ ہر عیار غارت گر کی موتریگ استبداد کے طغیاں کے شور و شر کی موتریگ جب اٹھتی ہے اڑ جاتی ہے ہر فاتح کی نیندریگ کے نیزوں سے زخمی سب شہنشاہوں کے خوابریگ اے صحرا کی ریگمجھ کو اپنے جاگتے ذروں کے خوابوں کینئی تعبیر دےریگ کے ذروں ابھرتی صبح تمآؤ صحرا کی حدوں تک آ گیا روز طربدل مرے صحرا نورد پیر دلآ چوم ریگہے خیالوں کے پری زادوں سے بھی معصوم ریگریگ رقصاں ماہ و سال نور تک رقصاں رہےاس کا ابریشم ملائم نرم خو خنداں رہےدل مرے صحرا نورد پیر دلیہ تمناؤں کا بے پایاں الاؤراہ گم کر دوں کی مشعل اس کے لب پر آؤ آؤتیرے ماضی کے خذف ریزوں سے جاگی ہے یہ آگآگ کی قرمز زباں پر انبساط نو کے راگدل مرے صحرا نورد پیر دلسرگرانی کی شب رفتہ سے جاگکچھ شرر آغوش صرصر میں ہیں گماور کچھ زینہ بہ زینہ شعلوں کے مینار پر چڑھتے ہوئےاور کچھ تہہ میں الاؤ کی ابھیمضطرب لیکن مذبذب طفل کمسن کی طرحآگ زینہ آگ رنگوں کا خزینہآگ ان لذات کا سر چشمہ ہےجس سے لیتا ہے غذا عشاق کے دل کا تپاکچوب خشک انگور اس کی مے ہے آگسرسراتی ہے رگوں میں عید کے دن کی طرحآگ کاہن یاد سے اتری ہوئی صدیوں کی یہ افسانہ خواںآنے والے قرنہا کی داستانیں لب پہ ہیںدل مرا صحرا نورد پیر دل سن کر جواںآگ آزادی کا دل شادی کا نامآگ پیدائش کا افزائش کا نامآگ کے پھولوں میں نسریں یاسمن سنبل شفیق و نسترنآگ آرائش کا زیبائش کا نامآگ وہ تقدیس دھل جاتے ہیں جس سے سب گناہآگ انسانوں کی پہلی سانس کے مانند اک ایسا کرمعمر کا اک طول بھی جس کا نہیں کافی جوابیہ تمناؤں کا بے پایاں الاؤ گر نہ ہواس لق و دق میں نکل آئیں کہیں سے بھیڑیےاس الاؤ کو سدا روشن رکھوریگ صحرا کو بشارت ہو کہ زندہ ہے الاؤبھیڑیوں کی چاپ تک آتی نہیںآگ سے صحرا کا رشتہ ہے قدیمآگ سے صحرا کے ٹیڑھے رینگنے والےگرہ آلود ژولیدہ درختجاگتے ہیں نغمہ در جاں رقص برپا خندہ بر لباور منا لیتے ہیں تنہائی میں جشن ماہتابان کی شاخیں غیر مرئی طبل کی آواز پر دیتی ہیں تالبیخ و بن سے آنے لگتی ہے خداوندی جلاجل کی صداآگ سے صحرا کا رشتہ ہے قدیمرہروؤں صحرا نوردوں کے لیے ہے رہنماکاروانوں کا سہارا بھی ہے آگاور صحراؤں کی تنہائی کو کم کرتی ہے آگآگ کے چاروں طرف پشمینہ و دستار میں لپٹے ہوئےافسانہ گوجیسے گرد چشم مژگاں کا ہجومان کے حیرت ناک دل کش تجربوں سےجب دمک اٹھتی ہے ریتذرہ ذرہ بجنے لگتا ہے مثال ساز جاںگوش بر آواز رہتے ہیں درختاور ہنس دیتے ہیں اپنی عارفانہ بے نیازی سے کبھییہ تمناؤں کا بے پایاں الاؤ گر نہ ہوریگ اپنی خلوت بے نور و خودبیں میں رہےاپنی یکتائی کی تحسیں میں رہےاس الاؤ کو سدا روشن رکھویہ تمناؤں کا بے پایاں الاؤ گر نہ ہوایشیا افریقہ پہنائی کا نامبے کار پہنائی کا نامیورپ اور امریکہ دارائی کا نامتکرار دارائی کا ناممیرا دل صحرا نورد پیر دلجاگ اٹھا ہے مشرق و مغرب کی ایسی یک دلیکے کاروانوں کا نیا رویا لیےیک دلی ایسی کہ ہوگی فہم انساں سے ورایک دلی ایسی کہ ہم سب کہہ اٹھیںاس قدر عجلت نہ کراژدہام گل نہ بنکہہ اٹھیں ہمتو غم کل تو نہ تھیاب لذت کل بھی نہ بنروز آسائش کی بے دردی نہ بنیک دلی بن ایسا سناٹا نہ بنجس میں تابستاں کی دوپہروں کیبے حاصل کسالت کے سوا کچھ بھی نہ ہواس جفا گر یک دلی کے کارواں یوں آئیں گےدست جادو گر سے جیسے پھوٹ نکلے ہوں طلسمعشق حاصل خیز سے یا زور پیدائی سے جیسے ناگہاںکھل گئے ہوں مشرق و مغرب کے جسمجسم صدیوں کے عقیمکارواں فرخندہ پے اور ان کا بارکیسہ کیسہ تخت جم اور تاج کےکوزہ کوزہ فرد کی سطوت کی مےجامہ جامہ روز و شب محنت کا خےنغمہ نغمہ حریت کی گرم لےسالکو فیروز بختو آنے والے قافلوشہر سے لوٹو گے تم تو پاؤ گےریت کے سرحد پہ جو روح ابد خوابیدہ تھیجاگ اٹھی ہے شکوہ ہائے نے سے وہریت کی تہہ میں جو شرمیلی سحر روئیدہ تھیجاگ اٹھی ہے حریت کی لے سے وہاتنی دوشیزہ تھی اتنی مرد نا دیدہ تھی صبحپوچھ سکتے تھے نہ اس کی عمر ہمدرد سے ہنستی نہ تھیذروں کی رعنائی پہ بھی ہنستی نہ تھیایک محجوبانہ بے خبری میں ہنس دیتی تھی صبحاب مناتی ہے وہ صحرا کا جلالجیسے عز و جل کے پاؤں کی یہی محراب ہوزیر محراب آ گئی ہو اس کو بے داری کی راتخود جناب عز و جل سے جیسے امید زفافسارے ناکردہ گناہ اس کے معافصبح صحرا شادباداے عروس عز و جل فرخندہ رو تابندہ کھوتو اک ایسے حجرۂ شب سے نکل کر آئی ہےدست قاتل نے بہایا تھا جہاں ہر سیج پرسینکڑوں تاروں کا رخشندہ لہو پھولوں کے پاسصبح صحرا سر مرے زانو پہ رکھ کر داستاںان تمنا کے شہیدوں کی نہ کہہان کی نیمہ رس امنگوں آرزوؤں کی نہ کہہجن سے ملنے کا کوئی امکاں نہیںشہد تیرا جن کو نش جاں نہیںآج بھی کچھ دور اس صحرا کے پاردیو کی دیوار کے نیچے نسیمروز و شب چلتی ہے مبہم خوف سے سہمی ہوئیجس طرح شہروں کی راہوں پر یتیمنغمہ بر لب تاکہ ان کی جاں کا سناٹا ہو دورآج بھی اس ریگ کے ذروں میں ہیںایسے ذرے آپ ہی اپنے غنیمآج بھی اس آگ کے شعلوں میں ہیںوہ شرر جو اس کی تہہ میں پر بریدہ رہ گئےمثل حرف ناشنیدہ رہ گئےصبح صحرا اے عروس عز و جلآ کہ ان کی داستاں دہرائیں ہمان کی عزت ان کی عظمت گائیں ہمصبح ریت اور آگ ہم سب کا جلالیک دلی کے کارواں ان کا جمالآؤاس تحلیل کے حلقے میں ہم مل جائیںآؤشاد باغ اپنی تمناؤں کا بے پایاں الاؤ
پتیاں کتنی بھی آئیں جائیںسوتنترتا دیوس کی ہاردک شبھ کامنائیںدیش کا کوئی بھی گلی کوچہ رہےترنگا ہمیشہ سب سے اونچا رہےترنگے میں کیسریا سفید ہرا رنگ ہیںترنگے کے رنگ ہمارے دیش کے انگ ہیںکیسریا سوریہ ہرا وکاس کا پرتیکسفید شانتی اور دھرم نربھیکتینوں سے مل کر ترنگا بنتا ہےسنتلن بنائے رکھنے کے لیے سرکار جنتا ہےبس ایک رنگ کو گر زیادہ مہتو دیں گےتو دیش کا سنتلن بگاڑ لیں گےجب جنتا سرکار ہی سنتلن بگاڑنے لگ جائےتو پھر دیش کو بس جے شری رام ہی بچائےسہی کو سہی غلط کو غلط کہنادیش بھکتی ذمہ داری کا ہے گہنایدی ہم انیتک کو انیتک نہ کہہ پائیںتو اس سے اچھا ہے کہ ہم گونگے ہو جائیںآئیے کوشش کریں کی ذمے دار بنیںآئیے کوشش کریں کی ایمان دار بنیںدیش زندہ باد ہی رہے گا گر ہم ذمے دار نہ بنیںدیش زندہ باد ہی رہے گا گر ہم ایمان دار نہ بنیںدیش زندہ باد ہی رہے گا گر ہم کچھ بھی نہ بنیںگر کچھ بھی نہ کر سکیں تو بس اتنا کریںہم مانوتا کے وردھ کبھی ہتھیار نہ بنیںوپتیاں کتنی بھی آئیں جائیںسوتنترتا دیوس کی ہاردک شبھ کامنائیں
ہے کوئی تو بات جو وہ آواز دبانے پہ آمادہ ہےلگا لے جتنا دم ہو اپنا بھی مضبوط ارادہ ہےکفایتی تعلیم و علاج کی حق دار ہے عوامرقم وہاں سے نکالے جن کے پاس ضرورت سے زیادہ ہےآگے چل کر یہی پڑھنے والے لوگ دیش کو آگے لے جائیں گےیہ کیا تہذیب کہ ضرورت مند کو کہتے ہو حرام زادہ ہےکرسی پہ بیٹھ کے خود کو وزیر سمجھ رہا ہے وہ بد گماںاس کو یہ بتا دو کہ وہ بساط کا بس ایک پیادہ ہے
کرشن اور رام کے اوتار دکھائیں گے تمہیںیوپی آؤ کبھی چمتکار دکھائیں گے تمہیںکبیر سور تلسی اور خسرو ہی نہیںبڑھ کر ایک سے ایک فن کار دکھائیں گے تمہیںجیسے بچھڑی ہوئی دو بہنے گلے ملتی ہوںگنگا جمنا کی پاون دھار دکھائیں گے تمہیںدلوں میں احساسوں کی نرم گرماہٹ لیےکرتے ہیں کیسے آدر ستکار دکھائیں گے تمہیں
اس جنت پر ہم نے اپنے تن من دھن کو وارا ہےہم کشمیری ہم کشمیری یہ کشمیر ہمارا ہے
نئے زمانہ کی تکنیکوں کے چکر میںکیا کیا بچھڑ گیا کچھ یاد ہے
آج کا ہندوستاندنیا کے جواں ملکوں میں سے ایک ہےنوجوانوں میں نوجوانجن میں سے زیادہ تر نوجوانبے روزگار ہیںآج کے بے روزگار نوجوانکل کے بے روزگار بوڑھے ہو جائیں گےکل ہندوستان دنیا کےسب سے بوڑھے ملکوں میں سے ایک ہوگابوڑھا بھی اور بے روزگار بھیاور بے حد غریب بے سہارا بھیوہ بوڑھے بے حد غریببے سہارا بے روزگارکل کے بوڑھے ہندوستان پربوجھ بن جائیں گے
دل کی کشمکش لفظوں میں نکال دیتا ہوںجسم کیا میں روح کے کپڑے اتار لیتا ہوںمیں نہیں جانتا قصیدہ قطعہ شعر و مصرع کیا ہےدل میں جو آتا ہے ورق پر اتار دیتا ہوں
کہو کون ہو تمازل سے کھڑے ہونگاہوں میں حیرت کے خیمے لگائےافق کے گھنے پانیوں کی طرفاپنا چہرہ اٹھائےکہو کون ہو تم بتاؤ بتاؤکہیں تم طلسم سماعت سے نا آشنا تو نہیں ہوکہیں تم وہ در تو نہیں ہوجو صدیوں کی دستک سے کھلتا نہیںیا قدیمی شکستہ سی محراب ہوجس میں کوئی چراغ رفاقت بھی جلتا نہیںدھند آلود کہنہ پہاڑوں میںاندر ہی اندر کو جاتا ہوا راستہ تو نہیں ہووہی رنگ ہوجس سے رنگ اور آمیز ہوتا نہیںبے نمو جھیل جس میں پرندہ کوئیاپنے پر تک بھگوتا نہیںکون ہو تم بتاؤ بتاؤکہیں ملبۂ وقت پرنیستی کے اندھیرے میں بیٹھے ہوئےروز اول سے اجڑے ہوئےبے سہارا مکیں تو نہیں ہوکہیں تم فلک سے پرےیا ورائے زمیں تو نہیں ہو!
جلے بجھے سے دیپ ہیں نظر کی رہ گزار میںذرا ذرا سی روشنی کہ جس میں خام عجلتیںبدن کے داغ سینچتیںجھکے جھکے مزاج پر تنی تنی سی الجھنیںدلیل سے ورا ہے ساری گفتگو کا سانحہذرا ذرا سی زندگی بڑا بڑا سا خوف ہےلبوں کے سرخ بام پر ملال رفتگاں نہیںفراستوں کا قحط ہےملامتوں کا عہد ہےہمیں فریب زندگی ذرا سا کام کیا پڑاہمارے دن گزر گئے
نور عرفاں اپنا حاصل اپنا حاصل تیرگییہ گریز زندگی ہے وہ جہاد زندگیرنج و راحت کی کشاکش سے ورا ہے زندگیاجتہاد علم و فن سے ماسوا ہے زندگیایک ان دیکھا بہاؤ ایک ان تھک سلسلہزندگی کے تجربے سے ماورا ہے زندگیایک ہجر بے اماں ہے ایک کوہ آتشیںسوز جاں ہے کیا شعور زیست کیا نا آگہی
خود دودمان قبلۂ عالم کریں خیالدل میں بہت دنوں سے ہے کانٹا چبھا ہوااس خانداں کے ایک رنگیلے پیا کے گھرفرزند ارجمند کے ختنہ پہ کیا ہواچشمے ابل رہے تھے سرور و نشاط کےتھا چاوڑی کا نقشۂ عریاں کھنچا ہوااس محفل نشاط کے نرغے میں وہ بھی تھےچہرے پہ جن کے زہد و ورع تھا لکھا ہواقوال گا رہے تھے خضوع و خشوع سےرندان بوالہوس میں تھا غوغا مچا ہوابادہ گسار کھول کے بیٹھے تھے بوتلیںتھا رنڈیوں کے سامنے حقہ دھرا ہوانعت نبی پہ عصمت آوارہ نکتہ چیںخوف خدا تھا زہرہ وشوں میں گھرا ہوادولت کے ڈھیر زاہدہؔ پروین پہ نثاردہقان خستہ حال کا چولہا بجھا ہواتھے خادموں کے پیٹ پہ پتھر بندھے ہوئےاور کنچنوں پہ باب سخاوت کھلا ہواشورشؔ اس ایک منظر زہرہ گداز میںدست دعا تھا عرش کی جانب اٹھا ہوااس حشر نو میں قبلۂ عالم کہاں تھے آپدیکھا تو ہوگا آپ نے جو ماجرا ہوا
مری اطراف میں بکھرے ہوئے روشن جبیں لفظومجھے ڈھونڈوعجب آشوب ہےمیرے قلم میں روشنائی سوکھتی جاتی ہےاور سوچیں نئی اشکال میں ڈھلنے سے قاصر ہیںجو سوچوں لکھ نہیں پاتاجو لکھوں وہ کلیشے ہےمروج استعاروں اور تشبیہوں کی اترن سےمری نظموں کے پیراہن نہیں بنتےتعفن سے بھرے پیرایۂ اظہار سےابلاغ کا سینہ نہیں کھلتامیں لکھنے بیٹھتا ہوںتو مرے ہاتھوں کی لرزش ساتھ ہوتی ہےاگر کچھ بولنا چاہوںتو لکنت روک لیتی ہےکسی وجدان کی صورتکسی الہام کی صورتدر ابہام کو کھولومرے افکار کا کشکولاپنی جگمگاتی روشنی سے اس طرح بھر دوکہ میرے ذہن کے آنگن میںپورے چاند کی رونق اتر آئےجو اب تک ما ورائے صوت ہےاس کو عیاں کر دومجھے معجز بیاں کر دو
عجب رات ہے حد نگاہ تک ہر سواتھاہ زہر بھری چاندنی کی جھیل سی ہےورائے مد نظر کہر ہے تخیل کیورائے حد تخیل سیہ فصیل سی ہےسماں ہے ہو کا سڑک ہے سڑک کے دونو طرفقطار تا بہ افق ہے گھنے درختوں کیہوا سنکتی ہے تو چونک چونک پڑتی ہیںہر ایک پیڑ میں روحیں سی تیرہ بختوں کیکچھ ایسے گھور کے بس گھولتے ہیں سناٹےہوا کے زور سے جب ٹہنیاں الجھتی ہیںدھوئیں سے رینگتے ہیں تہ بہ تہ خیالوں میںسکوت چیختا ہے سیٹیاں سی بجتی ہیںنظر اٹھاتا ہوں تو زاویے نگاہوں میںاٹھا کے دھول سرابوں کی جھونک دیتے ہیںقدم بڑھاتا ہوں تو اژدہے ہیولوں کےپھنوں کے تیر کف پا میں ٹھونک دیتے ہیںجو سانس لیتا ہوں تو سانس سانس کی لو پرتفکرات کی آندھی سی چلنے لگتی ہےجو سوچتا ہوں تو احساس کے محلکوں تکسیاہیوں کی غلاظت اچھلنے لگتی ہےدل و نگاہ پہ کتنی مہیب تیزی سےکچھ الجھنوں کے سیہ ناگ رینگ آئے ہیںقدم قدم پہ ہے کتنی عمیق فکر کی لوقدم قدم پہ مری رہ میں کتنے سائے ہیں
کبھی محبت پہ نظم ہو تومجھے بھی لکھناتم اپنی آنکھوں کے راستے پہپلک کنارےکوئی بھی جگنو سا خواب دیکھو کتاب دیکھواور اس میں کچھ اجلے اجلے لوگوں کے باب دیکھوتو جان لینا یہ میں نہیں ہوںمجھے گزرنا ہے باب ہونے کتاب ہونے کے مرحلوں سےتم اپنی پوروں مجھے ٹٹولو تو باب ٹھہروںپہاڑیوں کے بلند زینوں سے چاند تکتےجو مجھ کو سوچو تو خواب ٹھہروںسماعتوں سے ورا جو الفاظ ہیں سبھی کوتم اپنے ہاتھوں سے میرے ہاتھوں پہ گر لکھو تو کتاب ٹھہروںمحبتوں کا نصاب ٹھہروںکبھی محبت پہ نظم ہو تومجھے بھی لکھناکبھی محبت پہ نظم ہو تومجھے بھی لکھنا
شگن بھری خواب سے جڑی ہےزمانہ رفتار سے بندھا ہےزمانے کو آپ زید کہہ لیںبکر کو سمجھیںمجھے سمجھ لیں یا خود کو کہہ لیںزمانہ رفتار سے بندھا ہےشگن بھری کا وہ خواب وہ آفتاب روشن ہےجوافق کے محیط کو روندتا نکلتا ہےشب کے اسفنج سے سیاہی نچوڑتا ہےوہ نیند اور نیند کے اندھیروں کی کوکھ کو توڑتا ہےوہوقت کی یخ آلودہ جھیل کو چھیدتا ہےتو سانئے ابلتے ہیںجیسے جیسے شگن بھری کی بخار والی سفید آنکھوں سے جیسے موتی ٹپک رہے ہوںزمانہ رفتار سے بندھا ہےوہ تیز رفتار جے جے ونتی کی راگنی کی دھنوں پہ رقصاں ہےموت سے بے خبر زمیں کی نہایتوں سے ورا نکلتاوہ اپنی رفتار سے بندھا ہےیہ کیسی سمتیں ہیں جو کہیں بھی نہیں نکلتیںیہ کیسا طوفاں ہے جو مسلسل ہےزندگانی مہا بھنور ہےزمانہ بے جان ایک تنکا
کوئی ایسی صدا بھی ہےسماعت سے ورا ہے جو
یہ ایک ساعت کا رنگ جس میں سرور بھی ہے وقوف بھی ہےیہی فراز ابد کے رستوں کا راز داں ہےیہ رنگ آنکھوں کو خیرہ کر دے تو کون دیکھےورائے حد نگاہ کیا ہے
سورج چاند ستارےفضا کی قوس میں ٹنگےہرے موتی جواہر پنےآسمانوں کی لا محدود خلا میں چمکتی دمکتی دیوتاؤں کی مہربان نوری آنکھیںوہیں کہیںانہیں کے مابین ہےمیرا گھرمیرے ابا کی حویلیجس کے آنگن کے خاموش بے آواز نغمےزینہ زینہ اتر آئے دھرتی پر اورآ جمےمیرے دل کو خالی اور ویراں پا کر اورگہری اٹوٹ سمادھی میں رم کر یگوں وہیں بیٹھے رہےمیری آنکھوں کا نور و سرورمیرے کانوں کا سنگیتمیرے ہونٹوں پر مچلتی دھنیںانہیں کی توسیع ہیںمسرت کے نشے میںمہک مہک اٹھتے ہیں میرے قلب و جگر اورچہک چہک کر گنگناتے ہیںاپنے آبائی گیتجو مفہوم سے ماورا ہیںجن میں دھن تو ہےشبد نہیںان گونگے نغموں کا جادوکھول دیتا ہے وہ دیارجن کے پیچھے چھپا میرا محبوبتب سے میرا منتظر ہےجب سے میں اس سے روٹھ کر زندگی کی تلاش بے جا میں اس دھرتی پر چلا آیا تھاپھر کسی دنکسی ایک مبارک ساعت میں جو اس نے پہلے ہی سے نردھارت کر رکھی ہےجنم جنمانتر کی اس کی سمادھی ٹوٹتی ہے اور وہ آنکھیں کھولتا ہےمسکرا کر میری آنکھوں میں جھانکتا ہےپہچان لیا نہ ہم نے تجھے بھگوڑےچل اب گھر چلیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books