aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "vig"
بیٹھی ہوئی ہے آج وہ بالوں کی وگ اتار کرگویا شراب پھینک کر میز پہ جام رکھ دیا
مرا جال خالیمگر دل مسرت کے احساس سے بھر گیاتم اسی بانکپن سےاسی طرحگنجی پہاڑی پراپنی ہری وگ لگائے کھڑے ہویہ ہیئت کذائی جو بھائیتو نزدیک سے دیکھنے آ گیا ہوں
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
ہیں کہتے نانک شاہ جنہیں وہ پورے ہیں آگاہ گرووہ کامل رہبر جگ میں ہیں یوں روشن جیسے ناہ گرومقصود مراد امید سبھی بر لاتے ہیں دل خواہ گرونت لطف و کرم سے کرتے ہیں ہم لوگوں کا نرباہ گرواس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گروسب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گروہر آن دلوں وچ یاں اپنے جو دھیان گرو کا دھرتے ہیںاور سیوک ہو کر ان کے ہی ہر صورت بیچ کہاتے ہیںگرد اپنی لطف و عنایت سے سکھ چین انہیں دکھلاتے ہیںخوش رکھتے ہیں ہر حال انہیں سب من کا کاج بناتے ہیںاس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گروسب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرودن رات جنہوں نے یاں دل وچ ہے یاد گرو سے کام لیاسب من کے مقصد بھر پائے خوش وقتی کا ہنگام لیادکھ درد میں اپنے دھیان لگا جس وقت گرو کا نام لیاپل بیچ گرو نے آن انہیں خوش حال کیا اور تھام لیااس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گروسب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گروالطاف جنہوں پر ہیں ان کے سو خوبی حاصل ہے ان کوہر آن نظیرؔ اب یاں تم بھی تو بابا نانک شاہ کہواس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گروسب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو
خطیب اعظم عرب کا نغمہ عجم کی لے میں سنا رہا ہےسر چمن چہچہا رہا ہے سر وغا مسکرا رہا ہےحدیث سرو و سمن نچھاور زبان شمشیر اس پہ قرباںمسیلمہ ایسے جعل سازوں کی بیخ و بنیاد ڈھا رہا ہےقرون اولی کی رزم گاہوں سے مرتضیٰ کا جلال لے کردبیز نیندیں جھنجھوڑتا ہے مجاہدوں کو جگا رہا ہےہیں اس کی للکار سے ہراساں محمد مصطفی کے باغیوفا کے جھنڈے گڑے ہوئے ہیں غنیم پر دندنا رہا ہےمیں اس کے چہرے کی مسکراہٹ سے ایسا محسوس کر رہا ہوںکہ جیسے کوثر پہ شام ہوتے کوئی دیا جھلملا رہا ہےوہ مرد درویش جس کو حق نے دئیے ہیں انداز خسروانہاسی کی صورت کو تک رہا ہے سفر سے لوٹا ہوا زمانہ
جیون بھی جیامیتی کی طرحپورک اور انوپورک کونوں سے ہوتا ہے سنچالتکچھ پکڑتے ہیں تو چھوٹ جاتا ہے بہت کچھکچھ چھوٹتا ہے تو مل جاتا ہے کچھاپنے حصے کا مان ہی نہیں ملتایہاں پانا ہوتا ہے اپمان بھیجو کھاتا ہے کٹہل کا کوآاسے ہی پچانا ہوتا ہے بیج اور موسل بھیکیول دیوتاؤں کے حصے آئےوش کا پان کرتے ہیں شیومنشیہ کو خود ہی پینا ہوتا ہےاپنے حصے کا وش
پرچم سر میدان وغا کھول رہا ہےمنصور کے پردے میں خدا بول رہا ہےکیا سیل بغاوت ہے مریدوں کی صفوں میںپیران تہی دست کا دل ڈول رہا ہےاے وائے صبا عقرب جرارہ چمن میںصرصر کے اشارات پہ بس گھول رہا ہےافرنگ کے دیرینہ غلاموں کی رضا پرخود پیر حرم بند قبا کھول رہا ہےکچھ بات ہی ایسی ہے کہ پیمانۂ زر میںاک رند تنک ظرف لہو تول رہا ہےبزغالۂ افرنگ شغالوں کے جلو میںکس ٹھاٹھ سے ضرغام صفت بول رہا ہےتاریخ کے ویرانۂ آباد میں شورشؔکچھ قیمتی موتی ہیں قلم رول رہا ہے
بھوک عفریت ہےوحشت ہے بڑی آفت ہےبھوک خمیازۂ جان و تن ہےبے پر و بال کیا کرتی ہےوقت کی تال کو بے تال کیا کرتی ہےبھوک اعصاب شکستہ کی کھلی بیعت ہےیہ خد و خال کچل دیتی ہےتہذیب کے ریشوں کو مسل دیتی ہےاور سرمایہ پرستی کے سنہرے ایامگرد رخسار شب و روز پہ مل جاتے ہیںسینۂ خاک کو دہلاتا ہوا صور فلکمطمئن خاک نشینوں کے لیےروز ہی روز وغا لاتا ہےاور شب و روز مہ و سال میں ڈھل جاتے ہیں
اے دل میرے پاگل جوگیمٹھی بھر اک بار تو جی لےجیون وش دو گھونٹ تو پی لےمن چنری کانٹوں سے سی لےاے دل میرے پاگل جوگیمت بن روگیآخری صبح کبھی تو ہوگی
ایشور کی ہتیا کرنے کے بعدایک بے کوہان لنگڑے اونٹ پرہر اجالا اور اندھیرا پھاندتاسور منڈل کے مروستھل میںہراساں بھاگتا ہوںمیرے پیچھے آنے والاچیختے چنگھاڑتے بچھڑے گجوں کا غولمجھ کوزد سے باہر دیکھواپس جا رہا ہےاور مقتول ایشور کیآتما کیوش بجھی کچھ سوئیاں سیروم چھدروں میں مسلسل چبھ رہی ہیںاور سارے جسم میںخوف گھلتا جا رہا ہے
ناگ ودیا کا سارا گیان لیےہم کمال ہنر کے مالک تھےلیکن اک دن عجیب بات ہوئیایک وش کنیا پیار سے آ کریوں گلے لگ گئی کہ سارا گیانبس کو امرت میں زہر کو تریاقمیں بدلنے کا علم سب منتربھول بیٹھے کہ اس کے ہونٹوں کازہر آب حیات تھا اور ہملاکھ جنموں کی پیاس رکھتے تھے
میں میرا نہیںپھر بھی وش کا پیالہمیں نے پیاتمہارے لیےمیرا کو ملے کانہااور ان کی لیلامجھے کیا ملا
پوچھ بیٹھا پوچھنے والا کہ کیا ہے زندگیشوخئ گل نے کہا باد صبا ہے زندگیایک تتلی نے کہا حسن و ادا ہے زندگیمست و بے خود ہنس کے بولا میکدہ ہے زندگیحسن کا شیدا کہے گل کی ادا ہے زندگیایک دلہن نے کہا رنگ حنا ہے زندگیایک عاشق نے کہا اک دل ربا ہے زندگیاک مفکر نے کہا قائم سدا ہے زندگیایک شاعر نے کہا سوز نوا ہے زندگیایک برہن رو کے بولی بے وفا ہے زندگیایک اہل فن کہے آب بقا ہے زندگیایک مومن نے کہا قرب خدا ہے زندگیایک جابر نے کہا جور و جفا ہے زندگیطالب ثروت کہے پیسہ ٹکا ہے زندگیایک بھوکے نے کہا وافر غذا ہے زندگیاک مجاہد نے کہا ناز وغا ہے زندگیقول خود سر تھا کہ طاقت کا نشہ ہے زندگیاک قریب المرگ بولا خواب سا ہے زندگیسب کی سن کر فیصلہ اس نے دیا ہے زندگیروبرو جس کے جو رخ آیا لگا ہے زندگیرنج و راحت میں سبھی کی کٹ تو جاتی ہے مگرجو جیا ہر حال میں خوش وہ جیا ہے زندگی
پہلی آواز غصیلی گرجتیدیکھیو مت کھولیو اس وش بھرے موذی کا منہدیکھیو ان راستوں میں جل بجھے گی روشنیآسماں کے جسم اودے جسم سے رسنے لگے گی پیپ بھیدوسری آواز ڈرتے ہوئے سرگوشیاس کی دھڑکن ہی سے چلتی ہے زماں کی نبضپہلی آواز غصیلی گرجتیاور تیری زباں چپزمہریری سانس اس کی عصر یخبندان لے آئے گی گیتی پرمت کھولیومت کھولیودیکھنے کو میرا سینہ ہے دراصل اس کی کچھارجس کی ڈھلوانوں کے دلدل لوتھڑے ہیں خون کےجس پہ اگ آئیں ہیں خود رو جھاڑیاں کچھ سانس کیگھات میں آ جائے گا اس پریت کےباگھ کے سر سانپ کے دھڑ والا یہ عفریتکھوب دے گا دانت گردن میں تریدیکھیو مت کھولیومت کھولیو اس وش بھرے موذی کا منہاژدر کا منہاجگر کا منہافعی کا منہاس وش بھرے موذی کا منہیہ رگیںدور تک پھیلی ہوئیبرزخ تلک پھیلی ہوئی جڑگڑ نہ جائیں تجھ میں بھییہ سرخ سانپ اس کینہ ور کی دم ہیںکھا سکتی ہیں سب دنیا کا سبزدیکھیو یہ بھوت آدم خور ہےسانس لیتا ہر منش کھا جائے گامت کھولیومت کھولیو اس وش بھرے موذی کا منہاس خبیث آزاردہ کو مرنے دےاس جھڑوس ایذا رساں کو مرنے دےاس کے مر جانے میں انساں کا بھلااس کے مر جانے میں یزداں کا بھلا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books