بدلاؤ
بیٹی کی روشن خیالی کو نظر انداز کرتے ہوئے انہوں نے اس کی شادی کی بات طے کر دی تھی۔ بیٹی نے بھی خاندانی وقار کو دیکھتے ہوئے رشتہ قبول کرلیا تھا۔ ابو نے بچپن میں اسے پلکوں کے جھولے جھلائے تھے ، ہر وقت نگاہوں کے سامنے رکھا تھا۔ تعلیم و تربیت میں کوئی کثر نہ چھوڑی تھی۔ ان کی شفقت اور محبت نے اس کی ہر چھوٹی بڑی پریشانیوں اور اداسیوں پر تسکین کا چھایا رکھا تھا۔ امی نے بڑے ناز و انداز کے ساتھ اس کی پرور ش و پرداخت کی تھی۔ اس کے جسم و جاں میں ان کی محبت اور مامتا کی خوشبو پنہاں تھی۔ انہوں نے شجر سایہ دار کی طرح اسے تند و تیز لو کے تھپیڑوں سے بچایا تھا۔ ان کی مرضی کے خلاف وہ کیسے چلتی۔ اس نے اونچی تعلیم حاصل کی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ عورتیں جب تک تعلیم یافتہ نہ ہوں گی ، سماج میں ان کی عزت اور ان کا وقار بلند نہ ہوگا۔ اس نے سوچا تھا کہ اگر اس کا شوہر اس کے ارادے کو تکمیل تک پہنچانے میں رکاوٹ بنے گا تو وہ اسے سمجھالے گی۔ نئے زمانے اور نئے حالات کی روشنی سے اسے روشناس کراکر اپنا ہم خیال بنالے گی۔
شادی کے بعد دن ہنسی خوشی کے ساتھ گزرتے رہے۔ شوہر کی محبت اور رفاقت سے حوصلہ پاکر ایک دن اس نے دبے دبے لفظوں میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تو وہ چراغ پا ہوگیا۔
’’عورتیں گھر ہی میں اچھی لگتی ہیں۔ اچھی اور شریف عورتوں کا گھر سے باہر نکلنا اور نوکری کرنا اچھا نہیں لگتا۔ چاہے وہ کام جیسا بھی ہو۔‘‘
اس نے سمجھایا تھا کہ زندگی کے ہر شعبے میں عورتیں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اب حالات بدل چکے ہیں۔ عورتیں مردوں کے سانہ بشانہ چل رہی ہیں اور ملک و قوم کا وقار بلند کر رہی ہیں لیکن شوہر پر انی قدروں کا دلدادہ تھا۔ وہ پرانی قدروں اور پرانے خیالات کو گلے لگائے رکھنا چاہتا تھا۔ اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ وہ جذباتی ہوکر بہت کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن ممی کی وہ باتیں دل و دماغ میں دوڑنے لگیں۔
’’بیٹی، اب تم سسرال ہی کو اپنا گھر سمجھنا، آج کے بعد تمہارا گھر وہی ہے، وہیں تمہیں ایک نئی دنیا بسانی ہے۔ تم ہمارے یہاں ایک امانت تھیں۔ اب تمہاری ہر خوشی اور ہر غم کا خیال رکھنے والے تمہارے سسرال والے ہیں۔ اب تمہیں انہیں ہی اپنا سب کچھ سمجھنا ہے۔ انہیں شکایت کا کوئی موقع نہ دینا۔‘‘
پھر ابو جو اس ہر ساعت، ہر پل کی دیکھ بھال کرنے والے، ا س کے ہر لمحے کے نگہبان تھے ، کی وہ آوازیں ذہن و احساس میں گھومنے لگیں۔
’’بیٹی پرایا دھن ہوتی ہے۔ ایک دن اسے والدین کے گھر کو چھوڑ کر سفر پر جانا پڑتا ہے۔ جائو تم بھی ایک نئی دنیا آباد کرو۔ عورت کے لیے اس کاشوہر ہی اس کا مزاجی خدا ہوتا ہے۔‘‘
پھر شادی کا منظر اس کی نگاہوں کے سامنے گھومنے لگا۔
رخصتی کے پہلے محلہ کی بہت سی عورتوں اور سہیلیوں نے شادی کی مبارکباد دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا تھا۔ خوش آئند مستقبل کی دعائیں دی تھیں۔ رخصتی کے وقت امی نے سسکیوں کے درمیان کہا تھا کہ سسرال ہی کو اپنا گھر سمجھنا۔ وہیں تمہیں اپنی ایک نئی دنیا آباد کرنی ہے۔ امی ا س کی تمنائوں کی اپنی اور خواہشات کی رازدار تھیں۔ ابو نے ڈولی میں بیٹھی ہوئی اپنی بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے خوش رہنے کی دعائیں دی تھیں۔ میرے ہر لمحے کے نگہبان ابو بولتے بولتے رک گئے تھے۔ نہ معلوم کیا احسا س تھا کم مائیگی کا ، زندگی کے ادھورے پن کا۔ ان سے زیادہ کچھ بولا نہ گیا تھا۔ آنسو پوچھتے ہوئے جیسے بے بس ہوکر وہ ایک طرف کھڑے ہوگئے تھے۔ خود اس کا روتے روتے برا حال ہوگیا تھا۔ اس کی حنائی ہتھیلیاں آنسوئوں کے سمندر کو نہ روک سکی تھیں۔ کوئی دلاسہ آنسوئوں کے سیلاب کو نہ باندھ سکا تھا۔ دامن بھیگ گیا تھا۔ زندگی کے ایک نئے سفر کے نام پر ماں باپ کے حکم اور اس کی رضا پر وہ ڈولی میں سوار ہوگئی تھی اور اپنے ساتھ اپنے ماں باپ کو بھی اداسیوں اور مایوسیوں کے گھنے جنگل میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ آئی تھی۔
یکایک اس کے خیالوں کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ اس نے حالات سے سمجھوتہ کرلیا۔ مشرقی عورتیں کتنی ہی روشن خیال اور پڑھی لکھی کیوں نہ ہو ں انہیں ذرا سا کھرچا جائے تو قدامت پرستی کی پرت نکل آتی ہے۔
وقت آہستہ آہستہ گزرتا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کے گھر کی معاشی ور اقتصادی حالت کمزور ہوتی گئی۔ اس کے شوہر کے آبا و اجداد اور اچھی خاصی زمین و جائیداد کے مالک تھے۔ ان کی بہتر معاشی زندگی کے تذکرے دور دور تک تھے لیکن حالات کی تبدیلی نے رفتہ رفتہ انہیں کمزور کر دیا تھا۔ زندگی کی راہیں تاریک ہوتی جارہی تھیں۔ قرب و جوار کا ہر آدمی اس کے خاندان والوں کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھتا تھا۔ اس نے بھی اپنے خاندانی وقار اور خاندانی رعب دبدیہ کو قائم رکھنا چاہا تھا لیکن اب تو حالات بالکل بدل گئے تھے۔ معاشی حالت کمزور ہوجانے کی وجہ سے اس کی عزت احترام میں بہت حد تک کمی آگئی تھی۔ ایک ننھا منا ا س کا بچہ جو اسے دیکھ کر کلکاریاں مارنے لگتا۔ اس کی بہتر پرورش و پرداخت ، علاج و معالجہ اور پڑھائی لکھائی کا مسئلہ سوالیہ نشان بن کر اس کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ اپنے ماضی اور حال کا موازنہ کرتا تو پسینے میں شرابو ر ہوجاتا تھا۔
بہتر مستقبل کی امید لگائے ایک دن وہ شادی کی ایک تقریب میں شرکت کرنے اپنے میکہ گئی۔ وہاں رشتے داروں اور ساتھیوں کے چہروں پر مسرت و شادمانی کی چمک دیکھ کر اپنے چہروں پر بھی طمانیت اور ہونٹوں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کی لیکن ظاہر و باطن کا فرق کب مٹتا ہے۔ تہی دامنی بھی کیا چیز ہے ہر طرف سے سورج کی کرن بن کر جھانکنے لگتی ہے۔ رشتے داروں اور ساتھیوں کو صورت حال سمجھنے میں دیر نہ لگی۔ انہوں نے تعلیمی اداروں اور دوسرے کئی شعبوں میں خواتین کے لیے پچاس فی صد نششتیں ریزو ہونے کی بات بتاتے ہوئے اسے وقت سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیا۔ شوہر کی باتیں اس کے ذہن میں گھوم گئیں لیکن نہ معلوم کس جذبے کے تحت اس نے ملازمت کے لیے فارم بھر دیا۔ بی ایڈ اور سی ٹیٹ تو وہ کب کا کر چکی تھی۔ بس بی پی ایس سی کے ذریعہ امتحان لیاجانا تھا۔
میکہ سے واپس آکر اس نے شوہر کو صورت حال سے آگاہ کر دیا۔ نہ جانے کس طرح اس کے اندر اتنا حوصلہ پیدا ہوگیا تھا، کہاں سے اتنی طاقت آگئی تھی۔ شاید رشتے داروں اور ساتھیوں کے مشورے پر اور حالات کے تقاضوں نے اس کے اندر کیمیائی کھاد کی طرح اند ر ہی اندر زرخیزی عطا کر دی تھی۔ ایک نئی توانائی کے ساتھ ایک نیا بدلائو پیدا کردیا تھا۔
بیوی کی بات سن کر شوہر کچھ تذبذب میں مبتلا ہوگیا۔
’’علم نبیوں کا ورثہ رہا ہے۔ جن لوگوں نے اسے اپنایا انہوں نے بلند مقام حاصل کیا۔ اب تو وقت اور حالات بھی بدل گئے ہیں۔ زندگی کے ہر شعبے میں عورتیں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ حکومت نے کئی شعبوں میں خواتین کے لیے پچاس فی صد نششتیں محفوظ کر دی ہیں۔‘‘
اس خیال کے آتے ہی شوہر کو ایسا محسوس ہوا جیسے اس کی نشیب و فراز بھری راہیں ہموار ہوگئی ہوں۔ تپتی ریتیلی زمین میں ہرے بھرے پودے اگ آئے ہوں۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔ شوہر کی مسکراہٹ دیکھ کر وہ بھی مسکرانے لگی۔ ماں باپ کو خوش دیکھ کر ننھا منا بچہ بھی کلکاریاں مارنے لگا۔ علم کے چراغ نے روشنی پھیلا دی تھی اور اس روشنی میں سارا گھر جگمگا اٹھا تھا۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.