بدگمانی پر شاعری

محبوب کی ایک صفت بد گماں ہو جانا بھی ہے ۔ وہ عاشق کو آزار پہنچانے کا کوئی طریقہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور ایسی باتوں پر بدگماں ہوجاتا ہے جو بظاہر بدگماں ہونے کی بھی نہیں ہوتیں اور تعلق ختم کرلیتا ہے ۔ اس قسم کے تجربے ہمارے آپ کے روزمرہ کے تجربے ہیں لیکن ہم اور آپ صرف اپنے اپنے تجربوں کو جیتے ہیں ۔ بدگمانی ،اس کی مختلف صورتوں اور کیفیتوں کو موضوع بنانے والی شاعری کا یہ انتخاب پڑھئے اور تجربوں کی کثرت کا لطف اٹھائیے ۔

عرض احوال کو گلا سمجھے

کیا کہا میں نے آپ کیا سمجھے

داغؔ دہلوی

بد گمانی کو بڑھا کر تم نے یہ کیا کر دیا

خود بھی تنہا ہو گئے مجھ کو بھی تنہا کر دیا

نذیر بنارسی

اک غلط فہمی نے دل کا آئنہ دھندلا دیا

اک غلط فہمی سے برسوں کی شناسائی گئی

one misunderstanding fogged the mirror of the heart

one misunderstanding rent lifelong friends apart

شہباز ندیم ضیائی

ساز الفت چھڑ رہا ہے آنسوؤں کے ساز پر

مسکرائے ہم تو ان کو بد گمانی ہو گئی

جگر مراد آبادی

متعلقہ موضوعات