ADVERTISEMENT

افسانے پربربریت

آمنہ

سعادت حسن منٹو

یہ افسانہ دولت کی ہوس میں رشتوں کی ناقدری اور انسانیت سے عاری حرکات کر گزرنے والے افراد کے انجام کو پیش کرتا ہے۔ دولت کی حریص سوتیلی ماں کے ستائے ہوئے چندو اور بندو کو جب قسمت نوازتی ہے تو وہ دونوں بھی اپنے مشکل دن بھول کر رشتوں کے تقدس کو مجروح کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ چندو اپنے بھائی بندو کے بہکاوے میں آکر اپنی بیوی اور بچے کو صرف دولت کی ہوس میں چھوڑ دیتا ہے۔ جب دولت ختم ہو جاتی ہے اور نشہ اترتا ہے تو وہ اپنی بیوی کے پاس واپس جاتا ہے۔ اس کا بیٹا اسے اسی دریا کے پاس لے جاتا ہے جہاں چندو کی سوتیلی ماں نے ڈوبنے کے لیے ان دونوں بھائیوں کو چھوڑا تھا اور بتاتا ہے کہ یہاں پر ہے میری ماں۔۔۔ 

ٹیٹوال کا کتا

سعادت حسن منٹو

کہانی میں بنیادی طور سے مذہبی منافرت اور ہندوستانی و پاکستانی افراد کے مابین تعصب کی عکاسی ہے۔ کتا جو کہ ایک بے جان جانور ہے ہندوستانی فوج کے سپاہی محض تفریح طبع کے لیے اس کتے کا کوئی نام رکھتے ہیں اور وہ نام لکھ کر اس کے گلے میں لٹکا دیتے ہیں۔ جب وہ کتا پاکستان کی سرحد کی طرف آتا ہے تو پاکستانی فوج کے سپاہی اسے کوئی کوڈ ورڈ سمجھ کر چوکنا ہو جاتے ہیں۔ دونوں طرف کے سپاہی غلط فہمی کے باعث اس کتے پر گولی چلا دیتے ہیں۔

گورمکھ سنگھ کی وصیت

سعادت حسن منٹو

سردار گورمکھ سنگھ کو عبد الحی جج نے ایک جھوٹے مقدمے سے نجات دلائی تھی۔ اسی کی احسان مندی میں عید کے دن وہ سیوئیاں لے کر آتا تھا۔ ایک برس جب فسادات نے پورے شہر میں قیامت برپا کر رکھی تھی، جج عبد الحی فالج کی وجہ سے بستر مرگ پر تھے اور ان کی جوان بیٹیی اور چھوٹا بیٹا حیران پریشان تھے کہ اسی خوف و ہراس کے عالم میں سردار گورمکھ سنگھ کا بیٹا سیوئیاں لے کر آیا اور اس نے بتایا کہ اس کے پتا جی کا دیہانت ہو گیا ہے اور انہوں نے سیوئیاں پہنچانے کی وصیت کی تھی۔ گورمکھ سنگھ کا بیٹا جب واپس جانے لگا تو بلوائیوں نے راستے میں اس سے پوچھا کہ اپنا کام کر آئے، اس نے کہا کہ ہاں، اب جو تمہاری مرضی ہو وہ کرو۔

ADVERTISEMENT

شریفن

سعادت حسن منٹو

’’یہ ایک ایسی کہانی ہے جو صرف کہانی نہ ہو کر ہمارے معاشرے کی جیتی جاگتی تصویر معلوم ہوتی ہے۔ کہانی میں شریفن کے کردار کے ذریعے اس تصویر کو پیش کیا گیا ہے جہاں سماج کے لیے لڑکی کوئی انسان نہیں، بلکہ گوشت کا وہ لوتھڑا ہے، جس سے شریف زادے اپنی ہوس کو آسودہ کرتے ہیں۔‘‘

سو کینڈل پاور کا بلب

سعادت حسن منٹو

اس افسانہ میں انسان کی جبلی اور جذباتی پہلووں کو گرفت میں لیا گیا ہے جن کے تحت ان سے اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ افسانے کی مرکزی کردار ایک طوائف ہے جسے اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ وہ کس کے ساتھ رات گزارنے جا رہی ہے اور اسے کتنا معاوضہ ملے گا بلکہ وہ دلال کے اشارے پر عمل کرنے اور کسی طرح کام ختم کرنے کے بعد اپنی نیند پوری کرنا چاہتی ہے۔ آخر کار تنگ آکر انجام کی پروا کیے بغیر وہ دلال کا خون کر دیتی ہے اور گہری نیند سو جاتی ہے۔