ADVERTISEMENT

افسانے پرفرقہ وارانہ فسادات

نیا قانون

سعادت حسن منٹو

آزادی کے دیوانے منگو کوچوان کی کہانی ہے۔ وہ ناخواندہ ہے پھر بھی اسے ساری دنیا کی معلومات ہے جنھیں وہ اپنی سواریوں سے سن کر معلوم کرتا رہتا ہے۔ ایک دن اسے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں نیا قانون آنے والا ہے جس سے ہندوستان کی انگریزی حکومت ختم ہو جائے گی۔ اسی خوشی میں وہ قانون لاگو ہونے والی تاریخ کو ایک انگریز سے جھگڑا کر بیٹھتا ہے اور جیل پہنچ جاتا ہے۔

وہ لڑکی

سعادت حسن منٹو

کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جس نے فسادات کے دوران چار مسلمانوں کا قتل کیا تھا۔ ایک دن وہ گھر میں تنہا تھا تو اس نے باہر درخت کے نیچے ایک لڑکی کو بیٹھے دیکھا۔ اشاروں سے اسے بلانے میں ناکام رہنے کے بعد وہ اس کے پاس گیا اور زبردستی اسے اپنے گھر لے آیا۔ جلدی ہی اس نے اسے قابو میں کر لیا اور چومنے لگا۔ بستر پر جانے سے پہلے لڑکی نے اس سے پستول دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو اس نے اپنی پستول لاکر اسے دے دی۔ لڑکی نے پستول ہاتھ میں لیتے ہی چلا دی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ جب اس نے پوچھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا تو لڑکی نے بتایا کہ اس نے جن چار مسلمانوں کا قتل کیا تھا ان میں ایک اس لڑکی کا باپ بھی تھا۔

ADVERTISEMENT

موذیل

سعادت حسن منٹو

عورت کے ایثار، جذبۂ قربانی اور محبت و ممتا کے ارد گرد بنی گئی کہانی ہے۔ موذیل ایک آزاد مزاج یہودی لڑکی ہے جو پابند وضع سردار ترلوچن کا خوب مذاق اڑاتی ہے لیکن وقت پڑنے پر وہ فساد زدہ علاقے میں جا کر ترلوچن کی منگیتر کو فسادیوں کے چنگل سے آزاد کراتی ہے اور خود فساد کا شکار ہو جاتی ہے۔

یزید

سعادت حسن منٹو

کریم داد ایک ٹھنڈے دماغ کا آدمی ہے جس نے تقسیم کے وقت کے فساد کی ہولناکیوں کو دیکھا تھا۔ ہندوستان پاکستان جنگ کے تناظر میں یہ افواہ اڑتی ہے کہ  ہندوستان والے پاکستان کی طرف آنے والے دریا کا پانی بند کر رہے ہیں۔ اسی دوران اس کے یہاں ایک بچے کی ولادت ہوتی ہے جس کا نام وہ یزید رکھتا ہے اور کہتا ہے اس یزید نے دریا بند کیا تھا، یہ کھولے گا۔

اللہ دتا

سعادت حسن منٹو

فساد میں لٹے پٹے ہوئے ایک ایسے گھر کی کہانی ہے جس میں ایک باپ اپنی بیٹی سے منہ کالا کرتا ہے اور پھر اپنے مرحوم بھائی کی بیٹی کو بہو بنا کر لاتا ہے تو اس سے بھی زبردستی کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن جب اس کی بیٹی کو پتہ چلتا ہے تو وہ اپنے بھائی سے طلاق دلوا دیتی ہے کیونکہ وہ اپنی سوت نہیں دیکھ سکتی۔

ADVERTISEMENT

گورمکھ سنگھ کی وصیت

سعادت حسن منٹو

سردار گورمکھ سنگھ کو عبد الحی جج نے ایک جھوٹے مقدمے سے نجات دلائی تھی۔ اسی کی احسان مندی میں عید کے دن وہ سیوئیاں لے کر آتا تھا۔ ایک برس جب فسادات نے پورے شہر میں قیامت برپا کر رکھی تھی، جج عبد الحی فالج کی وجہ سے بستر مرگ پر تھے اور ان کی جوان بیٹیی اور چھوٹا بیٹا حیران پریشان تھے کہ اسی خوف و ہراس کے عالم میں سردار گورمکھ سنگھ کا بیٹا سیوئیاں لے کر آیا اور اس نے بتایا کہ اس کے پتا جی کا دیہانت ہو گیا ہے اور انہوں نے سیوئیاں پہنچانے کی وصیت کی تھی۔ گورمکھ سنگھ کا بیٹا جب واپس جانے لگا تو بلوائیوں نے راستے میں اس سے پوچھا کہ اپنا کام کر آئے، اس نے کہا کہ ہاں، اب جو تمہاری مرضی ہو وہ کرو۔

عزت کے لیے

سعادت حسن منٹو

چونی لال کو بڑے آدمیوں سے تعلق پیدا کرنے میں ایک عجیب قسم کا سکون ملتا تھا۔ اس کا گھر بھی ہر قسم کی تفریح  اور سہولت کے لیے ہر وقت کھلا رہتا تھا۔ ہربنس ایک بڑے افسر کا بیٹا تھا۔ فسادات کے زمانے میں اس نے چونی لال کی بہن روپا کی عصمت دری کی تھی۔ جب خون بہنا بند نہیں ہوا تو اس نے چونی لال سے مدد مانگی تھی۔ چونی لال نے اپنی بہن کو دیکھا لیکن اس پر بے حسی طاری رہی اور وہ یہ سوچنے میں  مصروف رہا کہ کس طرح ایک بڑے آدمی کی عزت بچائی جائے۔ اس کے برعکس ہربنس پر جنون طاری ہو جاتا ہے اور وہ چونی لال کو گولی مار کر ہلاک کر دیتا ہے۔ اخباروں میں خبر چھپتی ہے کہ چونی لال نے اپنی بہن سے منہ کالا کرنے کے بعد خودکشی کر لی۔

انجام بخیر

سعادت حسن منٹو

تقسیم کے دوران ہوئے فسادات میں دہلی میں پھنسی ایک نوجوان طوائف کی کہانی ہے۔ فساد میں قتل ہونے سے بچنے کے لیے وہ پاکستان جانا چاہتی ہے، لیکن اسکی بوڑھی ماں دہلی چھوڑنا نہیں چاہتی۔ آخر میں وہ اپنے ایک پرانے استاد کے ساتھ خاموشی سے پاکستان چلی جاتی ہے۔ وہاں پہنچ کر وہ شرافت کی زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ مگر جس عورت پر بھروسہ کرکے وہ اپنا نیا گھر آباد کرنا چاہتی تھی، وہی اس کا سودا کسی اور سے کر دیتی ہے۔ طوائف کو جب اس بات کا پتہ چلتا ہے تو وہ اپنے گھنگھرو اٹھاکر واپس اپنے استاد کے پاس چلی جاتی ہے۔

ADVERTISEMENT

سہائے

سعادت حسن منٹو

تقسیم ہند کے نتیجے میں ہونے والے فسادات اور ان میں انسانی خون کی ارزانی کو بیان کرتی ہوئی کہانی ہے۔ جس میں ایک ہندو نوجوان (جو ممبئی میں رہتا ہے) کے چچا کا کراچی میں قتل ہو جاتا ہے تو وہ مسلمان دوست سے کہتا ہے کہ اگر یہاں فساد شروع ہو گئے تو ممکن ہے کہ میں تمہیں قتل کر ڈالوں۔ اس جملے سے مسلمان دوست کو شدید صدمہ پہنچتا ہے اور وہ پاکستان چلا جاتا ہے لیکن جانے سے پہلے وہ سہائے نامی دلال کی کہانی سناتا ہے جو ہر قسم کے مذہبی تعصب سے پاک صرف ایک انسان تھا۔ (یہ منٹو کے ساتھ پیش آنے والے حقیقی واقعے پر مبنی کہانی ہے۔)

پانچ دن

سعادت حسن منٹو

بنگال کے قحط کی ماری ہوئی سکینہ کی زبانی ایک بیمار پروفیسر کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ جس نے اپنے کریکٹر کو بلند کرنے کے نام پر اپنی فطری خواہشوں کو دبائے رکھا۔ سکینہ بھوک سے بیتاب ہو کر ایک دن جب اس کے گھر میں داخل ہو جاتی ہے تو پروفیسر کہتا ہے کہ تم اسی گھر میں رہ جاؤ کیونکہ میں دس برس تک اسکول میں لڑکیاں پڑھاتا رہا اس لیے انہیں بچیوں کی طرح تم بھی ایک بچی ہو۔ لیکن مرنے سے پانچ دن پہلے وہ اعتراف کرتا ہے کہ اس نے ہمیشہ سکینہ سمیت ان تمام لڑکیوں کو جنہیں اس نے پڑھایا ہے، ہمیشہ دزدیدہ نگاہوں سے دیکھا ہے۔

دیوانہ شاعر

سعادت حسن منٹو

یہ امرتسر کے جلیانوالا باغ میں ہوئے قتل عام پر مبنی افسانہ ہے۔ اس قتل عام کے بعد شہر میں بہت کچھ بدلا تھا۔ اس سے کئی انقلابی پیدا ہوئے تھے اور بہتوں نے انتقام کے لیے اپنی جانیں قربان کی تھیں۔ انہیں لوگوں میں ایک انقلابی شاعر بھی تھا، جس کی شاعری دل چیر دینے والی تھی۔ ایک روز شام کو ادیب کو وہ دیوانہ شاعر باغ کے ایک کنویں کے پاس ملا تھا، جہاں اس نے اس سے اپنے انقلابی ہو جانے کی داستان بیان کی تھی۔

ADVERTISEMENT

شاردا

سعادت حسن منٹو

’’یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو طوائف کو طوائف کی طرح ہی رکھنا چاہتا ہے۔ جب کوئی طوائف اس کی بیوی بننے کی کوشش کرتی تو وہ اسے چھوڑ دیتا ۔ پہلے تو وہ شاردا کی چھوٹی بہن سے ملا تھا، پر جب اس کی شاردا سے ملاقات ہوئی تو وہ اسے بھول گیا۔ شاردا ایک بچہ کی ماں ہے اور دیکھنے میں قابل قبول ہے۔ بستر میں اسے شاردا میں ایسی لذت محسوس ہوتی ہے کہ وہ اسے کبھی بھول نہیں پاتا۔ شاردا اپنے گھر لوٹ جاتی ہے، تو وہ اسے دوبارہ بلا لیتا ہے۔ اس بار گھر آکر شاردا جب بیوی کی طرح اس کی دیکھ بھال کرنے لگتی ہے تو وہ اس سے اکتا جاتا ہے اور اسے واپس بھیج دیتا ہے۔‘‘

خدا کی قسم

سعادت حسن منٹو

تقسیم کے دوران اپنی جوان اور خوبصورت بیٹی کے گم ہو جانے کے غم میں پاگل ہو گئی ایک عورت کی کہانی۔ اس نے اس عورت کو کئی جگہ اپنی بیٹی کو تلاش کرتےہوئے دیکھا تھا۔ کئی بار اس نے سوچا کہ اسے پاگل خانے میں داخل کرا دے، پر نہ جانے کیا سوچ کر رک گیا تھا۔ ایک روز اس عورت نے ایک بازار میں اپنی بیٹی کو دیکھا، لیکن بیٹی نے ماں کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔ اسی دن اس شخص نے جب اسے خدا کی قسم کھا کر یقین دلایا کہ اس کی بیٹی مر گئی ہے، تو یہ سنتے ہی وہ بھی وہیں ڈھیر ہو گئی۔

شریفن

سعادت حسن منٹو

’’یہ ایک ایسی کہانی ہے جو صرف کہانی نہ ہو کر ہمارے معاشرے کی جیتی جاگتی تصویر معلوم ہوتی ہے۔ کہانی میں شریفن کے کردار کے ذریعے اس تصویر کو پیش کیا گیا ہے جہاں سماج کے لیے لڑکی کوئی انسان نہیں، بلکہ گوشت کا وہ لوتھڑا ہے، جس سے شریف زادے اپنی ہوس کو آسودہ کرتے ہیں۔‘‘

بائے بائے

سعادت حسن منٹو

کہانی ایک ایسے نوجوان کی ہے جسے کشمیر کی وادیوں میں فاطمہ نام کی لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے۔ فاطمہ پہلے تو اس کا مذاق اڑاتی ہے، پھر وہ بھی اس سے محبت کرنے لگتی ہے۔ فاطمہ سے شادی کے لیے وہ لڑکا اپنے والدین کو بھی راضی کر لیتا ہے۔ مگر شادی سے پہلے اس کے والدین چاہتے ہیں کہ وہ فاطمہ کی ایک دو تصویریں انہیں بھیج دے۔ علاقے میں کوئی اسٹوڈیو تو تھا نہیں۔ ایک دن اس نوجوان کا ایک دوست وہاں سے گزر رہا تھا تو اس نے اس سے فاطمہ کی تصویر لینے کے لیے کہا۔ جیسے ہی اس نے فاطمہ کو دیکھا تو وہ اسے زبردستی اپنی گاڑی میں ڈال کر فرار ہو گیا۔

ADVERTISEMENT

پت جھڑ کی آواز

قرۃ العین حیدر

یہ کہانی کے مرکزی کردار تنویر فاطمہ کی زندگی کے تجربات اور ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ تنویر فاطمہ ایک اچھے خاندان کی تعلیم یافتہ لڑکی ہے لیکن زندگی جینے کا فن اسے نہیں آتا۔ اس کی زندگی میں یکے بعد دیگرے تین مرد آتے ہیں۔ پہلا مرد خشوقت سنگھ ہےجو خود سے تنویر فاطمہ کی زندگی میں داخل ہوتا ہے۔ دوسرا مرد فاروق، پہلے خشوقت سنگھ کے دوست کی حیثیت سے اس سے واقف ہوتا ہے اور پھر وہی اسکا سب کچھ بن جاتا ہے۔ اسی طرح تیسرا مرد وقار حسین ہے جو فاروق کا دوست بن کر آتا ہے اور تنویر فاطمہ کو ازدواجی زندگی کی زنجیروں میں جکڑ لیتا ہے۔ تنویر فاطمہ پوری کہانی میں صرف ایک بار اپنے مستقبل کے بارے میں خوشوقت سنگھ سے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے اور یہ فیصلہ اس کے حق میں نہیں ہوتا کہ وہ اپنی زندگی میں آئے اس پہلے مرد خشوقت سنگھ کو کبھی بھول نہیں پاتی ہے۔

مائی نانکی

سعادت حسن منٹو

تقسیم ہند کے نتیجے میں پاکستان جانے والے مہاجروں کے مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔ مائی نانکی ایک مشہور دایہ تھی جو پچیس لوگوں کا خرچ پورا کرتی تھی۔ ہزاروں کی مالیت کا زیور اور بھینس وغیرہ چھوڑ کر پاکستان آئی لیکن یہاں اس کا کوئی پرسان حال نہیں رہا۔ تنگ آکر وہ یہ بددعا کرنے لگی کہ اللہ ایک بار پھر سب کو مہاجر کر دے تاکہ ان کو معلوم تو ہو کہ مہاجر کس کو کہتے ہیں۔

ADVERTISEMENT

ماں بیٹا

حیات اللہ انصاری

’’مذہبی انتہا پسندی سے پریشان ایک ہندو بیٹے اور مسلمان ماں کی کہانی۔ وہ دونوں بالکل الگ تھے۔ الگ ماحول، معاشرہ اور ایک دوسرے کے مذہب سے سخت نفرت کرنے والے۔ مگر ان کے اجڑنے کی کہانی ایک جیسی تھی۔ پھر اتفاق سے جب وہ ملے اور ایک دوسرے کی کہانی سنی تو ان کی سوچ پوری طرح سے بدل گئی۔‘‘

جلاوطن

قرۃ العین حیدر

یہ مشترکہ تہذیب کے بکھرنے کی کہانی ہے۔ اس مشترکہ تہذیب کی جسے برصغیر میں رہنے بسنے والوں کی صدیوں کے میل جول اور یکجہتی کا نمونہ مانا جاتا ہے۔ اس کہانی میں رشتوں کے ٹوٹنے، خاندانوں کے بکھرنے اور ماضی کے بہترین انسانی قدروں کے پامال ہونے کی ٹریجڈی کو پیش کیا گیا ہے۔

ADVERTISEMENT

برف باری سے پہلے

قرۃ العین حیدر

ایک ناکام محبت کی کہانی جو تقسیم سے پہلے مسوری میں شروع ہوئی تھی۔ اپنے دوست کے ساتھ سیر کرتے ہوئے جب اس نے اس لڑکی کو دیکھا تھا تو اسے دیکھتے ہی یہ احساس ہوا تھا کہ یہ وہی لڑکی ہے جسکی اسے تلاش تھی۔ یہ محبت شروع ہوتی اس سے پہلے ہی اپنے انجام کو پہنچ گئی اور پھر ملک تقسیم ہو گیا اور سب کچھ تباہ و برباد ہوگیا۔