ADVERTISEMENT

افسانہ پرتنازع

1919 کی ایک بات

سعادت حسن منٹو

جدوجہد آزادی میں انگریز کی گولی سے شہید ہونے والے ایک طوائف زادے کی کہانی ہے۔ طفیل عرف تھیلا کنجر کی دوبہنیں بھی طوائف تھیں۔ طفیل ایک انگریز کو موت کے گھاٹ اتار کر خود شہید ہو گیا تھا۔ انگریزوں نے بدلہ لینے کی غرض سے دونوں بہنوں کو بلا کر مجرا کرایا اور ان کی عزت کو تار تار کیا۔

عزت کے لیے

سعادت حسن منٹو

چونی لال کو بڑے آدمیوں سے تعلق پیدا کرنے میں ایک عجیب قسم کا سکون ملتا تھا۔ اس کا گھر بھی ہر قسم کی تفریح  اور سہولت کے لیے ہر وقت کھلا رہتا تھا۔ ہربنس ایک بڑے افسر کا بیٹا تھا۔ فسادات کے زمانے میں اس نے چونی لال کی بہن روپا کی عصمت دری کی تھی۔ جب خون بہنا بند نہیں ہوا تو اس نے چونی لال سے مدد مانگی تھی۔ چونی لال نے اپنی بہن کو دیکھا لیکن اس پر بے حسی طاری رہی اور وہ یہ سوچنے میں  مصروف رہا کہ کس طرح ایک بڑے آدمی کی عزت بچائی جائے۔ اس کے برعکس ہربنس پر جنون طاری ہو جاتا ہے اور وہ چونی لال کو گولی مار کر ہلاک کر دیتا ہے۔ اخباروں میں خبر چھپتی ہے کہ چونی لال نے اپنی بہن سے منہ کالا کرنے کے بعد خودکشی کر لی۔

پانچ دن

سعادت حسن منٹو

بنگال کے قحط کی ماری ہوئی سکینہ کی زبانی ایک بیمار پروفیسر کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ جس نے اپنے کریکٹر کو بلند کرنے کے نام پر اپنی فطری خواہشوں کو دبائے رکھا۔ سکینہ بھوک سے بیتاب ہو کر ایک دن جب اس کے گھر میں داخل ہو جاتی ہے تو پروفیسر کہتا ہے کہ تم اسی گھر میں رہ جاؤ کیونکہ میں دس برس تک اسکول میں لڑکیاں پڑھاتا رہا اس لیے انہیں بچیوں کی طرح تم بھی ایک بچی ہو۔ لیکن مرنے سے پانچ دن پہلے وہ اعتراف کرتا ہے کہ اس نے ہمیشہ سکینہ سمیت ان تمام لڑکیوں کو جنہیں اس نے پڑھایا ہے، ہمیشہ دزدیدہ نگاہوں سے دیکھا ہے۔

ADVERTISEMENT
ADVERTISEMENT

نفسیات شناس

سعادت حسن منٹو

’’یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جو اپنے گھریلو خادم کا نفسیاتی مطالعہ کرتا ہے۔ اس کے یہاں پہلے دو سگے بھائی نوکر ہوا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک بہت چست تھا تو دوسرا بہت سست۔ اس نے سست نوکر کو ہٹاکر اس کی جگہ ایک نیا نوکر رکھ لیا۔ وہ بہت ہوشیار اور پہلے والے سے بھی زیادہ چست اور تیز تھا۔ اس کی چستی اتنی زیادہ تھی کہ کبھی کبھی وہ اس کے کام کرنے کی تیزی کو دیکھ کر جھنجھلا جاتا تھا۔ اس کا ایک دوست اس نوکر کی بہت تعریف کیا کرتا تھا۔ اس سے متاثر ہو کر ایک روز اس نے نوکر کی حرکتوں کا نفسیاتی مطالعہ کرنے کا ارداہ کیا اور ۔۔۔ پھر‘‘

پھندنے

سعادت حسن منٹو

افسانے کا موضوع جنس اور تشدد ہے۔ افسانے میں بیک وقت انسان اور جانور دونوں کو بطور کردار پیش کیا گیا ہے۔ جنسی عمل سے برآمد ہونے والے نتائج کو تسلیم نہ کر پانے کی صورت میں بلی کے بچے، کتے کے بچے، ڈھلتی عمر کی عورتیں، جن میں جنسی کشش باقی نہیں وہ سب کے سب موت کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں۔

ADVERTISEMENT

موتری

سعادت حسن منٹو

تقسیم ہند سے ذرا پہلے کی صورت حال کی عکاسی اس کہانی میں کی گئی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے خلاف پیشاب گاہ میں مختلف جملے لکھے ملتے تھے۔ مسلمانوں کی بہن کا پاکستان مارا اور ہندوؤں کی ماں کا اکھنڈ ہندوستان مارا کے نیچے راوی نے دونوں کی ماں کا ہندوستان مارا لکھ کر یہ محسوس کیا تھا کہ ایک لمحے کے لیے موتری کی بدبو مہک میں تبدیل ہو گئی ہے۔

ADVERTISEMENT

چپ

ممتاز مفتی

یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جسے اپنے سے دوگنی عمر کی عورت سے محبت ہو جاتی ہے۔ وہ اس کے عشق میں اس قدر دیوانہ ہو جاتا ہے کہ اس کے بنا ایک پل بھی رہ نہیں پاتا۔ رات ڈھلے جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو وہ اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے چپ کر دیتی ہے۔ پھر جب اس کی شوہر سے طلاق ہو جاتی ہے تو وہ اپنی ماں کے خلاف جاکر اس سے شادی کر لیتا ہے۔ مگر شادی کے بعد وہ اس میں پہلی والی لزت محسوس نہیں کر پاتا۔ بعد میں وہ اسے چھوڑ کر چلی جاتی ہے اور دوسرے مرد سے شادی کر لیتی ہے۔

ملاقاتی

سعادت حسن منٹو

’’میاں بیوی کے درمیان چھوٹی چھوٹی باتوں کو لیکر ہونے والی بحث مباحثوں کی عکاسی اس کہانی میں کی گئی ہے۔ صبح آنے والے کسی ملاقاتی پر شک کرتی ہوئی بیوی شوہر سے پوچھتی ہے کہ ان سے صبح کون ملنے آیا تھا؟ بیوی کے اس سوال کے جواب میں شوہر اس کے سامنے ہر طرح کی دلیل پیش کرتا ہے، مگر بیوی کو کسی بات پر یقین نہیں آتا۔‘‘

ADVERTISEMENT

معاون اور میں

راجندر سنگھ بیدی

ایک خوددار معاون اور ایک احساس کمتری کے شکار آقا کی کہانی ہے۔ پتمبر کو نو زائدہ رسالہ کہانی کے ایڈیٹر نے اپنے معاون کے طور رکھا ہے۔ بہت جلد پتمبر اپی ذہانت و قابلیت سے کہانی کو مضبوط کر دیتا ہے لیکن ایڈیٹر ہمیشہ اس سے خائف رہتا ہے کہ کہیں پتمبر اس کو چھوڑ کر نہ چلا جائے، اسی لئے وہ کبھی پتمبر کی تعریف نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ نقص نکالتا رہتا ہے اور کہتا رہتا ہے کہ تم خود اپنا کوئی کام کیوں نہیں کر لیتے۔ ایک دن جبکہ پتمبر دو دن کا بھوکا تھا اور اس کی بہن کافی بیمار تھی، ایڈیٹر نے اس سے آٹا اور گھی اپنے گھر پہنچانے کے لئے کہا لکن پتمبر نے ذاتی کام کرنے سے منع کر دیا اور دفتر سے چلا گیا۔ ایڈیٹر باجود کوشش کے اسے روک نہ سکا۔

اندھیرا

محمد مجیب

ایسے دو لوگوں کی کہانی جو دن بھر شہر میں کام کرنے کے بعد شام ڈھلے اپنے گاؤں کو لوٹ رہے ہوتے ہیں۔ راستے میں چلتے ہوئے جیسے جیسے اندھیرا بڑھتا جاتا ہے ان میں سے ایک کو ڈر لگنے لگتا ہے۔ ڈر سے بچنے کے لیے وہ اپنے ساتھی سے بات چیت شروع کرتا ہے اور اس کا ساتھی اس کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ایک ایسی کہانی سناتا ہے جو ڈر سے جڑی ہوتی ہے۔

روزہ خور کی سزا

چودھری محمد علی ردولوی

ایک ایسے شیخ صاحب کی کہانی ہے جن کا ہڈیوں کا کاروبار تھا۔ کچھ پرانی کتابوں کی وجہ سے ان کے کئی پڑھے لکھے لوگوں سے مراسم ہو گئے تھے۔ انھیں میں سے ایک نے شیخ صاحب کو بتایا کہ فلاں شخص کہتا ہے کہ اس کی کوئی چیز آپ کے پاس رہن ہے، اگر آپ اسے دے دیں گے تو اسے کچھ سو روپوں کا فائدہ ہو جائیگا۔ شیخ نے اپنے دوست کی بات مان کر اس شخص کو بلا بھیجا، لیکن وہ شخص اکیلا نہیں آیا، اس کے ساتھ ایک دوسرا شخص بھی تھا، جس نے سب کے سامنے شیخ صاحب کی حقیقت بیان کر دی۔

ڈھاک بن

صدیق عالم

یہ افسانہ جدید سماج کے ساتھ قبائلی تصادم کی جادوئی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ وہ لوگ کانا پہاڑ کے باشندے تھے۔ اسے کانا پہاڑ اس لئے کہتے تھے کیونکہ جب سورج اس کی چوٹی کو چھو کر ڈوبتا تو کانی آنکھ کی شکل اختیار کر لیتا۔ کانا پہاڑ کے بارے میں بہت ساری باتیں مشہور تھیں۔ اس پر بسے ہوے چھوٹے چھوٹے قبائلی گاؤں اب اپنی پرانی روایتوں سے ہٹتے جا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ پر عیسائی مشنری حاوی ہوگئے ہیں اور کچھ نے ہندو دیوی دیوتاؤں کو اپنا لیا ہے۔ مگر جو افواہ سب سے زیادہ گرم تھی اور جس نے لوگوں کو مضطرب کر رکھا تھا وہ یہ تھی کہ اب کانا پہاڑ سے روحیں منتقل ہو رہی ہیں۔ وہ یہاں کے لوگوں سے ناخوش ہیں اور ایک دن آئے گا جب پہاڑ کے گربھ سے آگ اْبلے گی اور پیڑ پودے گھر اور پرانی اس طرح جلیں گے جس طرح جنگل میں آگ پھیلنے سے کیڑے مکوڑے جلتے ہیں۔

ADVERTISEMENT