فیض کی غزل کا بنیادی اصول: کیفیت، مضمون آفرینی اور کلاسیکی شعریات
فیض کی شاعری کا اصل حسن روایتی علامات کے سیاسی استعمال میں نہیں، بلکہ 'کیفیت' اور 'مضمون آفرینی' کی اس کلاسیکی روایت میں ہے جو ان کے بغیر علامت والے اشعار میں بھی نمایاں ہے۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
فیض کی شاعری کا اصل حسن روایتی علامات کے سیاسی استعمال میں نہیں، بلکہ 'کیفیت' اور 'مضمون آفرینی' کی اس کلاسیکی روایت میں ہے جو ان کے بغیر علامت والے اشعار میں بھی نمایاں ہے۔
شمس الرحمن فاروقی کے مطابق فیض کی عظمت محض کلاسیکی الفاظ کو نئے سیاسی معنی پہنانے میں پوشیدہ نہیں، بلکہ یہ دعویٰ ان کی شاعری کی تفہیم کو محدود کرتا ہے۔
ترقی پسند شعرا بالخصوص مجروح سلطان پوری اور فیض احمد فیض کو غزل میں سیاسی مضامین لانے کا بانی سمجھا جاتا ہے، لیکن تاریخی حقائق اس کا سہرا حسرت موہانی کے سر باندھتے ہیں۔
اردو غزل پر فارسی کا گہرا اثر ہونے کے باوجود، یہ ہندوستانی تہذیب، موسموں، رسم و رواج اور سماجی و سیاسی کروٹوں کی ایک سچی اور رنگارنگ تصویر پیش کرتی ہے۔