ADVERTISEMENT

افسانے پرفینٹسی

ایک خط

سعادت حسن منٹو

یہ افسانہ مصنف کی ذاتی زندگی کی کئی اہم ترین واقعات کو بیان کرتا ہے۔ ایک دوست کے خط کے جواب میں لکھے گئے اس خط میں مصنف نے اپنی ذاتی زندگی کے کئی رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ ساتھ ہی اپنی اس ناکام محبت کا بھی ذکر کیا ہے جو اسے کشمیر قیام کے دوران وزیر نام کی لڑکی سے ہو گئی تھی۔

بانجھ

سعادت حسن منٹو

خود نوشت کے اسلوب میں لکھی گئی کہانی ہے۔ بمبئی کے اپولو بندر پر سیر کرتے ہوئے ایک دن اس شخص سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران ہی محبت پر گفتگو ہونے لگی ہے۔ آپ چاہے کسی سے بھی محبت کریں، محبت محبت ہی ہوتی ہے، وہ کسی بچے کی طرح پیدا ہوتی ہے اور حمل کی طرح ضائع بھی ہو جاتی ہے، یعنی قبل از پیدائش مر بھی سکتی ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں جو چاہ کر بھی محبت نہیں کر پاتے ہیں اور شاید ایسے لوگ بانجھ ہوتے ہیں۔

عشقیہ کہانی

سعادت حسن منٹو

یہ عشق میں گرفتار ہو جانے کی خواہش رکھنے والے ایک ایسے نوجوان جمیل کی کہانی ہے جو چاہتا ہے کہ وہ کسی لڑکی کے عشق میں بری طرح گرفتار ہو جائے اور پھر اس سے شادی کر لے۔ اس کے لیے وہ بہت سی لڑکیوں کا انتخاب بھی کرتا ہے۔ ان سے ملنے، انہیں خط لکھنے کے منصوبے بناتا ہے، لیکن اپنے کسی بھی منصوبہ پر وہ عمل نہیں کر پاتا۔ آخر میں اس کی شادی طے ہو جاتی ہے، اور رخصتی کی تاریخ بھی مقرر ہو جاتی ہے۔ اسی رات اس کی خالہ زاد بہن خودکشی کر لیتی ہے، جو جمیل کے عشق میں بری طرح گرفتار ہوتی ہے۔

ADVERTISEMENT

چودھویں کا چاند

سعادت حسن منٹو

فطری مناظر کے پرستار ولسن کی کہانی ہے جو ایک بینک منیجر تھا۔ ولسن ایک مرتبہ جزیرے پر آیا تو چودھویں کے چاند نے اسے اس قدر مسحور و مبہوت کیا کہ اس نے ساری زندگی وہیں بسر کرنے کا ارادہ کر لیا اور بینک کی ملازمت چھوڑ کر گھر بیچ کر مستقل وہیں رہنے لگا۔ لیکن جب قرض خواہوں نے تنگ کرنا شروع کر دیا تو اس نے ایک دن اپنے جھونپڑے میں آگ لگا لی، جس کی وجہ سے اس کا ذہن ماؤف ہو گیا اور کچھ دن بعد چودہویں کا چاند دیکھ کر ہی وہ مر گیا۔

بس اسٹینڈ

سعادت حسن منٹو

مرد کے دوہرے رویے اور عورت کی معصومیت کو اس کہانی میں بیان کیا گیا ہے۔ سلمی ایک غیر شادی شدہ لڑکی ہے اور شاہدہ اس کی شادی شدہ سہیلی۔ ایک دن سلمی شاہدہ کے گھر جاتی ہے تو شاہدہ اپنے شوہر کی شرافت و امارت کی مبالغہ آمیز تعریف کرتی ہے۔ جب سلمی اپنے گھر واپس جاتی ہے تو راستے میں اسے ایک آدمی زبردستی اپنی کار میں بٹھاتا ہے اور اپنی جنسی بھوک مٹاتا ہے۔ اتفاقاً سلمی اس آدمی کا بٹوہ کھول کر دیکھتی ہے تو انکشاف ہوتا ہے کہ وہ شاہدہ کا شوہر ہے۔

چور

سعادت حسن منٹو

’’یہ ایک قرضدار شرابی شخص کی کہانی ہے۔ وہ شراب کے نشہ میں ہوتا ہے، جب اسے اپنے قرض اور ان کے وصول کرنے والوں کا خیال آتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اسے اگر کہیں سے پیسے مل جایں تو وہ اپنا قرض اتار دے۔ حالانکہ ایک زمانہ میں وہ اعلیٰ قسم کا تکنیشین تھا اور اب وہ قرضدار تھا۔ جب قرض اتارنے کی اسے کوئی صورت نظر نہیں آئی تو اس نے چوری کرنے کی سوچی۔ چوری کے ارادے سے وہ دو گھروں میں گیا بھی، مگر وہاں بھی اس کے ساتھ کچھ ایسا حادثہ ہوا کہ وہ چاہ کر بھی چوری نہیں کر سکا۔ پھر ایک دن اسے ایک شخص پچاس ہزار روپیے دے گیا۔ ان روپیوں سے جب اس نے اپنے ایک قرضدار کو کچھ روپیے دینے چاہے تو تکیے کے نیچے سے روپیوں کا لفافہ غائب تھا۔‘‘

ADVERTISEMENT

ستاروں سے آگے

قرۃ العین حیدر

کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ طلبا کے ایک گروپ کی کہانی جو رات کی تاریکی میں گاؤں کے لیے سفر کر رہا ہوتا ہے۔ سبھی ایک بیل گاڑی میں سوار ہیں اور گروپ کا ایک ساتھی ماہیا گا رہا ہے دوسرے اسے غور سے سن رہے ہیں۔ بیچ بیچ میں کوئی ٹوک دیتا ہے اور تیسرا اس کا جواب دینے لگتا ہے۔ دیا گیا جواب فقط ایک جواب نہیں ہے بلکہ انکے احساسات بھی اس میں شامل ہیں۔

کوٹ پتلون

سعادت حسن منٹو

معاشی بدحالی سے جوجھ رہے ایک ایسے آدمی کی کہانی ہے جسے ’اخلاقی‘ اور ’غیر اخلاقی‘ کی کشمکش کھل کھیلنے کا موقع نہیں دیتی۔ ناظم ایک ایسی بلڈنگ میں رہتا ہے جہاں ایک عورت کی پسندیدگی کا معیار ’’کوٹ پتلون‘‘ ہے۔ قرض بڑھنے کی وجہ سے اسے اپنا کوٹ پتلون بیچنا پڑتا ہے اور بلڈنگ خالی کرنی پڑتی ہے۔ ناظم جس دن مکان چھوڑ کر جا رہا ہوتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ زبیدہ کی نگاہوں کا مرکز ایک اور نوجوان ہے جو کوٹ پتلون میں ملبوس ہے۔ 

موسم کی شرارت

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے، جو کشمیر گھومنے گیا ہے۔ صبح کی سیر کے وقت وہ وہاں کے دلکش مناظر کو دیکھتا ہے اور اس میں کھویا ہوا چلتا چلا جاتا ہے۔ تبھی اسے کچھ بھینسوں، گایوں اور بکریوں کو لیے آتی ایک چرواہے کی لڑکی دکھائی دیتی ہے۔ وہ اسے اتنی خوبصورت نظر آتی ہے کہ اسے اس سے محبت ہو جاتی ہے۔ لڑکی بھی گھر جاتے ہوئے تین بار اسے مڑ کر دیکھتی ہے۔ کچھ دیر اس کے گھر کے پاس کھڑے رہنے کے دوران بارش ہونے لگتی ہے، اور جب تک وہ ڈاک بنگلے پر پہنچتا ہے تب تک وہ پوری طرح بھیگ جاتا ہے۔

ADVERTISEMENT

بلونت سنگھ مجیٹھیا

سعادت حسن منٹو

یہ ایک رومانی کہانی ہے۔ شاہ صاحب کابل میں ایک بڑے تاجر تھے، وہ ایک لڑکی پر فریفتہ ہو گیے، اپنے دوست بلونت سنگھ مجیٹھیا کے مشورے سے منتر پڑھے ہوئے پھول سونگھا کر اسے رام کیا لیکن حجلۂ عروسی میں داخل ہوتے ہی وہ مر گئی اور اس کے ہاتھ میں مختلف رنگ کے وہی سات پھول تھے جنہیں شاہ صاحب نے منتر پڑھ کر سونگھایا تھا۔

ٹیڑھی لکیر

سعادت حسن منٹو

ایک آزادی پسند، اذیت پسند، صاف گو اور ڈگر سے ہٹ کر کچھ انوکھا کرنے کی دھن رکھنے والے شخص کی کہانی ہے جو اپنی انفرادیت پسندی کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک رات اپنی منکوحہ بیوی کو ہی سسرال سے بھگا لے جاتا ہے۔

دودا پہلوان

سعادت حسن منٹو

اس کہانی کا موضوع ایک نوکر کی اپنے مالک سے وفاداری ہے۔ صلاحو نے بچپن سے ہی دودے پہلوان کو اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔ باپ کی موت کے بعد صلاحو کھل گیا تھا اور ہیرا منڈی کی طوایفوں کے کوٹھوں پر اپنی زندگی گزارنے لگا تھا۔ ایک طوایف کی بیٹی پر وہ اس قدر عاشق ہوا کہ اس کی ساری جایداد نیلام ہو گیی۔ گھر کو قرق ہونے سے بچانے کے لیے اسے بیس ہزار روپیوں کی ضرورت تھی، جو اسے کہیں سے نہ ملے۔ آخر میں دودے پہلوان ہی نے اپنی آن کو فروخت کر اس کے لیے پیسوں کا انتظام کیا۔

ADVERTISEMENT

اس کے بغیر

احمد علی

یہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو موسم بہار میں تنہا بیٹھی اپنی پہلی محبت کو یاد کر رہی ہے۔ ان دنوں اس کی بہن کے بہت سے چاہنے والے تھے مگر اس کا کوئی محبوب نہیں تھا اور اسی بات کا اسے افسوس تھا۔ اچانک اس کی زندگی میں آنند آگیا جس نے اس کی پوری زندگی ہی بدل دی۔ انھوں نے مل کر ایک ٹرپ کا پروگرام بنایا۔ اس سفر میں ان دونوں کے ساتھ کچھ ایسے واقعے ہوئے جن کی وجہ سے وہ اس سفر کو کبھی نہیں بھلا سکی۔

ADVERTISEMENT

دوسرا کنارہ

راجندر سنگھ بیدی

تین مزدور پیشہ بھائیوں کی جد و جہد کی کہانی ہے، جس میں باپ اپنے بیٹوں کی نفسیات کو سمجھ نیں پاتا ہے۔ سندر سوہنا اور رجو اپنے باپ کے ساتھ بیکری میں کام کرتے تھے۔ ان کا گاؤں کھاڑی کے ایک کنارہ پر تھا اور دوسرا کنارہ ان کو بہت خوشنما اور دلفریب معلوم ہوتا تھا۔ جب سندر کا بچپن کا دوست علم الدین تحصیلدار بن کر آیا تو سندر نے بھی تحصیلدار بننے کی ٹھانی اور دوسرے کنارے چلا گیا، سوہنا نے بھی دوسرے کنارے جانے کی کوشش کی لیکن باپ نے مار پیٹ کر اسے روک لیا اور ایک دن اس نے خود کشی کر لی، پھر باپ بھی مر گیا۔ ایک دن سندر جھریوں بھرا چہرہ لے کر واپس  آیا تو وہ خون تھوک رہا تھا۔ رجو کو اس نے نصیحت کی کہ وہ دوسرے کنارے کی کبھی خواہش نہ کرے۔

ADVERTISEMENT