ہستی ہے نہ کچھ عدم ہے غالبؔ
آخر تو کیا ہے اے نہیں ہے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں غالبؔ ہستی اور عدم دونوں کو مشکوک ٹھہراتے ہیں: نہ وجود ہاتھ آتا ہے نہ نیستی کی ماہیت سمجھ میں آتی ہے۔ وہ ’نہیں‘ کو مخاطب کرکے اسے بھی ایک طرح کی موجودگی بنا دیتے ہیں، اور یوں تضاد پیدا ہوتا ہے۔ احساسِ غالب حیرت، بےیقینی اور معنی کی تلاش ہے۔